کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال۔۔۔ ایران بھی میدان میں آگیا، ایسا اعلان کر دیا کہ اُمتِ مسلمہ خوشی سے نہال ہوگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ مشکل اور مظلومیت کی اس گھڑی میں ایران کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر اسپیکر اسد قیصر نے دوسرے روز بھی دوست ممالک کی پارلیمان کے سربراہوں سے ٹیلیفونک رابطے کئے ۔ انہوں نے ایران کی مجلس اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی سے ٹیلیفونک

رابطہ کیا اور کہاکہ کشمیر کے مسئلے کو آئندہ ہونے والی اسپیکر کانفرنس کے ایجنڈے میں رکھا جائے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا،بھارتی آئین میں یکطرفہ ترمیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بہیمانہ اقدام سے آگاہ کیا۔اسد قیصر نے کہاکہ انڈیا نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے،کشمیر میں لاکھوں بیگناھوں کو قتل کیا گیا۔اسد قیصر نے کہاکہ پیلٹ گنز کے ذریعے نوجوانوں کی بینائی چھینی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی مظالم آزادی کشمیرکی تحریک کو سرد نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اور کشمیر کے صدیوں پر محیط لسانی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں۔ ایرانی قیادت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔انہوں نے کہاکہ توقع ہے ایران عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرے گا۔ ایرانی سپیکر علی لاریجانی نے کہاکہ پاکستان ایران کا عزیز برادر ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ مشکل اور مظلومیت کی اس گھڑی میں ایران کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ ایران کشمیر کے معاملے پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر کا حل فوجی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چایئے۔انہوں نے کہاکہ آیت اللہ خامینائی کا کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق واضح موقف رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ایران اس حوالے سے کسی بھی قسم کی مصالحتی کردار کے لیئے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی فورموں پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹرمولاناعبدالغفورحیدری نے کہاہے کہ جب تک مسئلہ کشمیرکشمیریوں کے رائے کے مطابق حل نہیں ہوتاخطہ میں امن قائم نہیں ہوسکتا،کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لئے پاکستانی قوم آخری حدتک جاسکتی ہے، اس کے لئے اگرجنگ بھی ناگزیرہوئی تواس سے بھی دریغ نہیں کرناچاہئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور حیدری کاکہنا تھا کہ ہندوستان کاحالیہ اقدام اس کی بوکھلاہٹ کانتیجہ ہے،جس سے کشمیریوں کی تحریک پرکوئی فرق نہیں پڑے گابلکہ جدوجہدآزادی میں مزیدتیزی آئے گی،تنازعہ کشمیرمیں اصل فریق کشمیری ہیں اس کے بعدپاکستان پھرہندوستان یاچین فریق شمارہوں گے اقوام متحدہ کے قراردادوں کواگردیکھاجائے تو اس میں کشمیروں کوحق خودارادیت دی گئی ہے اب اس فیصلہ کاحق کشمیری عوام کودیناچاہئے کہ وہ خودمختارکشمیرچاہتے ہیں یاپاکستان اورہندوستان میں شامل ہوناچاہتے ہیں۔مولاناعبدالغفورحیدری کاکہناتھاکہ ہماری نظرمیں کشمیرکسی صورت ہندوستان کاحصہ نہیں،بھارت نے زبردستی اورناجائز طریقے سے اپنے آئین میں ترمیم کرکے جموں اورلداخ کوہندوستان میں شامل کرلیاہے جسے نہ صرف کشمیری مستردکریں گے بلکہ کوئی بھی سنجیدہ طاقت اسے تسلیم نہیں کرے گی۔