پی ٹی آئی کے کرپٹ وزیر اور آصف زرداری کی منطق (روزنامہ جنگ 23 اکتوبر 2018)

آصف زرداری صاحب نے دنیا جہان سے نرالی منطق پیش کی ہے اور وہ بھی چیئرمین ’’نیب‘‘ کے حوالے سے لیکن اس طرف بعد میں آئیں گے پہلے پی ٹی آئی کے ان وزراء بارے بات ہو جائے جن کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس وزیر اعظم عمران خان کو موصول ہو چکی ہیں۔

ایک اخباری خبر بلکہ شہ شرخی کے مطابق تین وزراء کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے جس پر ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے چیئرمین کا وہی ردعمل سامنے آیا جو آنا چاہئے تھا۔خبر کے مطابق گزشتہ جمعرات کو کابینہ اجلاس کے دوران تمام سرکاری افسران کو کمرے سے نکالنے کے بعد اپنے وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے جن میں وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیر بھی موجود تھے، عمران خان نے کہا کہ تین وزراء کی کرپشن کے بارے میں ابتدائی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جن پر تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اور الزامات ثابت ہونے پر ان کرپٹ وزراء کو برطرف کر دیا جائے گا۔ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف اپنی 22سالہ جدوجہد پر کوئی کومپرو مائز نہیں کرے گا۔ عمران کے اس انکشاف اور اعلان پر کابینہ کے شرکا سکتے میں آ گئے۔یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ کرپشن ہمارے کلچر کا اٹوٹ انگ اور ہمارے ریشوں، رگوں اور خون میں شامل ہو چکی جس کا کریڈٹ دو سیاسی خاندانوں کو جاتا ہے جنہوں نے کرپشن کو ’’وے آف لائف‘‘میں تبدیل کر دیا۔ فاروق گیلانی مرحوم بہت پیارا دوست اور ان دنوں جائنٹ سیکرٹری فنانس تھا جب ایک روز باتوں باتوں میں اس نے میرے

ایک سوال کے جواب میں یہ تاریخی جملہ بولا’’یار حسن نثار! اس ملک کی معیشت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہر آدمی کا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کی جیب میں ہے۔‘‘ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ صورتحال سچ مچ ایسی ہی ہے سو ایسے ماحول میں اگر پی ٹی آئی کے تین صرف تین وزراء کی کرپشن ثابت ہو بھی جائے تو حیرت کیسی؟ تین کیا نو بھی ہوتے تو میرے نزدیک یہ کوئی خبر نہیں اصل خبر یہ ہے کہ دو مہینوں کے اندر اندر ان کی نشاندہی ہو گئی، وارننگ بھی مل گئی اور انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ الزامات ثابت ہو گئے تو برطرف بھی کر دیئے جائیں گے۔ میرے نزدیک یہی وہ ’’تبدیلی‘‘ ہے جسے میں مختلف مثالوں کے ساتھ سمجھاتا رہا کہ بھول جائو عمران کے گرد کون کرپٹ ہے، اصل بات یہ کہ کوئی کرپٹ زیادہ دیر نہ بچ سکے گا نہ رہ سکے گا۔ چند کرپٹوں کو عبرت کا نشان بنا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا تو باقی سب کی سلوٹیں بھی استری ہو جائیں گی اور یہی لیڈر شپ کا کمال ہے۔ چند روز پہلے زلزلہ آیا، وزراء باہر بھاگے، عمران بیٹھا رہا تو بھاگنے والوں کو بھی شرمو شرمی واپس آنا پڑا۔

اسی طرح بددیانتوں کو بھی بتدریج دیانت کی طرف واپس آنا پڑے گا کہ انسان پیدائشی طور پر گنہگار نہیں ہوتے، حالات، ماحول، تربیت اور صحبت اسے گنہگار بنا دیتے ہیں۔ اچھوں کو اچھا کیا کرنا، لیڈر شپ کا اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ جو جتنا برا ہو، اسے اتنا ہی اچھا کر دے۔ خیر الدین بار بروسا بحری قذاق تھا جسے سلمان عالیشان جیسے حکمران نے اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا امیر البحر بنا دیا۔اب چلتے ہیں آصف زرداری صاحب کی طرف جن کے تازہ ترین ارشادات، تضادات کا شاہکار ہیں۔ زرداری صاحب نے چیئرمین ’’نیب‘‘ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’چیئرمین نیب‘‘ خود برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں، کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔ ‘‘ سبحان اللہ کیا منطق ہے۔ بندہ پوچھے بھائی انسان تو اچھا برا ہوتا ہی اپنے طور طریقوں اور سوچ کے باعث ہے، ورنہ کس کے تین بازو یا چار ٹانگیں ہوتی ہیں؟ کون ہے جس کی تیسری آنکھ گردن کے پیچھے جڑی ہوتی ہے یا رگوں میں خون کے علاوہ کچھ اور دوڑتا ہے؟ کوئی ہے جسے بھوک پیاس نہ لگتی ہو اور وہ پیروں کی بجائے ہاتھوں پر چلتا ہو؟انسان کی سوچ، کرتوت، طور طریقے، اعمال ہی تو اچھے برے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اس کے اچھے یا برے ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ سو یہ منطق تو میرے خالی سر کے اوپر سے گزر گئی ہے کہ ’’چیئرمین نیب‘‘ خود تو برے نہیں، ان کی سوچ اور طور طریقے برے ہیں۔ ‘‘اور چیئرمین ’’نیب‘‘ کی سوچ کیا ہے؟ سوائے اس خواب کے کہ اس ملک کو اس کے موذی اور مہلک ترین مرض کرپشن سے نجات مل جائےاور طور طریقے کیا ہیں؟وہی جو ’’کتاب‘‘ میں لکھے ہیں اور یہ ’’کتاب‘‘ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے خود نہیں لکھی اور نہ وہ خود گن پوائنٹ پر اس کرسی پر قابض ہوئے جس کے بارے زرداری صاحب کہتے ہیں ’’کرسی پر بیٹھ کر سوچ بدل جاتی ہے۔‘‘لیکن ہمارا تو معاشرہ ہی الٹا اور عجیب ہے جس میں منشا بم صاحب بھی کہتے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سابق وزیر اعظم بھی سرعام کہتا ہے کہ میرے اثاثے میری آمدنی سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ہے؟