’’ابھی تو بہت سارے حساب چکتا کرنے ہیں ۔۔۔۔‘‘ مقبوضہ کشمیر میں 30 سال کے بد ترین کرفیو کے بعد بھارت کیا کرنے جا رہا ہے؟ تہلکہ خیز تفصیلات

سرینگر (ویب ڈیسک) بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سخت ترین کرفیو میں بھی مقبوضہ وادی میں مودی سرکار کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر، کارگل اور لداخ میں 100 سے زائد مقامات پر احتجاج کیا گیا ہے ۔ قابض بھارتی فوج کی جانب سے مظاہرین پر

طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا جس کے باعث 52 افراد زخمی ہوئے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد گزشتہ 5 روز کے دوران سخت ترین کرفیو کے باوجود کشمیریوں نے حق خود ارادیت کے حق اور مودی سرکار کی مخالفت میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں جمعہ کے روز شدت آئی اور پوری وادی بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھی۔جمعے کی نماز کے بعد سخت ترین کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد نے صورہ کے علاقے میں احتجاجی مارچ کیا اور انڈیا مخالف نعرے بازی کی۔ جلوس کے شرکا ’ہم کیا چاہتے آزادی‘، ’انڈیا واپس جاؤ‘ اور ’انڈیا کا آئین نامنظور‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ اس جلوس میں بچے، جوان اور بوڑھے کشمیریوں کی بڑی تعداد شریک تھی اور جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔سرینگر کے قمرواری علاقے میں پولیس نے مشتعل ہجوم کا تعاقب کیا تو کچھ نوجوان دریا میں کود پڑے جس کے باعث ایک نوجوان ڈوب کر شہید ہوگیا۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ روز کے دوران پرتشدد مظاہروں کے تقریباً 100 واقعات پیش آئے ہیں جن میں بیس سے زیادہ افراد چھرے اورآنسو گیس کے گولے لگنے سے زخمی ہوئے ۔ سری نگر کے مختلف ہسپتالوں سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر کم از کم 52 افراد کو چھرّوں سے زخمی ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں میں لایا گیا ہے جن میں سے کم از کم تین افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ وادی میں گزشتہ 30 برس کا سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا ہے ، مواصلاتی نظام بند ہونے کے باعث افواہوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔دوسری جانب کارگل میں بھی لداخ کو مرکز کے زیر انتظام قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ گزشتہ 4 روز سے کارگل مکمل طور پر بند ہے۔ کارگل میں بعض نوجوانوں کی جانب سے پولیس اور نیم فوجی دستوں پر پتھراﺅ بھی کیا گیا جس کے بعد پولیس نے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔