Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

میرا بھوک سے برا حال ہے اور یہ بندر کا بچہ پتہ نہیں کب شیر کو پکڑ کر لائے گا ۔۔۔۔۔ ایک بندر کتے اور شیر کا دلچسپ و سبق آموز واقعہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک کتا جنگل میں راستہ بھول گیا۔ ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اْسے شیر کے دھاڑنے کی آواز سنائی دی۔ کتا دل ہی دل میں بولا “لو بھئی، آج تو موت پکی ہے۔اچانک اْسے اپنے قریب پڑے ایک جانور کا ڈھانچہ نظر آیا، اور پھر

اگلے ہی لمحے اْسے ایک ترکیب سوجھی۔ اْس نے ایک ہڈی اْس ڈھانچے سے نکال کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لی،اِس دوران شیر اْس کی پچھلی طرف نہایت قریب پہنچ گیا۔ کتے نے بڑی بہادری سے شیر کی موجودگی کو نظر انداز کرتےہوئے ہڈی پر منہ مارنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ غراتے ہوئے اپنے آپ سے بولا “آج تو شیر کے شکار کا مزہ ہی آگیا، اگر کہیں سے ایک آدھ شیر اور مل جائے تو مزہ دو بالا ہو جائے۔۔!۔شیر نے جیسے ہی کتے کی یہ بات سنی اْس کی تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ اْلٹے پاؤں وہاں سے بھاگ گیا۔ایک بندر اْوپر درخت پر بیٹھا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ کتے سے بولا “اچھا بیوقوف بنایا ہے شیر کو میں ابھی اْسے سب سچ سچ بتا کے آتا ہوں۔۔ کتے نے اْسے بہت روکا لیکن وہ نہ رْکا اور شیر کی کچھار میں پہنچ کر سارا ماجرہ سنا دیا کہ، کس طرح کتے نے اپنی جان بچانے کے لیے اْسے بیوقوف بنایا تھا۔شیر نے جب یہ سنا تو وہ غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور بولا اچھا، یہ بات ہے! چلو میرے ساتھ ابھی اْس کتے کو سبق سکھاتا ہوں۔ جب یہ دونوں وہاں پہنچے تو کیا دیکھا، کتا ویسے ہی اْن کی طرف پشت کر کے بیٹھا ہوا ہے اور زور زور سے بول رہا ہے۔میرا بھوک سے بْرا حشر ہو رہا ہے اور یہ بندر کا بچہ کب سے شیر کو لانے گیا ہے ابھی تک واپس نہیں آیا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز دلچسپ اور حیران کن معلومات

ٹرین کے آخری ڈبے پر بلب کے ساتھ یہ نشان کیوں بنایا جاتا ہے!! وجہ انتہائی حیران کن

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا میں بہت سی اشیاء اور مقامات ایسے ہیں جن پر کچھ نشانات بنائے جاتے ہیں جن کے بارے میں عام افراد واقفیت نہیں رکھتے۔ اسی میں ٹرین بھی شامل ہے۔ ٹرین کا سفر تو سب ہی نے کیا ہوگا کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹرین کے آخری ڈبے میں ایکس کا نشان ایک لائٹ اور ایل وی کیوں لکھا جاتا ہے تو آج اس بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔

ایکس کا نشان تقریباً ہر طرح کی ٹرین کے پیچھے بنا ہوتا ہے چاہے وہ مسافر ٹرین ہو یا مال گاڑی۔ یہ نشان آگاہ کرتا ہے کہ ٹرین ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پوری آئی ہے کیونکہ اگر یہ نشان نہ ہوتو اسٹیشن پر موجود ریلوے حکام جان لیتے ہیں ہے کہ ضرور ٹرین کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے ٹرین پوری اگلے اسٹیشن تک نہیں پہنچ سکی۔ حادثے کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔ یہ نشان عموماً سفید یا پیلے رنگ سے بڑے سائزمیں بنایا جاتا ہے۔ایکس کے نشان کے ساتھ ہی ایک لائٹ بھی موجود ہوتی ہے، یہ بتی ٹرین کے آخری ڈبے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ تاکہ رات کے وقت میں ایکس کا نشان نظرآ سکے اگر یہ لائٹ موجود نہ ہوتو یہ نشان بھی نمایاں نہیں ہوگا یہی وجہ ہے اس نشان کو دیکھنے کے لئے لگائی جاتی ہے اور رات کے وقت اسے روشن کر دیاجاتا ہے تاکہ اگر رات میں جب ٹرین ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن پر پہنچے تو ریلوے حکام اس بتی کو جلتا دیکھ کر مطمئن ہو جائیں کہ ٹرین کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ ٹرین کے آخری ڈبے میں ایکس اور لائٹ کے ساتھ ایل وی بھی انگریزی میں لکھا ہوا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے آخری ڈبہ، ان الفاظ لکھنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ جب ٹرین ایک سے دوسرے اسٹیشن پر آئے تو معلوم ہو جائے کے ٹرین مذکورہ اسٹیشن پر مکمل آئی ہے۔ آخری ڈبے پر یہ نشانات کہاں موجود ہوتے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہوگئی ہے یہ تینوں نشان ٹرین کے سب سے آخری ڈبے پرموجود ہوتے ہیں سب سے اوپر اور درمیان میں ایکس کا نشان بنایا جاتا ہے اسی ایکس کے نیچے ایک گول بتی (لائٹ) بنی ہو تی ہے اور پھر دائیں یا بائیں کسی طرف بھی ایل وی انگریزی زبان میں لکھا ہوتا ہے جبکہ زیادہ تر ایل وی دائیں ہاتھ کی طرف لکھا جاتا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

پانچ ہزار کا یہ نوٹ اصلی ہے یا نقلی؟ جعلی نوٹوں کو پکڑنے کا زبردست طریقہ جان لیں

لاہور: (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جعلی کرنسی کو پکڑنے اور روک تھام کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں، جعلی نوٹ پکڑنے کے لیے بینک نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ لوگ اس بات کو جانیں کہ کس طرح ایک مشتبہ نوٹ پکڑا جاسکتا ہے۔مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ نوٹوں میں موجود سیکیورٹی فیچرز کو اپنے برانچز میں نمایاں مقامات پر آوایزاں کریں جبکہ مرکزی بینک نے اپنی ویب سائٹ http://www.sbp.org.pk/BankNotes/banknotes.htm پر بھی انہیں پوسٹ کررکھا ہے۔

لیکن ان سب اقدامات کے باوجود اکثر افراد جانتے ہی نہیں کہ ایک جعلی نوٹ کیسے پہچانا جائے۔کچھ لوگ نوٹ کو سفید کاغذ پر رگڑ کر دیکھتے ہیں کہ رنگ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے سے جعلی نوٹ کا پتا چلتا ہے، دیگر افراد آپ کو قائداعظم کی شیروانی رگڑنے کا مشورہ دیں گے اور وہ سخت ہو تو اسے مستند مان لیں گے۔کچھ افراد کہیں گے کہ اپنی انگلی کو بڑی مالیت کے نوٹوں کے کونوں پر رگڑیں اور اگر وہ سخت ہو تو نوٹ اصلی ہے۔ ان مشوروں کا بیشتر حصہ درست ہو سکتا ہے، لیکن چھوٹے کے مقابلے میں بڑے نوٹ جعلی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے 100، 500، 1000 اور 5000 کے ہی زیادہ جعلی نوٹ نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں آپ کون ایسے چند سادہ نکات بتائیں گے جن کی مدد سے آپ جعلی نوٹوں کی شناخت کرسکیں گے۔ پاکستان میں کرنسی نوٹ خصوصی کاغذ پر تیار کیے جاتے ہیں جن میں پروڈکشن کے وقت سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جبکہ سیکیورٹی دھاگہ اس کاغذ میں اس طریقے سے شامل کیا جاتا ہے کہ اسے کسی صورت باہر نہیں نکالا جاسکتا۔ یہ نوٹ کے سامنے والے حصے کے بائیں جانب ہوتا ہے۔ اگرکسی سطح پر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو دھاگہ چھوٹے چھوٹے وقفے کے ساتھ نظر آئے گا۔ لیکن جب اسے روشنی میں دیکھا جائے تو پورا دھاگہ نظر آتا ہے۔ نوٹ کی مالیت دھاگے پر پرنٹ ہوتی ہے۔اگر آپ کو یہ فیچرز نظر نہ آئیں تو اسے لینے سے گریز کریں۔ جعل ساز کسی جعلی نوٹ میں یا تو گہری پٹی پرنٹ کردیتے ہیں یا پوری پٹی کاغذ کی دو شیٹوں کے درمیان رکھ دیتے ہیں۔نوٹ کو جانچنے کا ایک طریقہ قائداعظم کی واٹر مارک تصویر ہے جو سامنے کے حصے میں بائیں جانب ہوتی ہے۔ جب کسی سطح پر رکھ کر دیکھا جائے تو ہلکا سفید خاکہ نظر آنے لگتا ہے۔ نوٹ کو روشنی میں دیکھا جائے تو قائداعظم کی تصویر کرنسی مالیت کے ساتھ نظر آتی ہے۔

واٹر مارک پرنٹ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے کاغذ کی موٹائی میں تبدیلی لاتے ہوئے تخلیق کیا جاتا ہے۔اگر آپ اپنی انگلی نئے نوٹ کے کاغذ کی سطح پر رگڑیں تو آپ کو سطح میں تبدیلی کا احساس ہوگا۔ اگر آپ کوئی بھی چیز ان باتوں سے ہٹ کر محسوس کریں تو نوٹ کو لینے سے انکار کردیں، جعل ساز واٹر مارک کو تخلیق کرنے کی بجائے پرنٹ کرتے ہیں۔ کرنسی نوٹ کا کاغذ کبھی بھی اس طرح الگ نہیں ہوسکتا جیسے ٹشو پیر ہوجاتے ہیں، اگر آپ نوٹ کے کناروں کو ایک دوسرے سے الگ دیکھیں تو اسے لینے سے انکار کردیں۔ کیونکہ حقیقی نوٹ استعمال کے دوران کبھی بھی دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا اور جعل ساز جعلی نوٹ بناتے ہوئے آگے اور پیچھے کے حصوں کو پرنٹ کرکے گلو سے جوڑتے ہیں۔حقیقی کرنسی نوٹ کا رنگ الٹراوائلٹ روشنی میں کبھی نہیں بدلتا۔ یہ جعلی کرنسی کو جانچنے کا بنیادی طریقہ ہے کہ سیاہ روشنی یا الٹرا وائلٹ روشنی نوٹوں کے بنڈل پر ڈالی جائے اور اگر آپ کسی نوٹ کو چمکتے ہوئے دیکھیں تو اسے مسترد کردیں۔ ایک اصلی نوٹ سادہ سفید کاغذ کی شیٹ پر رکھیں اور لائٹس بند کرکے اس پر الٹراوائلٹ یا سیاہ روشنی ڈالیں جس سے اچانک ہی سفید کاغذ ہلکی نیلگوں روشنی میں جگمگانے لگے گا جبکہ کرنسی نوٹ کا رنگ تبدیل نہیں ہوگا۔کاغذ کی طرح کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ کا طریقہ کار بھی خاص ہوتا ہے اور اس میں متعدد سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جس سے آپ کے لیے جعلی نوٹوں کی شناخت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ پرنٹنگ کے لیے خصوصی سیاہی کو استعمال کیا جاتا ہے جو بھیگنے سمیت کسی بھی صورت خراب نہیں ہوتی۔

جعلی نوٹوں کی سیاہی عام طور پر گیلی ہونے کے بعد پھیل جاتی ہے اگر آپ کو کسی نوٹ پر شبہ ہو تو اس کا وہ حصہ ڈبو دیں جہاں زیادہ سیاہی استعمال ہوتی ہے اور پھر انگلی سے رگڑیں، اگر وہ خراب نہ ہو تو نوٹ اصلی ہے دوسری صورت میں جعلی۔ تیکنیکی طور پر سیاہی کو کاغذ پر قائداعظم کی ابھری ہوئی شیروانی اور نوٹ کے کناروں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کو اس حوالے سے یہ جاننے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نوٹ چاہے جتنا بھی پرانا ہو مگر قائداعظم کی شیروانی ہمیشہ ہاتھ پھیرنے پر ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ نوٹ کے کنارے پر موجود لکیریں صرف سامنے کی جانب سے ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔اپنے انگوٹھے کا ناخن سامنے کے حصے کے کنارے پر پھیریں جبکہ شہادت کی انگلی باقی حصے پر رگڑے، اگر آپ کو ابھرا ہوا یا کھوکھلا حصہ محسوس ہو تو وہاں روک جائیں اور روشنی میں دیکھنے پر آپ کو چھیدنے کے نشانات نظر آجائیں گے۔جعل ساز سامنے کے جانب ناہمواری کا اثر پیدا کرتے ہوئے نوٹوں پر سوئی سے چھیدنے کے نشانات بناتے ہیں۔ نوٹ کے سامنے کی بائیں جانب لکیریں سی ہوتی ہیں مگر یہ لائنز فوٹو کاپی یا اسکین اور پھر پرنٹ کیے جانے کی صورت میں جادوئی انداز میں غائب ہوجاتی ہیں، لہذا اگر یہ لکیریں نوٹ پر نہ ہو تو جان لیں کہ وہ جعلی ہے۔ پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار والے نوٹوں پر جھنڈے مختلف پہلوﺅں سے دیکھنے پر اپنی رنگت بدل لیتے ہیں۔ اگر جھنڈا اپنا رنگ نہ بدلے تو وہ نوٹ جعلی ہے۔ ایک نوٹ پر قائداعظم کی تصویر کے قریب مالیت کا ہندسہ چھپا ہوتا ہے۔ اس چھپے ہوئے ہندسے کی تصویر کو دیکھنے کے لیے نوٹ کو روشنی کے سامنے لاکر دیکھیں وہ ہندسہ جادوئی انداز میں نمودار ہوجائے گا۔ نوٹوں کا ہندسہ اردو رسم الخط میں نوٹ کے بائیں جانب اوپر پرنٹ ہوتا ہے۔ جب آپ کسی سطح پر نوٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ہندسہ نامکمل اعداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب نوٹ کو اٹھا کر دیکھا جائے اور اس پر سے روشنی آر پار ہو تو یہ ہندسہ مکمل نظر آتا ہے۔جعل ساز یہ فیچر گہری اور ہلکے رنگوں میں پرنٹنگ کے ذریعے شامل کرتے ہیں مگر ہاتھ میں اٹھا کر دیکھنے کی صورت میں یہ جعلی نوٹ اصل کی طرح تبدیل نہیں ہوپاتا۔ کرنسی نوٹوں میں مزید متعدد فیچرز بھی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں جن کو چیک کرنے پر آپ نوٹوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔ قانون کے مطابق اگر آپ بینک کو ایک جعلی نوٹ پکڑ کر دیں تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس پر منسوخ کی مہر لگا دیں اور اس نوٹ کو اپنے پاس رکھے۔ بینکوں کے پاس یہ اختیار بھی ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو اس صورت میں اطلاع کرے جب اسے کسی فرد پر دانستہ جعلی کرنسی کو پھیلانے کا شبہ ہو۔ جس کے نتیجے میں ملزمان کو جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

کس بلڈ گروپ والے افراد کو دل کے دورے کا خطرہ دوسرے گروپس کی نسبت کم ہوتا ہے ؟ معلوماتی رپورٹ

وہ بلڈ گروپ جس کے حامل مرد و زن کو دل کے دورے کا خطرہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کا دورہ پڑنے کا امکان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اے، بی اور اے بی گروپ والے لوگوں میں خون جمانے والی ایک پروٹین کی مقدار او گروپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے دل کی بیماری کےخطرے سے دوچار لوگوں کے علاج میں مدد ملے گی۔۔یہ تحقیق یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانگریس میں پیش کی گئی اور اس میں 13 لاکھ لوگوں کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے خون کا گروپ او نہیں ہے، انھیں دل کے دورے کا خطرہ 1.5 فیصد ہے۔ جب کہ وہ لوگ جن کے خون کا گروپ او ہے، ان میں یہ شرح 1.4 فیصد ہے۔سابقہ تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ سب سے نایاب گروپ یعنی اے بی کو سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور ان کے حامل لوگوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 23 فیصد ہوتا ہے۔ریسس نیگیٹِو نامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے عام گروپ اے بی ہے، جب کہ او گروپ تقریبا 29 فیصد لوگوں میں ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز دلچسپ اور حیران کن معلومات

ترکی میں دلہن اپنے جوتوں کے نیچے کس کا نام لکھتی ہے ؟ شادی بیاہ سے متعلق چند دلچسپ حقائق

لاہور: (ویب ڈیسک) آج ہم اپنے آرٹیکل میں ترکی میں شادی کے موقع پر ہونے والے ایسے رسم و رواج کے بارے میں بات کریں گے جنھیں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ شادی کے دن دلہن کا بھائی یا خاندان کا کوئی قریبی مرد رشتے دار دلہن کی کمر پر سرخ رنگ کی ایک بیلٹ باندھتا ہے۔ جس کے بعد دلہن گھر کے تمام افراد کو باری باری الوداع کرتی ہے۔ دلہن کے بھائی جہیز پر کیوں بیٹھ جاتے ہیں؟جس وقت دلہن کو اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہونا ہوتا ہے اس وقت دلہن کے بھائی رکھے گئے جہیز کے اوپر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہمارے ہاں ہونے والی جوتا چھپائی کی رسم کی طرح ہے۔اس کے بعد دلہا کے گھر والے دلہن کے بھائیوں کو نیگ دیتے ہیں جس کے بعد وہ اپنی بہن کو رخصت کرتے ہیں۔ جب دلہا والے دلہن کے گھر بارات لے کر پہنچتے ہیں تو ان کی خاطر تواضع مزیدار کافی سے کی جاتی ہے سوائے دلہا کے کیونکہ دلہا کو اس کی دلہن خود کافی پیش کرتی ہے جس میں چینی کے بجائے نمک ملایا جاتا ہے اور دلہا کو وہ نمکین کافی چہرے پر کسی قسم کے تاثرات لائے بغیر پینی ہوتی ہے۔ رواج کے مطابق یہ دلہا کی جانب سے محبت کی علامت ہے۔ شادی کے بعد دلہا دلہن ایک دوسرے کے پیر کے اوپر پیر مار کر اپنا غلبہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو زیادہ تیزی سے پیر کے اوپر پیر مارے گا شادی میں وہی غالب رہے گا۔ دلہن جوتے پر کس کا نام لکھتی ہے؟ شادی سے پہلے دلہن اپنے جوتوں کے نیچے اپنی غیر شادی شدہ سہیلیوں اور بہنوں کا نام لکھتی ہے۔ دلہن کے بجائے اس کی سہیلیاں بھی اپنا نام لکھ سکتی ہیں۔ جس لڑکی کا نام سب سے پہلے مٹتا ہے رواج کے مطابق مانا جاتا ہے کہ اگلی شادی اسی کی ہوگی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

بچوں کے رشتے میں مشکل درپیش آرہی ہے تو روزانہ اس سورۃ مبارکہ کی تلاوت کیجیے ، انشااللہ آسانی پیدا ہوگی

سورت النصر تو سب کو ذبانی یاد ہوگی،اسے پڑھنے سے کیا معجزہ رونما ہوتا ہے؟ جان کر آپ اسے روزانہ کا عمل بنا لیں گے مشکلات سے نجات کے لئے بہت سے وظائف معروف ہیں۔ایک آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ سورہ النصر حفظ کرلیں،ویسے عام طور پر زیادہ تر مسلمانوں کو

یہ ازبر ہوتی ہے،جنہیں نہیں وہ بھی اسکو حفظ کرلیں کہ اس سورہ مبارکہ میں انسان کے لئے فتوحات کی خوشخبری موجود ہے۔ اللہ کریم نے فتح یابی اور بندے کو شکر و تسبیح کی ہدایت فرمائی ہے۔اسکو رد بلا کے لئے پڑھا جاتاہے۔آپ کو جسمانی اور کاروباری طور پر ،بچوں کے رشتوں میں،ملازمت اور امتحانات میں مشکلات کا سامنا ہے تو روزانہ اول آخر درود پاک اس سورہ مبارکہ کو سات بار پڑھنا معمول بنا لیں،انشا ء العزیز ہر طرح کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

آپ کے ہاتھ کا انگوٹھا آپ کی شخصیت کے کیا راز بتا سکتا ہے ؟ اس رپورٹ میں جانیے

یوں تو انسانی شخصیت کے بارے میں قیاس آرائی کرنے کے لیے لوگ مختلف طریقے اور انداز اختیار کرتے ہیں لیکن انسانی ہاتھ کسی بھی انسان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور پامسٹ ہاتھوں کی لکیروں سے کسی بھی شخص کی شخصیت کی گہرائی میں اتر کر اس کے راز افشا کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ انسانی انگوٹھا بھی حیران کن حد تک پامسٹری کے مشاہدات کامرکز رہا ہے،انگوٹھے کی طوالت اور استقامت بیان کرتی ہے کہ ایسا انسان کن خصوصیات کا حامل ہے اور اسکے اندر کمزوری کیسے پیدا ہورہی،حتٰی کہ انگوٹھا موت کاآلارم بھی بجا دیتا ہے، انگوٹھے کا تعلق انسان کے دماغ سے جڑا ہے۔انسان کیا سوچتا ہے،اسکی فطرت کیسی ہے اس کا ویسے تو علم نہیں ہوتا مگر انگوٹھے کو پڑھنے والے کافی حد تک کسی بھی انسان کا دماغ پڑھلیتے ہیں، انگوٹھے میں اگر کچھ تبدیلیاں ہوں مثلاً ایک وقت پر جب ہاتھ پر انگوٹھا اپنی قوت کھو بیٹھتا ہے اور ہتھیلی پر گرجاتا ہے۔ یہ کس چیز کی علامت ہیں، اسے لازمی مدنظر رکھیں کیونکہ یہ انگوٹھا اسی وقت ہتھیلی پر گرتا ہے جب موت قریب آ جاتی ہے اور قوتیں جواب دیتی ہیں، دلائل کی طاقت نہیں رہتی اگرانگوٹھے میں لرزش اور نقاہت پید اہو رہی ہو تو موت قریب تر نہیں ہوتی، اس کا مطلب یہ ہے کہ قوتیں بیماری کی وجہ سے عارضی طور پر جواب دے رہی ہیں، جسم اور دماغ میں دلائل کی قوت باقی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ عارضی علامات آئی ہیں اور ختم ہو جائیں گی اور انسان بچ جائے گا۔ چھوٹے، بھدے اور موٹے انگوٹھے والے افراد میں خوانی خو موجود ہوتی ہے وہ اپنے کاموں کو حیوانی زور سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے افراد کی عادت میں تحمل نہیں ہوتا، لمبے اور خوبصورت انگوٹھے والے ا فراد اچھی عادات کے حامل ہوتے ہیں اور ہمیشہ ذہانت سے کام لیتے ہیں اور مہذب ہوتے ہیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

دنیا کا سب سے مہنگا آم کتنے لاکھ روپے کلو ہے ؟ سن کر آپ دنگ رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) آم کے شوقین دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں اور اب آم دنیا بھر میں کاشت کیے جانے لگے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے آم کس ملک میں فروخت ہوتے ہیں؟ نہیں تو آئیے ہم بتاتے ہیں؟ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں مختلف قسم کے آم کاشت کیے جاتے ہیں جن میں بینگن پالی، دسہری، الپھونسو اور لنگڑا سمیت مختلف قسم کے آم شامل ہیں۔ دنیا کا سب سے مہنگا آم اور اس کی کیا قیمت ہے؟ میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے مہنگا آم ’میازکی‘ ہے جو کہ جامنی رنگ کا ہے، یہ جاپان کے شہر میازکی میں کاشت کیے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس آم کا نام بھی میازکی ہے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس آم کی دو سے تین قسمیں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے جبل پور میں کاشت کی جاتی ہیں جس کی حفاظت کے لیے سکیورٹی عملہ موجود رہتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں میازکی آموں کی فی کلو قیمت 2 لاکھ 70 ہزار بھارتی روپے ہے، ان آموں کو ’ایگز آف سن شائن‘ بھی کہا جاتا ہے، ان آموں کو ان کے گہری رنگت کے باعث ڈائنوسار کا انڈہ بھی کہا جاتا ہے۔ رپورٹس میں بتایاگیا ہے کہ آموں کا وزن 350 کلوگرام ہے جن میں شوگر کی مقدار 15 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

نبی کریمؐ نے فرمایا ” سونے سے پہلے تین مرتبہ بستر ضرور جھاڑ لیا کرو کیونکہ ۔۔۔۔۔۔ ایسی باتیں جو ہر انسان کو معلوم ہونی چاہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے پہلے 3 مرتبہ بستر جھاڑنے کا حکم کیوں دیا۔۔۔؟ ۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سونے سے قبل باوضو ہونے کا حکم دیا تو وہیں نماز سے قبل دانتوں کو صاف کرنے کا حکم بھی موجود ہے اور سائنس کہتی ہے کہ ایسا کرنے سے انسان دانتوں کی بیماریوں کیساتھ ساتھ دل اور معدے کی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس حکم کا مقصد بستر پر کیڑے مکوڑوں یا کسی اور نقصان دہ چیز سے صاف کرنا ہے لیکن سائنسی تحقیق میں ایسا ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے اور بے اختیار سبحان الله کہہ اٹھیں گے کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم نے 14 سو سال پہلے ہی اپنی امت کو بچاؤ کی تدابیر بتا دیں۔سائنس کے مطابق انسانی جسم میں میٹابولزم کا عمل 24 گھنٹے جاری رہتا ہے جس کے باعث ہر پل سینکڑوں نئے سیلبنتے اور پرانے ٹوٹتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ سونے کے دوران جسم میں ٹوٹنے والے سیل بستر ہی پر گر جاتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کے سبب نظر نہیں آتے۔ اگر بستر کو بغیر جھاڑے اس پرسونے کیلئے لیٹ جائیں تو یہ مردہ سیل جسم میں داخل ہو کر کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اور سائنس نے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ ان مردہ سیلوں کو صاف کرنے کیلئے بستر کو کم از کم تین بار جھاڑنا لازمی ہوتا ہے اور ایسا کرنے سے خطرہ ٹل جاتا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اگر بیرون ملک سفر کے دوران آپ کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو سب سے پہلے کیا کام کرنا چاہیے ؟ بڑے کام کی معلومات

اگر کسی دوسرے ملک کے سفر کے دوران پاسپورٹ گُم ہوجائے تو سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور دیار غیر میں انسان مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔ اپنے اوسان قائم رکھیں یاد رکھیں کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگیا جوآپ اس قدر پریشان ہیں بلکہ

اپنے اعصاب پر قابو پائیں۔ یاد کریں کہ آخری بار کہاں دیکھا تھا یہ یاد کرنے کی کوشش کریں کہ آخری بار آپ نے پاسپورٹ کہاں رکھا تھا۔کہیں چائے یا کافی پیتے ہوئے تو ریسٹورنٹ میں نہیں بھول آئے۔ سوشل میڈیا کی مدد حاصل کریں اپنی تصویر کے ساتھ فیس بک یا ٹویٹر پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کریں۔اگر آپ کی قسمت اچھی ہوئی تو کوئی نہ کوئی آپ کی مدد کو آجائے گا۔ پولیس رپورٹ آپ کو پہلی فرصت میں پولیس سٹیشن جاکر پاسپورٹ گمشدگی کی رپورٹ درج کروانی ہے تاکہ اس کی مدد سے آپ دوسرے پاسپورٹ یا ایمرجنسی پرمٹ کے حصول کے لئے کام شروع کرسکیں۔ اپنے ملک کی ایمبیسی جائیں اس پولیس رپورٹ کی کاپی ایمبیسی یا قونصلیٹ میں پیش کریں اور ایمرجنسی پرمٹ کے لئے اپلائے کریں۔ اس پرمٹ کوملنے کے بعد آپ اپنے ملک کو جاسکیں گے۔ پاسپورٹ سائز تصاویر بنوائیں جب آپ ایمبیسی جائیں گے تو عین ممکن ہے کہ عملہ آپ سے تصاویر کا مطالبہ کریں لہذا اپنی تصاویر اترواکر ہی ایمبیسی کا رخ کریں۔ ایمرجنسی فیس اپنے پاس کچھ رقم کا انتظام رکھیں کیونکہ آپ کو پاسپورٹ یا ایمرجنسی پرمٹ کے لئے فیس دینی ہوگی۔ نکلنے کا ویزہ ممکن ہے کہ جس ملک میں آپ ٹھہریں ہوں وہاں سے نکلنے کے لئے آپ کو ایگزٹ ویزہ درکارہو لہذا اس کی فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔ اپنی فلائیٹ تبدیل کروائیں اگر آپ نے دو چار دن کے اندر سفر کرنا ہے تو اپنی فلائیٹ کو تبدیل کروادیں کیونکہ اب آپ کو زیادہ وقت لگے گا۔ سب سے اہم کام جب بھی اپنا بیرون ملک سفر شروع کریں تو پاسپورٹ کی ایک فوٹو کاپی اور ایک سکین کاپی اپنے ای میل میں رکھیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت کا مقابلہ کیا جاسکے

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

آپ کے پاؤں کی انگلیاں آپ کے بارے میں کیا باتیں بتاتی ہیں ؟ معلوماتی رپورٹ

چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاؤں کی انگلیاں انسان کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔انگلیاں کچھ اسطرح شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگر آپ کی پاؤں کا انگوٹھا دیگر انگلیوں کے مقابلے میں بڑا اور موٹا سا ہے، اس کا مطلب آپ بہت ذہین اور تخلیفی انسان ہیں اور آپ اپنے ارد گرد میں ہونے والی چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کا انگوٹھا دیگر انگلیوں کے مقابلے میں چھوٹا سا ہے اس کا مطلب آپ دوسروں سے بہت جلدی متاثر ہوجاتے ہیں اور آپ اپنی دنیا میں مگن رہنے والے انسان ہیں۔اگر آپ کی دوسری انگلی تمام انگلیوں سے بڑی ہے ، اس کا مطلب آپ کا رویہ لیڈروں والا ہےاور ایسے لوگوں میں حکم چلانے کی عادت بہت زیادہ موجود ہوتی ہے۔جن افراد کی دوسری انگلی چھوٹی ہے، وہ افراد بس اپنی من مانی کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ ان کی کوئی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔جن افراد کی تیسری انگلی دیگر انگلیوں سے بڑی ہوتی ہے ، ایسے افراد جس چیز کی ٹھان لیتے ہیں ، اس کام کو سرانجام کرکے ہی دم لیتے ہیں اور ایسے افراد ہر چیز میں کمال مہارت رکھتے اور چاہتے ہیں ہر چیز پرفیکٹ ہو۔ اس کے برعکس وہ افراد جن کی تیسری انگلی چھوٹی ہوتی ہے ، ایسے افراد اپنی زندگی کو بھرپور انجوئے کرتے ہیں۔ ایسے افراد اپنی زندگی کے ہر پہلو پر کام کرتے ہیں۔جن فراد کی چوتھی انگلی دیگر انگلیوں سے بڑی ہوتی ہے، ایسے افراد کےلیے ان کی فمیلی سب کچھ ہوتی ہے۔ اگر چوتھی انگلی میں ذرا سا خم موجود ہے اس کا مطلب ایسے افراد کو رشتوں میں محبت کی کمی کا سامنا ہے۔لیکن یہ افراد بہت اچھے سننے والے ہوتے ہیں، لوگ ان سے جو بھی بات کریں ،یہ افراد خاموشی سے ساری بات کو سنتے ہیں۔جن افراد کی چوتھی انگلی چھوٹی ہوتی ہے، ایسے افراد کو نہ فیملی کی فکرہوتی ہے اور نہ ہی اپنے دوستوں کی۔ یہ افراد اپنی زندگی میں مست ہوتے ہیں۔ جن افراد کی پاؤں کی آخری انگلی چھوٹی ہوتی ہے ، ان افراد کا رویہ بچوں جیسا ہوتا ہے، یہ افراد کوئی بھی ذمہ داری نہیں لیتے اور ہر وقت ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں اور یہ لوگ چیزوں سے بہت جلدی بور بھی ہوجاتے ہیں۔وہ افراد جو اپنے پاؤں کی آخری انگلی کو باآسانی حرکت دے سکتے ہیں۔ایسے افراد بہت بہادر اور موج مستی کرنے والےہوتے ہیں۔
………………………..

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

کن خصوصیات پر کسی بھی ہوٹل کو فائیو سٹار کا درجہ دیا جاتا ہے ؟ ایک معلوماتی رپورٹ

یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ ہوٹلز کی درجہ بندی اسٹارز کی بنا پر کی جاتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں ان اسٹارز کا مطلب کیا ہوتا ہے؟جب کوئی سیاح کسی ملک یا شہر کا سفر کرتا ہے تو وہاں رہائش کیلئے اپنے بجٹ کے مطابق ہوٹل کا انتخاب کرتا ہے۔

اس کیلئے وہ ہوٹل کی سہولیات کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے اسٹارز کو دیکھتا ہے۔ لیکن ان اسٹارز کی درجہ بندی کس بنا پر کی جاتی ہے؟اسٹارز کی درجہ بندی ہوٹل کی جانب سے گاہکوں کو دی جانے والی سہولیات کی بنا پرکی جاتی ہے۔ جتنی زیادہ اور اچھی سہولیات اتنے زیادہ اسٹارز۔1958 میں ‘فوربز اسٹارز ریٹنگ’ کا آغاز ہوا جس میں آٹھ ہزار ہوٹلوں کی سہولیات کا جائزہ لے کر انہیں ایک سے پانچ تک اسٹارز دئے گئے۔ اس کیلئے 800 سہولیات کی فہرست تیار کی گئی۔ اس فہرست کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اسٹارز کے بارے میں جانتے ہیں۔٭ ون اسٹار ہوٹلجن ہوٹلز میں باتھ روم، ٹوائلٹ، صابن، باتھ ٹب کے ساتھ کمروں کی روزانہ صفائی اور ٹی وی کی سہولت موجود ہو انہیں ون اسٹار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ٭ ٹو اسٹار ہوٹلاس میں رہائش کے ساتھ ناشتہ فراہم کیا جاتا ہے۔ بیڈ کے ساتھ لیمپ اور میز جبکہ پبلک ایریا میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ باتھ روم میں ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش اور شیونگ کٹ کا انتظام بھی ہوتا ہے۔٭ تھری اسٹار ہوٹلٹھری اسٹار میں استقبالیہ پر 14 گھنٹے اسٹاف کی ڈیوٹی ہوتی ہے جبکہ فون سروس آپ کو 24 گھنٹے دی جاتی ہے۔ گاہکوں کا سامان لاؤنج سے کمرے میں پہنچانے کا انتظام ہوتا ہے۔ کپڑے دھونے، استری کرنے جوتے پالش کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ جبکہ طلب کرنے پر اضافی تکیے اور کمبل بھی مہیا کئے جاتے ہیں۔٭ فور اسٹار ہوٹلان ہوٹلوں کے کمرے مکمل فرنشڈ ہوتے ہیں۔ یہاں آپ کو نہانے کا لباس اور چپل بھی ملے گی۔ فور اسٹار ہوٹلوں میں آپ کو چھوٹآ سا شراب کانہ بھی ملے گاجہاں سولہ گھنٹے شراب دستیاب ہوتی ہے۔ یہ شراب اور مشروبات آپ کمرے میں بھی منگوا سکتے ہیں۔٭ فائیو اسٹار ہوٹلفائیو اسٹار میں ویلٹ پارکنگ کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ان ہوٹلز میں ہر گاہک کیلئے ایک ملازم مختص کیا جاتا ہے۔ وسیع و عریض استقبالیہ میں گاہکوں کیلئے صوفے اور میزیں موجود ہوتی ہیں اور انہیں مشروبات پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر گاہک کا استقبالپھولوں کے گلدستے سے کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو ایک اضافی بات بھی بتائیں کے ہوٹلوں کی رینکنگ صرف 5 تک ہوتی ہے، لیکن دنیا میں کچھ ہوٹلز ایسے بھی ہیں جنہیں سیون اسٹارز کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ہوتے تو فائیو اسٹار ہی ہیں لیکن کچھ منفرد اور پر آسائش سہولیات کی بنا پر سیون اسٹار کہلاتے ہیں۔ ان میں ہیلی پیڈ کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ساتھ ہی کمروں کی منفرد اور مرضی کی پسندیدہ آرائش بھی کروائی جاسکتی ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اب بچے محفوظ رہیں گے!!! ایپل نے منفرد فیچر متعارف کرا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) ٹیکنالوجی جائنٹ ایپل نے اپنی ڈیوائسزمیں فحش تصاویرکی اسکیننگ کرنے والے فیچرکودوسرے ممالک کے لیے بھی جاری کردیا ہے۔ ایپل کی جانب سے بچوں کوآن لائن تحفظ فراہم کرنے کے اس اہم فیچرکو گزشتہ سال جاری کیا گیا تھا۔ ایپل نے 18 سال سے کم عمرکے تمام امریکی صارفین کے لیے آئی فون، آئی پیڈ اورمیک کی تمام میسیجنگ ایپلی کیشنز میں اس فیچرکوفعال کردیا تھا۔ یہ فیچرپیغامات میں برہنہ اورفحش تصاویرکی شناخت کرکے فورا استعمال کندہ کے سرپرست اوروالدین کواس بارے میں آگاہ کردیتا ہے۔ برطانوی اخبارگارجیئن کے مطابق ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ کے نام سے امریکا میں پیش کیے گئے اس فیچر کی کام یابی کے بعد اسے دیگر ممالک کے لیے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ کے تمام آئی او ایس صارفین کے لیے بھی جلد ہی جاری کردیا جائے گا، تاہم کینیڈا کے صارفین آئی اوایس 15.5 بی ٹا اپ ڈیٹ کے ذریعے اس فیچرسے مستفید ہوسکتے ہیں۔ یہ فیچرایک بارفعال ہونے کے بعد بچوں کی ایپل ڈیوائسزکے میسیجزمیں موصول اوربھیجی جانے والی برہنہ اورفحش تصاویرکوخود کارطریقے سے دھندلاکرکے ایک انتباہی پاپ اپ نوٹی فیکیشن ظاہرکردیتا ہے۔ اس نوٹی فیکیشن میں بچے کواس بابت راہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اس صورت حال میں کس سے اور کس طرح مدد حاصل کرسکتا ہے۔ ایپل کی جانب سے بچوں کوجنسی ہراسگی اورزیادتی سے تحفظ فراہم کرنے والے اس فیچرکوبچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے بہت سراہا گیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں متعارف کرائے گئے اس فیچرپرناقدین نے اس کی پرائیویسی میں موجود کچھ خامیوں کی بھی نشان دہی کی تھی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

جہاز کا وہ کونسا حصہ ہے جہاں حادثے کی صورت میں آگ نہیں لگتی؟

لاہور: (ویب ڈیسک) جہاز کو اُڑانے سے پہلے اس کے انجن میں آگ کیوں لگائی جاتی ہے اور جانیے جہاز کا وہ کونسا حصہ ہے جہاں حادثے کی صورت میں آگ نہیں لگتی۔ جہاز سے متعلق آج ہم آپ کو ایک ایسی بات بتا رہے ہیں جسے جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی کہ یہ کام بھی جہاز اُڑنے سے قبل ہوتا ہے۔

جہاز اُڑائے جانے سے قبل اس کو چیک کیا جاتا ہے کہ یہ اگلی پرواز کے لیے موزوں ہے بھی یا نہیں اور اسی لیے کئی ممالک میں فلائٹس کے سفر پر جانے سے آدھا گھنٹہ قبل مکمل ٹیکنیکل مشاہدے کی رو سے چیک کیا جاتا ہے۔ اسی دوران جہاز کے انجن کو جلایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جہاز کا اپنا وزن بھی ہوتا ہے اور جب اس میں مسافر سوار ہوتے ہیں تو یہ وزن دگنا ہو جاتا ہے جس سے انجن پر بھی فرق پڑتا ہے، یا بعض اوقات انجن کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بھی اس طرح جلایا جاتا ہے تاکہ یہ چیک کیا جا سکے کہ یہ کہیں سے خراب تو نہیں۔جہاز میں جب بھی آگ لگتی ہے، کوئی بھی حادثہ پیش آتا ہے جہاز کی سیٹیں کبھی نہیں جلتی۔ یعنی سیٹوں پر آگ کبھی نہیں لگتی جس کی وجہ یہ ہے کہ سیٹوں پر کولنگ ہائیڈرنٹس لگے ہوئے ہوتے ہیں جو کسی بھی ناگہانی آفت میں انسانوں کو جلنے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔جہاز کا پائلٹ اگر سو جائے تو جہاز میں ایک ایسا سسٹم لگا ہوتا ہے جو پائلٹ کی چند منٹ سے زیادہ کسی حرکت نہ کرنے اور بٹن وغیرہ نہ دبانے پر خود بخود آن ہو جاتا ہے اور جہاں پائلٹ بیٹھا ہوتا ہے وہاں تیز سائرن بجنے لگتا ہے۔ اس سائرن کی آواز تیز تر ہوتی جاتی ہے اس کے علاوہ جہاز میں ہمیشہ 2 پائلٹ ہوتے ہیں کہ اگر ایک سو بھی جائے تو دوسرا پرواز کو جاری رکھ سکتا ہے اور اگر دونوں بدقسمتی سے سو جائیں تو ایک اور سسٹم الرٹ ہو جاتا ہے جو دونوں پائلٹ کی حرکات پر غور کر رہا ہوتا ہے اور کوئی حرکت محسوس نہ ہونے پر بجنے لگتا ہے جس سے پائلٹ جاگ جاتا ہے۔ جہاز کا سسٹم اتنا جدید ہوتا ہے کہ اگر 5 منٹ سے زیادہ پائلٹ حرکت نہ کرے تو زمین پر موجود کنٹرول روم میں اے ٹی سی کو سگنلز ملنے لگتے ہیں اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

یہ تصویر گھوم رہی ہے یا رکی ہوئی ہے؟ اندازہ لگانا بھی کافی مشکل ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) آج ہم آپ کا امتحان لینے کےلئے ایک ایسی حیرت انگیز تصویر لے کر حاضر ہوئے ہیں جس کو دیکھنے کے بعد آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے وہ حرکت کر رہی ہو۔ سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق اس تصویر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ گول گول گھوم رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ اس تصویر کو بنانے والے کا کمال ہے جس نے اس تصویر کو تخلیق کیا اور ہمارے ذہنوں کو بھی گھما کر رکھ دیا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس تصویر میں نیلی لکیریں ٹیڑھی ہیں یا پھر سیدھی؟

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اس درویش کا قصہ جو جنت کی بجائے جہنم میں جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ

ایک دن ایک درویش خواجہ عبدالخالق غجدوانیؒ کے روبر وکہنے لگا کہ اگر خداوند تعالیٰ مجھے جنت یا دوزخ میں جانے کا مختار بنا دے تو میں دوزخ میں جانے کو پسند کروں گا۔ کیونکہ میں نے تمام عمر اپنے نفس کی خواہش کی مخالفت کی ہے اور اس صورت میں یقینا میرے نفس کی خواہش ہوگی

کہ وہ بہشت میں جائے اور دوزخ میں جانا خداوند تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگا۔خواجہ نے اس درویش کی بات کو رد کیا اور فرمایا کہ بندے کو اپنے اختیار سے کیا کام وہ جہاں جانے کا حکم دے گا وہاں ہم جائیں گے اور جہاں فرمائے گا کہ یہاں رہو وہاں رہیں گے۔ یہ نہیں جو تم کہتے ہو۔“اس درویش نے کہا کہ شیطان کو سالک پر کچھ قابو ہے یا نہیں۔“خواجہ نے جواب دیا ”اسے سالک پر اس کو قابو ہے جو فنائے نفس کی حد تک نہ پہنچا ہو۔ جب ایسے سالک کو غصہ آتا ہے تو شیطان اس پر قابو پالیتا ہے لیکن ایسا سالک جو فنائے نفس کی حد تک پہنچ گیا ہے، شیطان سے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ایسے سالک کو غصہ نہیں آتا بلکہ اس کو غیرت ہوتی ہے اور جہاں غیرت ہے وہاں سے شیطان بھاگتا ہے اور یہ وصف ایسے شخص کے لیے مسلم ہے جو خدا کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں کتاب الہٰی ہوتی ہے اور بائیں ہاتھ میں وہ سنت رسول ﷺ کو لیے ہوتا ہے اور ان دونوں روشنیوں میں وہ راستہ طے کرتا ہے۔“

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اے سی نہ ہو تو رمضان کے مہینے میں گھر کو ٹھنڈا کیسے رکھیں؟ جانئیے

لاہور: (ویب ڈیسک) رمضان کا مہینہ ہے اور ساتھ ہی ملک اس وقت گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ کچھ لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے اپنے گھروں میں اے سی کا استعمال زیادہ کررہے ہیں۔لیکن جن گھروں میں اے سی کی سہولت میسر نہیں وہ ایسا کیا کریں کہ ان کا گھر پورا دن ٹھنڈا رہے اور رمضان ان کا مزید اچھا گزرے؟۔ آج ہم آپ کو گرمی سے بچاؤ اور گھر کو ٹھنڈا رکھنے کی چند کارآمد ٹپس بتائیں گے۔ پردے لگا دیں: 1-اگر آپ کے گھروں کی کھڑکیوں پر پردے نہیں ہیں تو وہاں سے سورج کی روشنی کمرے کے اندر داخل ہوکر اسے گرم کردے گی۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی کے مطابق پردے یا بلائنڈز بند کر کے آپ اس گرمی کو 45 فیصد تک روک سکتے ہیں۔ بوتلیں فریز کریں: 2-پانی کی کچھ بوتلیں فریز کریں اور انہیں کسی فرشی یا ڈیسک فین کے سامنے رکھ دیں یا اس کے آگے فکس کردیں۔ پھر آپ اس عارضی ائیرکنڈیشنر سے خارج ہونے والی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ نیلے رنگ سے رنگے کمرے3- ایک امریکی تحقیق کے مطابق جو لوگ نیلے رنگ سے رنگے کمروں میں بیٹھتے ہیں وہ دیگر رنگوں کے کمروں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، چاہے درجہ حرارت یکساں ہی کیوں نہ ہو۔تحقیق کے مطابق نیلا رنگ نفسیاتی طور پر لوگوں کو سکون پہنچاتا ہے اور اس سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔برتن میں پانی بھر کر رکھ دیں4- برفیلے پانی سے بھرا ایک برتن پنکھے کے سامنے رکھ دیں، برف سے جو ٹھنڈک اٹھے گی پنکھا اسے پورے کمرے میں پھیلائے گا جیسا کہ اے سی کرتا ہے۔اگر آپ کے پاس برف نہیں تو صرف پانی سے بھرے برتن گھر کے مختلف حصوں میں رکھ کر بھی نمی حاصل کی جاسکتی ہے جس سے گھر تھوڑا ٹھنڈا ہوسکتا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

امریکہ میں تکیے فریج کے اندر کیوں رکھے جاتے ہیں، حقیقت کیا ہے؟

نیویارک: (ویب ڈیسک) امریکا میں ایک روایت ہر سال ادا کی جاتی ہے جو کہ کس مذہب کے اعتبار سے صحیح ہے اور کس کے اعتبار سے غلط یہ کوئی سمجھ نہیں پایا۔ انوکھی روایت: امریکہ میں ہر سال ایک دن ایسا تہورا منایا جاتا ہے جس میں فریج کے اندر تکیے کو رکھا جاتا ہے اور صرف تکیہ ہی نہیں بلکہ صوفوں کی گدیاں اور کُشن بھی رکھ دیئے جاتے ہیں۔ اس رواج کی کیا وجہ ہے؟ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں رہنے والے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس سے ان کی مالی مشکلات کم ہو جاتی ہیں، گھروں میں رزق کی کشادگی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قسمت اچھی ہو جاتی ہے، ہر کام بہتر طور پر ہو جاتا ہے اور جتنے بھی کاموں میں رکاوٹ ہوجائے وہ سب خیریت سے ہونگے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

ہوٹل میں قیام کے بعد منفی رائے: آپ کو جیل بھی ہو سکتی ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) کسی ہوٹل میں بطور سیاح قیام کے بعد اس کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے آپ کو محتاط رہنا چاہیے۔ ایسا کرنے پر آپ کو جیل بھی ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی شہری کو ایسی رائے دینے پر تھائی لینڈ میں اپنے خلاف مقدمے کا سامنا ہے۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایک امریکی شہری نے اس ملک کے ایک تعطیلاتی جزیرے پر کچھ عرصہ چھٹیاں گزاریں اور پھر ‘ٹرپ ایڈوائزر‘ نامی ویب سائٹ پر اس ہالیڈے ریزورٹ کے بارے میں منفی رائے لکھ دی۔ اس کا نتیجہ یہ کہ اب اس امریکی شہری کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے اور قصور وار ثابت ہونے پر انہیں دو سال تک کی سزائے قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔ تھائی لینڈ کی قومی معیشت میں سیاحت اور اس سے ہونے والی آمدنی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سیاحتی شعبہ گزشتہ کئی ماہ سے پوری طرح مفلوج ہے۔ تھائی جزیرے کوہ چانگ پر تعطیلات: تھائی لینڈ کا جزیرہ کوہ چانگ اپنے ریتلے ساحلوں اور سبز رنگ کے پانیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی سیاح ویسلے بارنز نے اس جزیرے کی ‘سی ویو ریزورٹ‘ میں اپنے لیے ایک تعطیلاتی پیکج بک کرایا۔ اپنے قیام کے بعد انہوں نے TripAdvisor نامی ویب سائٹ پر اس ریزورٹ کے بارے میں جو آن لائن رائے لکھی، اس پر اس ریزورٹ کی انتظامیہ شدید ناراض ہوئی۔ ویسلے بارنز تھائی لینڈ ہی میں کام کرتے ہیں۔ ان کی طرف سے بہت منفی رائے دیے جانے کے بعد سی ویو ریزورٹ کی انتظامیہ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ الزام یہ لگایا گیا کہ اس امریکی شہری نے اس ریزورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، ان کے تنقیدی تبصرے انتہائی غیر منصفانہ اور جانبدارانہ تھے اور وہ تو ایک سے زائد مرتبہ ہوٹل کے ملازمین سے لڑ بھی پڑے تھے۔ عدالتی فیصلے تک ملزم کی ضمانت پر رہائی: امریکی شہری ویسلے بارنز کے خلاف قانونی شکایت کے بعد جزیرے کوہ چانگ کی پولیس کے سربراہ کرنل تھاناپون تائمسارا نے بتایا، ”ویسلے بارنز کو اس جزیرے سے رخصتی کے بعد تھائی امیگریشن حکام نے گرفتار کر کے واپس اس جزیرے پر پہنچا دیا، جہاں ان کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ انہیں کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا، مگر پھر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔‘‘ اب ویسلے بارنز کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہے۔ اگر انہیں دانستہ طور پر سی ویو ریزورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا مرتکب پایا گیا، تو انہیں دو سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سزائے قید کے علاوہ انہیں دو لاکھ تھائی بھات جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے، جو تقریباﹰ ساڑھے چھ ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ تھائی لینڈ میں کسی شخص یا ادارے کو بدنام کرنے کے دانستہ کوشش کے خلاف مروجہ قوانین انتہائی سخت ہیں۔ یہ قوانین اتنے سخت ہیں کہ بہت سی تنظیموں کے مطابق ان کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کی جاتی ہیں اور آزادی صحافت کی درپردہ نفی بھی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

مرتے ہوئے شخص کو دکھائی دینے والے مناظر کی حقیقت کیا ہے؟ سائنسدانوں نے اہم انکشاف کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) کچھ خوش قسمت افراد جو موت کے منہ سے واپس زندگی کی طرف پلٹ آتے ہیں کچھ عجیب و غریب مناظر کا ذکر کرتے ہیں جو انہوں نے زندگی اور موت کی سرحد پر دیکھے ہوتے ہیں، سائنس ان مناظر کی حقیقت جاننے کی کھوج میں ہے۔ آنکھوں کے سامنے سے لمحوں میں پوری زندگی کا گزرنا، کسی تاریک سرنگ کے دہانے پر روشنی اور دیگر چیزیں جن کے بارے میں اکثر موت کے منہ سے نکل کر زندگی کی جانب لوٹنے والے افراد بات کرتے ہیں۔

اس حوالے سے سائنس کچھ واضح طور پر کہنے سے قاصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ سائنس دانوں نے اس حوالے سے پہلی بار ایک باقاعدہ نظر ثانی شدہ تحقیق کے نتائج جاری کیے ہیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد موت پر تحقیق کے اصولوں کو وضع کرنا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ دیگرچیزوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ امریکا کی نیویارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ اور دیگر اداروں کی اس تحقیق میں کہا گیا کہ 21 ویں صدی میں موت کی تعریف وہ نہیں جو ایک سو سال پہلے تھی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک سانس نہ لینے اور نبض تھم جانے کو موت کی بنیادی نشانی قرار دیا جاتا رہا مگر پھر طبی طریقے بہتر ہوئے تو ڈوب جانے والے افراد جن میں آکسیجن کی کمی اور نبض ختم ہوجاتی ہے، وہ اچھی قسمت اور طبی امداد کی مدد سے کئی گھنٹے بعد سانس لینے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارڈیک اریسٹ (دل کی دھڑکن رک جانا) ہارٹ اٹیک نہیں بلکہ یہ ایک بیماری یا واقعے (کسی فرد کی موت) کے آخری مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پی آر ٹیکنالوجی یا طریقے بہتر ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ موت ایک حتمی کیفیت نہیں بلکہ کچھ افراد میں اس کو ممکنہ طور پر ریورس بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ جسمانی اور ذہنی افعال موت کے وقت رک نہیں جاتے بلکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ موت کے وقت دل کے تھم جانے سے دماغی خلیات کو ناقابل تلافی نقصان نہیں پہچنتا بلکہ ان کے مرنے میں کئی گھنٹے یا دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تحقیقی رپورٹس میں موت کے منہ سے واپس آنے والے افراد کے تجربات کو ثابت نہیں کیا جاسکا مگر ان کو مسترد بھی نہیں کیا گیا۔ ماہرین نے بتایا کہ بہت کم رپورٹس میں اس بات کی کھوج کی گئی کہ جب ہم مرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے، مگر ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسانوں کا شعور برقرار رہتا ہے اور مزید تحقیق کا راستہ کھلتا ہے۔ اسی طرح جسم سے روح کے الگ ہونے، کسی منزل کی جانب سفر، زندگی کا بامقصد ریویو یا کسی ایسے مقام پر پہنچ جانا جو گھر جیسا لگے یا زندگی کی جانب لوٹ آنا کوئی واہمہ نہیں بلکہ کچھ اور یا حقیقت ہے۔