جیل میں نظربند کشمیری صحافی نے امریکی ایوارڈ حاصل کرلیا

سرینگر (ویب ڈیسک) 25غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری صحافی38سالہ عاصف سلطان کو امریکی نیشنل پریس کلب نے پریس فریڈم ایوارڈ سے نوازا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق امریکی نیشنل پریس کلب نے اعلان کیا کہ اس سال کا جان ابوچن پریس فریڈم ایوارڈتقریباًایک سال سے جیل میں نظربندکشمیرمیں رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو دیا جائے گا۔

آصف سلطان کو گزشتہ سال 27اور28اگست کی درمیانی رات کو ایک جھوٹے الزام میں گرفتارکیاگیا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے بھی بھارتی الزامات کو مضحکہ خیز قراردیاتھا۔ آصٖف کے ساتھیوں نے کہاکہ پولیس کی کارروائی کا مقصدکشمیر میں پوری صحافی برادری کو ہراساں کرنا تھا۔ آصفٖ سلطان جو گزشتہ ایک سال سے سرینگر کی جیل میں نظربند ہے، کے والدین کو جموںوکشمیر میں تمام مواصلاتی ذرائع معطل ہونے کی وجہ سے اپنے بیٹے کے ایوارڈ جیتنے کی اطلاع اعلان کے دو دن بعد ملی تاہم انہیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ ایوارڈ کس نے دیا ہے۔آصف کے والد محمد سلطان نے جو ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہے کہا کہ انہیں کسی نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے کو ایوارڈ دیا گیا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کس نے ایوارڈ دیا ہے اور اس سے آصف کے کیس پر کیا اثر پڑے گا، تاہم جس نے بھی یہ ایوارڈیا میں دل کی عمیق گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہوں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مودی کے گلے میں سریا آگیا ہے،2ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں،جنگ مسلط کی گئی تو ضرور لڑیں گے،3جنگیں لڑ چکے ہیں چوتھی جنگ کےلئے بھی تیار ہیں،ہم جنگ اور امن دونوں کےلئے تیارہیں،بھارت انگلی دکھائے گا توہم ہاتھ توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،آپ مکا دکھائیں گے تو ہم جبڑا توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جنگیں خود لڑنی پڑتی ہیں،اپنے مفادکا خود تحفظ کرناہوتا ہے،ایک طبقہ دوسرے ملک کی خاطرذاتی مفاد قربان کردیتا ہے،تمام اسلامی ممالک انتشار کا شکار ہیں،ہر ملک اپنے مفاد کے فیصلے کرےگا، متحدہ عرب امارات کے اقدام سے پاکستان کو مایوسی ہوئی،مسئلہ کشمیرپاکستان کا نہیں،عالمی انسانی حقوق کامسئلہ ہے،اگرکوئی قیادت مسلمان بھائیوں کی تکلیف محسوس نہیں کررہی تو کیا کہاجاسکتا ہے،یواے ای میں مودی کو اعزاز سے نوازنا پاکستانی معاشی پالیسی کی کمزوری نہیں،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مودی سرکار کومذاکرات کی دعوت دی، بھارت امن کی طرف جانا چاہتا ہے توہم تیارہیں