’’بھوک ستاتی تھی، بسکٹ چراتی تھی‘‘(روزنامہ جنگ 24 اکتوبر 2018)

سکٹ چراتی تھی‘‘کتنی مکمل، موثر اور مختصر سی کہانی ہے۔’’بھوک ستاتی تھی۔بسکٹ چراتی تھی۔جب پکڑی جاتی تھی۔بہت مار کھاتی تھی۔‘‘غربت بڑا امتحان ہے تو اس سے کہیں زیادہ مشکل امتحان ان متمول لوگوں کے لئے جنہیں قدرت غریبوں کی سرپرستی سونپتی ہے، لیکن افسوس ہمارے اکثر پڑھے لکھے متمول لوگ اس امتحان میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔

آئے روزگھریلو ملازمین خصوصاً کمسن گھریلو ملازمین پر ظلم و تشدد کی داستانیں سامنے آتی ہیں جن میں ’’صاحب‘‘ ہی نہیں ’’بیگمات‘‘ بھی ملوث ہوتی ہیں حالانکہ خواتین کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ رحمدل ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں تو ایک جج صاحب مع بیگم صاحبہ اس کارِ بد میں ملوث پائے گئے۔ اول تو نابالغ بچوں سے مشقت لینا ہی مردود ہونے کےلئے کافی ہے اور اوپر سے انہیں بھوکارکھنا اور ان پر ہر قسم کا تشدد بھی روارکھنا….. اس کے لئے جانوروں سے بھی بدتر ہونا ضروری ہے کیونکہ عموماً جانور بلکہ درندے بھی معصوم بچوں کو سونگھ کر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔اپنے کیریئر کے شروع میں، میں نے بڑی محنت اور محبت سے چائلڈ لیبر پر ایک فیچر تیار کیا جس کو عنوان دیا ’’بچے قوم کی امانت ہیں اور قوم بددیانت‘‘ کچھ سیانوںنے مجھے سمجھایاکہ گھبرائو نہیں، پندرہ بیس سالوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گالیکن 45سال میںسب بد سے بدتر ہو گیا او ر آج بچوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی کہانیاں اتنی عام ہیں کہ ان کا اثر ہی ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔آج کل ایک فاقہ زدہ سی معصوم بچی کنزہ کی کہانی بہت عام ہے۔ کسی ڈاکٹر عمارہ نامی خاتون کے تشدد کا شکار صرف

گیارہ سالہ گھریلو ملازمہ کنزہ کا 164کے تحت بند کمرے میں بیان قلم بند کرلیا گیاہے۔ گزشتہ روز چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے پولیس کےپہرے میں تشدد کا شکار اس بچی کو عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے تمام لوگوںکو باہر نکال کر زخمی بچی کا بیان ریکارڈ کیا۔ اس کالم کا عنوان بھی دراصل بچی کے اس اعترافی بیان سے ہی لیا گیا ہے کہ…..بھوک ستاتی تھی۔بسکٹ چراتی تھی۔جب پکڑی جاتی تھی۔بہت مار کھاتی تھی۔اور یہ ظلم در ظلم ڈھانے والے کوئی جاہل، اجڈ، گنوار، وحشی نہیں پڑھے لکھے تھے تو میں سوچتاہوں کہ جو ان پڑھ، اجڈ ہوں گے، وہ کیا کرتے ہوں گے؟ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اجتماعی طور پر ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی کرپشن، منی لانڈرنگ کا نہیں، ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہے جس کی ہمیں سزائیں مل رہی ہیں۔ قدرت ہمیں ہمارے ہاتھوں سے سزا دلوا رہی ہےاور وہ اس طرح کہ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے دشمنوں کا انتخاب کرکے اس سارے پراسیس کو ایک پوتر اور مہذب نام دے کر اس پر فخر بھی کرتے ہیں….. بے شک جمہوریت بہترین انتقام ہے۔قتل طفلاں کی منادی ہو رہی ہے شہر میںماں مجھے بھی مثل موسیٰ تو بہا دے نہر میںطلوع اسلام سے پہلے قدیم عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ ہم نے ان میں بیٹے بھی شامل کردیئے اور آج کہیں زینب، کہیں کنزا کہیں تھر کے بیٹے بیٹیاں۔

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ہر بچے کی پیدائش اس بات کا اعلان ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا لیکن یہاں کیا ہو رہا ہے کہ پونے سے زیادہ کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہوں گےلیکن کہیں تو رپورٹ ہو رہے ہیں۔ہم انہیں روتے ہیں جنہیں پوری خوراک، ادھورا علاج نصیب نہیںہوتا۔ علم و ہنر سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن یہاں تو کہانی ہی اور ہے جو تھر کے صحرائوں سے کراچی، لاہور، اسلام آباد کے پوش علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کےاس ملک کو رکھنا مرے بچو سنبھال کےلیکن خود بچوں کو کون سنبھالے گا؟کمسن، نابالغ گھریلو ملازمین پر مظالم معمول کا حصہ بن چکے۔ یہ “Rent a Child” سوسائٹی ہے جس میں فاقوں کے ہاتھوں مجبور ماں باپ تھوڑے بہت پیسے لے کر اپنے بیٹے بیٹیاں بے حس لوگوں کوکرائے پر دے دیتے ہیں تو یہ بردہ فروشی ہے؟ جگر و گردہ فروشی ہے؟ بچہ فروشی ہے اور کیا ایک ہی بار مرجانا، دن رات میں کئی کئی بار مرنے سے بہتر نہیں؟ یہ معصوم بچے سورج سے پہلے جاگتے اور رات ڈھلے سوتے ہیں۔ وقفے کے دوران ہر قسم کی خدمت بجالاتے ہیں، روکھا سوکھا بچاکھچا کھاتے ہیںاور کچھ کو تو وہ بھی نصیب نہیں ہوتا جس پر انہیں اعتراف جرم کرتے ہوئے یہ کہنا پڑتاہے۔’’بھوک ستاتی تھی۔بسکٹ چراتی تھی۔جب پکڑی جاتی تھی۔بہت مار کھاتی تھی۔‘‘دیہی علاقوںمیں بھوک کی بمپر فصلیں اگ رہی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا ’’تھر‘‘ ہے۔ لوگ شہروں کی طرف بھاگتے ہیں اور ان کے پاس بیچنے یا کرائے پر چلانےکے لئے اپنے بچوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔کیا ان ظالموں نے کبھی کسی سے یہ محاورہ نہیں سنا”A man is never so tall as when he stoops to help a child.”اور اس ملک کے کروڑوں بچوںکوسکول نصیب نہیں توکروڑوں کو گھر ہی نصیب نہیں کہ ماں باپ انہیں آسان قسطوں میں بیچ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہماری سرحدیں محفوظ لیکن آئندہ نسلیں غیر محفوظ تو فیصلہ آپ خود کرلیں کہ ہماری سمت کیا اور منزل کیسی ہوگی۔