آج کل دنیا بھر میں مردانہ کمزوری کی گولیوں اور کیپسولز کے علاوہ ایک خاص قسم کا آلہ سب سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے ، یہ کیا ہے ؟ شرمناک انکشاف

لیڈز (ویب ڈیسک)ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق پانچ سال پہلے کی نسبت ڈاکٹرز ان دنوں مردانہ کمزوری کی ادویات اور آلات کے نسخے لگ بھگ دو تہائی زیادہ تجویز کر رہے ہیں ۔ انگلینڈ میں دسمبر 2013میں ڈاکٹرز کی جانب سے ایسے مجوزہ نسخوں کو جاری کرنے کی تعداد دو ملین کے قریب تھی
جو2017سے 18کے درمیان ساڑھے چار ملین کے قریب پہنچ گئی ۔ لیڈز شہر میں بھی ایسی ادویات اور آلات کی مانگ میں روز افزوں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں دسمبر2013میں 37.050نسخے جاری ہونے کے مقابلے میں دسمبر 2017 اور 18کے درمیان 60.459نسخے تجویز کیے گئے۔ یعنی 63%اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ ان ادویات میں ویاگرا ،ثِیلِس اور ویکیوم پمپس وغیرہ شامل ہیں ۔مردانہ صحت کے ایک خیراتی ادارے چَیپس ( CHAPS) کے سربراہ کرس بُوتھ کے مطابق قبل از وقت مردانہ اموات کی ایک بڑی وجہ دل کی شریانوں کی وجہ سے دل کے دورے اور فالج جیسے امراض ہیں ۔اس طرح کیکمزوری سے نبرد آزما افراد میں سے کم ازکم ایک چوتھائی دل کے امراض کا بھی شکار پائے جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دل کے حملوں کا سامنا کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد ایسے مردوں کی ہوتی ہے جو دوسے تین سال سےایسی کمزوریوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں ۔ طبعی صحت کے ان عوامل سے فائدہ اٹھانے کے لئے آج کل ایک پوری انڈسٹری پروان چڑھ رہی ہے جس کا مقصد متاثرہ افراد تک اپنی خدمات پہنچا کر بے پناہ منافع کا حصول ہے ۔ برٹش ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کے
مطابق چالیس سال سے زائد عمرکے مردوں میں یہ بیماری عام ہے ۔ ہر دس میں ایک شخصاسکمی کا شکار ہے ۔ ذیابیطس( شوگر) کے مریضوں میں یہ انحطاط اور بھی زیادہ ہے ۔ تیس فیصد سے زائد شوگر کے مریض کمزوری کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان امراض کی وجوہات میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن میں ہارمونز کا بِگاڑ،اعصابی تناو، خون کی شریانوں کا متاثر ہونا،شدید صدمہ یا جسمانی چوٹ،ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچنا اور جوڑوں کے درمیان عدم مطابقت کا ہونا سرفہرست ہے ۔ سگریٹ، شراب اور نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ان کمزوریوں میں آگ میں تیل کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مثبت اور جاندار تبدیلیاں کرکے ان امراض میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں ۔ زیادہ ورزش سگریٹ اور شراب سے اجتناب، ہائی بلڈ پریشر کا کنٹرول،لڈ شوگر اور کولسٹرول پہ قابو پاکر بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔(ش س م)