یہ سالگرہیں اور برسیاں (روزنامہ جنگ 21 اکتوبر 2018)

ایک تو میں طبعاً ماضی پرست، ناسٹیلجیا کا مریض اور اداسیوں کا مارا ہوا، اوپر سے یہ سالگرہیں اور برسیاں جینے نہیں دیتیں۔یہ کیفیت پچھلے دنوں کچھ یوں بیان کی ہے۔ہم سب دو رنکل جاتے ہیں سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے تم اب تک زندہ کیسے ہو کوئی کان میں کہہ جاتا ہے

بستی ڈوب گئی تو کیا ہے دریا بھی تو بہہ جاتا ہےزخم تو چیختے رہ جاتے ہیں کوئی سب کچھ سہہ جاتا ہےیا پھر یہ تازہ ترین شعرکون ہیں وہ جو عمریں پوری کرجاتے ہیں ہم جیسے تو جیتے جی ہی مرجاتے ہیں پچھلے چند روز بہت بھاری گزرے، پہلے پیجی (نصرت فتح علی خان) کی سالگرہ تھی، ابھی اس کے ٹرانس میں تھا کہ سلیم ناصر کی برسی کا شور اٹھا اور یادوں کی یلغار کے سامنے میرے پائوں اکھڑ گئے۔ جوانی میں نہ مرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بہت سے نقصان سہنے پڑتے ہیں۔ جتنی لمبی عمر ہوگی اتنے ہی گہرے گھائو لگیں گے، اتنی ہی جدائیاں سہنی پڑیں گی۔ رات کا پہلا پہر تو رفتگاں کی یادوں اور ان کے لئے دعائوں میں گزر جاتا ہے اور باقی رات تھکا دینے والی ادھوری سی نیند میں۔پیجی جسے دنیا نصرت فتح علی خان کے نام سے جانتی ہے، نسلوں سے میرا دوست تھا۔ اس کے بزرگ میرے بزرگوں کے پیچھے پیچھے جالندھر سے ہجرت کرکے لائل پور آئےتھے اور کمال لوگ تھے۔پیجی کے والد چاچا فتح کی خواہش تھی کہ اس کا زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے تعلیم یافتہ گھرانے میں گزرے کیونکہ وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔

میں نے پیجی کے تایا مبارک علی خان صاحب کو کبھی گھر سے نکلتے نہیں دیکھا البتہ چاچا فتح اکثر میرے والد کے پاس آتے اور میں نے انہیں کبھی جالندھر کے علاوہ کسی موضوع پر بات کرتے نہیں سنا۔ ریگل روڈ پر ہمارے گھر بالکل نہیں تقریباً آمنے سامنے تھے۔ پیجیعجیب بچہ تھا جو سردیوں میں آم مانگتا اور گرمیوں میں مالٹوں کے لئے مچلتا۔ اللہ بخشے میری والدہ کا بھی لاڈلا جس کے لئے امی گرمیوں میں علیحدہ کالی گاجروں کی کانجی بنواتیں۔ ہم نے مل کر بہت سی فلم بینی کی۔ دلیپ کمار صاحب کی’’آن‘‘ دیکھی تو ترکھان سے خاص طور پر لکڑی کی تلواریں بنوائی گئیں۔ ہم دونوں میں سے ایک دلیپ، دوسرا پریم ناتھ بن کر تلوار بازی کرتے۔ چند منٹ میںپیجی پسینے میں شرابور، سانس پھول جاتا تو شمشیر زنی کو وقفہ دیا جاتا۔ایف اے کے بعد میں لاہور آگیا تو پیجیکے لئے اس خلا کو میرے چھوٹے بھائی نوید نے پر کیا اور آخر تک نوید ہی میرے اس کے درمیان پل بنا رہا۔ جان لیوا جدوجہد کے بعد اسے عروج ملا تو تب بھی وہ مجھ سے زیادہ خالہ جی، میری امی کو سلام کرنے آتا تو امی ہمیشہ اسے کہتیں’’پیجی! وہی سنائو جو تم بچپن میں سنایا کرتے تھے

اور اپنے وقت کا تان سین شروع ہوجاتا۔’’جہاں میں آئی دیوالی بڑے چراغ جلےہمارے دل میں مگر ترے غم کے داغ جلے‘‘اور پھرپیجی زیر لب مسکراتے ہوئے کہتا’’خالہ جی! تہانوں نیئں پتا، ہن تے لتا جی مینون سن دے نیں‘‘خالہ جی!( آپ کو علم نہیں کہ اب تو لتا جی مجھے سنتی ہیں) پھر پیجی جوانی میں رخصت ہوا تو ہم نے امی کے کمرے کا ٹی وی’’خراب‘‘ کردیا تاکہ ان کو اس کی موت کی خبر نہ ہو۔ آج بھی پیجی کا دست راست اقبال قصوری(اب اقبال نقیبی) میرے کندھے دباتے ہوئے کہتا ہے’’آپ تو میرے خان صاحب کی نشانی ہیں‘‘۔پیجی کی بہنوں میں ایک تھیں’’راجے آپی‘‘ معذور تھیں لیکن غضب کی مصورہ۔ پیجی اور اس سے چھوٹے فرخی(راحت کی والدہ) کی بیگمات ناہید اور رفعت بھی بچپن کی سہلیاں تھیں۔۔۔۔سوائے یادوں کے کچھ بھی باقی نہیں بچا، صرف سالگرہیں اور برسیاں ہی رہ گئی ہیں۔سلیم ناصر کو بچھڑے 29برس بیت گئے۔ میں صرف اس کی محبت میں بیرون ملک جاتے ہوئے کراچی رکا کرتا۔ وہ ان زمانوں میں کوئی رسالہ نکالتا جس کا مجھے نام یاد نہیں رہا ۔ جب تک لاہوررہا، میری اس کی اور عدیم ہاشمی کی گاڑھی چھنتی، میں مین مارکیٹ گلبرگ کے ایک فلیٹ میں رہتا اور وہ مین مارکیٹ کے پیچھے کسی گھر کے پورشن میں۔ عدیم کے ساتھ یارانہ تو لائل پور سے تھا لیکن سلیم ناصر سے دوستی ریڈیو پاکستان میں ہوئی اور آج تک قائم ہے اور تب تک قائم رہے گی جب تک میں قائم ہوں کیونکہ میں طبعاً ہی ماضی پرست، ناسٹیلجیا کا مریض اور اداسیوں کا اک ایسا مریض ہوں جو خود ہی اپنے زخم بھرنے نہیں دیتا، کسی نہ کسی بہانے انہیں تازہ رکھتا ہے۔ ایسے میں مجھے عدیم ہاشمی کا وہ لازوال شعر یاد آرہا ہےکٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئےتیرے بھی دن گزر گئے، میری بھی دن گزر گئےجاچکے دوستو! تمہیں کیا معلوم کہ یہ دن کیسے گزر رہے ہیں، دل کیا، دلداروں کا قبرستان ہے جہاں آنسوئوں سے چھڑکائو کرتا رہتا ہوں۔ تم خوش نصیب تھے جنہیں کوئی یاد کرنے والا موجود ہے، مجھے تو شاید کوئی ایسا مریض نصیب بھی نہ ہو جو کبھی اپنی سالگرہ اور کبھی خود اپنی برسی منائے۔