ہر گزرتی دہائی کے ساتھ انسانوں کی اوسط عمر کم کیوں ہوتی جا رہی ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی معلوماتی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) دو صدیوں کے بہترین حصے میں لوگوں کی متوقع عمر بہت تیز اور مستقل شرح سے بہتر ہو رہی ہے۔سنہ 1840 کی دہائی میں لوگوں کی اوسط عمر 40 برس سے زیادہ نہیں ہوتی تھی لیکن پھر وکٹورین دور کے دوران غذائیت، صحت اور رہائش کی سہولیات اور صفائی ستھرائی

میں بہتری کا مطلب سنہ 1900 کی دہائی کے اوائل میں متوقع عمر 60 سال تک پہنچ رہی تھی۔جیسے جیسے 20 ویں صدی میں ترقی ہوئی، جنگ کے سالوں کے علاوہ، عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال اور بچپن سے حفاظتی ٹیکوں کے تعارف سے مزید فوائد حاصل ہوئے۔سنہ 1970 کی دہائی سے خاص طور پر سٹروک اور دل کے دورے کے مریضوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں بڑے پیمانے میں پیش رفت ہوتی رہی۔یہاں تک کہ 21 ویں صدی کے آغاز تک، خواتین کے لیے متوقع عمر 80 جبکہ مردوں کے لیے 75 برس ہو گئی۔اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا زندگی کے ایک اضافی سال میں ہر چار سال یا اس سے زیادہ اضافہ ہوتا رہا۔تاہم سنہ 2011 وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جب اچانک ہی یہ سلسلہ رک گیا۔ابتدائی طور پر متعدد ماہرین نے سوچا کہ کیا یہ ایک عارضی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ یقینی طور پر سنہ 2015 ایک غیر معمولی سال تھا جب اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا، موسم سرما خاص طور پر خراب تھا اور اس کی وجہ ایک خاص قسم کے زکام کو قرار دیا جا رہا تھا۔لیکن اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ ٹرینڈ محض ایک عارضی مسئلہ نہیں ہے۔برطانیہ کے قومی شماریات کے دفتر سے سنہ 2016 سے 2018 کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان چیزوں کی تین سال کی بنیاد پر پیمائش کی جاتی ہے اور جہاں اس میں تھوڑی بہتری آئی ہے، وہیں یہ اب بھی نسبتاً کم ہے۔موجودہ رجحانات کے

مطابق برطانیہ میں رہنے والے لوگوں کو اپنی عمر میں ایک سال کا اضافہ کرنے کے لیے 12 برس درکار ہوں گے۔ایک تجویز جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اتنے برسوں کے اضافے کے باوجود انسان صرف اپنی عمر کی بالائی حدود تک پہنچ پائے ہیں۔سب سے قدیم زندہ شخص جس کا سرکاری ریکارڈ موجود ہے وہ فرانسیسی خاتون جین کالمنٹ تھیں جو مرنے کے وقت 122 سال کی تھیں لیکن یہ 20 سال پہلے کی بات ہے۔سائنسی جریدے جنرل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جین کالمنٹ کی عمر 115 برس کے قریب تھی۔ایک امریکی ماہرِ جینیات ڈیوڈ سنکلیئر نے لائف سپن نامی ایک کتاب لکھی ہے جس میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ طویل عمر سے وابستہ جینز کو بڑھاوا دینے سے لوگ زیادہ طویل عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔حقیقت کچھ بھی ہو اس بات کے ثابت کرنے کے لیے بہت سارے شواہد موجود ہیں کہ برطانیہ کی آبادی اوسط عمر کی حد تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔مثال کے طور پر جاپان میں لوگوں کی متوقع عمر پہلے ہی طویل ہے لیکن حالیہ برسوں میں برطانیہ کے مقابلے ان کی متوقع عمر میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے صرف ایک ملک کا برطانیہ سے قدرے برا ریکارڈ تھا اور وہ ملک امریکہ ہے۔عمر رسیدہ ماہر ایڈورڈ مورگن نے کہا کہ اس رجحان کے پیچھے عوامل کی ایک ’پیچیدہ‘ رینج ہوسکتی ہے اور وہ اس کی تحقیق کے لیے مزید کام کرنا چاہیں گے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) پہلے ہی اس حوالے سے تحقیق کر چکا ہے۔ اس کی گذشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ میں متعدد عوامل کو سامنے رکھا گیا ہے۔ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں کوئی بڑی طبی دریافت نہیں ہوئی۔ تو اگر ایک بیماری سے اموات میں کمی واقع ہوتی ہے وہیں کوئی دوسری بیماری سر اٹھا لیتی ہے۔جہاں دل کے دوروں، فالج اور کینسر سے بچ جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں ڈیمینشیا سے اموات کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔میڈیکل کمیونٹی اس بیماری کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے میں جدوجہد کر رہی ہے۔پی ایچ ای کی رپورٹ میں کفایت شعاری کے اثرات پر بھی نگاہ ڈالی گئی ہے اور عالمی ادارہ برائے صحت کے سابق مشیر پروفیسر مائیکل مارموٹ نے پہلے جو تجویز پیش کی ہے وہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔پی ایچ ای کا کہنا ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ غریب افراد کی عمر میں بہتری میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔وہ دیکھ بھال، صحت اور فلاح و بہبود کے اخراجات پر دباؤ سے زیادہ متاثر ہوں گے لیکن رپورٹ اب تک حتمی نہیں ہے۔تاہم یہ ضرور واضح ہے کہ یہ ٹرینڈ جتنی دیر چلے گا، اتنا ہی اس حوالے سے جوابات ڈھونڈنا ضروری ہو جائے گا۔