میں بھی ہوتا ترا غلام کوئی (حسن نثار ) … 27 نومبر 2017

25نومبر بروز ہفتہ 2017مجھے سرجری کیلئے ایک پرائیویٹ اسپتال میں گلبرگ پہنچنا تھا۔ٹی وی وغیرہ بند، خاموشی سے خود کو یکسو کرتے ہوئے تیار ہوا ۔ہمدم دیرینہ امیر افضل کے پہنچتے ہی اہلخانہ کو خدا حافظ کہہ کے روانہ ہوا تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے ۔
ٹھوکر نیاز بیگ والا راستہ بند، بپھرا ہجوم، بمشکل ڈاکٹرز ہسپتال والی سڑک لی وہ بھی بند، سائیڈ لین سے ’’اللہ ھو‘‘ چوک کی طرف نکلے رستہ مسدود، عزیزی ڈاکٹر کامران کو صورتحال سے آگاہ کیا کہ آگے مطلع کر دے کہ اسپتال پہنچنا ممکن نہیں اسی دوران برادرم جواد نظیر، رانا جاوید عمر کے فون آئے تو علم ہوا ملک بھر میں یہی صورتحال ہے اور حالات کشیدہ ۔اپنا درد بھول کر میں نے امیر افضل سے کہا ’’ن لیگی قیادت آخر چاہتی کیا ہے ۔ملکی اخلاقیات تباہ کرنے، اقتصادیات کو’’تختہ ڈار‘‘ کی طرف ہانکنے کے بعد یہ روحانی اقدار کے بھی درپے ہیں‘‘لم ڈھینگ نے ڈینگ ماری تھی کہ وہ فیض آباد نہیں پورے ملک کا وزیر داخلہ ہے لیکن تین گھنٹے میں فیض آباد خالی کرانے کے دعویدار نے پورا ملک فیض آباد میں تبدیل کر دیا۔معمول سے 4گنا زیادہ وقت غارت کرکے بمشکل گھر پہنچے ٹی وی اون کیا تو پتا چلا کہ چشم بددورجی ٹی روڈ بندموٹر وے بندنیوز چینلز بندسوشل میڈیا بندفیس بک بندیو ٹیوب بندٹوئیٹر بند، فون بندصرف حکومت کھلی پھر رہی ہے جیسے ہجوم میں کوئی پاگل پھرےبھلا ہو ’’ڈش‘‘ کا ورنہ ہمیں بھی ان افواہوں پر توجہ دینی پڑتی جولینڈ لائن کے ذریعہ پہنچ رہی تھیں۔مواصلاتی بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔
چودھری نثار کے گھر حملہ، ن لیگی ایم این اے زخمی، ن لیگیوں کو گھروں پر سیکورٹی فراہم اور عوامی مقامات پر جانے سے روک دیا گیا،تف ایسی عوامی نمائندگی پر کہ عوام کے درمیان نہ جا سکے۔کچھ عاشقان رسول بااصول لوگوں کے مستعفی ہونے کی خبریں، گھیرائو جلائو توڑ پھوڑ، جگہ جگہ جھڑپیں، گاڑیاں پٹرول پمپس وغیرہ نذرآتش، سینکڑوں زخمی، 7جاں بحق ،پتھرائو، شیلنک،سمجھ نہیں آتی ان لوگوں نے کیا سوچ کر یہ مکروہ حرکت کی، پھر جھوٹ پر جھوٹ، بہانے ،بہتان اور جو طوفان ایک استعفیٰ پر ٹل سکتا تھا اس پر بدترین تکبر اور ہٹ دھرمی اور اب ’’چھٹکی ‘‘ کہتی ہے عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد کیا تو کوئی پوچھے عدلیہ کے نااہلی والے احکامات کو تو تم لوگ روز اول سے پروٹوکول کے نیچے روندنے کی کوشش کر رہے ہو اور اب بات ایک استعفیٰ سے کئی ہاتھ آگے نکل کر آئندہ الیکشن تک پہنچ چکی تو تاویلیں،اقتدار کے ہینگ اوور میں مبتلا نام نہاد مقبولیت کے نشے میں دھت ن لیگی لیڈر نہیں جانتے کہ بدمستیوں میں کیا کیا کچھ کر بیٹھے ہیں۔پہلے صرف بدیسی تجوریاں کھلی تھیں اب بھرم بھی کھل گیا کہ یہ اقتدار کے قیام و استحکام کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
نواز اور بندہ نواز !’’سو جوتے سو پیاز‘‘ والا محاورہ بھی بہت پیچھے رہ گیا ۔شہباز نے سرعام کہاتھا ’’جناب قائد ! اس گھنائونی حرکت کے ذمہ داران سے جان چھڑالیں‘‘ لیکن قائد سچ مچ قائد ہوتا تو قاعدے کی کوئی حرکت کرتا لیکن یہ تو ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘ اور ’’مجھے کیوں نکالا ؟‘‘ والا مائنڈ سیٹ ہے جسے صرف اپنے منطقی انجام کی منزل پر پہنچ کر ہی قرار نصیب ہونا تھااور منطقی انجام کا یہ آخری باب کوئی اور نہیں عوام کی عدالت لکھ رہی ہے ۔خبر ہے کہ دھرنے کا معاملہ خراب کرنے پر نواز شریف احسن اقبال پر شدید برہم ہیں ’’سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا‘‘لیکن یہ تو سب کچھ لٹنے پر بھی ہوش میں نہیں آ رہے ورنہ احسن اقبال یہ عجیب وغریب مضحکہ خیز حرکت کیوں کرتا کہ ایک طرف دھرنے والوں کو پھر مذاکرات کی پیشکش بھی کر رہا ہے اور اسی سانس میں دھرنے والوں پر بھارت سے رابطوں کا الزام بھی لگا رہا ہے ۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کچھ مشیروں اور سول خفیہ اداروں کی غلط رپورٹس نے حکومت کو مروایا ۔سچ یہ ہے کہ حکومت تو پہلے ہی مری مرائی تھی اور کسی نے نہیں ماری بلکہ خودکشی کی مرتکب ہوئی۔
مشیروں وغیرہ نے تو زیادہ سے زیادہ کفن دفن میں حصہ لیا ورنہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کون ایسی ترمیم کی بدتمیزی کا تصور بھی کر سکتا ہے لیکن انہوں نے کیا ہی نہیں، اس پر پورا پورا پہرہ بھی دیا کیونکہ یہ خود کو لوہے کے چنے سمجھنے کے خبط میں مبتلا تھے…’’لوہے کے چنے‘‘ جو دراصل سیکنڈ ہینڈ مٹی کے ڈھیلے بھی نہ تھے ۔ کہاں گیا وہ نونہال جو زمین تنگ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا اور خیبر تا کراچی زمین ان پر تنگ ہو گئی۔بار بار تکرار کہ آپ قانون نہیں قانون قدرت کی زد میں ہو اور یہ وقت تصادم اور ٹکرائو کا نہیں، توبہ اور معافی کا ہے لیکن یہ تو عدلیہ کے بعد عوام کی عدالت سے بھی متصادم ہوتے وقت بھول گئے کہ عوام اپنی محرومیوں نامرادیوں پر تو سمجھوتہ کر لیں گے لیکن ایک نام، ایک ہستی ایسی بھی ہے جس پر آنچ آنے سے پہلے گنہگار سے گنہگار مسلمان کیلئے بھی زندگی ،موت اور جینا مرنا ایک سا ہو جاتا ہے ۔رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ نہ نگاہ آئینہ ساز میں نہ دکان آئینہ ساز میں اسی لئے تو خاتم النبین قرار پائےآخر پر اپنی نعت کے چند شعرتیرے ہوتے جنم لیا ہوتاکوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتامیں بھی ہوتا ترا غلام کوئیلاکھ کہتا نہ میں رہا ہوتاکاش احد میں شریک ہو سکتااور باقی نہ پھر بچا ہوتاکسی غزوہ میں زخمی ہو کر میںتیرے قدموں میں جاگرا ہوتامیں کوئی جنگجو عرب ہوتاجو ترے سامنے جھکا ہوتامجھ کو خالق بناتا غار حسن اور مرا نام بھی حرا ہوتا۔