ایک کالم دو مشورے (روزنامہ جنگ 25 نومبر 2018)

ظاہر ہے مجھے وضاحتیں پیش کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں لیکن نواز شہباز اینڈ سنز، دامادز وغیرہ وغیرہ کے ساتھ جو کچھ ہوچکا،ہورہا اور ہونے جارہا ہے، اس کے بعد ان کے بارے بات کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا اور یہ پہلی بار نہیں ہورہا۔ بارہ اکتوبر 99ءسے پہلے بھی میں ان کا بےرحم ناقد تھا

لیکن دھڑن تختہ ہونے اور پھر جلاوطنی کے بعد ان پر تنقید کرنا کبھی جچا نہیں۔ کبھی ذکر کیا بھی تو ہمیشہ ہمدردی کا عنصر غالب رہا۔ کبھی کبھی تو یہ سوچ کر پریشان سا بھی ہوجاتا کہ مجھ سے کبھی کوئی زیادتی تو نہیں ہوگئی۔ پھر یہ واپس آئے اور اس’’این آر او واپسی‘‘ کے بعد اقتدار میں بھی آگئے تو خیر سے میں بھی’’واپس‘‘ آگیا کہ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے ہم جیسوں کا رول ہی ایسا ہے۔ اہلِ قلم کو قصیدے جائز بھی ہوں تو زیب نہیں دیتے؎ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہوجو عمر سے ہم نے بھرپایا سب سامنے لائے دیتے ہیںدامن میں ہے مشت خاک جگر ساغر میں ہے خون حسرت ہےلو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹا ئےدیتے ہیںاگر کوئی کمٹمنٹ ہے تو صرف ملک اور اس کے محروم مظلوم عوام کے ساتھ جن کے پاس دینے کو تھوڑی سی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ کچھ ہم جیسوں کے لئے بہت کچھ ہے؎’’میں تجھے بھول جائوں اگر مرا داہنا ہاتھ اپنا ہنر بھول جائے‘‘اس ’’بیمار رویے‘‘ کی انتہا یہ ہے کہ PTIحکومت کو آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے لیکن ابھی سے کچھ کچھ ہونا شروع ہوگیا ہے

حالانکہ کون کم بخت نہیں جانتا کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی اور ہتھیلی بھی ایسی جس میں ابن انشا کے دامن کی طرح سینکڑوں چھید ہوچکے لیکن ہم جیسے عجلت پسندوں کو تو ہتھیلی پر سرسوں کیا، باغِ بہشت درکار ہے …….یہ تو تقریباً پینتیس سال کھا گئے۔ کہیں’’پیلی ٹیکسیاں‘‘ مچا گئے کہیں ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ جیسے کرتب دکھا گئے اور آج دور دور تک اجڑی ہوئی اقتصادیات اور پھیلی ہوئی تجاوزات کے علاوہ اور کچھ پلّےہی نہیں۔بات چلی تھی میاں صاحب سے جو اپنے دفاع کے نام پر پے در پے پاکستانی عوام کی ذہانت نہ سہی، کامن سینس کی توہین کے مرتکب ضرور ہورہے ہیں۔ کیا ان کے اردگرد کوئی ایسا ذہن یا ضمیر موجود نہیں جو جان کی امان پاکر دست بستہ ہی سہی، یہ عرض کرسکے کہ ’’حضور! خود پر رحم کھائیں اور اس دھج سے مقتل جائیں کہ کم از کم وہ شان ہی بچ جائے جس کا ذکر فیض احمد فیضؔ نے کیا تھا …….ممکن ہے یہی سرمایہ کل کلاں کسی پوتے نواسے کے کام آجائے ۔میاں صاحب سے تو قصور کی اللہ وسائی المعروف ملکہ ترنم نورجہاں سیانی نکلی جس نے اک سوال کے جواب میں کھل کے کہہ دیا تھا……. ’’میں نے کبھی اپنے گانوں اور گناہوں کا حساب نہیں رکھا‘‘

……. یہ منطق محیر العقول ہے کہ’’اگر میرے اثاثے میری جانی پہچانی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں تو اس میں کرپشن کہاں سے آگئی؟‘‘ یہ لاجک تو کوئی پٹواری اور بھنداری بھی پیش نہ کرے کہ یہی تو اصل ثبوت ہے۔کہیں اٹھارہ ،انیس یا اٹھارہ بیس کا فرق ہوتا تو نبھ جاتا لیکن یہاں تو قیامت کے آثار ہیں۔ مقدس ایوان میں کی گئی’’جناب اسپیکر‘‘ والی تقریر سے آپ مکر گئے، اپنی باتوں سے لے کر بچوں کے فرمودات تک کو کتنی آسانی سے ڈس اون کردیا تو وہ نانی کے خصم والا مشہور محاورہ یاد کیوں نہ آئے اور جہاں تک تعلق ہے نیشنلائزیشن والے رونے کا تو میاں صاحب! بھٹو نے تو اس گلوبل فیشن کی تقلید میں جننگ فیکٹریاں اور فلور ملیں بھی لپیٹ لی تھیں جو زیر یں متوسط درجہ کے کاروبار تھے، رہ گئی یحییٰ خان والی تصویر تو اس سے بہت پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بائیس خاندانوں کی دھوم مچی تھی تو تب کیا اتفاق گروپ 42ویں نمبر پر بھی تھا؟ اور جب یحییٰ خان تشریف لائے اس مالی سال آپ کے ٹیکس کی کل ادائیگی کتنی تھی؟ ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا کریڈٹ بھی تھوڑی زیادتی ہےکیونکہ واقفانِ حال جانتے ہیں یہ بھٹو سے پہلے

بھی زیر غور تھا۔ بھٹو نے باقاعدہ اس پروگرام کا آغاز کیا اور پھر اس کی قیمت بھی ادا کی۔ بعد ازاں کس میں جرأت تھی؟ کہ اس پروگرام کو ’’رول بیک‘‘ کرنے کی جرأت کرتا؟ فیصلہ کسی کا، پیسہ کسی کا، مہارت کسی کی اور میڈل آپ کا؟ سبحان اللہ۔اہم ترین بات یہ کہ ان اور ایسی دیگر دلیلوں کا آپ کے زیر غور معاملات ومقدمات سے تعلق ہی کوئی نہیں کیونکہ سوال اتنا ہی سادہ ہے جتنا منٹو کے ایک افسانے سے انسپائرڈ فلم کے ایک کردار نے دوسرے کردار سے پوچھا تھا کہ…….’’کہاں سے لائی ہو یہ جھمکے؟ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے؟ کس نے پہنائے ہیں یہ جھمکے؟‘‘ صرف جھمکوں کی منی ٹریل درکار ہے، آپ پوری جیولری شاپ کھول بیٹھے تو یہ’’عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ والی بات ہے جس سے شاید بات نہیں بنے گی۔ مختصراً یہ کہ جو چاہیں کریں، عوام کی’’کامن سینس‘‘ کا مذاق نہ اڑائیں اور مشورہ میرا یہ ہے کہ خدا کے لئے…….دفاع کے لئے نہیں، دعاکے لئے ہاتھ اٹھائیں۔ ایک حکایت ہے کہ کسی بہت ہی زبردست پر بہت ہی برا وقت یوں آیا کہ ہر کام الٹا پڑنے لگا تو اس نے کسی سیانے سے کہا’’قدرت کے تیروں کی بوچھاڑ کا سامنا ہے، مجھے بتائیے میں کدھر جائوں اور کیا کروں؟‘‘ تم سوائے اس کے کچھ بھی نہ کرو کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر’’تیر انداز‘‘ کے قدموں سے لپٹ جائو‘‘ سیانے کا مشورہ سن کر اس پر فوراً عمل کیا اور بچ نکلا لیکن آج کل نہ ویسے سیانے رہ گئے نہ ویسے نشانے باقی ہیں۔چلتے چلتے یہ افسوسناک خبر کہ اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کو ضمانت مسترد ہونے پر کمرۂ عدالت سے نکلتے ہی ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا، کیس وہی پی ٹی وی والا۔ اہلِ قلم اور اہلِ دانش کو ایسی نوکریوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ خالق اور اس کی مخلوق اگر کسی کو اس کی ذاتی آزادانہ حیثیت میں عزت و قبولیت عطا کردیں تو سرکار اور سرکاری ملازموں کی چاکری سے بچنا ہی بہتر ہے۔ معمولی گورنمنٹ فنکشنریز کی ماتحتی بھی کوئی منصب ہوتا ہے۔ رائے سازوں کو سازندے بننا زیب نہیں دیتا لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے جتنا چاہیں، اختلاف کرلیں۔ میرے ذہن میں تو صرف یہی ہے کہ’’اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔‘‘