اب دنیائے کرکٹ کو ملے گا ایک نیا چیمپئن : 2015ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ نے کونسی حکمت عملی اپنائی جس سے آج وہ نمبر ون ہو گیا

شکر اس بات کا ہے کہ نہ عادتاً ورلڈ کپ جیتنے والے آسٹریلیا کو یہ ٹرافی ملے گی اور نہ ہی یہ آسمان سر پر اٹھانے والے بڑ بولے بھارت کو ملے گی۔ بڑے عرصے کے بعد ایسا ہو رہا ہے کہ کوئی نئی ٹیم ورلڈ چیمپئن بنے گی۔دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی

روایتی حریف اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف فتح ہر لحاظ سے ایک یادگار کامیابی تھی۔ جس میں انگلینڈ نے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی ورلڈ نمبر وَن ہے۔بابائے کرکٹ انگلینڈ گوکہ کبھی ورلڈ چیمپئن نہیں بنا لیکن اس سے پہلے 3 مرتبہ ورلڈ کپ فائنل ضرور کھیل چکا ہے اور قسمت دیکھیں کہ ہر بار ناکام ہوا ہے۔1979ء میں ویسٹ انڈیز نے ہرایا، 1987ء میں آسٹریلیا ہرانے میں کامیاب ہوا اور 1992ء میں پاکستان کے ‘کارنرڈ ٹائیگرز’ نے انگلینڈ کے خواب چکناچور کیے۔ اب 27 سال بعد ایک مرتبہ پھر فائنل کھیلنے کے لیے انگلینڈ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ آسٹریلیا ہی تھا، وہ ٹیم جسے وہ 1992ء کے بعد سے کسی ورلڈ کپ میں شکست نہیں دے سکا، یہاں تک کہ ورلڈ کپ 2019ء کے پہلے مرحلے میں بھی نہیں۔پھر ہم نے دیکھا کہ ٹاس ہارنے کے باوجود انگلینڈ نے ایک لمحے کے لیے بھی آسٹریلیا کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم اس بار اگلے پچھلے سارے بدلے چکانے کا عزم لیے میدان میں اتری تھی۔ دوسری جانب آسٹریلیا، جس نے 6 مرتبہ ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلا تھا اور ہر مرتبہ ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا، لیکن کل پہلی مرتبہ اس نے ورلڈ کپ سیمی فائنل سے باہر ہونے کا مزا چکھا ہے۔اگر ورلڈ کپ 2019ء میں انگلینڈ کی کارکردگی کی بات کریں تو پاکستان اور سری لنکا کے ہاتھوں مایوس کن شکستوں کے باوجود بہت نمایاں رہی ہے۔ انہوں نے جو بھی میچ جیتے بڑے مارجن سے جیتے۔ جیسا کہ افتتاحی مقابلے

میں جنوبی افریقہ کو 104 رنز سے ایسے ہرایا کہ وہ بیچارا پورے ٹورنامنٹ میں دوبارہ سر نہ اٹھا سکا۔پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ نے اگلے 3 مقابلوں میں بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور افغانستان جیسے نسبتاً آسان حریفوں کو بخوبی شکست دی۔ سری لنکا کے ہاتھوں شکست پوری مہم کی واحد مایوس کن کڑی تھی لیکن شاید یہ شکست ضروری بھی بہت تھی۔ منزل کو پانے کے لیے سفر کے دوران اگر آپ کو اپنی کمزوریوں کا ادراک ہوجائے تو آگے کا سفر بہتر ہوسکتا ہے۔آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد تو انگلینڈ اس مقام تک پہنچ گیا تھا کہ اب باقی دونوں میچ جیتنے تھے ورنہ ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر۔ پھر یہ دونوں میچ بھی نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف تھے کہ جن کے خلاف انگلینڈ کئی سالوں سے ورلڈ کپ کا کوئی میچ نہیں جیتا تھا۔ لیکن اس بار انگلینڈ تاریخ کا دھارا موڑنے کے لیے آیا ہے۔ اس نے بھارت کو شکست دی اور نیوزی لینڈ کو بھی چاروں خانے چت کردیا، یوں خود تو سیمی فائنل تک پہنچ گیا لیکن ساتھ پاکستان کے امکانات ختم کردیے۔بہرحال، منزل قسمت آزمانے والوں کے بجائے اپنے زورِ بازو پر جینے والوں کو ہی نوازتی ہے، اس لیے انگلینڈ کا فائنل تک پہنچنا دراصل حق کا حقدار تک پہنچنا ہے۔اب ہمیں انگلینڈ میں وہی تڑپ نظر آ رہی ہے جو 1992ء میں پاکستان میں تھی۔ مایوس کن شکستوں کے بعد ہمت نہ ہارنے اور آخری دم تک حریف کے سامنے ڈٹے رہنے کا فیصلہ، پھر کارکردگی


میں بھی ہمیں آسٹریلیا کے خلاف کرس ووکس کی باؤلنگ میں وسیم اکرم نظر آئے اور عادل رشید کی گگلی میں مشتاق احمد!انگلینڈ کی کامیابیوں بلکہ پچھلے کچھ سال کی کارکردگی کا راز غالباً یہ ہے کہ اس نے 2015ء ورلڈ کپ کی بدترین ناکامی کے بعد ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا کہ جس کی ہم پاکستان جیسے ملک میں بیٹھ کر اپنے بورڈ سے توقع رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کپتان ایون مورگن کو باہر کی راہ دکھائی اور نہ ہی سب کو نکال کر ٹیم نئے کھلاڑیوں سے بھری۔ جو تبدیلیاں ہوئیں وقتاً فوقتاً ہوئیں، کپتان کو اعتماد دیا گیا اور اس بات کو سمجھا گیا کہ جدید دور میں انگلینڈ کو جدید کرکٹ کھیلنا ہوگی۔اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ انگلینڈ نہ صرف ون ڈے کرکٹ میں نمبر ایک ہے بلکہ اب ورلڈ کپ جیتنے کے لیے آخری مرحلے تک پہنچ چکا ہے بلکہ لارڈز میں ہونے والے فائنل کے لیے بھی کاغذ پر انگلینڈ ہی مضبوط نظر آتا ہے، لیکن، ذرا ٹھیریے! کاغذ پر تو بھارت بھی بہت مضبوط تھا بلکہ پہلے سیمی فائنل کے بیشتر حصے میں وہ غالب بھی تھا پھر وہ 45 منٹ آئے جو بقول ویرات کوہلی بھارت کی سیمی فائنل میں شکست کی وجہ بنے۔ فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایسے ہی کسی لمحے سے بچنا ہوگا، ورنہ انگلینڈ چوتھی بار فائنل میں پہنچ کر بھی محروم رہ جائے گا۔