قاسم کی بیوی معصوم لڑکیوں سے پہلے دوستی کرتی تھی اور پھر۔۔۔ راولپنڈی کی ایم ایس سی کی طالبہ کے کیس میں ناقابل یقین انکشافات

راولپنڈی(ویب ڈیسک) طالبہ ریپ ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی جس نے اپنی ابتدائی رپورٹ تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرتے ہوئے 10 خواتین کے ساتھ ریپ کی تصدیق کردی۔راولپنڈی میں 45 خواتین سمیت ایم ایس سی کی طالبہ کے ساتھ ریپ اور اس کے ویڈیو اسکینڈل کیس کی تفتیش

کو موثر بنانے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔اس 5 رکن تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انوسٹی گیشن محمد فیصل کامران کر رہے ہیں جبکہ ان کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) راول آصف مسعود، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سٹی فیصل سلیم، اے ایس پی وارث خان سرکل آمنہ بیگ اور سب انسپکٹر خالدہ شامل ہیں۔پانچ رکنی اس جے آئی ٹی نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کردی جس کے مطابق 10 خواتین کے ریپ کی تصدیق کردی گئی ہے جس کے وڈیو ثبوت بھی حاصل کرلیے گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں حاصل ہونے والے شواہد ملزم قاسم کے موبائل فون سے حاصل کیے گئے ہیں۔ملزم قاسم نے علامہ اقبال یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم قاسم اور اس کی بیوی کے بین الاقوامی گینگز سے رابطے تاحال نہیں مل سکے۔ملزم 2004 سے مختلف ویب سائٹس چلاتا رہا ہے اور سال 2016 سے بیروزگار ہے، تاہم بعد ازاں ملزم اور اس کی بیوی مل کر جرائم میں ملوث رہے۔طریقہ واردات سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم قاسم کی بیوی معصوم لڑکیوں سے پہلے دوستی کرتی تھی اور پھر انہیں کسی نامعلوم مقام پر لے جاکر ریپ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے اور اس کی بندش کے لیے اسٹیٹ بینک کو مراسلہ لکھ دیا گیا ہے۔ملزم کے ایک اکاؤنٹ میں اس وقت صرف

ڈھائی ہزار روپے موجودہ ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو تاحال تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔حراست میں لیے جانے کے بعد ملزمہ کنول نے اپنی ضمانت کی درخواست بھی دائر کردی ہے، جس کی سماعت علاقہ مجسٹریٹ کریں گے۔درخواست گزار سنبل نے سی پی او کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ کیس کے تفتیشی افسر ملزم قاسم کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ راولپنڈی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 45 لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں ریپ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔سی پی او فیصل رانا کے مطابق ملزم اور ملزمہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی ویڈیو بنا کر انہیں بھاری معاوضے کے تحت پورن ویب سائٹس کو فروخت کرتے تھے یاد رہے راولپنڈی پولیس نے 45 لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں ریپ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔تھانہ سٹی پولیس نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طالبہ کی درخواست پر تحصیل گوجر خان سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو گرفتار کیا۔پولیس حکام کے مطابق طالبہ کو 3 اگست کو گورنمنٹ گورڈن کالج راولپنڈی میں ورکشاپ میں شرکت کے بعد گھر واپس جاتے ہوئے اغوا کرکے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔درخواست گزار کی نشاندہی پر پولیس نے گلستان کالونی میں واقع گھر میں چھاپہ مار کر لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی کو گرفتار کیا۔ پولیس نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزمہ اور اس کے شوہر نے انکشاف کیا کہ اس کی اہلیہ لڑکیوں کو ورغلا کر گلستان کالونی میں واقع کرائے کے گھر میں لے جاتی تھی جہاں وہ انہیں ریپ کا نشانہ بناتا اور اہلیہ ویڈیوز بناتی تھی۔ملزمان نے یہ انکشاف بھی کیا وہ ویڈیوز بنا کر بین الاقوامی پورن سائٹ پر بھاری معاوضے کے عوض فروخت کرتے تھے۔