پاکستان کے پاس اسرائیلی پائلٹ کے قید ہونے کی خبریں ۔۔۔حقیقت کیا ہے ؟ اسرائیلی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

تل ابیب (ویب ڈیسک) اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے پاس اسرائیل کا کوئی پائلٹ نہیں ہے اور نہ ہی اخبار نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستانی سوشل میڈیا پر اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز‘ کے فرنٹ پیج کی خبر کا ایک عکس کثیر تعداد میں شیئر کیا گیا ہے جس میں

اسرائیلی پائلٹ کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی واپسی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ہاریٹز نے واضح کیا ہے کہ جس طرح اس خبر کو پیش کیا گیا ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے ۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین فروری 2019 میں ڈاگ فائٹ ہوئی تھی جس میں بھارتی مگ 21 تباہ اور اس کا پائلٹ گرفتار ہوا تھا۔ جو خبر سوشل میڈیا پر ایڈٹ کرکے شیئر کی جارہی ہے وہ 2014 کی ہے اور اصل سرخی کچھ یوں تھی، “Israeli Pilots and Blind Obedience? That’s Nonsense”(اسرائیلی پائلٹس اور ان کی تابعداری؟ یہ احمقانہ ہے )۔ واضح رہے کہ اسرائیلی پائلٹ کی پاکستان میں ہلاکت کی خبریں کافی عرصہ تک سوشل میڈیا پر سرگرم رہیں لیکن اس میں حقیقت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی اخبار کا جو تراشہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا وہ جعلی نکلا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پائلٹ پاکستان میں مارا گیا ہے ۔فیس بک پر شیئر کی گئی پوسٹ میں اسرائیلی پائلٹ کی تصویر دکھائی گئی جوکہ جنگی طیارے کے قریب اپنی فیملی کیساتھ کھڑا ہے اور اس پر ہیڈ لائن بنائی گئی کہ وہ پائلٹ ہے جس کے جہاز کو پاکستانی فضائیہ نے نشانہ بنایا ہے۔یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والی خبر میں اس تصویر کو اس ہیڈ لائن کیساتھ لگایا گیا تھا کہ یہ اس پائلٹ کی تصویر ہے جوکہ فضائی حادثے میں مارا گیا۔فیس بک صارف نے یروشلم پوسٹ کی خبر کے سکرین شاٹ کو فوٹو شاپ کرتے ہوئے اس کی ہیڈ لائن کو تبدیل کر دیا تھا جس

کو فیس بک صارفین کی اکثریت نے سچ تسلیم کیا تھا۔اسرائیلی پائلٹ کی گرفتاری کی خبریں مارچ کے ابتدائی دنوں سے سامنے آنا شروع ہوئی تھیں جن پر امت تازہ ترین نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں گرفتار دوسرا پائلٹ اسرائیلی ہونے کی خبر کہاں سے آئی؟اتوار کو سوشل میڈیا پر اسرائیلی اخبار یروشلم کی ایک خبر کا عکس گردش کرنا شروع ہوگیا جس کی انگریزی میں لکھی سرخی میں کہا گیا تھا کہ فائٹر جیٹ کی تباہی کے بعد پاک فوج کی جانب سے گرفتار کیے گئے پائلٹ کو ان کا خاندان الوداع کہتا ہے‘‘ٖFamily Bids Farewell to Pilot Who [sic] Arrested by Pakistan Army After Crash [sic] the Fighter Jet انگریزی کی اس سرخی میں نہ صرف گرامر اور انگریزی شہ سرخیوں کے اصول کی غلطیاں تھی بلکہ یہ خلاف منطق بات بھی کہی گئی کہ گرفتار پائلٹ کو خاندان نے الوداع کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خبر 2013 میں ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل نوام رون سے متعلق ہے۔ نوام کے ساتھ اسرائیلی فضائیہ کا ایک میجر بھی مارا گیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے برعکس اسرائیلی مسلح افواج تینوں فورسز میں ایک ہی طرح کے رینک نام استعمال کرتی ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کرنل کا مساوی رینک پاکستان اور بھارت میں ونگ کمانڈر ہوگا۔یروشلم پوسٹ کی مذکورہ خبر کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل نوام کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ تصویر بھی ہے جو جعلی خبر میں بھی استعمال کی گئی۔