وزیراعظم کی طرف سے خوشخبری کا انتظار (روزنامہ جنگ 10 اکتوبر2018)

پیر 8اکتوبر 2018ء’’رپورٹ کارڈ‘‘ کا سوالنامہ دیکھا۔ آخری سوال بہت دلچسپ تھا لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی کیونکہ پروگرام کا وقت ختم ہو گیا۔ سوال کا تعلق وزیر اعظم کے اس تازہ ترین وعدہ کے ساتھ تھا کہ وہ اگلے ہفتہ قوم کو کوئی خوشخبری دیں گے۔

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سوال کچھ یوں تھا کہ’’وزیر اعظم اگلے ہفتے قوم کو کون سی خوشخبری دے سکتے ہیں؟‘‘’’یہ قوم اور خوشخبری؟‘‘میرا فوری ردعمل اعصاب شکن حیرت کے سوا کچھ نہ تھا کیونکہ اس قوم کا ایک ’’شناختی کارڈ نمبر‘‘ ہوتے ہوئے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، مجھے کسی خوشخبری کا کوئی تجربہ نہیں جس کی وجہ یہ کہ خوشخبریاں ہماری قسمت میں ہی نہیں یا ہم کسی خوشخبری کا مقدر نہیں۔ ذہن پر لاکھ زور ڈالا کہ کوئی خوشخبری ڈھونڈ سکیں لیکن کھینچ کھانچ کر میں زیادہ سے زیادہ یہی سوچ سکا کہ چلو پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا ایک خوشخبری تھی اور وہ بھی اس لئے کہ ہمیں ہندوستان جیسا ہمسایہ نصیب ہوا ورنہ اصلی خوشخبری تو ایٹمی نہیں اقتصادی طاقت بننے میں ہوتی ہے تو ایسی کون سی خوشخبری ہے جس کا وعدہ وزیر اعظم کر رہا ہے اور وہ بھی ایک ہفتہ کے اندر اندر۔میں نے مختلف قسم کی خوشخبریوں کے امکانات پر غور کرنا شروع کیا مثلاًکیا ہفتہ کے اندر اندر قوم کی شرح خواندگی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے کہ کسی قوم کا صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہونا یقیناً ایک خوشخبری ہے

لیکن یہ کام تو ہفتہ عشرہ میں ممکن ہی نہیں۔ شرح خواندگی میں باعزت اضافہ تو بہت صبر آزما مرحلہ وار پروگرام کے تحت ہی ممکن ہے سو یہ تو ہو نہیں سکتا تو پھر کیا پانی کے بحران سے نکلنے نبٹنے کا کوئی شارٹ کٹ مل گیا تو یہ بھی ممکن نہیں۔ پاپولیشن مینجمنٹ ہو سکے تو یہ بھی بڑی خوشخبری ہے لیکن ہفتے کے اندر اندر تو یہ معجزہ ہونے سے رہا کہ یہ ہدف تو شاید صدیوں میں بھی حاصل نہ ہو سکے تو پھر باقی کیا بچتا ہے؟قوم متحد ہو گئی یا اس میں نظم و ضبط پیدا ہو گیا جسے عام طور پر ڈسپلن کہتے ہیں تو یہ بھی راتوں رات نصیب ہونے والی شے نہیں کیونکہ اس کے پیچھے لاتعداد عوامل ہوتے ہیں۔ فقط خواہش کے زور پر قوم، قوم نہیں بنتی اور نہ ہی ان میں ترتیب جنم لیتی ہے۔ہفتہ میں نئے نئے لگائے گئے نوزائیدہ پودے بھی جوان درخت بن کر ماحول تبدیل نہیں کر سکتے تو پھر وزیر اعظم ہمیں اور کون سی خوشخبری سنانے والا ہے؟ذات برادری، فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت وغیرہ بھی ایسی عادتیں بلکہ علتیں ہیں جن سے ہفتہ بھر میں جان چھڑانا ممکن نہیں کہ متحد اور مہذب ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں

تو کیا ہمارے دیگر عمومی قومی رویے تبدیل ہو رہے ہیں اور اگر ہو بھی رہے ہیں تو یہ کارخیر بھی ہفتے میں مکمل ہونے والا نہیں تو پھر وزیر اعظم قوم کو کیسی سرپرائز دے سکتا ہے، کون سی خوشخبری سنا سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ دو امکانات ہی ہو سکتے ہیں۔ اول کرپشن سے متعلق کوئی پیش رفت یا معیشت کے حوالہ سے کوئی اچھی خبر مثلاً کرپشن کے حوالہ سے کوئی بڑی وصولی یا ریکوری جس کا امکان کم ہے لیکن پھر بھی یہ ایک ایسا کام ہے جو ’’اوورنائٹ‘‘ سر انجام دیا جا سکتا ہے یا ہو سکتا ہے۔رہ گئی ملکی معیشت تو اس حوالہ سے کوئی قرضہ، گرانٹ، مدد امداد تو یہ بھی اصلاً خوشخبری نہیں…. ہاں اگر کہیں تیل ابل پڑا ہے یا کہیں سے بیش قیمت معدنی ذخائر زمین کا سینہ چیر کر باہر نکل آئے ہیں تو ارمانوں اور تن آسانوں کو اس سے زیادہ کیا چاہئے۔قوموں کی تاریخ میں عام طور پر خوشخبریوں کا رواج نہیں ہوتا کیونکہ غور سے دیکھا جائے تو ہر خوشخبری کے پیچھے طویل تپسیا ہوتی ہے جیسے کسی نے کہا تھا کہ میری ’’اچانک‘‘ کامیابی کے پیچھے برسوں پر محیط جدوجہد موجود ہے۔ ہم اکثر یہ جملہ سنتے ہیں کہ ’’فلاں کی لاٹری نکل آئی ہے‘‘ تو بھائی! لاٹری بھی صرف ان کی ہی نکلتی ہے جنہوں نے لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کا رسک لیا اور انتظار کیا ہو….بہرحال دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم توقعات اور خواہشات کے کوہ ہمالیہ پر چڑھی ہوئی قوم کو کس قسم کی خوشخبری سے نوازتے ہیں کہ IMFوالی خوشخبری تو قوم پہلے ہی سن چکی۔ سچی بات یہ کہ مجھے اس کا یقین تھا اور میں وزیر خزانہ اسد عمر کو آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے دیکھ کر ہنستا تھا کہ تان تو وہیں ٹوٹنی ہے جہاں ٹوٹنی چاہئے۔ IMFجانے میں کوئی برائی بھی نہیں …برائی ہے تو خوامخواہ شرمانے اور سجی دکھا کر کھبی مارنے میں۔