پانی کے اندر رہنے والے جانداروں کی عادات و خصائل : یہ دلچسپ تحریر آپ کی معلومات میں بیش بہا اضافہ کرے گی

لاہور (ویب ڈیسک)پانی کے چند جاندار حیران کن اضافی ادراکی خوبیوں یا صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ ایسی صلاحیتیں ہیں جن کا ہم انسان تصور ہی کر سکتے ہیں۔ کومب جیلی فش اس سمندری مخلوق میں سٹیٹوسسٹ نامی عضو ہوتا ہے، جس سے اسے توازن برقرار رکھنے کی مہارت حاصل ہوتی ہے۔ کومب جیلی فش میں مرکزی
اعصابی نظام نہیں ہوتا ہے، اس لئے اس کی مربوط نقل و حرکت اور نظام انہضام کا تمام انحصار اسی خاص حس پر ہوتا ہے۔ ڈولفن اس شاندار سمندری میمل کے پاس انعکاس صدا (echolocation) کی ناقابلِ یقین حس ہوتی ہے۔ ڈولفن اپنے اطراف میں آواز کی لہریں بھیجتی ہے اور ان کے انعکاس سے سامنے کی صورت حال کا پتا چلاتی ہے۔ ماحول سے موافقت پیدا کرنے کے لیے ڈولفن کے لئے یہ خوبی انتہائی کارگر ہے۔ خاص طور پر دریائی ڈولفن کے لئے، کیونکہ دریا کے مٹیالے پانی میں کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ڈولفن جھاڑیوں سے بھری ندی میں بھی اپنا راستہ بالکل ٹھیک طریقے سے تلاش کر لیتی ہے چاہے اس کی آنکھیں مکمل طور پر ڈھانپ دی جائیں۔ دریائے سندھ میں پائی جانے والی ڈولفن اندھی ہوتی ہے لیکن وہ ان لہروں کا سہارا لے کر سامنے کی صورت حال کو جانچ لیتی ہے۔ شارک شارک مچھلی میں برقی ریسپشن کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ایسی حیاتیاتی صلاحیت ہے جس کی مدد سے الیکٹرک کرنٹ معلوم ہو جاتا ہے۔ جانداروں کی حرکت سے یہ کرنٹ پیدا ہوتا ہے جس کا پتا شارک اپنی اس صلاحیت سے لگا لیتی ہے۔ ہتھوڑے جیسے سر والی شارک کا سر خاص طور پر برقی ریسپٹوو
حس کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ سمندری نمکین پانی بجلی کا بہت اچھا موصل ہے۔ اس بہترین حس کی بدولت شارک مچھلی اپنے شکار کے اس الیکٹرک کرنٹ کو محسوس کرتی ہیںجو اس مچھلی کے پٹھوں میں حرکت کرتے وقت خارج ہوتا ہے۔ سالمن مچھلی سالمن مچھلیوں میں بہت ہی عجیب خوبی ہے۔ یہ مچھلیاں اس جگہ واپس جانے کی کوشش کرتی ہیں جہاں یہ پیدا ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ اپنی بالغ عمر کھلے پانیوں میں گزارتی ہیں لیکن اپنا واپسی کا راستہ بالآخر تلاش کر لیتی ہیں۔ اگر وہ یہ طویل راستہ طے کر کے اپنی جائے پیدائش پر پہنچ جاتی ہیں تو آخر انہیں یہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟ سائنس کے لئے یہ ابھی تک ایک معمہ ہی ہے تاہم ایک تحقیق کے مطابق سالمن مچھلی زمین کے مقناطیسی میدان کی بنیاد پر ایک نقشہ بناتی ہے اور اسے راستہ تلاش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے دوران یہ بات بھی دریافت ہوئی ہے کہ اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہے اور یہ سونگھ کہ اپنی پیدائش کی جگہ کی ریت اور دوسری ریت میں پہچان کر سکتی ہیں۔ موسمیاتی مچھلی موسمیاتی مچھلیوں یا موسمیاتی لوچز میں ایک حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے جس سے یہ دباؤ میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کر سکتی ہیں۔
یہ صلاحیت ان مچھلیوں کو اس قابل بھی بناتی ہے کہ وہ موسم میں ہونے والی تبدیلی کی قبل از وقت پیش گوئی کر سکیں۔ مچھیرے اور مچھلی گھر کے مالکان موسمیاتی مچھلی کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتے ہیں جس سے انہیں بروقت بڑے طوفانوں کی آمد کا پتہ چل جاتا ہے۔ پلاٹیپس پلاٹیپس نامی یہ عجیب بطخ، انڈے دینے والے میمل جانوروں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ شارک سے ملتی جلتی ایک ناقابل یقین الیکٹروریسپشن حس رکھتی ہے۔یہ بطخ اپنی چونچ کی جلد سے الیکٹروریسپٹرز کا کام لیتی ہیں جس سے اسے اس برقی میدان کی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے جو کہ اس کا شکار اپنے پٹھوں کی حرکت سے خارج کرتا ہے۔ یہ بطخ تیرتے وقت اپنا سر دائیں بائیں گھماتی ہے جس سے اس کی حس اور بہتر طریقے سے کام کرنے لگتی ہے۔ سمندری کچھوے سالمن مچھلی سے ملتے جلتے رویے والے سمندری کچھوے بھی اپنے ’’گھروں‘‘ کو واپس لوٹ آتے ہیں۔ وہ اسی سمندری کنارے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے۔ انتہائی طویل سفر کرنے کے بعد ان کی اپنے ’’گھر‘‘ کو تلاش کرنے کی صلاحیت شاندار ہے۔ دیگر ہجرت کرنے والے جانوروں کی طرح کچھوے بھی یہ کارنامہ زمینی مقناطیسی میدان کو ناپ کر سرانجام دیتے ہیں۔