ماہرین نے سست بچوں کو ایکٹو بنانے کے انوکھا اور سادہ سا طریقہ بتا دیا

لاہور(ویب ڈیسک )اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین گھروں میں زیادہ ایکٹو نہیں رہتے۔ والدین کو دیکھ کر بچے بھی سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں اور صوفے پر بیٹھے بیٹھے پورا دن گزار دیتے ہیں۔ لیکن جسمانی سرگرمی صرف بچوں کے لیے نہیں خود بطور والد یا والدہ آپ کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔

اپنی فیملی کے ساتھ ایکٹو یا سرگرم رہنے سے آپ کی ان کے ساتھ قربت بڑھے گی اور آپ صحتمند بھی رہیں گے۔اپنی فیملی کی صحت بہتر بنانے کے لیے یہ طریقے اختیار کریں۔یاد رکھیں کہ بچوں کی بہتر صحت کے لیے روزانہ کم از کم 60 منٹ کی جسمانی سرگرمی ضروری ہوتی ہے۔ہفتہ وار چھٹی کے دنوں میں بچوں کے ساتھ ہائکنگ یا سائیکلنگ کے لیے کسی پارک کا رخ کریں۔کھانے کے بعد چہل قدمی کی عادت اپنا لیں۔ بچوں کو اسکول یا دوست کے گھر گاڑی میں یا موٹر سائیکل پر لے جانے کے بجائے پیدل چلنے کو فوقیت دیجیے ۔گھر کا ایک کمرہ بچوں کے لیے مختص کیجیے جہاں وہ بڑے آرام سے ہلہ گلہ کرسکیں اور کھیل کود سکیں۔ اس کمرے میں گیند، کودنے کے لیے رسی اور ہر اس کھیل کا سامان رکھیں جس میں جسمانی سرگرمی شامل ہو، اس کے علاوہ ذہنی آزمائش کے لیے پزلز بھی رکھے جاسکتے ہیں اور ہاں بچوں کے ساتھ کھیل کود میں شامل ہونے میں ذرا بھی ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔بچوں کو ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیجیے جس میں ایک جگہ بیٹھنے کے بجائے جسمانی مشق شامل ہو۔ بچوں کے لیے ٹی وی دیکھنے، ویڈیو گیمز کھیلنے اور انٹرنیٹ پر وقت گزارنے کے اوقات کی حدود مقرر کردیجیے، لیکن ہاں آپ کے لیے یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ کہیں آپ کے بچے مقررہ وقت سے تجاوز نہ کر رہے ہوں۔