کم بخت عشق نے برباد کر دیا : فیصل آباد کی ایک نرس اور اسکے عاشق کی محبت کی ایسی کہانی سامنے آگئی کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

فیصل آباد(ویب ڈیسک)پیپلزکالونی کے علاقہ میں واقع ہسپتال میں لڑکے نے سینئر نرس کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔تفصیلات کے مطابق وارث پورہ کی رہائشی 35سالہ صائمہ سردار جو سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیر نگرانی میٹرنل نیو بورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر ہسپتال میں تقریباً 15سال سے ملازمت کر رہی تھی،

اس کے وارث پورہ کے رہائشی شخص کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے،گزشتہ روز وہی نامعلوم شخص اس کو کھانا دینے آیا، دونوں سٹور میں گھس گئے جہاں سے ان کی نعشیں برآمد ہوئیں،بتایا گیا ہے کہ نرس صائمہ کو گولی مار کر قتل کیا گیا جس کے ملزم نے خود کو بھی گولی مار لی۔دونوں کی نعش کے قریب ایک تحریرملی جس درج تھا کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ نامعلوم شخص کی جیب تصاویر بھی ملی ہیں جن میں مختلف مقامات پر دونوں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق یہ خود کشی ہے یا قتل، تفتیش کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آ ئے گی۔مقتولہ صائمہ کے لواحقین نے کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے انکار کر دیا کہ یہ خاندانی معاملہ ہے، آپس میں ہی حل کرلیں گے۔نامعلوم شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ جبکہ ایک اور خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم یو این او ڈی سی نے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران دنیا میں 50 ہزار خواتین کو ان کے خاوندوں، بھائیوں، والدین، پارٹنرز یا اہل خانہ نے ہی قتل کردیا۔یو این او ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017میں پرتشدد کارروائیوں یا جرائم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد 87000تھی۔آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں کہ قتل سے قبل خواتین تسلسل کے ساتھ پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتی رہی تھیں۔خواتین کے قتل کی ایک وجہ حسد اور طویل گھریلو جھگڑے بھی تھے جب کہ کئی واقعات میں جان سے مارنے کی وجہ خوف بھی سامنے آئی ہے۔رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق براعظم ایشیا سے تعلق رکھنے والے ممالک میں یہ تعداد 20 ہزار تھی جب کہ افریقہ میں 19 ہزار، امریکہ میں آٹھ ہزار اور مغربی ممالک میں تین ہزار تھی۔ویانا سے جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو براعظم افریقہ خواتین کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔(ش س م)