بچوں سے زیادتی کرنیوالے کو پھانسی کی سزا نہیں ہو سکتی کیونکہ ۔۔۔۔ بابر اعوان نے قانونی نکتہ پیش کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس ہوا ذیلی کمیٹی کی نیب الاٹ بل پر رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی گئی کنوینر کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے کہکا کہ ذیلی کمیٹی نے 25 ترامیم تجویز کیس بل میں تجویز دی گئی بچوں سے

زیادتی کے مرتکب افراد کو تاحیات عمر قید دی جائے کسی بھی کیس کا ٹرائل تین ماہ میں مکمل کی اجائے ذیلی کمیٹی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کی تجویز دی گئی تھی سرعام سزائے موت کو …… الاٹ بل میں شامل کرنا ناممکن تھا بابر اعوان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت عوامی مقامات پر سرعام سزائے موت نہیں دی جا سکتی ۔ زینب الاٹ بل میں تاحیات عمر قید پر کچھ کمیٹی ارکان نے اعتراض کیا قائمہ کمیٹی نے زینب الاٹ بل کی کچھ شقوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کر دی بلاول بھٹو نے ہدایت کی وزارت انسانی حقوق اگلے اجلاس میںشقوں کا جائزہ لیکر بل پیش کرے وزارت قانون کے ذمہ دار افسروں کے نہ آنے پر ارکان برہم ہوئے۔ یاد رھے اس سے پہلے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرے عام پھانسی دینے جبکہ فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے والے کے لیے سات سال قید اور پینتیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی تھی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمان ملک کے زیر صدارت ہوا تھا۔ اجلاس میں کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی اور فحش ویڈیوز بنانے کے معاملے پر غور کیا گیاتھا اس اجلاس میں وزیر داخلہ مملکت شہریار آفریدی نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان جرائم کی سزا مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کے لیے سرے عام پھانسی اور فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے والے کے لیے 7 سال قید اور 35 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی تھی۔کمیٹی اراکین نے ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے سے متعلق وزیر داخلہ مملکت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور بہتر لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔