نئے وزیراعظم کا انتخاب : مارشل لاء اور کرفیو کی خبروں کے بعد سوڈان سے بڑی بریکنگ نیوز آ گئی

خرطوم(ویب ڈیسک)افریقی ملک سوڈان میں مظاہرین نے فوجی حکومت سے سویلین حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ مطالبہ مظاہرین کے دس ارکان پر مشتمل نمائندوں کی ملکی فوجی کونسل کے ارکان سے مذاکرات کے دوران کیا گیا۔ سوڈانی فوج نے گزشتہ ہفتے صدر عمر البشیر کی حکومت

ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ سوڈان میں اس وقت برسراقتدار فوجی کونسل کے رکن لیفٹینیٹ جنرل یاسر العطا نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ عبوری سویلین حکومت قائم کرنے کے لیے ایک آزاد شخصیت کا نام تجویز کریں۔ سوڈانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی جمہوری حکومت قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ افریقی ملک سوڈان میں صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹے جانے، ان کی گرفتاری اور ملک میں رات کا کرفیو لگائے جانے کے باوجود ہزاروں افراد نے خرطوم میں فوج کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے جاری احتجاجی مظاہرے کے نتیجے میں عمر البشیر کی حکومت ختم ہونے باوجود سوڈان میں سیاسی صورتحال تاحال بحران کا شکار ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ عود بن عوف نے ایک دن بعد ہی استعفیٰ دے دیا، وزیر دفاع عود ابن عوف نے اپنے فیصلے کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔فوجی کونسل کے سربراہ عود بن عوف نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح عبدالرحمان برہان کو اپنا جانشین نامزد کردیا، فوج کا کہنا ہے کہ 2 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سوڈان میں مظاہرین مظاہرین سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اقتدار شہریوں (سویلین حکومت) کو منتقل کیا جائے۔سوڈان کی مسلح افواج کی طرف سے تمام شہریوں پر زور دیا گیاہے کہ وہ کرفیو کی پابندی یقینی بنائیں، فوج نے کرفیو کی پابندی نہ کرنے کے خطرناک نتائج سے پر بھی خبردار کیا گیا ہے،