برطانیہ کی مشہور ہم جنس پرست خاتون پولیس افسر کی زندگی کے چند انوکھے تجربات و مشاہدات اس خبر میں ملاحظہ کریں

لندن(ویب ڈیسک)میٹ پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک کا کہنا ہے کہ وہ تھوڑی مختلف ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے کچھ مختلف ہونے سے دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوئی جو فورس میں شامل ہونے کو مختلف محسوس کرتے ہیں۔برطانیہ کی پہلی خاتون میٹ پولیس چیف جو برطانیہ کی سب سے سینئر پولیس افسر اور

کھلے عام ہم جنس پرست ہیں بی بی سی ریڈیو 4کے ڈیزرٹ آئی لینڈ ڈسکس سے بات چیت کررہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی جنسی حیثیت ان کے بارے میں ایک سب سے کم دلچسپ چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون پولیس افسران کو فورس کا نصف ہونا چاہئے اور امید ظاہر کی کہ انہیں نئے ریکروٹس میں بہت ساری خواتین کے ہونے کی امید ہے تاکہ مرد اور خواتین کی تقسیم کو زیادہ متوازن بنایاجاسکے۔بہر حال انہوں نے شو کی میزبان لورین لیورن کو بتایا کہ یہ ان کے دوران ملازمت نہیں ہوگا ۔انہوں نے اس وقت کو یاد کیا جب ایک شخص کے ساتھ فش اینڈ چپ شاپ میں تھوڑے عرصے کام کرنے کے بعد جو کاؤنٹر کے پیچھے بیس بال کا بلا رکھتا تھا وہ 23سال کی عمر میں پولیس افسر بن گئیں۔شروع کے دنوں میں وہ لندن کی جنسی تجارت کے روائتی گڑھ سو ہوایریا سمیت لندن کے ویسٹ اینڈ میں گشت کرتی تھیں۔وہ صبح 3یا 4 بجے وہاں ہونے کے خیال سے محبت کرتی تھیں،بہت جلد بہت ساری ذمہ داریاں نبھانا بڑی چیز ہے اور آپ کوفیصلے کرنے پڑتےہیں کبھی کھبار تو زندگی کی اور موت کے فیصلے بہت جلدی کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے اپنی دکان کے زیر تحت انسداد دہشت گردی کے آپریشن کے دوران غلطی سے مارے گئے برازیلین الیکٹریشن جین چارلس ڈی مینزس کی غلطی سے ہلاکت کو ہوالناک وقت قرار دیا۔پولیس نے غلطی سے اسے مشتبہ دہشت گرد سمجھ لیا تھا اور اسے 2005میں لندن کے سٹاک ویل ٹیوب میں سرپر گولی ماردی گئی تھی۔