ہسپتالوں میں جزوی ہڑتال ….!! مافیا کے چہرے بےنقاب ،اہم شخصیت ملوث ؟

کرونا وائرس پھیلاؤ کا خطرہ،وائے ڈی اے نے پمز ہسپتال او پی ڈی میں جزوی ہڑتال کر دی،کرونا وائرس خطرات کے باعث ینگ ڈاکٹرز نے او پی ڈی میں کام کرنے سے انکار کر دیا ، وائے ڈی اے اسلام آباد نے بتایاکہ اس وقت ڈاکٹرز اور ہسپتال کا عملہ کی حفاظت کیلئے حکومت مکمل طور ناکام ہوچکی ہے،بار بار درخواست کے باوجود حکومت طبی عملے کو

ماسکس تک مہیا نہیں کرسکی ۔ ڈاکٹر فضل نے کہاکہ ہسپتالوں کی او پی ڈیز نہ صرف ہسپتال عملہ بلکہ مریضوں کیلیے بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر فضل نے کہاکہ اس سلسلے میں ہسپتال عملہ اور مریضوں کے تحفظ کے خاطر او پی ڈیز کے سروسز معطل رہیں گے، کرونا کاونٹر سمیت ایمرجنسی میں ڈاکٹرز ہمہ وقت موجود رہیں گے۔وائے ڈی اے نے کہاکہ عوام صرف انتہائی ضرورت کے وقت ہی ہسپتالوں کا وزٹ کرے،حکومت ہسپتال عملہ کو کرونا وائرس سے بچاؤ کیلیے درکار حفاظتی آلات مہیا کرے۔وائے ڈی اے نے کہاکہ آئیسولیشن وارڈ یا کرونا سینٹر کو فیڈرل جنرل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ہم رضاکارانہ طور پر خدمات سر انجام دینے کیلئے تیار ہے۔ڈاکٹر فضل نے کہاکہ ہمارا مقصد احتجاج نہیں بلکہ حفاظتی اقدامات کرنا ہے، ڈاکٹرز کیلئے اور مریضوں کے لیے وفاقی حکومت کورونا روک تھام کے اقدامات میں بالکل غیر سنجیدہ ہے۔ڈاکٹر فضل نے کہاکہ پمز انتظامیہ اپنے عملے کے حفاظت کے لئے او پی ڈی میں گلووز تک مہیا نہیں کررہی ہے،او پی ڈی میں کام (آج )سے مکمل طور پر بند ہوگا۔مزید پڑھئیے ::خوراک کی اہمیت اور کرونا سے بچائو سیمینار نور محمد انصاری انڈسٹریل سکول سوشل ویلفیئر سوسائٹی غلام محمد آباد سے ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر طاہر ظہورنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، جو کرونا سے بچائو کی احتیاط پوری دنیامیں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں ساری دنیا کے مسلمان پہلے ہی سے باخبر ہیں جو مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرتا ہے کرونا اس کے قریب بھی نہیں آ سکتا۔ صفائی اسلام اور اہل اسلام کا اولین زیور ہے،اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے، جسم کی صفائی ہو، یا گھر کی صٖفائی، ماحول کی صفائی ہو یا شہر کی جس قدر بھی ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے چلے جائیں گے اسی قدر ہم موسمی آفات اور بیماریوں سے محفوظ ہوتے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا اچھی اور تندرست صحت کے لیے اچھی خوراک کا استعمال ہر انسان کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے، جس قدر بھی ہم جراثیم اور ملاوٹ سے پاک معیاری خوراک استعمال کریں گے اسی قدر ہم بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ آج ہم مغرب کی تقلید میں فاسٹ فوڈ کے دلدادہ ہو رہے ہیں جبکہ وقتی زبان کے چٹخارے کے ان میں صحت کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا،الٹا فاسٹ فوڈ انسان کو بے شمار بیماریوں میں مبتلا کر رہیں ہیں، جس سے بچنا انسان کے لیے بے حد ضروری ہے، ہمارے گھروں میں پہلے خواتین نمک اور مرچ خود پیستی تھیں، اب بازاری پسا ہوا نمک اور مرچ بھی بے شمار بیماریاں کا باعث بن رہے ہیںِ، چار وائٹ کلر چینی،پسا ہوا نمک، میدہ اور ابلے ہوئے چاول انسانی صحت کو سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، ہمیں اپنے ماضی کی طرف لوٹنا چاہیے دنیا کا بہترین نمک ہمارے پاس ہے مگر ہم تھوڑی سے محنت کی بجائے اپنے گھروں میں زہر خرید کر خود بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، اسی طرح چینی کی بجائے گڑ اور شکر کا ستعمال بھی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے، ڈاکٹر طاہر ظہور نے طالبات سے کہا کہ آنے والے کل میں آپ نے ایک گھر کی مالکہ بننا ہے اگر گھر میں خوراک کا درست استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور بچوں کو بازاری خرافات کی بجائے گھر میں تیار کی گئی خوراک کا عادی بنا دیا تو آپ کامیاب ماں بنیں گی، وقتی چٹخارے میں صحت اور دولت کے دشمن ہیں۔ معروف کاروباری شخصیت حاجی محمد سعید نے کہا کہ معاشرے میں انقلاب خواتین کی تربیت ہی سے ممکن ہے ہم جس قدر بھی خواتین کی تربیت اسلام کے اصولوں کے مطابق کریں گے اسی قدر ملک میں صالحیت کا اسی قدر جلد انقلاب پیدا ہو گا۔سابق چیئرمین محمد سلیم انصاری نے کہا نورمحمد انصاری دستکاری سکول طالبات کی رہنمائی کے لیے جو روشن اصول آج بتائے گئے ہیں وہ نہایت ہی قابل تحسین ہیں، جنرل سیکرٹری محمد ارشد قاسمی نے کہا کہ خوراک کا بہتر استعمال ہی انسانی صحت کو بیماریوں سے موسمی آفات سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، سیمینار سے حاجی محمد یعقوب پاشا، حافظہ صبا امین، یاسمین حمید اور محمد یوسف انصاری نے بھی خطاب کیا۔