کالا تیتر : معصوم ترین پرندے کی مکاری و چالاکی کا یہ قصہ آپ کو حیران کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈیسک) داؤدخیل کچہ کا جھل ( سرکی جھاڑیوں کاجنگل) تیتر کے شکار کے لیے بہت موزوں ہے- یہاں بے شمار تیتر پائے جاتے ھیں – جو بھی شکاری ادھر آنکلے خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا ۔ شکاربندوق سے کیا جاتا ہے- جال سے شکار کا یہاں رواج نہیں ۔

شوگر کے مریضوں کے کام کی خبر : انسولین کے ٹیکوں سے جان چھڑائیں ،یہ قدرتی دوا آزمائیں
ضلع میانوالی کی نامور شخصیت محترم پروفیسر منور علی ملک لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ داؤدخیل کے مرحوم حاجی امیرقلم خان امیرے خیل اس علاقے میں تیتر کے سب سے مشہورومعروف شکاری تھے۔ تیتر دوقسم کا ھوتا ہے- ایک کالا تیتر جو شوقین لوگ گھروں میں پالتے ہیں کہتے ہیں یہ بہت برکت والا پرندہ ہے- اپنے مخصوص انداز میں بولتا ہے تو اس کی آواز کی گونج دور دور تک سنائی دیتی ہے – اس کی بولی ایسی ہے جیسے کہہ رھا ہو “حق تیر ی قدرت “ یا “سبحان تیری قدرت۔۔ دوسری قسم کا تیتر سفید تیتر کہلاتا ہے۔ سفید اس لیے کہلاتا ہے کہ یہ سیاہ نہیں ہوتا – ویسے یہ خاکستری (ھلکا بھورا کہہ لیں ) رنگ کا ہوتا ہے- داؤدخیل کے جھل میں زیادہ تر یہی تیتر ملتا ہے- تیتر کی ایک عادت یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو علاقے کا بادشاہ سمجھتا ہے- اپنے علاقے میں کسی دوسرے تیتر کو برداشت نہیں کر سکتا – اسی لیے بعض شکاری ایک پنجرے میں بند تیتر ساتھ لے جاتے ہیں – پنجرے والا تیتر جب بولتا ہے تو علاقے کا بادشاہ تیتر اپنے اس رقیب کو مار بھگانے کے لیے گولی کی طرح اڑتا ھؤا فورا وہاں پہنچتا ہے , اور شکاری کی بندوق سے نکلی ھوئی گولی کا شکار ہو جاتاہے۔ تیتر ھمیشہ اڑتے ہوئے ہی شکار ھوتا ہے۔ بیٹھا ہو تو ایسا مکار ہے کہ نظر ہی نہیں آتا – ایک دفعہ میں ایک تیتر کا تعاقب کر رھا تھا – وہ ایک بہت گھنے درخت پہ جا بیٹھا۔ میں درخت کے نیچے پہنچا درخت پر ادھر ادھر بہت نظردوڑائی کہیں نظر نہ آیا۔ مجھے یقین ھو گیا کہ وہ اڑ کر کہیں اورچلا گیاہے ۔ ناکام واپس لوٹتے ھوئے میں نے غصے سے ہوائی فائر داغ دیا ۔ عین اسی وقت تیتر پھر سے اڑ کر میرے سر کے اوپر سے گزرتا ہوا نکل گیا ۔ (ش س م)