مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے ….!! دنیا کے کم عمر ترین پاکستانی آئی سرجن نے ملک کا نام روشن کردیا

دنیا کے کم عمر ترین پاکستانی آئی سرجن ڈاکٹر حسین احمد خاقان کو ایشیاءپیسیفک اکیڈمی آف اپتھمالوجی نے انٹرنیشنل ریسرچ اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر حسین احمد خاقان لاہور جنرل ہسپتال میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہیں چائنہ میں منعقدہ انٹرنیشنل کانگریس میں بہترین تحقیقی مقالہ جات پیش کرنے پر ایوار ڈدیا گیا۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ

میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے اسسٹنٹ پروفیسر امراض چشم ڈاکٹر حسین احمد خاقان کو ایوارڈ کے حصول پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹروں کی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں۔ وہ طب کے ہر
شعبہ میں بین الاقوامی سطح پر اپنی ذہانت اور ریسرچ کے جوہر دکھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان باصلاحیت ماہرین کی بدولت نہ صرف غریب مریضوں کو علاج معالجہ کی جدید سہولیات میسر آئیں گی بلکہ میڈیکل کے طلبہ بھی ان کی صلاحیتوں و تجربات سے استفادہ کرسکیں گے۔مزید پڑھئیے :: دنیا کی تقریباً ایک فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے اور خواتین مردوں کی نسبت اس سے دوگنا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔چالیس سالہ کرن کو اب سے چھ سال پہلےشدید خارش کی شکایت ہوئی جس کے دوران ان کی جلد پر سرخ نشانات بن گئے جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں۔ابتدا میں وہ اسےعام الرجی ہی سمجھیں مگر کچھ ہی عرصے کے بعد یہ دوبارہ ہوئی تو انھیں تشویش ہوئی۔ انھوں نےڈاکٹرسےرجوع کیا اور علاج سے وقتی طور پر آرام بھی آگیا تاہم کچھ ہی ہفتوں یا مہینے بعد جسم کے کسی دوسرے حصےمیں وہ ہی کیفیت دوبارہ نمودار ہو جاتی۔کِرن نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ میں ایم اے کیا ہے اور وہ ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ اس بیماری سے ان کا کام بری طرح متاثر ہونا شوع ہو گیا اور اکثر تکلیف کی شدت بہت بڑھ جاتی تھی۔کرن کو تقریباً تین سال قبل معلوم ہوا کہ اِنھیں ’ارٹیکیریا‘ ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی سنہ 2007 میں کی جانی والی ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 24 فیصد افراد کو کسی نہ کسی شکل میں ’ارٹیکیریا‘ لاحق ہے، جبکہ دنیا کی تقریباً ایک فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے اور خواتین مردوں کی نسبت اس سے دوگنا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔انسانی جسم کا سب سےبڑا عضو اس کی جِلد ہوتی ہے اسی لیے جِلدی امراض اکثر زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ پورے جسم پر پھیل سکتے ہیں۔پاکستان میں امراضِ جلد کےکئی ماہرین نےحال ہی میں یکجا ہوکر ارٹیکیریا سےمتعلق عوامی سطح پر شعور بیدار کرنےکی کوشش شروع کی ہے۔یہ بیماری نہیں بلکہ ایک طرح کی خرابی ہے جس میں جلد پر سرخ نشان بنتے ہیں، جلد پھول جاتی ہے اور اس میں شدید خارش ہوتی ہے۔ عام لوگ اسے ’چھپاکی‘ یا ’چھپاکا‘ کہتے ہیں کچھ اسے ’ددوڑا‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی الرجی ہی کی ایک قسم ہے مگر یہ شدید قسم کی ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ارٹیکیریا میں مبتلا افراد پر نفسیاتی دباو¿ بہت ہوتا ہے اور وہ اکثر تنہائی کاشکار ہو جاتے ہیں، خاص کر وہ مریض جن کا چہرہ بھی اس سےمتاثر ہوتا ہے۔ڈاکٹرافضل لودھی کا شمار کراچی کےمعروف ترین ماہرِامراضِ جلد میں ہوتاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری نہیں بلکہ ایک طرح کی خرابی ہے جس میں جلد پر سرخ نشان بنتے ہیں، جلد پھول بھی جاتی ہے اور اس میں شدید خارش ہوتی ہے۔ عام لوگ اسے ’چھپاکی‘ یا ’چھپاکا‘ کہتے ہیں کچھ اسے ’ددوڑا‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی الرجی ہی کی ایک قسم ہے مگر یہ شدید قسم کی ہوتی ہے۔ڈاکٹر افضل لودھی کا کہنا ہے کہ صرف ان کے پاس اس بیماری کے پانچ سے چھ مریض روزانہ آتے ہیں۔ان کے مطابق اس کی عام نشانی یہ ہے کہ اگر کسی شخص کوارٹیکیریا ہوتو اس کی جلد کے کسی بھی حصےکو ہلکا سا ک±ھرچا جائے تو وہاں فوراً سرخ نشانات بن جاتے ہیں۔ڈاکٹر لودھی کے مطابق ارٹیکیریا کی وجوہات اب تک نامعلوم ہیں اور اس میں عمر کی بھی کوئی قید نہیں یہ کسی بھی عمر کے شخص کو کسی بھی چیز سے ہو جاتی ہے۔ کچھ افراد کو پانی یا دھوپ سے بھی ہو جاتی ہے تاہم 20 سے 40 سال کی عمر میں اس مرض کاحملہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ۔لودھی نے بتایا کہ یہ چھوت کا مرض نہیں ہے یعنی یہ ایک سے دوسرے کو نہیں لگتا، لہٰذا اس میں مبتلا شخص سےالگ رہنا یا دور بھاگنا نہیں چاہیے۔اس کے علاج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ارٹیکیریا کا علاج مشکل تھا مگر اب ایسی کئی ادویات موجود ہیں جس سےاس کا علاج کیا جا سکتا ہے یا کم از کم اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔