زیادہ دیر تک گھر میں‌رہنا کتنا خطرناک ہے ؟ تازہ تحقیق نے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ،ہر طر ف مایوسی

ایک تازہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم وٹامن کی کمی ذیا بیطس، کینسر اور دل کی بیماریوں جیسے تشویشناک مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ چالیس سے 80 سال عمر کے تقریباً 10 فیصد لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی گئی ہے۔ یہ اہم تحقیق کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے جس مین یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی جسم میں مناسب

مقدار موجود ہونے سے عمر لمبی ہوئی ہے۔ یہ وٹامن جسم کے کئی کیمیائی تعاملات کا اہم جزو ہے اور ہڈیوں کی مضبوطی اور حادثات میں فریکچر سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور تولیدی صحت پر بھی اس کے مثبت اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔ خواتین میں مردوں کی نسبت وٹامن ڈی کی کمی زیادہ پائی گئی۔ دس فیصد مردوں کے برعکس تقریباً 13 فیصد خواتین میں یہ وٹامن مطلوبہ مقدار سے کم تھا۔ وٹامن ڈی جسم پر سورج کی روشنی براہ راست پڑنے سے قدرتی طور پر بنتا ہے جبکہ یہ چکنائی والی مچھلی جیسے کہ سالمن اور میکرل اور دودھ میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی کوشش کریں اور کچھ وقت دھوپ میں گزاریں اور وٹامن ڈی والی غذاوں کا استعمال بڑھادیں تو یہ ہماری صحت کیلئے بہت ہی اچھا ہوگا۔مزید پڑھئیے :: ماہرین نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے یا موبائل فون کا استعمال کرنے والوں میں موٹاپے کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔بین الاقوامی طبی جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ موٹاپے میں اضافے کا براہ راست تعلق نیند سے ہوتا ہے، مصنوعی روشنی میں سونے یا پھر سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے اور موبائل فون کا استعمال کرنے والے افراد میں چکنائی کو توانائی میں تبدیل کے والی بھوری چربی کے خلیات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں موٹاپے کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔تحقیق سے منسلک سائنس دان سینڈر کوئج مین کا کہنا تھا کہ موٹاپے پر قابو پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان سونے سے قبل مصنوعی روشنی کا کم سے کم استعمال کرے۔مزید پڑھئیے :: ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی انسان کو دل کا دورہ پڑنے، سٹروک ہونے یا کم عمر میں انتقال کر جانے کے بارے میں معلومات انسان کی ہتھیلی میں موجود ہیں۔یہ تحقیق لینسٹ میں شائع کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے 14 ممالک میں 140 ہزار افراد پر ٹیسٹ کیے گئے۔اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے، سٹروک ہونے یا کم عمر میں انتقال کر جانے کے امکانات جاننے کے لیے بلڈ پریشر سے بہتر ہاتھ کی گرفت ہے۔بین الاقوامی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہےکہ صحت جاننے کے لیے ہاتھ کی گرفت ایک سادہ اور سستا طریقہ ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کی گرفت اور دل کے عارضے کا تعلق واضح نہیں ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عمر کے ساتھپ ساتھ ہاتھ کی گرفت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ لیکن جن کی گرفت زیادہ تیزی سے کمزور پڑتی ہے ان کی صحت کو خطرہ ہے۔نئی تحقیق کے مطابق 20 سال کی خواتین کے ہاتھ کی گرفت سے 75 پاو¿نڈکا وزن پڑتا ہے جبکہ یہ وزن 70 سال میں 53 پاو¿نڈ رہ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 20 سالہ مرد 119 پاو¿نڈ کا وزن ڈال سکتے ہیں جبکہ 70 سال میں یہ 85 پاو¿نڈ رہ جاتا ہے۔14ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ گرفت کے زور میں 11 پاو¿نڈ کی کمی ہونے پر جلد انتقال ہونے کے امکانات 16 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح جان لیوا دل کا دورہ پڑنے کے امکانات 17 فیصد اور سٹروک ہونے کے امکانات 9 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔عام طور پر ڈاکٹر دل کا دورہ پڑنے یا سٹروک کے امکانات جاننے کے لیے مریضوں سے سوال نامہ پ±ر کراتے ہیں جس میں ان کی عمر، تمباکو نوشی کرتے ہیں یا نہیں، موٹاپا، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، کہاں رہائش ہے اور خاندان میں بیماری ہے یا نہیں جیسے سوال پوچھے جاتے ہیں۔مزید پڑھئیے:: ماہرین نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے یا موبائل فون کا استعمال کرنے والوں میں موٹاپے کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔بین الاقوامی طبی جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ موٹاپے میں اضافے کا براہ راست تعلق نیند سے ہوتا ہے، مصنوعی روشنی میں سونے یا پھر سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے اور موبائل فون کا استعمال کرنے والے افراد میں چکنائی کو توانائی میں تبدیل ے والی بھوری چربی کے خلیات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں موٹاپے کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔تحقیق سے منسلک سائنس دان سینڈر کوئج مین کا کہنا تھا کہ موٹاپے پر قابو پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان سونے سے قبل مصنوعی روشنی کا کم سے کم استعمال کرے۔