ﷲ اکبر

میرے پرانے قارئین کو یاد ہوگا کہ جب 18ویں ترمیم کا ’’معرکہ‘‘ مارا گیا تو میں نے لکھا تھا کہ واردات ہو گئی۔ یہی نہیں دو تین ٹی وی چینلز پر بھی اس رائے کا اظہار کیا لیکن کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔آج اس کا چرچا ہے اور PTIکے وزیر تعلیم شفقت محمود جیسے سنجیدہ، متوازن اور تجربہ کار بیوروکریٹ نے بھی کہہ دیا کہ 18ویں ترمیم زرداری اور نواز شریف کی ملی بھگت تھی۔ سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنا ہی شاید ہمارا مقدر ہے۔

دوسری بدخبری WHOکی طرف سے آئی جس کا خلاصہ یہ کہ کورونا کے خاتمہ کا کوئی امکان نہیں اور اگر یہ سچ ہے تو حکومت کو نئے سرے سے اپنی حکمتِ عملی پر غور کرنا ہوگا کہ اگر یہ واقعی ’’وے آف لائف‘‘ اور ’’مستقل فیچر‘‘ ہونے جا رہا ہے تو سوچ اور اپروچ کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ ابھی تک تو سب اندھیرے میں تیر چلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔تیسرا انکشاف ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی طرف سے آیا ہے کہ اس مبارک ترین مہینہ کے مبارک ترین عشرہ میں بھی ’’زندہ دلان‘‘ کا شہر لاہور، ملاوٹ شدہ دودھ میں سرفہرست ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر سے باہر دودھ میں ملاوٹ کی شرح 19جبکہ لاہور میں 20فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔دودھ میں پائوڈر اور دیگر کیمیکلز کی ملاوٹ بھی سامنے آئی (یہ علیحدہ بات کہ اس خبر میں کوئی نئی بات نہیں ہے)۔ ملاوٹ شدہ دودھ بڑوں کی نسبت بچوں کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔یہ تینوں باتیں ریکارڈ پر لانا خالق کی مخلوق کے لیے بیحد ضروری تھا ورنہ آج کا کالم تو فتح مکہ کی اذان تک محدود ہے۔ دنیائے نشریات کے جینئس اور ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل سلیم گیلانی مرحوم نے 1994میں انتہائی محبت و عقیدت و تحقیق کے بعد موذن اولِ حضرت بلالؓ پر کتاب کیا شہکار سپردِ قلم کیا جسے آپ سیدنا بلال ؓکا تصوراتی انٹرویو بھی کہہ سکتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں۔’’خطبہ ختم ہوتے ہی ظہر کا وقت ہو گیا تو رسالت مآب ؐ نے پیچھے مڑ کر مجھے اپنے پاس بلایا اور بیت اللہ شریف کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد عمرۃ القضا کے موقع پر بھی میں نے آقا ؐکے ارشاد کے مطابق کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی تھی مگر آج جب فتح مکہ کے دن مجھے خانہ کعبہ کی چھت پر سے اذان دینے کا حکم ملا تو کیفیت ہی اور تھی۔

میں بلال حبشی آج دوسری مرتبہ جد الانبیاء کے بنائے ہوئے اس مرکز توحید کی بلندیوں سے اللہ کی کبریائی اور حضور ؐکی رسالت کی شہادت دینے والا تھا۔
مسجد نبوی میں میری پہلی اذان کو حضور ؐ نے اپنی مسجد کی تکمیل سے تعبیر کیا تھا۔ آج خانہ کعبہ سے میری تکبیر الٰہی کو وہ کل بنی نوع انسان کے لیے تطہیر کعبہ کا اعلان بنانا چاہتے تھے۔ یہ بلال حبشی کی معراج تھی۔میں باب ملتزم کے ساتھ چھت سے لٹکے ہوئے رسوں کے سہارے کعبہ کی دیوار پر چڑھنے لگا۔ آہستہ آہستہ اوپر ہوتا گیا اور آخرکار چھت کی منڈیر پکڑ کر اوپر پہنچ گیا۔ بہت تھک گیا تھا۔ 50سال کا ہونے والا تھا مگر جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ اپنے آپ کو سنبھالا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہو گیا۔کعبہ کے گرد ایک بہت بڑے دائرے میں رکھے ہوئے بت آگ میں جل چکے تھے۔ کعبہ بتوں سے پاک ہو چکا تھا۔ نیچے لوگوں کا ہجوم تھا۔ کعبہ کی چھت سے اس دن میری نظر ادھر بھی اٹھ گئی جہاں کبھی رباح اور حمامہ رہتے تھے جن کے یہاں میں کیڑوں مکوڑوں کی سی حیثیت میں پیدا ہوا تھا۔

جہاں میرا بچپن گزرا تھا۔میں نے اذان شروع کی۔ ہجوم کا شور تھم گیا۔ دوسری تکبیر کہی تو مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ میں نے شہادت رسالت دیتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا سر تشکر سے جھکا ہوا تھا۔اس بدر کامل کے گرد فرش کعبہ پر ستاروں کا ہجوم تھا جن میں سے نہایت روشن ستاروں کا ایک جھرمٹ حضور ؐ کے ساتھ تھا۔ یہی وہ عظیم فتح تھی جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فتح کی آیت میں فرمایا تھا۔آج بھی وقت کے ایوانوں میں فتح مکہ کی اذان کی گونج سنائی دے رہی ہے جو فتح مکہ کے دن رسول اللہﷺ کے حکم پر اللہ کے قدیم گھر میں مجھ بندۂ ناچیز کی آواز میں ادا ہوئی تھی۔اس ہجوم سے میری اذان کے دوران کسی نے ازراہ تمسخر میری اذان کی نقل اتارنے کی کوشش کی۔ پھر اسی ٹولے میں سے کسی اور نے بھی میری اذان کی نقل کی۔ اسے بھی زیادہ لوگوں نے نہیں سنا۔ چند لمحوں یعد اسی گروہ کے کسی اور لاابالی نوجوان نے بھی یہی حرکت کی۔ کہیں سے کوئی ردِعمل نہیں ہوا تو ہر ایک نے یہ سمجھ کر سکھ کا سانس لیا کہ دانستہ شرارت کا یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا ہے مگر اذان ختم ہوتے ہی حضورؐ نے اعلان فرمایا کہ وہ جس نے سب سے پہلے بلال کی اذان کی نقل کی، سامنے آ جائے۔

ہر شخص پریشان کہ اب کیا ہو گا۔ اتنے میں پندرہ سولہ سالہ نوجوان چاہ زمزم کی سمت سے ملتزم کی طرف راستہ بناتا ہوا آتا دکھائی دیا۔ پاس آیا تو عمرؓ نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے لوگوں کی صفوں سے باہر نکال کر حضورؐ کے سامنے لے آئے۔ بہت سوں کو اس کی نوعمری پر ترس آ رہا تھا۔چند لمحوں کے توقف کے بعد حضور ؐ زیرلب مسکراتے ہوئے اس نوجوان کی طرف بڑھے اور انتہائی شفقت سے کہا کہ وہ بلال کی اذان کی نقل دوبارہ سنائے۔ نوجوان نے حاضرین کی طرف دیکھا اور خالق کائنات کی تکبیر اور رسالت کی شہادت کے کلمات اپنی بھرپور آواز میں ادا کئے اور اس خوش الحانی اور اعتماد سے کہ حاضرین دم بخود رہ گئے۔خود نبی کریمؐ نے تعریف کی اور اسے درہموں کی اک تھیلی انعام کے طور پر دی۔ اس کے سر، پیشانی اور سینے پر دست مبارک پھیرا۔ نوجوان کا شرح صدر ہوا تو بقول اس کے اسے ایسا لگا جیسے کسی نے منوں بوجھ اس کے سینے سے اتار پھینکا۔ کلمہ شہادت پڑھا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔حضورؐ نے اسے تاحیات بیت عتیق کا موذن مقرر فرما دیا۔ ہم اس نوجوان کو ابو مخدورہ عجمی کے نام سے جانتے ہیں‘‘سبحان اللہ