کیسے دن اور کیسے لوگ

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں کسی انسانی آبادی نہیں بلکہ بہت بڑی شکار گاہ میں قیام پذیر ہوں جہاں ہمہ وقت شکار کا کھیل جاری ہے اور اس شکار گاہ کی خصوصیت یہ کہ یہاں سمجھ ہی نہیں آتی کہ شکاری کون ہے اور شکار کون؟ کیونکہ شکاری بھی ایک دوسرے پر جھپٹ رہے ہیں

اور شکار بھی خونخوار انداز میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہیں بھیڑیا بھیڑیئے کے خون کا پیاسا ہے تو بارہ سنگھوں نے بھی اپنے اپنے سینگ ایک دوسرے میں گھونپ رکھے ہیں۔ اور تو اور ننھے منے خرگوش بھی ایک دوسرے کو نوچ اور بھنبھوڑ رہے ہیں۔ہاتھی علیحدہ چنگھاڑ رہے ہیں اور بری طرح اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں تو ہر گینڈے کے اکلوتے سینگ سے بھی خون ٹپک رہا ہے۔ لومڑیاں اپنی مار پر ہیں اور دیوانگی کا یہ عالم ہے کہ لومڑیوں جیسی مکار مخلوق کو بھی تربیت یافتہ ’’فوکس ہنٹرز‘‘ کے تیز رفتار گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی نہیں دے رہیں ۔ پوری شکار گاہ کچھ اس طرح آپس میں برسر پیکار ہے کہ انہیں اوپر کی خبر نہیں کہ فضا میں منڈلاتے ہوئے مردار خور گدھوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے ۔ایسے میں کچھ لوگ ہیں اور مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے اپنے انداز میں ہوشیار، خبردار کی صدائیں لگا رہے ہیں کہ حکم یہی ہے۔ کچھ برا ہوتے دیکھو تو ہاتھ سے روکو، اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکو ورنہ دل میں ہی برا جانو۔ کچھ ہیں جو تینوں کام کر رہے ہیں لیکن جن کے سینوں میں دل اور کھوپڑیوں میں مغز نہیں ان کے لئے شہروں، شکار گاہوں اور بزکشی کے میدانوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور ایسے میں ’’پناہ گاہیں‘‘ کام آتی ہیں۔ ہر شخص نے اپنے مزاج کے مطابق پناہ گاہیں بنائی ہوتی ہیں۔میری مخصوص پناہ گاہوں میں سے ایک ہے ’’پرانے گیت‘‘ جن کا ایک حصہ

صرف ایسے گلوکاروں پر مشتمل ہے جو تقریباً گمنام ہو چکے اور گمنامی کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی آوازوں یا فن میں کوئی کمی تھی بلکہ ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کا ایک نغمہ دوسروں کے سینکڑوں پر بھاری پڑا اور اہل تمیز و ذوق کے اعصاب پر آج تک وجد کی طرح طاری ہے ۔ دور تک اس لئے نہ جاسکے کہ شاید آئے ہی چند گیتوں کیلئے تھے ایسے نایاب لوگوں میں سرفہرست ہیں شرافت علی، ایس بی جان، علی بخش، ظریف اور ایم کلیم وغیرہ ۔وعدہ ‘‘ میری پسندیدہ ترین پاکستانی فلموں میں سے ایک ہے جو غالباً 1957ء میں ریلیز ہوئی۔سنتوش کمار صاحب پر فلمایا گیا یہ گیت جناب سیف الدین سیف نے لکھا اور شرافت علی مرحوم نےگایا جس کی عمر اتنی ہی ہو گی جتنی اردو زبان کی۔’’جب ترے شہر سے گزرتا ہوں تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں ‘‘شرافت علی نے ’’وعدہ ‘‘ کیلئے ’’بار بار ترسیں مورے نین‘‘ جیسے چند دوگانے بھی غالباً کوثر پروین کے ساتھ گائے جو انتہائی مقبول ہوئے لیکن شہر سے گزرنا تو امر ہو چکا۔اسی طرح ایس بی جان نے ’’سویرا‘‘ کیلئے یہ گیت گایا جسے ماسٹر منظور نے کمپوز کیا اور لکھا تھا فیاض ہاشمی صاحب نے جو آج بھی ایسے تازہ کھلے گلاب کی مانند ہے جس پر شبنم کی بوندیں لرز رہی ہوں۔تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہےیہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہےعلی بخش ظہور مرحوم و مغفور کیلئے یہ گیت لکھا طفیل ہوشیار پوری صاحب نے دھن بنائی استادوں

کے استاد ماسٹر غلام حیدر نے اور فلم کا نام تھا ’’بے قرار‘‘دل کو لگا کے کہیں ٹھوکر نہ کھاناظالم زمانہ ہے یہ ظالم زمانہ علی بخش کی آواز کم از کم مجھے تو پھر کبھی کہیں سنائی نہیں دی لیکن میں نے اسے آج تک کسی مقدس امانت کی طرح سنبھال رکھا ہے۔یہ امانت بلکہ امانتیں سہجے سہجے بچوں کو منتقل کرنے کا جتن اور اہتمام کیا کہ یہ ’’بے سُرے ناچوں‘‘ کی مضحکہ خیز ’’تخلیقات‘‘ سے محفوظ رہتے ہوئے ان سے محظوظ ہونا سیکھ سکیں۔ظریف مرحوم پاکستان کے نامور کامیڈین منور ظریف کے بڑے بھائی تھے ۔دونوں جوانی میں چل بسے لیکن بھلائے نہیں جا سکتے۔ظریف کامیڈی کنگ تو تھے ہی لیکن آواز بھی غضب کی تھی ۔اک حیرت انگیز پراسرار سی آواز تھی جسے لفظوں میں بیان کرنا معطر ہوائوں کو مٹھیوں میں بند کرنے جیسا پاگل پن ہے ۔اس گیت کا لکھنے والا بھی لاکھوں میں ایک تھا۔منٹو کے مرشد باری علیگ صاحب کے صاحبزادے سے کہا ’’میں اس شخص سے ملنا چاہتا ہوں‘‘ احمد راہی صاحب سے یہ ملاقات میرے چند اعزازات میں سے ایک ہے ۔یہ گیت احمد راہی صاحب نےلکھا، ظریف مرحوم نے گایا اور ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا۔فلم کا نام تھا ’’چھومنتر‘‘ دھن ماسٹر رفیق نے بنائی ۔’’برے نصیب مرے ویری ہویا پیار مرانظر ملا کے کوئی لے گیا قرار مرا‘‘نامعلوم کیوں ظریف صاحب نے چند گیت گائے، فوکس ان کا اداکاری پر رہا لیکن اس سے بھی زیادہ فوکس کہیں اور تھا کیونکہ اکثر جینوئن فنکاروں میں شاید خواہشِ مرگ(Death wish) بہت ہی مضبوط ہوتی ہے۔

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہئےشہر، شکار گاہوں میں تبدیل ہو جائیں تو فنکار کہاں جائیں ؟ایک صاحب ہوتے تھے ایم کلیم جب فضلی صاحب نے وہ تاریخی فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ پروڈیوس کی جس میں محمد علی، زیبا، دیبا، کمال ایرانی اور جانے کون کون متعارف ہوئے ۔اسی فلم میں ایم کلیم صاحب سے جگرمراد آبادی کی اک غزل گوائی گئی جس کے موسیقار نہال عبداللہ تھے ۔آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی بہت پرانی سپرہٹ فلم کا نام تھا ’’سسرال‘‘ جو ریاض شاہد مرحوم کی اولین تخلیقات میں سے ایک تھی۔ آصف نام کے کسی گلوکار نے اس فلم کیلئے نغمہ گایا جسے منیر نیازی مرحوم نے لکھا تھا، موسیقار حسن لطیف تھے ۔بول تھے’’کیسی ہے چپ چاپ زندگی ‘‘گیت بہت مقبول ہوا، گلوکار کی آواز منفرد سریلی اور دردیلی تھی لیکن نجانے کیوں آصف جیسے گلوکار کی آواز دوبارہ سنائی نہیں دی ۔حمایت علی شاعر کچھ عرصہ پہلے کینیڈا میں فوت ہوئے آپ نے چند فلمیں بھی پروڈیوس کیں جن میں سے ایک کی لوری بہت مقبول ہوئی جس کے بول تھے’’چندا کے ہنڈولے میں‘‘اسے کمپوز کیا تھا موسیقار خلیل احمد نےدلچسپ بات یہ کہ اسے نور جہاں کےساتھ ساتھ گمنام گلوکارہ ثریا حیدر آبادی کی آواز میں بھی ریکارڈ کیا گیا جسے نور جہاں سے بھی زیادہ پذیرائی ملی لیکن یہ ثریا بھی دوبارہ کبھی سنائی نہیں دی۔ کیسے دن تھے اور کیسے لوگ، تب ایسے بےشمار روگ موجود نہیں تھے جو آج عذاب جان بن چکے۔کیسے دن اور کیسے لوگ جو آج بھی یاد آتے ہیں اور ’’آج‘‘ کے بارے صرف اتنا ہی کافی ہے ۔’’چھین لے مجھ سے حافظہ میرا‘‘چلتی ٹرین جلتا تنور بن گئی۔