نثار دو کتابیں (روزنامہ جنگ 27 اکتوبر 2018)

کتابیں ملتی رہتی ہیں، جنہیں عموماً دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔اول وہ کتابیں جنہیں گھونٹ گھونٹ پیا پڑھا جاتا ہے، دوسری وہ جنہیں ’’باٹم اپ‘‘ کئےبغیر گزارہ نہیں۔گزشتہ دنوں ملنے والی دو کتابیں بیحد اہم اور قابل ذکر ہیں جن میں سے ایک برادر محترم ضیاء شاہد کی سنسنی خیز ’’میرا دوست نواز شریف ‘‘ جس کی تقریب رونمائی پر شیخ رشید نے اس کتاب کے عنوان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ کسی کا دوست نہیں ‘‘.
تقریب رونمائی کے مقررین میں ،میں بھی شامل تھا لیکن ایمرجنسی میں مجھے لائل پور (فیصل آبا د) جانا پڑا، شریک نہ ہوسکا جس کا افسوس رہے گا لیکن مجبوری تھی ۔یہ کتاب شروع کی تو رات گئے ختم کرکے اٹھا اور اب دوسری بار ہائی لائیٹر ساتھ رکھ کر پڑھ رہا ہوں کہ اس سے نواز شریف تو کیا پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، بالخصوص اس خودغرض اور کاروباری سیاست کو جسے جنرل ضیاءالحق نے متعارف کرایا اور ملک آج تک اسے بری طرح بھگت رہا ہے ۔دوسری کتاب تھی صحافت کے استاد اعظم پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی ’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ جو ان کی خودنوشت اور سوانح عمری ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا ڈاکٹر محمد اکرم چودھری صاحب نےپانچ دریائوں کو ایک کوزے میں بندکرتے ہوئے یہ غضب کا جملہ لکھا ہے کہ ’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ پنجاب یونیورسٹی کا ایک دلچسپ نوحہ ہے ‘‘میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو نہ جاننے کے برابر جانتا ہوں کیونکہ ملاقاتیں ہی تین ساڑھے تین سے زیادہ نہیں جبکہ میں تو ان نالائقوں میں سے ہوں جو تین سو ملاقاتوں کے بعد بھی لوگوں کا اصل پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔
ویسے سچ یہ ہے کہ میں نے لوگوں کی بھاری اکثریت کو کبھی جاننا چاہا بھی نہیں ۔ڈاکٹر مغیث کی کتاب میں ’’فہرست‘‘ دیکھتے ہوئے اپنے نام پر نظر پڑی تو میں چونک گیا کہ ہم تو ڈھنگ سے ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں۔پڑھا تو حیران رہ گیا کہ اس زمین پر اس زمانے میں ایسی عالیٰ ظرفی ……کئی سال پہلے ڈاکٹر مغیث یونیورسٹی میں کسی سازش کا شکار ہوئے ۔مجھے ادھر ادھر سے علم ہوا تو تن بدن میں آگ لگ گئی ۔میں بنیادی طور پر ایک ’’ نون سینس ‘‘ قسم کا آدمی ہوں۔بیہودگی دیکھ کر میٹر گھوم جاتا ہے۔ میں نے مزید معلومات جمع کیں تو اندازہ ہوا کہ ایک معصوم آدمی کو خواہ مخواہ سکینڈلائز کرنے کی مکروہ کوشش ہو رہی ہے ۔میں نے ڈاکٹر صاحب کے حق اور دفاع میں کالم لکھا اور تب ہی بھول بھال گیا لیکن اتنے بہت سے برسوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کی سوانح حیات میں یہ واقعہ پڑھ کر دنگ رہ گیا ۔لکھتے ہیں’’وہ کالم اس شخص نے لکھا جس کے ساتھ نہ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا نہ کبھی طعام و سفر کا رشتہ رہا تھا ۔وہ کالم پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔جب میں اس آزمائش کی گھڑی میں تنہا کھڑا تھا اور,
دائیں بائیں اپنے دوستوں کی تلاش میں تھا کہ کون میرے حق میں گواہی دینے کو تیار ہو گا، اس کڑے امتحان میں حسن نثار نے میرے حق میں کالم لکھ کر گواہی دی۔اس نے مجھ جیسے انجان شخص کے ساتھ محسن کا سا سلوک کیا۔میں شاید اس کا یہ احسان ساری زندگی نہ بھلا سکوں‘‘۔جس شخص کو اتنے برسوں بعد اتنی معمولی سی بات بھی نہ بھولی ہو، اس کا کردار اور کتاب کیسی ہو گی کہ یہاں تو قدم قدم پر حضرت علیؓ کا وہ قول یاد آتا ہے کہ ’’کسی کم ظرف پر احسان کرو تو اس کے شر سے ڈرو‘‘(مفہوم)ڈاکٹر مغیث کی خود نوشت اس تعریف پر پوری اترتی ہے کہ ’’اوریجنیلٹی ، سادگی اور برجستگی ہی کسی عمدہ تخلیق کی بنیادی خصوصیات ہیں‘‘۔تصنع، بناوٹ، کہانی کاری، پچی کاری اور خواہ مخواہ کی فنکاری سے پاک بچپن سے آج تک کی کہانی ندیا کی سی روانی کے ساتھ بہتی اور بہت کچھ کہتی چلی جاتی ہے۔جیسا ڈاکٹر اکرم چودھری لکھتے ہیں کہ یہ سوانح اور بہت کچھ ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کا ایک دلچسپ نوحہ بھی ہے ۔یونیورسٹی کے ماحول ہی نہیں بہت سے سابق وائس چانسلرز کا پوسٹ مارٹم بھی محو ماتم ہے اور پھر امریکہ اور یہاں کی پڑھائی، اس کے اقدار معیار کا موازنہ کہ ان کے اور ہمارے پی ایچ ڈیز میں حقیقی فرق اور فاصلہ کیوں،
کتنا اور کیسا ہے ؟بیرون ملک امریکہ میں حصول تعلیم کے دوران کا باریک بین مشاہدہ ملکی سیاست میں طلبا یونینز کا کردار، گومل یونیورسٹی کے تجربات اور سب سے بڑھ کر وائس چانسلر عبدالعلی خان کا دلچسپ ،منفرد اور ڈرامائی کردار جو اصلی سے کہیں زیادہ افسانوی بلکہ فلمی سا لگتا ہے ۔حج اور عمرے کے روحانی تجربے کے ساتھ ساتھ استاد گرامی مناسک حج اور ہمارے طرز عمل پر گزارشات بھی نہیں بھولے کہ استاد استاد ہی ہوتا ہے ۔اس کتاب کے تو ایک باب کا عنوان ہی ’’پڑھانے کا نشہ‘‘ ہے ۔زندگی کے علاوہ پاکستان کی اس قدیم عظیم درس گاہ جسے پنجاب یونیورسٹی کہتے ہیں کو جاننے کیلئے اپنی درس گاہوں اور اساتذہ کی کلاس اور کلچر کو سمجھنے کیلئے …..’’سسکتی مسکراتی زندگی ‘‘ سے حقیقی آشنائی کیلئے یہ خودنوشت کسی تحفہ سے کم نہیں۔کتاب کے آخری باب نے مجھے رلادیا جس کا عنوان تھا ….’’افتخار فیروز ‘‘ جسے یونیورسٹی کے دنوں میں ’’شورش ثانی‘‘ کہا جاتا اور ڈاکٹر مغیث یقیناً یہ نہ جانتے ہوں گے کہ افتخا ر فیروز گورنمنٹ کالج لائل پور سے ہی حفیظ خان اور میرا دوست تھا جو کچھ عرصہ پہلے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہم سے بچھڑ گیا کہ ہماری زندگیوں میں پت جھڑ کا موسم شروع ہو چکا۔