سعودی شہزادے کی ہمشیرہ پر فرانس میں شرمناک مقدمے کی کارروائی کا آغاز ۔۔۔۔ شہزادی پر کیا کیا الزامات ہیں ؟

لندن (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہمشیرہ کے خلاف فرانس میں ایک مقدمے کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز منگل کو ہو گیا ہے۔ شہزادی حسہ بنت سلمان پر الزام ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر ایک کاریگر کی پٹائی کروائی تھی جو ان کی پیرس میں واقع

پرتعیش رہائشگاہ کی تزین و آرائش کر رہا تھا۔استغاثہ کے مطابق ستمبر 2016 میں جب محمد بن سلمان کی ہمشیرہ نے مذکورہ کاریگر کو اوینیو فوش پر واقع اپنی رہائشگاہ کے اندر تصویر لیتے دیکھا تو انھوں نے اپنے ذاتی محافظ کو حکم دیا کہ وہ کاریگر کو مارے پیٹے۔شہزادی حسہ بنت سلمان اس الزام سے انکار کرتی ہیں اور توقع ہے کہ وہ سماعت کے دوران عدالت میں موجود نہیں ہوں گی۔شہزادی کا موقف ہے کہ مذکورہ کاریگر مغربی پیریس کے مہنگے ترین علاقے میں واقع ان کی رہائشگاہ کی تصویریں بنا کر انھیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔کاریگر کے بیان کے مطابق شہزادی کے حکم پر ان کے ہاتھ باندھ کر شہزادی کے پاؤں چومنے پر مجبور کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ شاہ سلمان کی بیٹی، شہزادی حسہ بنت سلمان، کی عمر چالیس سے پچاس سال کے درمیان ہے اور سعودی عرب میں سرکاری میڈیا میں انھیں فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم خاتون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔کاریگر کا کہنا ہے کہ شہزادی کے حکم پر ان کی تذلیل اور مار پٹائی کا سلسہ کئی گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران ان کے اوزار بھی چھین لیے گئے۔فرانس کے ایک رسالے کو دیے جانے والے انٹرویو میں کاریگر کا مزید کہنا تھا کہ شہزادی نے اپنے محافظ کو چیختے ہوئے کہا کہ ’اس کتے کو جان سے مار دو، اسے جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘شہزادی کے ذاتی محافظ، یاسین بوزرو، کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے

بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ جج استغاثہ کے بیان میں پائے جانے والے بیشمار تضادات کا خیال رکھیں گے۔ شکایت کنندہ کے طبی معائنے کی رپورٹ اور اس کے بیان میں تضاد پایا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘شہزادی کے ذاتی محافظ نے کاریگر کے خلاف ہتک عزت کا ایک الگ مقدمہ بھی دائر کیا ہوا ہے۔فرانس میں شہزادی حسہ بنت سلمان کی گرفتاری کے وارنٹ مارچ 2018 میں جاری کیے گئے تھے جن میں ان پر مسلح تصادم اور ایک شخص کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے گھر میں قید رکھنے اور اس کے اوزار چوری کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔شہزادی کے علاوہ ان کے ذاتی محافظ پر الزام ہے کہ انھوں نے مسلح ہو کر ایک شخص پر حملہ کیا، چوری کی، موت کی دھمکیاں دیں اور اس شخص کو قید رکھا۔یاد رہے کہ جب محمد بن سلمان کو سنہ 2017 میں ولی عہد بنایا گیا تھا تو انھیں سعودی عرب میں بہت بڑی معاشرتی اور معاشی تبدیلیوں کا علمبردار سمجھا گیا تھا، لیکن گذشتہ برس ترکی میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد کی شہرت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔