منرل واٹر پینے کے شوقین ہوشیار ہو جائیں:منرل واٹر کے وہ 8 برانڈ جو پاکستان میں ہیپاٹائٹس پھیلا رہے ہیں،حکومت نے فہرست جاری کر دی

اسلام آباد ( ویب ڈیسک )وفاقی دارلحکومت میں منرل واٹر کے آٹھ برانڈز کے مواد میں ہیپاٹائٹس سی پایاگیا اور یہی پانی مکینوں کو پلایاجارہاہے ۔ انگریزی جریدے پاکستان ٹوڈے کے مطابق پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایات کے بعداسلام آباد کے فوڈڈیپارٹمنٹ نے 15منرل واٹر سیمپل اکٹھے کیے اور ان کے

معیار کو جانچنے کے لیے سیمپلزقومی ادارہ صحت بھجوادیئے ۔ان ٹیسٹوں کے نتائج نے ناقص معیارکا بھانڈا پھوڑ دیا، آٹھ منرل واٹر برانڈ نہ صرف گندا پانی دے رہے ہیں بلکہ وہ دارلحکومت میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔ ان منرل واٹر کمپنیوں میں ڈیپ سپرنگ، نیکٹر، ہائیڈرو8 ،برین ، موزان ، ایلووینا، اکوانٹس اور میپل پلس شامل ہیں، ان برانڈز کے پانی میں بڑی تعداد میں جراثیم بھی پائے گئے ۔ قومی ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پانی کے مختلف برانڈز کی سیل بوتلوں کو ماہرین کی موجودگی میں لیبارٹری میں کھولاگیا اور انہوں نے نہایت پیشہ وارانہ طریقے سے ان کی جانچ پڑتال کی، ان پانیوں کو انسانی صحت کیلئے ان فٹ قراردیا، تمام سیمپلز میں کولیفارم لیول 50سے 240تک تھا ۔پانی کے ماہر ڈاکٹر عبدالمجید نے جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ اگر کسی بھی پانی میں کولیفارم لیول صفر سے زائد ہوتو یہ انسانی صحت کیلئے سنجیدہ خطر ہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ’ ہیپاٹائٹس سی ، گیسٹرو اور خاص طورپر یہ پانی پینے سے کسی کی موت بھی ہوسکتی ہے ، معیار کے مطابق یہ پانی نہ صرف گندا ہے بلکہ انسانی صحت کیلئے خطرہ بھی ‘۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تقریباً200رجسٹرڈوغیررجسٹرڈ پانی کے برانڈز کام کررہے ہیں اور زیادہ پرانے گھروں اور تہہ خانوں میں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اخبار نے چند متعلقہ برانڈز سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے نتائج اور سائنسی ثبوت ماننے

سے بھی انکار کردیا اور ہائیڈرو8کے پراجیکٹ منیجر نے کہاکہ ہم نتائج عدالت میں چیلنج کریں گے کیونکہ ہمارا مارکیٹ میں ایک نام ہے ۔ دوسری طرف بوتل واٹر کمپنیوں کی طرف سے دائر پٹیشن کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کو مذکورہ برانڈز کیخلاف کارروائی کو قانونی قراردیدیا۔بتایاگیا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے فوڈ اتھارٹی کے سیمپل اکٹھے کرنے کے اختیارات کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھاکہ فوڈ لائ1960ءمیں فوڈ اتھارٹی کو پانی کی کمپنیوں پر چھاپے مارنے کا قانونی اختیار موجود نہیںتاہم فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق سیمپل اور کارروائی کررہے ہیں۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے فوڈ اتھارٹی کے اقدامات اور کارروائیوں کو قانونی قراردیا۔