’’اے پی سی‘‘ کا ’’صاحبِ اولاد‘‘ ہونا

گزشتہ کالم تخت، تختہ، تختۂ دار ’’اے پی سی‘‘ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ’’جنگ‘‘ آفس بھیجا جا چکا تھا۔ اس کے چند جملے صرف یاد دہانی کے لئے۔’’نواز شریف سینئر ترین سٹیک ہولڈر ہے جس کی کیفیت قابل فہم ہے۔ اندھے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان تیزی سے ڈلیور کرنے

کی پوزیشن میں آتا جا رہا ہے سو ان کی فرسٹریشن اور ڈیسپریشن انتہائوں کو چھو رہی ہے۔ ڈیسپریشن میں آدمی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ خصوصاً نواز شریف کی حالت NOW OR NEVERجیسی ہے‘‘’’تخت، تختہ یا تختۂ دار کا کھیل تقریباً آخری مراحل میں داخل ہونے والا ہےجس کا اگلا مرحلہ بھی دور نہیں‘‘قارئین!میری توقع بلکہ خدشات کے عین مطابق وہی کچھ سامنے آ چکا ہے۔ تقریر تضادات کا شہکار اور پے در پے جھوٹ کا پلندہ تھی جس میں سرفہرست ’’بیمار‘‘ نواز شریف کی قابل رشک صحت خصوصاً قابل ذکر ہے، جس میں وہ مریض نہیں، ’’گلیڈی ایٹر‘‘ دکھائی دے رہے تھے۔ گزشتہ کالم کا یہ جملہ بھی تھوڑا غور طلب ہے۔’’اور یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ میچ سیاسی جماعتوں کے لئے نہیں، پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہو گا‘‘اس کی تصدیق بھی نواز شریف نے خود ہی یہ کہتے ہوئے کر دی ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان سے نہیں، ان قوتوں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے ہے جو اسی طرح ہی کرتی ہے. اس طرح کے کاموں میں۔یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کی روشنی میں مَیں نے یہ عرض کیا تھا کہ ’’موجودہ میچ سیاسی جماعتوں کے لئے نہیں، پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہو گا‘‘۔ بہرحال اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ اس حد تک جانے کا مشورہ دینے والے نواز شریف کے دوست تھے، دشمن تھے یا دوست نما دشمن لیکن زہریلا تیر بہرحال کمان سے نکل چکا اور ایسی کوئی ٹیکنالوجی میرے علم میں نہیں جو ایسے بے ہدف تیروں کو واپس لا سکے۔

ایک بات طے کہ موجودہ ملکی حالات میں ایسا لیتھل مشورہ دینے والے پاکستان کے دوست ہرگز نہیں تھے۔ بات ’’پاکستان ڈیموکریٹک الائنس‘‘ کے نام پر نئے اتحاد سے ’’چارٹر آف پاکستان‘‘ کے لئے کمیٹی تک جا پہنچی ہے۔ اکتوبر میں ملک گیر جلسے، دسمبر میں مظاہرے ہوں گے اور جنوری میں فیصلہ کن لانگ مارچ یعنی وہی پرانی رسم کہ ’’ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘ جس پر جون ایلیا یاد آتا ہے جس نے کہا تھاکون اس گھر کی دیکھ بھال کرےروز اک چیز ٹوٹ جاتی ہےلیکن خیر ہے، ’’گھر‘‘ سلامت رہے چیزوں کا کیا ہے۔ آتی جاتی، بنتی بگڑتی اور ٹوٹتی جڑتی رہتی ہیں لیکن میں مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کی تقریروں، باتوں، منشوروں، ایجنڈوں، اتحادوں، تحریکوں، لانگ مارچوں میں تو ’’پاکستان‘‘ اور جمہوریت‘‘ بہت زیادہ پائی جاتی ہے لیکن ان کی کارکردگی، کرتوت اور بے کراں کرپشن میں پاکستان اور جمہوریت کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ مجھے آج بھی یاد ہے محترمہ بے نظیر بھٹو گلبرگ لاہور کے مشہور حسین چوک سے ذرا آگے تب سینیٹر گلزار کے گھر قیام کیا کرتی تھیں۔ بلاول تب چھوٹا سا بچہ تھا (اب ذرا بڑا سا بچہ ہے)۔ ایک دن اسے آیا کے ساتھ شرارتیں کرتے دیکھ کر میں نے ہمدم دیرینہ جے بی (جہانگیر بدر مرحوم) سے کہا…..’’دیکھو پیپلز پارٹی کا چیئرمین کیا کر رہا ہے‘‘ جے بی ہنس پڑا لیکن مذاق اور بے دھیانی میں کہی گئی اپنی ہی یہ نان سیریس سی بات خود مجھے ہانٹ کرنے لگی تو میں

نے ایک ہلکا پھلکا مزاحیہ استہزائیہ سا کالم لکھا کہ آیا ننھے چیئرمین کا پیمپر تبدیل کر رہی ہے اور چیئرمین بلاول ’’غوں غیں غاں‘‘ کی زبان میں ’’سی ای سی‘‘ سے خطاب فرما رہے ہیں جبکہ ’’سی ای سی‘‘ کے معزز ارکان ان کی سمجھ نہ آنے والی زبان میں جاری تقریر پر صدقے واری جا رہے ہیں۔ سچی بات ہے تب میں بھی نہیں جانتا تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں ہی کھلی آنکھوں سے دیکھے اس عظیم خواب کی تعبیر دیکھنا نصیب ہو گی۔ آج ایک طرف محترمہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا پارٹی ٹیک اوور کر چکا ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی بیٹی عملاً ن لیگ کی گدی پر براجمان ہو چکی اور دونوں خاندان بانہوں میں بانہیں ڈالے، کیسوں پر کیس ڈالے. وارداتوں پر وارداتیں ڈالے میرے اور آپ کے ووٹ کو عزت دے رہے ہیں یا کم از کم میرے ووٹ کو تو ضرور عزت دے رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ مسمی حسن نثار ولد میاں نثار الحق (مرحوم) کہنے سننے کی حد تک ہی غیور اور باشعور ہے ورنہ یہ دونوں لفظ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرے اور یہ شخص نام نہاد آزادی کے 73سال بعد بھی خود کو ’’شہری‘‘ نہیں ’’رعایا‘‘ سمجھتا ہے۔ معاف کیجئے ذرا دور نکل گیا لیکن اکتوبر، دسمبر اور جنوری تو بہرحال دور نہیں۔کٹا کٹی یا دونوں ہی نکل آئیں گے اور ’’اے پی سی‘‘ ’’صاحبِ اولاد‘‘ ہو جائے گی۔