شہد اصلی ہے یا نقلی، بوتلوں میں بند شہد کس حدتک خالص ہوتاہے؟ وہ بات جو آپ بازاری شہدخریدنے سے پہلے جان لیں

لاہور(ویب ڈیسک)موسم میں بدلاو¿ آنا شروع ہوگیا ہے اور ایسے میں ٹھنڈے موسم اور نزلے زکام سے چھٹکارے کے لیے شہری شہدکا استعمال کرتے ہیں لیکن مارکیٹ میں ان دنوں جعلی شہد کی فروخت بھی شروع ہوجاتی ہے اور سب سے حیران کن بات تو یہ کہ بعض کمپنیاں یا افراد مذہبی وابستگی کی وجہ سے یا اپنی پراڈکٹ کا نام ایسا رکھ کر آپ کو انہی کا شہد استعمال کرنے پر مجبور یا پھر یوں کہیں کہ بلیک میل کرتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا،ہمارے لوگوں کی اکثریت شہد کے اصلی یا نقلی ہونے کی پہچان ہی نہیں رکھتی، ہم آپ کو خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے بتائے دیتے ہیں۔
سب سے پہلے شہد کی بوتل پر لگے کمپنی کے لیبل کو چیک کریں، جس پر اجزائے ترکیبی درج ہوں۔ شہد بنانے والی کمپنی کی طرف سے اجزائے ترکیبی کا اندراج قانونی اور اخلاقی طور پر لازم ہے۔ ان اجزاءمیں اگر additives یعنی ایسے مادے جو تیل میں اس لئے ملائے جاتے ہیں کہ اس میں کوئی غیرمعمولی خصوصیت پیدا ہو جائے، نہ ہو تو یہ شہد خرید سکتے ہیںلیکن کمپنی کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ کمپنی پر توآپ کو اعتماد ہولیکن دراصل کوئی جعل ساز اس کا لیبل استعمال کررہاہو۔
اس شہد کو بھی چیک کرنے کے طریقے ہیں ، ایک گلاس میں پانی لے کر شہد سے بھرا چمچ اس میں ڈال دیں، اگر شہد خالص ہوا تو یہ پانی میں حل نہیں ہوگا، اگر خالص نہ ہوا تو حل ہو جائے گا، کیوں کہ مارکیٹ میں ملنے والے اکثر شہد گڑیا دیگر شیرے وغیرہ سے بنائے جا رہے ہیں۔
ایک اور طریقہ یہ ہے کہ موم بتی میں موجود کاٹن کی بتی کو شہد میں اچھی بھگو کر ایک بار جھٹک دیں اور بعدازاں لائٹر سے اسے آگ لگانے کی کوشش کریں۔ اگر اس بتی میں آگ لگ گئی تو سمجھ لیں کہ یہ خالص شہد ہے۔
جانچ کا بھی سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ یا اخبار کے ٹکڑے پر ٹپکا دیں، اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر یوں تو بازاری شہد کسی بھی صورت میںقدرتی طریقے سے درختوں وغیرہ پر مکھی کے تیار کردہ شہد کا کوئی نعمل البدل نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ کا پاکستان کے کسی دیہی علاقے میں آناجاناہے تو کوشش کریں کہ وہاں اپنی آنکھوں کے سامنے درخت پر لگا شہد اتروائیں، اور اس کو بے شک منہ مانگ دام ادا کریں ۔ مکھی کے تیار کردہ شہد کا بازاروں میں عام بکنے والے اور لیبارٹریوں میں تیارکیے گئے یا ڈبوں میں مکھی کو بندکرکے تیار کرائے گئے شہد سے کوئی مقابلہ نہیں، لہٰذا اشتہاری مہم سے متاثر ہونے کی بجائے دیسی شہدکوترجیح دیں۔