اکھنڈ بھارت صرف پاکستان اور بنگلہ دیش تک محدود نہیں، اصل پلان کیا ہے ؟ ہندوتوا کی اصلیت بے نقاب

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت میں ہندو توا کی جماعتوں کی جانب سے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور پاکستان پر قبضے کی خواہش کا اعلانیہ اظہار کیا جاتا ہے۔ آخر یہ اکھنڈ بھارت کیا ہے اور اس کے نقشے میں کون کون سے ممالک شامل ہیں؟ 5اگست کو مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا تو اس پر ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’ آج جموں و کشمیر لیا ہے، کل بلوچستان اور آزاد کشمیر لیں گے، مجھے وشواس (یقین) ہے دیس کے پردھان منتری (وزیر اعظم) اکھنڈ ہندوستان کا سپنا پورا کریں گے۔‘اکھنڈ بھارت کے بارے میں اکثر لوگوں یہی سمجھتے ہیں کہ یہ 1947 کی تقسیم سے پہلے کے متحدہ ہندوستان پر مشتمل ہے جو غلط ہے کیونکہ اکھنڈ بھارت کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ہندو توا کے اکھنڈ بھارت کے نظریے میں جنوبی ، مشرقی اور وسطی ایشیا کے وہ ممالک شامل ہیں جن میں ہندو ازم یا بدھ مت موجود ہے۔ اکھنڈ بھارت کے نقشے میں انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، کشمیر، تبت، نیپال ، بھوٹان، افغانستان، سری لنکا، برما اور انڈو نیشیااور ملائیشیا کے کچھ حصے شامل ہیں۔ہندو انتہا پسند ’ اکھنڈ بھارت‘ نظریے کے تحت انڈیا کی سرحدوں کو تین صدی قبل کی ریاست ہندوستان بنانا چاہتے ہیں۔ تین صدی قبل مسیح میں چندر گپت موریہ ہندوستان کے حکمران تھے اور ان کی حکومت کی سرحدیں جہاں تک پھیلی ہوئی تھیںوہیں تک دوبارہ انڈیا کی حکمرانی کو پھیلانا ہی اکھنڈ بھارت یا غیر منقسم ہندوستان کا نظریہ ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس کو وزیر اعظم مودی کی شکل میں اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کا ایک نادر موقع ملا ہے اور وہ اس کو کسی صورت ضائع کرنے کو تیار

نہیں ہے۔وقتاً فوقتاً اس بارے میں اس ہندو انتہا پسند تنظیم نے کوشش کی لیکن اسکو کو ئی ایسا مضبوط سیاسی سہارا نہیں ملا جس کے ذریعے یہ اپنے اس گھنائونے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔برّصغیر کی تقسیم کے بعد کانگریس کی حکومت قائم ہوئی جس نے بھارت کا ایک سیکولر تصوّر قائم کرنے کی کوشش کی لیکن کشمیر کا مسئلہ ہر حوالے سے اسکے گلے کی ہڈی ثابت ہوا ۔ اسکے علاوہ جس طرح انہوں نے دیگر ریاستوں کا الحاق کیا اس نے بھی اسکے سیکولرازم کے دعوے کو بہت پزیرائی نہیں بخشی لیکن وہ اپنے تئیں اس کوشش میں مصروف رہے لیکن مسئلہ وہی بغل میں چھری منہ میں رام رام والا ہی رہا۔ کہنے کو بھارت دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن اہنسا کے پرچارک گاندھی کو انتہا پسند ہندئووں نے اس لئے قتل کر دیا کہ اس نے پاکستان کیوں بننے دیا ۔ سیکولر بھارت کے داعیوں نے اس انتہا پسند ہندو تنظیم کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف کئی بڑی دہشت گردانہ کاروائیوں کے باوجود آر ایس ایس کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کئے رکھا۔ یاد رہے کہ بھارت کا نام نہاد سیکولر ازم چھ دسمبر 1992ء کو پاش پاش ہوگیا تھا جب بھارت کے لاکھوں انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی حکومت کے چھتری تلے 1528ء کی تعمیر شدہ تاریخی بابری مسجدکو شہید کرکے عالم اسلام کے دینی جذبات کو نہ صرف مجروح کیا تھا بلکہ بھارتی سیکولر ازم کو شہید بابری مسجد کے ملبے کے نیچے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے ۔