’’ پاکستان کبھی کبھی کڑوا بولتا ہے ۔۔۔‘‘ شنگھائی کانفرنس کے دوران سشما سوراج کا گِلہ، شاہ محمود قریشی کے جواب نے ماحول کو گرما کر رکھ دیا

شنگھائی(نیوز ڈیسک ) شنگھائی تعاون وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد شاہ محمود قریشی کی بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ بھاتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان سے گلہ کیا ہے کہ پاکستان کبھی کبھی کڑوا بولتا ہے۔شاہ محمود قریشی

نے کہا کہ انہوں نے سشما سوراج پر واضح کیا کہ ہم تو پہلے ہی مذاکرات چاہتے ہیں۔شاہ مموتد قریشی نے بھارتی وزیرِ خارجہ سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تو اپنی پہلی تقریر میں ہی کہا تھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان تمام مسائل کا افہام و تفہیم سے حل چاہتا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے شنگھائی تعاون وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ روزہ افطار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 50ممالک کے لیے ویزاہ آن آرئیول کی پالیسی بنائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان 178ممالک کو ای ویزا کی سہولت دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے پاکستانی کمیونٹی سے کہا کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونٹی کا بھیجا ہوا ذرِ مبادلہ ملک کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ شنگھائی تعاون وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد شاہ محمود قریشی کی بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے غیر رسمی ملاقات ہوئی، سشما سوراج میٹھائی لے کر آئیں اور شاہ محمود قریشی سے کہا کہ میٹھا میٹھا بولیں، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو بڑھائیں گے،ہم آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ مہینوں میں پلوامہ واقع کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی محاذآرائی ہوئی جس دوران پاکستان نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا اور محاذآرائی سے متعلق بھارت کے جھوٹوں کو بے نقاب کیا تھا، اس حوالے سے سشما سوراج نے شاہ محمود قرشی سے کہا کہ پاکستان کبھی کبھی کروا بولتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درماین کشدگی شدت اختیار کر گئی تھی جس دوران پاکستان نے بھارت کے دو جنگی طیارے بھی مار گرائے تھے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا تھا جسے بعد میں جذبہ خیرسگالی کے طور پر بھارت کے حوالے کر دیا گیا تاہم اس کے بعد بھی بھارت کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا جس کا پاکستان نہ موثر جواب دیا تھا۔اب اس ملاقات کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔