اپوزیشن کا دباؤ یا کچھ اور ۔۔۔ ؟ وزیر اعظم نے آج ہی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

لندن(ویب ڈیسک) برطانوی وزیراعظم ٹریزامے آج قوم سے خطاب کریں گی جس میں ان کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان متوقع ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ٹریزامے پارلیمنٹ میں بریگزٹ پلان کی ناکامی کے بعد دباؤ کا شکار ہیں جس کے باعث وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ

کر چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹریزامے کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کو خیرباد کرنے کا اعلان آئندہ ماہ کریں گی اور وہ قیادت چھوڑنے کا معاملہ ٹرمپ کے دورے تک ملتوی کرنا چاہتی ہیں۔ٹریزامے نے یورپی یونین سے علیحدگی کے بل کو آج واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے برطانوی قانون میں قانون سازی کے لیے ایک معاہدے کی ضرورت ہے تاہم ٹریزامے نے اِسے آخری موقع قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹریزامے کے پارٹی قیادت چھوڑنے سے موسم گرما تک نئے وزیراعظم کی راہ بھی ہموار ہو گی۔دوسری جانب برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ٹریزامے کے استعفے سے متعلق ڈاؤننگ اسٹریٹ سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔حکومتی وزراء کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے آئندہ سربراہ کے لیے مہم جولائی میں اختتام پذیر ہو سکتی ہے۔دوسری جانببرطانوی وزیراعظم ٹریزامے آج قوم سے خطاب کریں گی جس میں ان کا عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان متوقع ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ٹریزامے پارلیمنٹ میں بریکزٹ پلان کی ناکامی کے بعد دباؤ کا شکار ہیں جس کے باعث وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹریزامے کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کو خیرباد کرنے کا اعلان آئندہ ماہ کریں گی اور وہ قیادت چھوڑنے کا معاملہ ٹرمپ کے دورے تک ملتوی کرنا چاہتی ہیں۔ٹریزامے نے یورپی یونین سے علیحدگی کے بل کو آج واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے برطانوی قانون میں قانون سازی کے لیے ایک معاہدے کی ضرورت ہے

تاہم ٹریزامے نے اِسے آخری موقع قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹریزامے کے پارٹی قیادت چھوڑنے سے موسم گرما تک نئے وزیراعظم کی راہ بھی ہموار ہوگی۔دوسری جانب برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ٹریزامے کے استعفے سے متعلق ڈاؤننگ اسٹریٹ سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔حکومتی وزراء کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے آئندہ سربراہ کے لیے مہم جولائی میں اختتام پذیر ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ جون 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے۔وزیراعظم ٹریزامے نے بھی یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا جن کا کہنا تھا دوبارہ ریفرنڈم ہوا تو وہ یورپی یونین ہی میں رہنےکو ترجیح دیں گی۔اس سے قبل سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی اس وجہ سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا، کہ وہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں نہیں تھے۔برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔برطانیہ کی ایک بڑی تعداد برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی چاہتی ہے اور اس سلسلے میں مہم چلائی گئی اور ریفرنڈم بھی ہوا۔بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔