کھانے اور سونے کے درمیان کتنا وقفہ رکھا جائے تو شوگر کو 24 گھنٹے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے ؟ بڑے کام کی خبر

لندن(ویب ڈیسک) بلڈ پریشر اور شوگر کا مسئلہ پاکستان میں بے قابو ہوتا جا رہا ہے ، کہا جاتا ہے کہ ہر دسواں شہری اس چیز کا چکار ہے ، مگر اب نہیں تحقیق بھی سامنے آئی ہے ، جس سے اس مرض سے بچا بھی جا سکتا ہے ، اور اسے کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے ،

لندن میں ہونے والی ریسرچ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رات کے کھانے اور سونے کے وقت کے درمیان 2گھنٹے کے وقفے سے طویل المیعاد بنیادوں پر بلڈ شوگر لیول پر کوئی نمایاں فرق دیکھنے میں نہیں آتا ،، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ رات کا کھانا سونے سے کم از کم 2گھنٹے پہلے کھا لینا چاہئے تاکہ مختلف مسائل سے بچ سکیں۔مگر یہ عادت اتنی بھی بری نہیں جتنی تصور کی جاتی ہے۔یہ دعویٰ ایک جاپانی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ طبی ماہرین عرصے سے مشورہ دے رہے ہیں کہ سونے کے لیے بستر پر لیٹنے سے کم از کم 2گھنٹے قبل کھانا کھالینا چاہئے تاکہ بلڈشوگر لیول مستحکم ہوسکے۔ جاپانی تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے نیوٹریشن، پریونیشن اینڈ ہیلتھ جرنل میں شائع ہوئے جس میں سامنے آیا کہ رات کے کھانے اور سونے کے وقت میں اس وقفے سے طویل المیعاد بنیادوں پر بلڈ شوگر لیول پر کوئی نمایاں فرق دیکھنے میں نہیں آتا۔ اوکایاما یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ڈیڑھ ہزار صحت مند افراد کے سونے اور کھانے کے اوقات کا جائزہ 3 سال تک لیا گیا اور اس دوران مسلسل بلڈ ٹیسٹ بھی لیے گئے ۔ ریسرچ میں شامل بیشتر افراد عموماً رات کا کھانا سونے سے 2 گھنٹے قبل کھالیتے تھے مگر 16 فیصد مردوں اور 8فیصد خواتین میں یہ وقفہ کافی کم تھا ۔ جب محققین نے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ کھانے اورسونے کے وقت سے طویل المیعاد بنیادوں پر بلڈ شوگر لیول پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی وزن، بلڈ پریشر، ورزش، تمباکو نوشی وغیرہ بلڈ شوگر پر کھانے اور سونے کے وقت میں وقفے سے بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔