شادی کرنے کا سب سے بڑا فائدہ اور نہ کرنے کا سب سے خوفناک نقصان کیا ہوتا ہے ؟ جدید تحقیق کے نتائج ملاحظہ کریں

ہیلی فیکس (ویب ڈیسک) سائنس دانوں کی تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شادی کئی بیماریوں کو روکنے میں معاون ہی نہیں بلکہ اس عمل کے سبب کئی پیچیدہ جسمانی اور نفسیاتی مسائل بھی حل ہوجاتے ہیں۔ برطانوی میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر ولسن کا کہنا ہے کہ

دماغ کو خون سپلائی کرنے والی بعض انتہائی باریک نالیوں میں کسی وجہ سے آنے والی سوجن کا بھی شادی کے خوشگوار اثرات سے خاتمہ ہوجاتا ہے، جس کے باعث خون کی سپلائی کا سلسلہ انتہائی بہتر انداز میں ہوتا ہے۔ اس عمل کے تحت دل اور دماغ کے نظام کی بہتری میں اضافہ ہوتا ہے، یہی عمل ایک طرح سے دل کے دورہ اور دماغ کی شریان پھٹنے کے خطرات کو کم کرتا ہے، ایسے افراد جو زیادہ عمر کو پہنچ کر بھی شادی سے گریز کرتے ہیں، ان کے دل و دماغ کی حالت شادی شدہ افراد کی نسبت بہت خراب ہوسکتی ہے، غیر شادی شدہ اور شادی شدہ افراد کے طرز زندگی کا مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ایسے افراد جو خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ان کی نسبت گیر شادی شدہ افراد کو کئی اقسام کی نفسیاتی الجھنوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔ ڈاکٹر والسن کا کہنا ہے کہ شادی کا بندھن ہر چند مرد و زن کی تکمیل کا باعث ہوتا ہے، اس عمل سے گریز کرنے والے دراصل ادھوری زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔دوسری جانب ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

اور وہ چیز ہے میتھی دانہ ، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتا ہے۔میتھی دانہ صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے اور اس سے تیار کردہ پانی بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق میتھی دانے میں حل ہونے والے فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ خوراک ہضم ہونے اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرکے بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ دانے ذیابیطس ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ گلوکوز کی برداشت کو بہتر بناتے ہیں، یعنی ان دانوں سے ذیابیطس کے مریض کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ان دانوں کے استعمال کا ایک مخصوص طریقہ بلڈشوگر کو بڑھنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ انسولین کی سرگرمی بہتر بناتا ہے۔میتھی دانہ جسم کو شکر اس طریقے سے استعمال کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جیسا اسے استعمال کرنا چاہئے۔اس مقصد کے لیے میتھی دانے کی چائے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے ڈھائی گرام میتھی دانے کو مصالحے کوٹنے والے برتن میں ڈال کر کوٹ لیں اور پھر ایک کپ میں ڈال کر اسے 8 اونس گرم پانی سے بھرلیں۔اس کے بعد چمچ سے اچھی طرح چائے کو ہلائیں اور کچھ ٹھنڈا ہونے کے بعد پی لیں۔ایک اور طریقہ کار یہ ہے کہ ایک چائے کا چمچ میتھی دانے کا پاﺅڈر نیم گرم پانی میں ملائیں اور نہار منہ پی لیں۔نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔