گرینڈ آپریشن درست لیکن (روزنامہ جنگ04 اکتوبر ، 2018)

’’قبضہ مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن۔ تجاوزات مسمار۔ اربوں روپے کی سینکڑوں کنال اراضی واگزار‘‘۔’’فیصل آباد، جڑانوالہ، چنیوٹ، ملتان، بصیرپور، میانوالی، بھیرہ، علی پور، خانیوال، جام پور اور بہاولپور میں بھی کارروائی‘‘۔’’اینٹی انکروچمنٹ سیل قائم کردیا گیا‘‘۔مختلف سوال سر اٹھا رہے ہیں مثلاً …..کیا ان وحشیانہ تجاوزات اور مادر پدر آزاد قبضوں کا کلچر قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا؟
اور اگر نہیں تھا تو یہاں یہ وبا کب؟ کیسے اور کیوں شروع ہوئی؟ اس انمول ’’ایجاد‘‘ کے موجد کون ہیں؟ ان کی ترجیحات ومفادات و ضروریات کیا تھیں جنہوں نے اس کلچر کو سپورٹ اور پروموٹ کیا اور منشا بموں کی سرپرستی کی؟ تجاوزات اور قبضوں کا کلچر انسانی رویوں کو کس طرح مسخ اور متاثر کرتا ہے؟ اس کے فوری، سائیڈ اور آفٹر ایفیکٹس کیا ہوتے ہیں؟ ہم بدصورتیوں اور بے رحمیوں، قانون شکنی اور بدمعاشی کے خلاف ری ایکٹ کرنے میں اتنی دیر کیوں لگاتے ہیں اور پھر ایک ٹانکے کی جگہ نو نہیں نو سو ٹانکوں کی نوبت کیوں آتی ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے ہاں ’’فالو اپ‘‘ کا رواج کیوں نہیں اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد قبضے اور تجاوزات دوبارہ نہیں اگنے لگیں گے؟ حکومت بدلتے ہی ’’حکمت عملی‘‘ تبدیل نہیں ہوگی؟یہ سانپ سیڑھی کا کھیل اور دائرے کا سفر کب تک جاری رہے گا؟ کھوتی لمبے لمبے چکر کاٹ کر آخر پر بوڑھ کے نیچے ہی کیوں پہنچے گی؟قارئین!اس قسم کے لاتعداد، فضول، بے تکے، غیر ضروری سوال میرےسر پر سوار ہیں اور میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ قبضوں، تجاوزات کے خلاف یہ گرینڈ آپریشن تو بہت اچھا ہے لیکن اس کا منطقی حتمی نتیجہ کیا ہوگا؟
پوسٹ آپریشن کیئر کا کیا بندوبست ہے؟ کیا یہ واقعی اک وسیع تر منصوبہ کا پہلا مرحلہ ہے؟صورت حال کو سمجھنے کیلئے ایک سچا واقعہ سنیئے۔ چھ سات سال پہلے میں لائل پور (فیصل آباد) گیا تو خاص طور پر لائل پور کے ماتھے کے جھومر ریگل سینما کو سلام کرنے گیا کہ اس کے ساتھ میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ ریگل سینما تک جانے کیلئے جھنگ بازار سے گزرا تو گزرنا محال تھا۔ چھابڑیوں والے دونوں اطراف سے سڑک کے سنٹر تک موجود تھے۔ دو آدمی بمشکل آمنے سامنے سے گزر سکتے اور اتنی سپیس بھی صرف اس لئے چھوڑی تھی کہ گاہک آجا سکے۔ بہرحال اس سرکس سے فارغ ہو کر لاہور واپس آیا تو چند روز بعد ایک وزیر سے ملاقات ہوئی جس کا تعلق لائل پور سے تھا۔ میں نے جھنگ بازار کی صورت حال بیان کرتے ہوئے اس بدانتظامی کا شکوہ کیا تو موصوف نے فرمایا ’’حسن بھائی! اللہ کا شکر ادا کریں کہ یہ غریب ڈاکے نہیں ڈال رہے صرف راستے روک کر ’’رزق حلال‘‘ کما رہے ہیں‘‘ یہ ہے وہ مثبت، تعمیری، غریب نواز سوچ جس نے معاشرہ کو سٹراند کے سوا کچھ نہیں دیا۔آج یہ کالم سپرد قلم کرنے سے پہلے میں اخبارات کے پل صراط سے

گزر رہا تھا۔ جنہیں پڑھنے کے قابل سمجھتا ہوں ان سب کے کالم بھی پڑھے جن میں سے ایک اور میرے فیورٹ کالم نگار نے اسلام آباد میں ’’غریبوں‘‘ کی ’’کچی آبادیاں‘‘ مسمار کرنے پر موجودہ حکومت کو طنز کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ میں سر پکڑ کے بیٹھا سوچتا رہا کہ جائیں تو جائیں کہاں؟دولت مند کو اس لئے چھوڑ دو کہ وہ دولت مند ہے۔غریب کو اس لئے چھوڑ دو کہ وہ غریب ہے۔بااثر کو اس لئے جانے دو کہ وہ بااثر ہے۔بے اثر کو اس لئے چھوڑ دو کہ وہ بے اثر ہے۔ملک معاشرہ وہاں پہنچ گیا بلکہ پہنچا دیا گیا جہاں گنہگار اور بے گناہ، معصوم اور مجرم، ظالم اور مظلوم، جائز اور ناجائز کے درمیان فرق اور تمیز کرنا ممکن نہیں رہا۔ تجاوزات ہمارے اقوال اور افعال میں بھی ہیں اور قبضے صرف زمینوں تک ہی محدود نہیں اس لئے یہ خیال مجھے رہ رہ کر ہانٹ کررہا ہے کہ یہ گرینڈ آپریشن تو خوب ہے لیکن کیا صرف اس ایک آپریشن سے واقعی سدا بہار قسم کا سدھار آجائے گا؟ اور کیا یہ سب کچھ برقرار بھی رہ پائے گا؟مجھے شک ہے کیونکہ معاملہ یا مسئلہ ایک آدھ سرجری کا نہیں۔ سرجریز کی ایک طویل سیریز کی ضرورت ہوگی جسے شروع کرنے سے پہلے لمبی چوڑی سوچ بچار، غور و فکر، برین سٹارمنگ کی ضرورت ہے۔ اگر یہ پراسیس مکمل ہو چکا تو مبارک ہو، سر آنکھوں پر ورنہ یاد رکھیئے کہ ہیجانی، فوری اور ہنگامی قسم کے اقدامات دور رس نتائج کے حامل نہ ہوں گے، کوئی حقیقی جوہری تبدیلی نہیں آئے گی۔ ’’بنائے جائو ڈھائے جائو اور ڈھا ڈھا کے بنائے جائو‘‘ والا کھیل چلتا رہے گا۔