سیاستدان برادری کے لئے ایک کالم (روزنامہ جنگ 19 جون 2018)

سیاستدان بہت سیانا ہوتا ہے لیکن اس کا سیانا پن بہت ہی سطحی قسم کا ہوتا ہے۔بطور کمیونٹی بھی انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ ان کی عزت کتنی ہے اور عموماً کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں خصوصاً ان حلقوں میں جن کے اندر ان کی’’اہمیت‘‘ ہونی

چاہئے کیونکہ عوام میں ان کی اہمیت تو نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً ووٹ وصولنے کے بعد تو عوام اس گائے کے برابر رہ جاتے ہیں جس کا دودھ سوکھ گیا ہو اور ماس بوٹی بھی برائے نام رہ گئی ہو۔ہمارا سیاستدان کرتا کیا ہے؟اقتدار سے باہر ہو تو بہادری نہیں ڈھٹائی سے مار کھاتا ہے یا مل جل کر ڈنگ ٹپاتا ہے اور کچھ سیانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اقتدار کے ساتھ بنائے نبھائے رکھتے ہیں اور ان کا دال دلیہ چلتا رہتا ہے کہ جانوروں کی قسمیں ہوتی ہیں مثلاً کتے آپس میں لڑتے رہنے کے لئے مشہور ہیں جبکہ بھینسوں کے بارے مشہور ہے کہ وہ بہنوں کی طرح ہوتی ہیں اور مل جل کر کھاتی ہیں۔ سیاستدان اقتدار میں ہو تو اس کا مرکزی خیال مال کے گرد گھومتا ہے یا حسب توفیق پروٹوکول۔کسی کو ریلیف کسی کو تکلیف، میرٹ سے ماوراء ان کی عوام دوستی بھی دراصل دشمنی ہوتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں وہ عوامی نمائندے کتنے عوام دوست ہوں گے جنہوں نے مختلف سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر اداروں مثلاً ریلوے، پی آئی ا ے، اسٹیل مل وغیرہ میں’’فیس‘‘ یا اس کے بغیر لوگوں کو اندھا دھند بھرتی کراکے اس ملک

دشمن کلچر کی بنیاد رکھی کہ’’کام کرو نہ کرو ماہ بماہ تنخواہ مل جایا کرے گی‘‘ اسکولوں سے لے کر سرکاری ڈسپینسریوں تک’’گھوسٹ ملازمین‘‘ متعارف کرانے والے یہ نمائندے، درندے تھے جنہوں نے معاشرہ کی جڑوں میں زہر انجیکٹ کردیا اور آج بھی اس پر نادم نہیں، فخر کرتے ہیں۔ گلیاں، پلیاں، نالیاں بنا کر ان میں بھی کمیشن کھانے والی کمیونٹی کی عزت کون کرے ؟ ان کا ٹوٹل ’’قصہ قصہ بقدر جثہ‘‘ ہے، جن کے جبڑے ہیں وہ جبڑوں سے بوٹیاں نہیں پڑچھےاتاررہے ہیں، جن کی چونچیں’’یوسی‘‘ سائز کی ہیں وہ اپنی اوقات کے مطابق ماس نوچ رہے ہیں تو اس کمیونٹی کو عزت کیسے ملے؟اس تمہید کے بعد چلتے ہیں اس سوال کی طرف کہ آئندہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو بھائی ! آئندہ کیا میں تو اس سے اگلے تین چار الیکشن کے نتائج سے بھی بخوبی آگاہ ہوں یعنی وہی ڈھاک کے تین پات ۔۔۔۔سیاستدانوں کی یہ برادری اگر اپنے اندر بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتی تو قصر صدارت میں’’صدر‘‘ بھی ہوگا، وزیر اعظم ہائوس میں کوئی نہ کوئی چمپو بطور وزیر اعظم بھی جلوہ افروز ہوگا، وزیر اعلیٰ ہائوسز بھی آباد ہوں گے لیکن عملاً وہی حال کہ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوگا

اوریہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانوراپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گےسیاسی کلچر میں تبدیلی کے لئے کوئی خاص اسکول تو کھولے نہیں جاسکتے سو ٹاپ لیڈر شپ کو سر جوڑ کر، دلوں پہ پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے لوٹ مار میں 80فیصد کمی کرنی ہے اور اپنی کارکردگی کو 80فیصد بڑھانا ہے اور کسی قیمت پر میرٹ سے انحراف نہیں کرنا، ہر شعبہ کو ڈی پولیٹسایز کرنا ہے۔ نمائشی آرائشی پراجیکٹس کے بجائے یا ان کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ اور کوالٹی ایجوکیشن پر فوکس کرنا ہے ورنہ یہ’’برادری‘‘ لاکھ’’اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ‘‘ چیختی رہے، یہ دن رات خلائی مخلوق جیسی لغو اصطلاحیں گھڑتے اور عوام کے سر مڈھتے رہیں …….. رسوائی اور پسپائی ان کا مقدر تھی، ہے اور رہے گی۔یہ کیسے گھامڑ ہیں جنہیں اپنی نام نہاد’’ترقی‘‘ ا ور ’’اصلاحات‘‘ کے لئے اربوں روپے کے اشتہارات شائع کرنا پڑتے ہیں حالانکہ عطر جنیوئن ہو تو عطار کو اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا پڑتا۔ یہ کیسے وزیر ہیں جو پانچ پانچ سال اپنے قلمدان اگالدان کی طرح استعمال کرکے رخصت ہوجاتے ہیں اور وہ منحوس وزارت اسی فرسودہ حالت میں پڑی رہتی ہے جس بیہودہ حالت میں انہیں ملی ہوتی ہے۔ مجال ہے

جو انہیں کبھی یہ خیال بھی آتا ہو کہ یہ اپنے پیچھے کوئی لگیسی چھوڑ جائیں، کوئی ایسا کام کر جائیں جو صدیوں انہیں زندہ رکھے۔ ایک معمولی سی مثال ہے، دس سال سے زیادہ ہوگئے ’’ون ون ٹوٹو‘‘ (1122)کو متعارف ہوئے لیکن لوگ آج بھی اس کام کے لئے چودھری پرویز الٰہی کو یاد کرتے اور دعائیں دیتے ہیں۔عرض کرنے کا مقصد یہ کہ جسے عوام تا اسٹیبلشمنٹ عزت و اہمیت درکار ہے وہ کام کرے، ڈلیور کرے، عوام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے، اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کم کرے ورنہ مالی اور انتظامی زور پر کئے گئے جلسوں میں مسخرانہ طور پر” I love you too”کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ’’ا ی ڈے‘‘یعنی الیکشن کی ٹیکنالوجی خود فریبی ہے جو مزید کام نہیں آئے گی۔ حکومت پی ٹی آئی کی ہو، ن لیگ کی یا پیپلز پارٹی کی۔۔۔۔ ’’ٹھوکریں‘‘ تب تک ان کا مقدر رہیں گی اور رہنی چاہئیں جب تک ان کے بنیادی رویے اور ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں ورنہ اسی ’’تنخواہ‘‘ پر جینا مرنا ہوگا۔۔۔۔’’اثاثے‘‘بنتے رہیں گے’’عزت‘‘ بگڑتی رہے گیہونے کے باوجود نہ ہونے کا المیہ تمہاری داستان کا مستقل عنوان بنا رہے گا۔