کاک ٹیل کالم (روزنامہ جنگ 19 اکتوبر 2018)

لاہور (ویب ڈیسک) آج کا کالم…..کالم کم کاک ٹیل زیادہ ہے۔سکندر اعظم کوئی شاعر، ادیب، دانشور، گلوکار، موسیقار، سنگتراش، مصور نہیں ، سرتاپا ایک مہم جو، ایک جنگجو تھا جو صرف ہتھیار کی زبان سمجھتا اور بولتا تھا لیکن وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ…..’’میں اپنے باپ سے بھی بڑھ کر اپنے استاد کی عزت کرتا ہوں

کیونکہ میرا باپ مجھے آسمانوں سے زمین پر لایا جبکہ میرا استاد مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان تک لے گیا۔‘‘سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی، کئی کتابوں کے مصنف، کئی قابل تحسین پیپرز کے خالق پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران اور ان کے ساتھی، ہمعصر دیگر اساتذہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں کھڑے ہیں؟ ڈاکٹر مجاہد کامران میرے بھائی، قریبی دوست اور ہم عصر بھی ہیں۔ ایم ایس سی فزکس کے بعد مجاہد نے جب ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ٹیچنگ میں جانے کے ارادوں کا اعلان کیا تو سب حیران ہوئے کہ جو بہ آسانی سول سروس میں جا سکتا ہے وہ اس کام کی طرف کیوں جارہا ہے جس کی کوئی خاص پذیرائی موجود نہیں لیکن استاد بننا اس کی خواہش بھی تھی اور خواب بھی لیکن اس خواب کی تعبیر کتنی افسوسناک بلکہ شرمناک نکلی….. مجاہد کامران کے لئے نہیں، میرے اور آپ کے لئے!اس گہری تہہ در تہہ تاریکی کا ایک پہلو روشن ہے اور وہ یہ کہ اوپر سے نیچے، یہاں تک کہ خود’’نیب‘‘ کے اندر سے جو ردعمل سامنے آیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مردہ جسم میں ابھی جاں باقی ہے،

راکھ کے ڈھیر میں کچھ شعلے اور چنگاریاں ابھی زندہ ہیں، منشا بم معاشرہ میں ابھی دم موجود ہے۔ دوسرے موضوع کا تعلق بھی تعلیم و تدریس سے ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ نجی اسکول آڈٹ شدہ اکائونٹ پیش کریں تاکہ ازسرنو معقول، متوازن فیسوں کا تعین کیا جاسکے۔ چیف جسٹس نے نجی اسکول مالکان سے کہا’’آپ اپنی مرضی کی فیسیں چارج کرر ہے ہیں اور کہتے ہیں یہ آپ کا’’رائیٹ ٹوٹریڈ‘‘ ہے تو کیا آپ تعلیم فروخت کررہے ہیں۔‘‘ ذرا غور کریں تعلیم و تدریس کے حوالہ سے ’’رائٹ ٹو ٹریڈ‘‘ کی اصطلاح کتنی ولگر سی محسوس ہوتی ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کے نزدیک فرنیچر، آلو چھولے، برقی آلات ، کپڑا ، جوتا ، کاسمیٹکس، نان روٹی وغیرہ اور تعلیم’’بیچنے‘‘ میں کوئی فرق نہیں اور وہ شے جسے’’ مومن کی گمشدہ میراث‘‘ کہا گیا ان کے نزدیک عام کاروبار اور دھندے جیسی ہی کوئی شے ہے تو ہمیں اس کے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ سرکاری اسکول ہم پہلے ہی ویران کرچکے ہیں اور اب مادرپدر آزاد نجی اسکول یعنی تعلیم کی فیکٹریاں بھی خطرے میں ہیں تو شاید ابھی سنبھلا سنبھالا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے گی۔ من مرضی کی فیسیں صرف ایک پہلو ہے۔

میں پہلے بھی یہ عرض کرچکا ہوں کہ ہائی پروفائل اسکولوں میں بھی اساتذہ اپنے کام کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تاکہ ان کی اکیڈیمیز میںہجوم بڑھتا رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ اساتذہ Underpaidہیں اور پیٹ ان کے ساتھ بھی لگا ہے تو کوئی کرسکے تو اتنا ضرور کرے کہ فیسوں اور اساتذہ میں کوئی تناسب تلاش کرے ورنہ سرکاری اسکولوں کے بعد ا گر نجی اسکولوں کا بھٹہ بھی بیٹھ گیا تو رہی سہی کسر پوری ہوجائے گی اور اس نقصان کا ا زالہ شاید ممکن نہ ہو۔تعلیم انڈسٹری ہے تو سروس انڈسٹری ’’رائٹ ٹو ٹریڈ‘‘ کے سامنے رائیٹ ٹو ریگولیٹ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔اور اب چلتے ہیں کچھ غیر تعلیمی موضوعات کی طرف مثلاً چین نے کہا ہے کہ’’غربت کے خاتمے اور کرپشن سے جنگ کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غربت اور جہالت کی بڑی وجہ ہی کرپشن ہے لیکن کیا ہم واقعی کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہیں؟ اور اگر واقعی ہیں تو پھر ہمیں وہی کچھ کرنا ہوگا جو چین نے کیا اور کررہا ہے۔ اس مرض کا علاج دوا دارو اور دم درود نہیں ….. سرجری ہے اور سرجری کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، چاہے لیزر سے ہی کیوں نہ ہو۔بصورت دیگر تو حال یہ کہ بڑے سے بڑا کرپٹ بھی پورے اعتماد کے ساتھ کرپشن سے انکاری، شاید اس لئے بھی ہے کہ وہ کرپشن کو کرپشن سمجھتا ہی نہیں ، ورنہ خم ٹھونک کر سرعام کوئی یہ نہ کہے کہ’’ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو بعد از مرگ بھی مجھے قبر سے نکال کر پھانسی پر لٹکا دینا۔‘‘ کہ اول تو وائٹ کالر کرائم کا’’ثابت‘‘ ہونا ہی معجزہ، دوسرا یہ کہ ’’ٹریڈ رائٹ‘‘ کی طرح اگر کرپشن کو بھی ’’برتھ رائٹ‘‘ سمجھ لیا جائے تو کون سی کرپشن؟انتہاء یہ کہ جس منشا بم پر 80سے زیادہ ایف آئی آرز درج ہیں، وہ بھی اسے’’سیاسی انتقام‘‘ اور خود کو خاندانی قرار دے رہا ہے جبکہ ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ منشا بم کو قبضوں کی جائیدادوں سے ڈیڑھ تا دو کروڑ روپے کرایہ ملتا ہے۔ہر کرپٹ، کرپشن کو ’’کاروبار‘‘ سمجھ کے کرے گا، ’’چوری میرا پیشہ نماز میرا فرض‘‘ پر یقین رکھے گا تو مانے گا کیسے اور کیوں؟