جہانِ دانش، عثمانؓ(23 نومبر2017)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اقوال تو زبان زدِ عام ہیں ہی اور اکثر ان کے حوالے بھی دیئے جاتے ہیں لیکن حضرت عثمان غنیؓ کی باتیں بھی کسی اور ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ گزشتہ کل کتاب تو کوئی اور ہی ڈھونڈ رہا تھا، مل گئی ’’دانش کا جہان عثمانؓ‘‘ سوچا سیاست کی غلاظت سے بچتے ہوئے اس رنگ و نور و خوشبو میں قارئین کو شریک کیا جائے۔…..O…..O…..O…..بعض اوقات معافی مجرم کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے۔…..O…..O…..O…..جو شخص مصیبت کے وقت اپنی تدبیروں اور خلق ِ خدا سے عاجز ہونے کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔…..O…..O…..O…..تو کتنا بھی مفلوک الحال ہو لیکن مغلوب الحال نہ ہو۔…..O…..O…..O…..تعجب ہے اس پر جو جنت پر ایمان رکھتا لیکن پھر بھی دنیا کے ساتھ آرام پکڑتا ہے۔…..O…..O…..O…..اے انسان! رب نے تجھے اپنے لئے پیدا کیا اور تو دوسروں کا ہونا چاہتا ہے۔…..O…..O…..O…..تواضع کی کثرت نفاق کی نشانی اور عداوت کا پیش خیمہ ہے۔…..O…..O…..O…..جس نے دنیا کو جس قدر پہچانا، اسی قدر اس سے بیگانہ ہوا۔…..O…..O…..O…..نعمت و عافیت ہونے کے باوجود زیادہ طلبی بھی شکوہ ہے۔…..O…..O…..O…..زبان کی لغزش پائوں کی لغزش سے زیادہ خطرناک ہے۔…..O…..O…..O…..فقیر کا ایک درہم صدقہ غنی کے لاکھ درہم صدقہ سے بہتر ہے۔…..O…..O…..O…..اگر تو معبود کی حقیقی عبادت نہیں کرتا تو اس کی بنائی ہوئی چیزیں بھی استعمال نہ کر۔…..O…..O…..O…..جنت کے اندر رونا دنیاکے اندر ہنسنا عجیب ہے۔…..O…..O…..O…..آنکھیں روشن ہیں تو ہر روز روز ِمحشر ہے۔…..O…..O…..O…..جانور اپنے مالک کو پہچانتا ہے لیکن انسان اپنے خدا کو نہیں پہچانتا۔…..O…..O…..O…..قضا پر رضا دنیا کی جنت ہے۔…..O…..O…..O…..ایسی بات مت کہو جو مخاطب کی سمجھ سے باہر ہو۔…..O…..O…..O…..حاجت مند کا تمہارے پاس آنا، اللہ کا انعام ہے۔…..O…..O…..O…..حقیر سے حقیر پیشہ بھی گداگری سے بہتر ہے۔…..O…..O…..O…..عمدہ لباس کے حریص! کفن کو یاد رکھ، عمدہ مکان کے شیدائی قبر کا گڑھا مت بھول اور عمدہ غذائوں کے دلدادہ! کیڑوں مکوڑوںکی خوراک بننا یاد رکھ۔…..O…..O…..O…..نعمت کا نامناسب خرچ، ناشکری ہے۔…..O…..O…..O…..اس نے اللہ کا حق نہیں جانا جس نے لوگوں کا حق نہیں پہچانا۔…..O…..O…..O…..جس شخص کو سال بھر تک کوئی تکلیف یا رنج نہ پہنچے وہ جان لے کہ مجھ سے میرا رب ناراض ہے۔…..O…..O…..O…..حق پر قائم رہنے والے تعداد میں کم، منزلت میں زیادہ ہوتے ہیں۔…..O…..O…..O…..گناہ کسی نہ کسی صورت دل کو بے چین رکھتا ہے۔…..O…..O…..O…..تعجب ہے اس پر جو تقدیر کو پہچانتا اور پھر جانے والی چیز کاغم کرتا ہے۔…..O…..O…..O…..ترغیب دلانے کی نیت سے اعلانیہ صدقہ دینا خفیہ سے بہتر ہے۔…..O…..O…..O…..ظالموں اور ان کے متعلقین سے معاملہ مت کر۔…..O…..O…..O…..عیال دار کے اعمال مجاہدین کے اعمال کے ساتھ آسمان پرجاتے ہیں۔…..O…..O…..O…..متواضع دنیا و آخرت میں جوچیز چاہے گا پوری ہوگی۔…..O…..O…..O…..حیا کےساتھ تمام نیکیاں اوربے حیائی کے ساتھ تمام بدیاں وابستہ ہیں۔…..O…..O…..O…..لوگوں میں بڑا خطاکار وہ ہے جس کو لوگوں کی برائیوں کا ذکر کرنے کی فراغت ملی ہو۔…..O…..O…..O…..سخاوت پھل ہے مال کا، اعمال پھل ہیں علم کا اور اللہ کی خوشنودی پھل ہے اخلاص کا۔…..O…..O…..O….. قارئین!اک بہت ہی بھلی بات کہ ایرانی حضرت عثمان غنیؓ کو محبت اور عقیدت کے ساتھ ’’عربی نوشیرواں‘‘ کہا کرتے تھے۔