برازیل کے جنگلات میں لگی آگ کو جان بوجھ کر بھڑکائے جانے کا انکشاف ، مگر کیوں اور کیسے ؟ ناقابل یقین خبر

برازیل (ویب ڈٰیسک) گزشتہ 6 دن سے جنوبی امریکہ کے بڑے جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے۔جنوبی امریکا کے ملک برازیل میں واقع ایمیزون کے جنگل میں گذشتہ 6 روز سے لگی آگ نے شدت اختیار کرلی ہے۔ دنیا کو 20 فیصد آکسیجن مہیا کرنے والے جنگلات پر اداکاروں اور ملکی سربراہوں کی جانب سے بغیر

تصدیق کے جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی گئیں۔غیر ملکی خبر رساں فرانسیسی ادارے کے مطابق دنیا کی ہائی پروفائل شخصیت نے جہاں ایمیزون کے جنگلات میں لگی بے قابو آگ پر تشویش کا اظہار کیا، وہیں ان کی تصاویر بغیر کسی تصدیق یا تحقیق کے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے اکاؤنٹس سے شیئر کردیں۔ میڈونا سے لے کر فرانسیسی صدر سب سوشل میڈیا پر بکھیر پرانی تصاویر کا شکار بن گئے۔حکام کیجانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں 76 ہزار ایکڑ پر محیط جنگلات متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہیں۔ماحولیات کے سائنسدانوں نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ اس آگ پر جلد قابو نہ پایا گیا تو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ کو ایک تباہ کن دھچکا لگ سکتا ہے۔ ماحولیات سے وابستہ ایک تنظیم گلوبل فائر ایمشن ڈیٹا بیس کے مطابق شہر میں دھوئیں کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔فرانس کے صدر ایمائیونل میکرون ان افراد کی فہرست میں سر فہرست ہیں، جنہوں نے ایمیزون کے جنگلات میں لگی آگ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جلدی میں غلط تصویر شیئر کردی۔اپنے بیان میں میکرون کا کہنا تھا کہ ہماری گھروں میں آگ لگ گئی ہے۔ دنیا کیلئے پھیپھڑوں کی حیثیت رکھنے والا ایمیزون آگ میں جل رہا ہے۔ فرانسیسی صدر کے ساتھ اس جملے کو ہیش ٹیگ اور غلط تصویر کے ساتھ ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان جنگلات کو بچانا اور مسئلہ کو جی سیون اجلاس میں اٹھانا ہوگا،

یہ ایک عالمی بحران ہے۔تاہم کیا اپ کو معلوم ہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے ٹوئٹ کی گئی تصویر کیا تھی ؟ وہ تصویر امریکی فوٹوگرافر لورین نے معروف چینل نیشنل جیوگرافک کیلئے لی تھی، جن کا انتقال سال 2003 میں ہوگیا تھا، تاہم اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تصویر 16 سال پرانی تو ہوگی۔غلط تصویر کو ٹوئٹ کرنے میں چلی کے صدر بھی پیچھے نہیں رہے۔ چلی کے صدر سیبیسٹئین پنیرا بھی تصویر کے جھانسے میں آگئے۔ ان کی ٹوئٹ کی گئی تصویر رائٹرز کے ایک صحافی نے سال 2013 میں کھینچی تھی۔سربراہان ملکت کے بعد شوبز شخصیات کی بات کی جائے تو نامور اداکار لیونارڈو کی جانب سے بھی دو تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں جس میں سے ایک تصویر وہ ہی تھی، جسے فرانسیسی صدر کی جانب سے شیئر کیا گیا تھا۔ جب کہ دوسری تصویر پیرو کے ایک شہر میں لگی آگ کی تھی، جو سال 2016 کی تھی۔اداکار اور گلوکار جیڈن اسمتھ ، جو معروف اداکار ول اسمتھ کے بیٹے بھی ہیں، ان کی جانب سے بھی انسٹا گرام پر ایک ڈرامائی تصویر شیئر کی گئی۔ تاہم یہ تصویر بھی پرانی اور سال 1989 کی تھی، جس نے اس وقت 1.5 ملین لائیک حاصل کیے تھے۔فارمولان ون کے معروف ڈرائیور لیوس ہیملٹن اور برازیل فٹ بال ٹیم کے کپتان دانی ایلوس نے بھی ایسی ہی غلط تصاویر کو پوسٹ کیا جو سال 2003 میں لی گئی تھیں۔اسی جال میں دنیا کے نامور ٹینس اسٹار جوکووچ بھی پھنس گئے۔دنیائے فٹ بال کے بے تاج بادشاہ جو انسٹا گرام پر 180 ملین مداحوں کی تعداد رکھتے ہیں، انہوں نے بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں تک غلط تصویر پہنچا دی۔برازیل کے نامور اسٹرائیکر سوریئز نے بھی سال 2015 کی تصویر شیئر کردی۔واضح رہے کہ پھیپھڑوں کی حیثیت رکھنے والے سب سے بڑے برساتی جنگل دی ایمیزون میں آگ نے زمین کے ایک بڑے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آگ لگنے کے واقعات جنوبی امریکا کے دیگر ممالک جیسے کہ بولیویا اور پیراگوائے میں بھی ہوئے ہیں۔