’’ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں ہم‘‘ (روزنامہ جنگ 28 نومبر 2018)

کتنے فیصد لوگ اس بات پر مجھ سے اختلاف کریں گے کہ ہم انتہائی جلد باز اور عجلت پسند لوگ ہیں۔ کیریئر سے لے کر سڑک کراس کرنے تک ہر موقع و مقام پر شارٹ کٹ ڈھونڈنا ہمارا شوق بھی ہے اور جبلت میں بھی شامل۔ باوقار انتظار اور صبر وغیرہ سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں۔

تقریبات میں د ھکم پیل، ائیر پورٹس تک پر قطار کلچر سے نا آشنا ہم لوگ جن کے بے صبرے پن کی تازہ ترین مثال پی ٹی آئی حکومت کے وہ بدنام یا مشہور زمانہ 100دن ہیں جن پر’’ٹاکرے‘‘ جاری ہیں لیکن آج نہ پی ٹی آئی میرا موضوع ہے نہ اس کے 100دن بلکہ آپ اور خود اپنے آپ سے یہ سوال میرا موضوع ہے کہ اپنی تسلیم شدہ جلد بازی کے باوجود ہم بے حد نازک، حساس بلکہ خطرناک حد تک اہم قومی معاملات پر دیر تک سوئے کیوں رہتے ہیں؟ اور کیا یہ ایک بھیانک ترین تضاد نہیں کہ ہم معمولی باتوں پر تو بہت جلدیاں مچاتے اور پھرتیاں دکھاتے ہیں لیکن جہاں فوری ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ہم ٹھنڈ پروگرام پیش کرتے ہوئے برپشمِ قلندر کے چلتے پھرتے اشتہاروں بلکہ شاہکاروں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جب تک پانی سر سے نہیں گزر جاتا ہم ری ایکٹ کیوں نہیں کرتے؟ مثلاً مندرجہ ذیل چند عنوانات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں کہ جب تک پوری طرح تباہی نہیں مچ گئی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھے رہے۔1۔کرپشن2۔دہشت گردی3۔تجاوزات و قبضہ گروپ کلچر4۔پانی کی کمی5۔بے لگام بڑھتی آبادی6۔ملاوٹ7۔جنگلات کا صفایا8۔تعلیمی اداروں کا انحطاط وغیرہ وغیرہقارئین!ان میں سے کوئی ایک واردات،

حادثہ یا سانحہ اچانک یا اوور نائٹ نہیں ہوا۔ چھوٹی چھوٹی پھنسیاں تھیں جو ہماری مجرمانہ غفلت کے باعث بتدریج ناسوروں میں تبدیل ہوتی گئیں اور ہم بھولے رہے کہ بروقت لگایا جانے والا ایک ٹانکا بعد کے 900ٹانکوں سے بچا لیتا ہے اور”Nip the evil in the bud”بھی کوئی شے ہے۔ہمارے اس اجتماعی رویےّ و تضاد کے نتیجہ میں جو بیشمار قیمتی جانیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئیں، کھربوں ڈالرز کا جو نقصان ہوا، تعلیمی اداروں کی تباہی کے نتیجے میں جو نسلیں رائیگاں گئیں، جنگلات کے بے رحمانہ کٹائو کی جو قیمت چکانا پڑی اور چکا رہے ہیں، آبی بحران سے نمٹنے کے لئے جس امتحان سے گزر رہے ہیں، بے لگام بڑھتی آبادی جس بربادی کی ’’نوید مسرت‘‘ سنارہی ہے، سرکاری و غیر سرکاری املاک پر قبضے ختم کرانے کے لئے پیسے، وقت اور انرجی کا جو استعمال ہورہا ہے، ملاوٹ نے جو’’فوڈ اتھارٹیز‘‘ کھڑی کرنے پر مجبور کیا ہے اور مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہورہا تو ان اور ایسے دوسرے بے شمار’’جرائم‘‘ کا ذمہ دار کون ہے؟یقیناً کوئی ایک فرد، چند افراد، ایک ادارہ یا چندادارے نہیں، ہمارا اجتماعی رویہ ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ ہم سب منیر نیازی کے وہ زندہ نظم ہیں’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں ‘‘

یا پھر جون ایلیا کا وہ شعر ہیں ہم جس میں وہ خود پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بے حسی پر ماتم کناں ہے۔’’ہم‘‘ بھی بہت عجیب ہیں، اتنے عجیب ہیںکہ بس خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیںہم اپنے بارے بہت شوق سے کہتے، سنتے اور سر دھنتے ہیں کہ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘ تو مجھے وہ شعر یاد آتا ہے جو حبیب جالب نے لکھا تھا؎اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےزندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارےزندہ تو ریڈ انڈینز اور بھارت کے شودر بھی ہیں اور زندہ تو قبل ا ز اسلام کے عرب بھی تھے لیکن اصل زندگی شاید یہ ہے کہ ہر سطح پر ہر بدصورتی کی بھرپور ترین مزاحمت کی جائے کہ مزاحمت ہی اصل جیت ہے؎گر جیت گئے تو کیا کہنےہارے بھی تو بازی مات نہیںکبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آج ہم جس عوامی جمہوریہ چین کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں…….ہمارے بعد آزاد ہوا، ہم سے کہیں برا حال تھا ان کا اور آبادی بھی ہم سے کہیں زیادہ ،لیکن جلد باز خرگوش پھرتیاں دکھاتے رہ گئے اور مستقل مزاج کچھوا کہاں سے کہاں پہنچ گیا، لیکن چلو’’دیر آید درست آید‘‘ کہتے ہوئے، خود کو شاباش دیتے ہوئے آگے چلتے اور یہ دعا کرتے ہیں کہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘ والے اس کلچر میں جو تبدیلی محسوس ہورہی ہے، یہ نظر بد سے محفوظ رہتے ہوئے یونہی چلتی رہے اور اللہ اسے ہماری جلد بازی کے منحوس سائے سے بھی محفوظ رکھے۔عشروں کی لیٹ دنوں، مہینوں میں نہیں نکلتی کہ لمحوں کی خطائوں کے نتیجہ میں صدیوں کی سزائوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم نے تو عشروں ضائع کردئیے۔’’ہم بھی بہت عجیب ہیں اتنے عجیب ہیں کہ بس‘‘۔