صدر مملکت کا اعترافی بیان مبارک ہو

ہمارے گھر میں تقریباً تمام اخبار، خواتین اور بچوں کے رسالے آتے تھے جن میں انڈین میگزینز بھی شامل تھے۔ انڈین رسائل وغیرہ تو 65ء کی جنگ کے بعد بند ہوگئے، مقامی اور کچھ ایسے انگلش میگزینز بھی تھے جو بعدازاں بند ہوگئے اور آج کسی کو ان کے نام بھی یاد نہیں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ کہ اخباروں رسالوں کے ساتھ بچپن سے ہی گہرا تعلق ہے۔انتہا یہ ہے کہ میری عمر بمشکل دس سال ہوگی جب اعلیٰ تعلیم یافتہ والد خود سگریٹ سلگا کر لیٹ جاتے اور حکم ہوتا کہ میں انہیں خبروں کی سرخیاں پڑھ کر سنائوں۔ جہاں غلطی کرتا، ٹوک دیتے اور ساتھ ساتھ تلفظ بھی درست کرتے جاتے۔ یہ خون خشک کر دینے والی ایکسر سائز ہوتی کیونکہ اس زمانے کے والد ’’فرینڈلی‘‘ نہیں فاصلہ رکھتے تھے۔مختصراً یہ کہ اخبار رسالوں کے ساتھ اتنی طویل رفاقت کے بعد آج میں پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے زندگی بھر اتنا سخت بیان نہیں پڑھا، کسی صدر، وزیراعظم، ڈکٹیٹر کا ایسا دہلا دینے والا بیان، آج تک کبھی میری نظر سے نہیں گزرا۔’’سونے پہ سہاگہ‘‘ یہ کہ بیان دینے والا شخص انتہائی مہذب، دھیمے، دھیرے مزاج اور شائستہ ترین لب و لہجہ سے ’’لیس‘‘ ہے۔ مسکراتا چہرہ اور مہکتا لہجہ اس کی پہچان ہے اور اتفاق سے آج کل وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب پر بھی فائز ۔میں ڈاکٹر عارف علوی کی بات کر رہا ہوں جو آج کل صدر پاکستان ہوتے ہیں۔صدر علوی کا ٹی وی انٹرویو تو میری نظر سے نہیں گزرا لیکن جو کچھ اخباروں میں رپورٹ ہوا، اس نے میرے جیسے شخص کے حواس بھی گم کر دیئے ہیں۔پاور سیکٹر کے حوالہ سے منظر عام پر آنے والی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے جو کہا، رپورٹ ہوا۔ صرف تین اخباروں کی سرخیاں ہی چکھ لیں۔ سب سے بڑا اخبار ’’جنگ‘‘ سب سے پہلے۔’’

بجلی گھپلوں کی رپورٹ ابھی یک طرفہ، قوم سے زیادتی نہیں، اجتماعی زیادتی ہوئی‘‘’’عمران خان کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن نظام کی پیچیدگیوں میں پھنس جاتے ہیں‘‘ جیو کے کیپٹل ٹاک میں گفتگواور اب دوسرا مشہور اخبار‘‘پاور سیکٹر رپورٹ سے لگتا ہے ملک سے اجتماعی زیادتی ہوئی‘‘ صدراور اب تیسرے اخبار کی سرخی توجہ چاہتی ہے’’آئی پی پیز رپورٹ -مافیا نے ملک سے گینگ ریپ کیا‘‘۔ صدر علوی بیان میں ایک تضاد ہے اور وہ یہ کہ صدر مملکت نے خود اس رپورٹ کو ’’یک طرفہ‘‘ قرا ردیتے ہوئے کہاکہ سٹیک ہولڈرز کی رائے آنا باقی ہے۔بہتر ہوتا کہ صدر مملکت سٹیک ہولڈرز کی رائے آنے تک اپنی رائے ہولڈ رکھتے لیکن شاید ان سے ضبط نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو وہ ملک، ماحول اور معاشرہ ہے جہاں رنگے ہاتھوں، رنگے پیروں، رنگے چہروں، رنگے اور ننگے جسموں سمیت پکڑے جانے والے بھی اپنی پارسائی کی دہائی دیتے ہیں۔ مال مسروقہ سمیت بھی پکڑے جائیں تو اسے ’’سازش‘‘ اور ’’سیاسی انتقام‘‘ قرا ردیتے ہیں۔ سو اگر ’’صدر مملکت‘‘ پر ایک درد دل رکھنے والا پاکستانی ڈاکٹر عارف علوی حاوی ہوگیا تو حیرت کیسی ؟قارئین !سچ یہ ہے کہ یہ سب، کچھ بھی نہیں کیونکہ اس انٹرویو کی ’’ہائی لائٹ‘‘ ’’گینگ ریپ‘‘ عوام کے ساتھ اجتماعی زیادتی وغیرہ ہیں بلکہ صدر مملکت کا یہ ہولناک اعتراف ہے کہ -’’عمران خان کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن نظام کی پیچیدگیوں میں پھنس جاتے ہیں‘‘یہی جملوں کا حاصل کلام اور پاکستان کی تاریخ کا اعلیٰ ترین خلاصہ بھی ہے۔نجانے کتنی بار میں نے

لکھا اور بولا کہ یہ نظام ’’پرو اشرافیہ‘‘ یعنی ’’پرو بدمعاشیہ نظام‘‘ ہے۔ میں نے اس نظام کو درجنوں بلکہ بیسیوں بار ’’آدم خور نظام‘‘ کا لقب دیا اور وضاحت بھی کی کہ یہ نظام وضع ان لوگوں نے کیا جنہیں ’’نقب‘‘ لگانی آتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ’’فصیل‘‘ کہاں کہاں سے کمزور رکھی گئی ہے اور کہاں کہاں کس کس طرح ’’نقب‘‘ لگائی جا سکتی ہے۔یہاں مرغی چور پکڑے جاتے ہیں ملک کا مستقبل چرانے اور بیچ کھانے والوں کیلئے سارے رولز ریلیکس ہو جاتے ہیں تو بارہ بارہ ہزار روپے کی امدادی رقم وصول کرکے شکریہ ادا کرنے والے عوام بھی ریلیکس کریں یہاں ہونا ہوانا کچھ نہیں۔یہ نظام اپنی تمام تر پیچیدگیوں سمیت عوام کی آئندہ نسلوں کو بھی اسی طرح زندہ نگلتا رہے گا۔کیسا مقام حیرت و عبرت ہے کہ صدر مملکت سے لے کر وزیراعظم اور ایک ہی پیج پر موجود ان کے دیگر دست و بازو اس بیچارے ملک کی تقدیر تو بدلنا چاہتے ہیں لیکن اس ملک کا نظام یا اس کی پیچیدگیاں بدلنے کی حکمت رکھتے ہیں نہ ہمت نہ حوصلہ۔کیسی تبدیلی ہے جو کچھ بھی تبدیل نہیں کرسکتی۔وہی نظام، وہی پیچیدگیاں – وہی شکار، وہی شکاری – وہی کھیل، وہی کھلاڑی – وہی ڈرائونے خواب، وہی سچی تعبیریں۔تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا۔