سابق امریکی حکومت کس طرح جنسی سکینڈلز میں ملوث نکلی ؟ ملکہ برطانیہ سمیت بڑے بڑے ناموں کے شرمناک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل

واشنگٹن(ویب ڈیسک)ملکہ برطانیہ کے دوسرے بڑے بیٹے شہزادے اینڈریو، سابق امریکی سینیٹر جارج مشیل، امریکی ریاست نیو میکسیکو کے سابق گورنر بل رچرڈسن اور متعدد امریکی و برطانوی ارب پتی افراد کے سامنے آنے والے سیکس اسکینڈل نے تہلکہ مچادیا۔اگرچہ یہ سیکس اسکینڈل تین سال قبل منظر عام پر آیا تھا، تاہم دنیا بھر میں اس اسکینڈل

نے 10 اگست کو اس وقت تہلکہ مچادیا جب اسکینڈل میں ملوث امریکا کے ارب پتی مرکزی ملزم نے جیل میں خود کشی کرلی۔کسی ہولی وڈ ہارر فلم جیسے اسکینڈل کے مرکزی کردار امریکی ارب پتی جیفری ایڈورڈ اسپٹن نے نیویارک کے علاقے منہٹن میں موجود جیل میں خودکشی کرلی۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے امریکی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 66 سالہ ارب پتی سرمایہ کار جیفری اسپٹن نے جمعہ کی شب جیل میں خودکشی کرلی۔جیفری اسپٹن نے ایک ایسے وقت میں خودکشی کی جب کہ ایک دن قبل ہی ان کے خلاف جاری سیکس اسکینڈل کیس کے حوالے سے نیویارک کی عدالت میں 2 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات پیش کی گئی تھیں۔جیفری اسپٹن کو گزشتہ ماہ 6 جولائی کو امریکی ریاست نیو جرسی سے گرفتار کرکے نیویارک کی جیل منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف سیکس ٹریفکنگ اور جنسی جرائم کے تحت کیسز کی شروعات کی گئی تھی۔جیفری اسپٹن کے خلاف تاحال فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی اور ان کے خلاف جنسی جرائم کے تحت باضابطہ ٹرائل کا آغاز شروع ہونے والا تھا۔جیفری اسپٹن پر 2002 سے 2005 تک درجنوں کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے، انہیں جنسی غلام بنائے رکھنے، انہیں مہمانوں اوراپنے دوستوں کو جنسی لذت فراہم کرنے کے لیے مجبور کرنے جیسے الزامات ہیں۔ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے جن کم عمر لڑکیوں کو کئی سال تک جنسی غلام بنائے رکھا بعد ازاں انہوں نے ان لڑکیوں کو عمر رسیدہ ہونے پر نئی لڑکیوں کو ان کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے

کے لیے بھرتی کرنے کے لیے مجبور کیا۔ان کے خلاف سب سے پہلے برطانیہ کی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے آئی تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جیفری اسپٹن نے انہیں 14 سال کی عمر میں جنسی غلام بنایا اور کئی سال تک انہیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ورجینیا رابرٹ گفی کے مطابق انہیں ارب پتی شخص کے لیے ان کی محبوبا گیسلین میکسویل نے بھرتی کیا تھا۔ورجینیا رابرٹ گفی کے مطابق جس طرح انہیں ارب پتی شخص کی محبوبا نے ان کی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا، اسی طرح دیگر کئی خواتین بھی ان کے لیے کم عمر لڑکیوں کو بھرتی کرتی تھیں۔رائٹرز کے مطابق متاثرہ خاتون نے 2016 میں دعویٰ کیا تھا کہ ارب پتی شخص کی محبوبا نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ بیک وقت کئی مرد حضرات کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرے۔ورجینیا رابرٹ گفی کا کہنا تھا کہ انہیں جن مردوں کو جنسی لذت فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ان میں ریاست نیو میکسیکو کے سابق گورنربل رچرڈسن، سابق امریکی سینیٹر جارج مشیل، ماڈلنگ ایجنٹ جین لک برونل اور ارب پتی شخص گرین ڈبن بھی شامل تھے۔ورجینیا رابرٹ گفی کے الزامات سمیت دیگر خواتین کے الزامات اور جیفری اسپٹن کے خلاف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹس پر مشتمل 2 ہزار صفحات کے دستاویزات 9 اگست کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔ان ہی دستاویزات سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ جیفری اسپٹن نے کم عمر لڑکیوں کو نہ صرف جنسی غلام بنائے رکھا، بلکہ انہیں اپنے دیگر مہمانوں کو بھی جنسی لذت فراہم کرنے کے لیے مجبور کیا۔ان پر الزام بھی ہے کہ انہوں نے بعض لڑکیوں کو بیک وقت 8 سے 12 افراد کو جنسی لذت فراہم کرنے پر مجبور کیا۔ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے ورجینیا رابرٹ گفی کو ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادے اینڈریو سمیت متعدد معزز مہمانوں کے سامنے جنسی طور پر لبھانے والی پرفارمنس کرنے کا حکم دیا۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والے ارب پتی جیفری اسپٹن کے خلاف ایک اور خاتون نے الزام لگایا تھا کہ ان پرملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادے اینڈریو کو جنسی لذت پہنچانے کا حکم دیا گیا۔دنیا میں تہلکہ مچانے والے اس سیکس اسکینڈل کیس سے ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادہ 59 سالہ اینڈریو (ڈیوک آف یارک) سابق امریکی سینیٹر جارج مشیل، امریکی ریاست نیو میکسیکو کے سابق گورنر بل رچرڈسن، ماڈلنگ ایجنٹ جین لک برونل اور ارب پتی شخص گرین ڈبن کا براہ راست تعلق نہیں ہے۔تاہم یہ اسکینڈل کیس سامنے لانے والی متاثرہ خواتین کا دعویٰ ہے کہ انہیں ان افراد کو جنسی لذت پہنچانے کا حکم دیا گیا۔الزامات سے یہ واضح نہیں ہو رہا کہ متاثرہ خواتین نے ان شخصیات کو جنسی خدمات فراہم کیں یا نہیں، تاہم سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق متاثرہ خواتین نے ان افراد سمیت دیگر کئی معزز شخصیات کے سامنے جنسی طور پر لذت پہنچانے والی پرفارمنس کی۔اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ان شخصیات نے براہ راست اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا، تاہم ان شخصیات کے ترجمان نے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔سی این این کے مطابق الزامات سامنے آنے کے بعد ملکہ برطانیہ کے بیٹے کے ترجمان نے الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔شہزادہ اینڈریو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شہزادے نے آخری اور پہلی بار اسکینڈل کے مرکزی ملزم اور خودکشی کرنے والے جیفری اسٹپن سے 2010 میں ملاقات کی تھی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ 2010 کے بعد شہزادے نے جیفری اسٹپن سے کوئی ملاقات نہیں اور ان کی دوبارہ ملاقات یا شہزادے کو جنسی لذت فراہم کرنے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔