کرپشن کے ثبوت

’’کرپشن کے ثبوت‘‘میرایہ کالم 15دسمبر 1995ءکوشائع ہوا لیکن حالات آج بھی کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔ کرپٹ ترین لوگ آج بھی اپنی کرپشن کے ثبوت مانگتے ہیں حالانکہ میں تقریباً 22برس پہلے مسئلہ کا حل پیش کر چکا ہوں۔ ذرا غور فرمایئے۔ پرانے کالم کا عنوان بھی یہی تھا۔’’جو کج نصیب اور بدعقل اللہ کے وجود کا انکاری ہو، جو بدبخت اپنے جسم کے نظام سے ناآشنا ہو وہ بھی اللہ کے ہونے کا ثبوت مانگتا ہے، اللہ کے نظام کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے حالانکہ جنہوں نے اللہ دیکھنا ہو ان کیلئے صبح کی روشنی اور تتلی کے رنگ کافی ہیں، شہد کی مکھی کا چھتہ کافی ہے، چاند سورج کا تعلق کافی ہے، رحم مادر میں بچے کا وجود اور پرورش کافی ہے، انار کے خول میں رسیلے دانوں کی قطار کافی ہے، سنگترے کی قاش کافی ہے، بیج میں چھپا جنگل کافی ہے، صحرا کی وسعت، سمندر کی گہرائی، پہاڑ کی بلندی اور جنگل کی گھمبیرتا کافی ہے۔کہنے کا مطلب یہہے کہ دیکھنے والی آنکھ موجود ہو تو دکھائی نہ دینے والی شے بھی نظر آنے لگتی ہے اور اگر آدمی آنکھوں کے باوجود اندھا ہو اور اپنے اندھے پن سے آگاہ بھی نہ ہو تو اسے صاف دکھائی دینے والی اشیاء، افراد اور مناظر بھی دکھائی نہیں دیتے۔اس مختصر سی تمہید کے بعد اصل بات کی طرف آنے سے پہلے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مجھے اپنی حالیہ سیاسی تاریخ میں دو کرداروں پر بہت پیار آتا ہے۔ایک بیبا سا گورنر …..میاں اظہردوسرا بھولا چیف منسٹر…..بابا نکئیدونوں ہی اپنی اپنی ٹائپ کے کھلے ڈلے، درویش صفت اور عجیب سی بے نیازی کے حامل افراد ہیں خصوصاً میاں اظہر جتنا ’’گورنری بیزار‘‘ گورنر ہے، پہلے نہیں سنا جو گورنر ہائوس سکول کے بچوں کے سپرد کر کے خود بغیر پروٹوکول اکیلا ہی لور لور پھرتا تھا، بوسیدہ تھڑوں پر بیٹھ کر دیرینہ دوستوں سے گپ لگاتا تھا لیکن جب ناجائز تجاوزات یا جرائم کنٹرول جیسے کسی مشن میں ہاتھ ڈالتا تو بڑے بڑوں کی چیخیں نکل جاتیں۔بابا نکئی بھی لوگوں کو پیار سے ’’پتر‘‘ اور ’’کاکا‘‘ کہہ کر بلانے والا RELAXEDاور ملنگ آدمی ہے….. یہ اور بات کہ ابھی تک میاں اظہر کی طرح بھونڈوں کے کسی کھکھر پر ہاتھ نہیں ڈالا اور یہ بھی محض اتفاق ہے کہ ملنا تو درکنار میں نے ان دونوں میں سے کسی کودیکھا تک نہیں ہے لیکن سیاستدانوں سے شدید نفرت کے باوجود مخصوص وجوہات کی بنا پر ان دونوں کا ’’رفیق‘‘ ہوں۔90شاہراہ پر PDFکے اجلاس کی صدارت کے دوران میرے اس ملنگ ممدوح بابا نکئی نے کرپٹ وزیروں کی کرپشن کے ثبوت طلب کرتے ہوئے کرپٹ وزراء کو فارغ کرنے کے ساتھ خود وزارت اعلیٰ چھوڑنے کا وچن بھی دیا ہے۔یہ بابا جی کے بھولپن کی انتہا ہے۔چوک میں کھڑا راشی ’’پلسیا‘‘ بھی کرپشن کے ثبوت نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نزدیکی اور قابل اعتماد دکاندار یا ریڑھی والے کے ذریعہ ’’وصولیاں‘‘ کرتا ہے تو کروڑوں ڈکار جانے والے ’’ماہرین فن‘‘ ڈکیت بھی اپنی کرپشنوں کے ثبوت کہاں چھوڑتے ہوں گے؟جیسے اللہ کا وجود بھی محسوس کرنے والی بات ہےاسی طرح شیطان کا وجود بھی محسوس کرنے والی بات ہےکوئی دیکھنا چاہے تو سب کچھ صاف دکھائی دیتا ہےنہ دیکھنا چاہے تو شیطان جیسا ’’شریف الفنس‘‘ بھی کوئی نہیںقرآن کہتا ہے،’’بے شک ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الانعام 6)ہر جگہہر حوالہ سے نشانیاں ہی کھول کر بیان کی جاتی ہیں لیکن …..صرف ان لوگوں کیلئے جو علم رکھتے ہیں۔ اسی طرح کرپشن بھی اپنی ’’نشانیوں‘‘ سے ہی پہچانی جاسکتی ہے کہ ہر وہ شخص جس پر "LIVING BEYOND MEANS”والے فارمولے کا اطلاق ہو…..کرپٹ ہے اور اگر اسے الٹا لٹکا کر اس کی کھال اتارنے کا عمل شروع کیا جائے تو وہ خود ہی ’’رضاکارانہ‘‘ طور پر اپنی کرپشن کی تفصیلات مہیا کردے گا۔میں چند چوندے چوندے کرپٹ لوگوں کی فہرست دیتا ہوں48گھنٹوں کیلئے انہیں میرے حوالے کردیںمیں ثبوت آپ کے حوالے کردوں گا۔