Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

مندر سے مورتیاں چوری کرنے والے چوروں کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ اگلی رات ہی مورتیاں واپس مندر میں رکھ گئے ؟ حیران کن خبر

نئی دہلی (ویب ڈیسک)بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں کے ایک گروہ نے ایک قدیم ہندو مندر سے چوری کی گئیں ایک درجن سے زیادہ مورتیاں واپس کر دی ہیں۔اے ایف پی کے مطابق چوروں کے اس گروہ کا کہنا ہے کہ ’جب سے انہوں نے مورتیاں چوری کی ہیں تو انہیں ڈراؤنے خواب آرہے ہیں۔

‘انسپکٹر راجیو سنگھ نے کہا کہ گذشتہ ہفتے اس گروہ نے 300 سال پرانے بالاجی مندر سے مورتیاں چرائی تھیں۔ انہوں نے ان میں سے 14 مورتیاں اترپردیش کے ضلع چتراکوٹ میں مندر کے پنڈت کے گھر کے قریب چھوڑ دی تھیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اس تصویر میں ایک بہت بڑا راز چھپا ہے ، بھلا کیا ؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔سائنسدانوں نے پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو چاند پر انسان کے طویل مدتی قیام کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔تحقیق کاروں نے سنہ 1969 اور 1972 کے اپالو مشنز کے دوران جمع کیے گئے

مٹی کے نمونوں کو پودے اگانے کے لیے استعمال کیا۔تحقیق کاروں کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے دیکھا کہ چاند کی مٹی میں بیچ صرف دو دن میں ہی پھوٹ پڑے۔فلوریڈا یونیورسٹی کی پروفیسر اور چاند کی مٹی میں پودے اگانے سے متعلق مقالے کی شریک مصنف اینا لیزا پال نے کہا کہ ’میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ ہم کتنے حیران تھے۔ ہر پودا۔۔۔ چاہے چاند کے نمونے میں ہو یا کنٹرول میں تقریباً چھ دن تک ایک جیسا نظر آتا تھا۔‘اس کے بعد اس میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ چاند کی مٹی میں اُگنے والے پودے تناؤ کا شکار نظر آئے اور پھر آہستہ آہستہ ان کی نشوونما رک گئی لیکن تحقیق میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑی پیشرفت ہے اور اسکے زمینی مضمرات ہیں۔ناسا کے سربراہ بل نیلسن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کے لیے اہم ہے۔اس تحقیق سے چاند اور مریخ پر پائے جانے والے وسائل کو ترقی دے کر سائنسدانوں کے لیے خوراک پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘پودوں کی نشوونما کی یہ بنیادی تحقیق اس بات کے حوالے سے بھی ایک اہم ہے کہ ناسا کے زرعی شعبے میں اختراعات سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زمین پر خوراک کی کمی والے علاقوں میں پودوں کی نشوونما میں سامنے آنے والے مسائل پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔محققین کے لیے ایک مشکل یہ ہے ان کے پاس تجربہ کرنے کے لیے چاند کی اتنی زیادہ مٹی نہیں۔ ناسا کے خلا باز سنہ 1969 سے تین سال کے عرصے میں چاند کی سطح سے 382 کلوگرام چاند کی چٹانیں، بنیادی نمونے، کنکریاں، ریت اور مٹی واپس لائے۔فلوریڈا یونیورسٹی کی ٹیم کو نمونوں سے تجربے کے لیے فی پودا صرف 1 گرام مٹی دی گئی، جسے کئی دہائیوں سے بند رکھا گیا۔ناسا نے سنہ 1972 کے بعد پہلی بار سنہ 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

گرمی شدید تر: اے سی کے بغیر گھر کو ٹھنڈا کیسے رکھیں ؟ بی بی سی کی ایک زبردست معلوماتی رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) نامور صحافی مارتھا ہینرکس بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے موضوع فکر ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کہیں گلیشیئر پگھل رہے ہیں تو کہیں جنگلوں میں آگ لگ رہی ہے۔گرمی سے لوگ پریشان ہیں۔

گھروں اور دفاتر میں گرمی پر قابو پانے کے لیے ایئر کنڈیشنرز لگائے جا رہے ہیں۔لیکن ایئر کنڈیشنر اندر جتنا ٹھنڈا کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ باہر گرمی بڑھا دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی میں ایئر کنڈیشنرز سے نکلنے والی گیس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اگر ایئر کنڈیشنرز گھاٹے کا سودہ ہیں تو گھروں کو ٹھنڈا کرنے کا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنس اس کی مثال پیش کرتا ہے۔ اس عمارت کی پوری چھت پر ہریالی ہے۔ اس سے عمارت کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے علاوہ چھت پر کھڑکیاں کھلی ہیں، جہاں سے ٹھنڈی ہوا اندر تک آتی ہے۔ شدید گرمی کے دنوں میں بھی یہاں اے سی کے بغیر گزارا ہو جاتا ہے۔درجہ حرارت میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی وجہ سے اب انجینیئر اور عمارتوں کے ڈیزائنر ایسی ہی عمارتیں ڈیزائن کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سنہ 2050 تک دنیا بھر میں ایئر کنڈیشنز کی تعداد موجودہ سے تین گنا ہو جائے گی۔جب ہمارے پاس بجلی کے پنکھے، کولر اور ایئر کنڈیشنر نہیں تھے تب ہوا کے گزر کو دھیان میں رکھ کر عمارتوں کو تعمیر کیا جاتا تھا۔کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنس کی بلڈنگ ڈیزائن کرنے والے ڈیزائنر ایلسڈائر میک گریگر نے بتایا کہ عمارت کا ڈیزائن ایک تجربہ تھا۔ اس تجربے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایئر کنڈیشنرز کے بغیر کس حد تک گزارا کیا جا سکتا ہے۔یہ تجربہ گھروں، سکولوں اور چھوٹے دفاتر تک تو

کارگر ثابت ہوا، لیکن ہسپتالوں جیسی عمارتوں میں نہیں جہاں مریضوں اور مشینوں دونوں ہی کے لیے ٹھنڈک چاہیے۔لہذا وہاں اے سی کی ضرورت ہوگی ہی۔ لیکن عمارتوں کے بہتر نقشوں کے ذریعے اس کی ضرورت کو کم کیا جا سکتا ہے۔تبخیر کا عمل چیزوں کو ٹھندا کرنے میں پر اثر ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے گرمی میں جسم سے نکلنے والا پسینا بھی جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔سپین کے متعدد علاقوں میں مٹی کے بڑے بڑے گھڑوں میں پانی بھر کر رکھ دیا جاتا ہے، جنہیں ’بوتیجو‘ کہتے ہیں۔گھڑے کی مٹی ایک بار پانی جزب کرنے کے بعد اس کے اندر رکھے پانی کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔اسی طریقے کو عمارتوں کے نقشے بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔جب ہوا ٹھنڈے گھڑوں سے ٹکراتی ہے تو خود بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔اگر گھر کے کھلے حصے جیسے صحن میں فوارا لگا لیا جائے تو وہ بھی گرمی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔پانی کے ذریعے عمارتوں کو ٹھنڈا کرنے کا دستور قدیم دور سے چلا آرہا ہے۔ مغلوں کے دور کی جتنی عمارتیں ہیں ان میں کنویں اور فوارے خوب دیکھنے کو ملتے ہیں۔اسی طریقے کا استعمال انڈین آرکیٹیکٹ منیت رستوگی نے جے پور شہر میں پرل اکیڈمی آف فیشن کی عمارت بنانے میں کیا ہے۔پرل اکیڈمی کی بلڈنگ کے چاروں طرف جالیاں ہیں۔ عمارت کی دیواروں سے چار فٹ کی دوری پر سوراخ والے پتھروں کی دیوار ہے جو اندر کی دیوار کو اپنے سائے میں رکھتی ہے۔جب باہر درجہ حرارت 40 ڈگری ہوتا ہے تو عمارت کے اندر

درجہ حرارت 29 ڈگری ہوتا ہے۔اگر کسی عمارت میں بڑا کنواں کھودنے کی گنجائش نہ ہو تو زمین کے نیچے پائپ لائن بچھا کر اس میں پمپ کے ذریعے پانی گزارا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کا استعمال گرم اور سرد دونوں ہی موسموں میں کیا جا سکتا ہے۔ شمالی چین کے متعدد علاقوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔پانی سے درجہ حرارت دو ڈگری کم ہوگاترقی کے نام پر بڑی تعداد میں شہر آباد کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ شہر اصل میں کنکریٹ کے جنگل ہیں جہاں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور فیکٹریوں میں بڑی بڑی مشینوں کے استعمال سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔لیکلن اب شہروں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکی شہر کولمبیا میں تو انتظامیہ کی جانب سے پورے شہر میں گرین کاریڈور بنائے جا رہے ہیں۔حکومت کی اس کوشش سے درجہ حرارت میں دو ڈگری تک کمی لانے میں مدد حاصل ہوئی ہے۔موسمیاتی امور کی ماہر مونیکا ٹرنر نے بتایا کہ ’گرین کاریڈور بنا کر درجہ حرارت کو پانچ ڈگری تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اب دیگر شہروں میں بھی اس طریقہ کار کو اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔‘اٹلی کے شہر ملان کے شہری انتظامیہ نے سنہ 2030 تک تین لاکھ درخت لگانے کا ہدف رکھا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں بھی ایسی ہی کوششیں جاری ہیں۔ایئر کنڈیشنر کا استعمال ماحول ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اصل میں اس کی ٹھنڈک ہمیں بھٹی میں جھونک رہی ہے۔اگر اے سی کا استعمال بدستور جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب گرمی کے دنوں میں ایئر کنڈیشنر بھی دم توڑ دیں گے۔لہذا وقت رہتے، ہم سبھی کو گرمی سے لڑنے کے روایتی طریقوں پر عمل کرنا شروع کر دینا چاہیے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

جس نے نیاگرا فال نہ دیکھی اس نے کینیڈا نہ دیکھا : مشہور زمانہ آبشار کے بارے میں ایک بھرپور معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محسن گورائیہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نیاگرا فالز کو جب بھی دیکھیں ،اس کا قدرتی حسن آپ کو سب کچھ بھلا دیتا ہے اورآپ تھوڑی دیر کے لئے خوابوں اور خیالوں کی وادی میں اتر جاتے ہیں ، اپنے دکھ اور تکلیفیں بھول کر

ان کے سکون میں کھو جاتے ہیں ،اٹھلاتے پھرتے ہیں، ویسے تو اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے مگر اپنے رومان پرور ماحول کی وجہ سے اسے عالمی ہنی مون کیپیٹل کا نام بھی دیا گیا ہے۔پیارے قارئین،میں ایک دفعہ پھر چند ہفتوں کے لئے کینیڈا میں ہوں جہاں میری فیملی،میری بیٹیوں کی تعلیم کے لئے عارضی طور پر سیٹل ہے۔جیسے لاہور کے بغیر پاکستان دیکھنے بارے کہا جاتا ہے ، جنیں لہور نئیں تکیا جمیا نئیں،،اسی طرح ، نیاگرا فالز نہ دیکھیں تو کہا جاتا ہے اس نے کینیڈا نہیں دیکھا،یہ عجوبہ چونکہ گریٹرٹورنٹو کے قریب ہے ،جہاں ہم رہتے ہیں، اس لئے ہر وزٹ میں قدرت کے اس حسین مقام کو نہ دیکھنا نا شکری کے زمرے میں آتا ہے،سو ایک دفعہ پھر ، ہم ہیں،نیاگرا فالز ہیں ، اور پارٹی ہو رہی ہے،جس میں عرفان بھنگو،عابد سندھواور زاھدگجر بھی شامل ہیں۔کینیڈا قدرتی وسائل کے حوالے سے ایک خود کفیل ملک ہے،میٹھے اور شفاف پانی کے سب سے زیادہ ذخائر اس کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق اس جنت ارضی کے طول و عرض میں چھ ہزار سے زائد چھوٹی بڑی میٹھے پانی کی ایسی جھیلیں ہیں جو تین کلومیٹر سے بڑی ہیں،نیاگرا آبشار جنت نظیر کینیڈا کی پہچان بھی ہے،اسے دنیا کی سب سے بڑی آبشار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،قدرتی طور پر یہ آبشار کینیڈا سے امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے،امریکہ میں اسے نیاگرا فالس جبکہ کینیڈا میں نیا گرا فالز کہا جاتا ہے،یہ آبشار دریائے نیاگرا پر ایک گرجدارآواز کے ساتھ پہاڑ گرنے سے وجود میں آئی تھی،

آبشار کا بڑا حصہ کینیڈا میں واقع ہے۔براعظم شمالی امریکا میں کینیڈا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سرحد پر واقع دنیا کی مشہور ترین آبشار، جسے حسن فطرت کا عظیم شاہکار اور دنیا کے قدرتی عجائبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سیاحوں کے پسندیدہ ترین مقامات میں بھی شامل ہے۔میرا کزن عرفان گاڑی چلانے اور راستوں کا ماسٹر ہے ،وہ پچھلے بیس پچیس سال سے زیادہ عرصہ سے یہاں سیٹل ہے ،مگر جب عابد علی سندھو جیسا مستعد گاڑی چلانے والا ساتھ ہو تو وہ گاڑی اسے سونپ کر میرے ساتھ قدرتی نظاروں میں کھو جاتا ہے ، ہم چاروں اپنے شہر وٹبی سے نیاگرا فالز روانہ ہوئے تو ہمیں روٹین میں ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچنا تھا مگر ویک اینڈ اور اچھے موسم کی وجہ سے ہر گاڑی کا رخ ہی نیاگرا کی سمت تھا اس لئے ہمیں دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگا ،نیاگرا آبشار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے،اسے پہلی بار 1678ء میں فادر لوئس ہپی پن نے دریافت کیا۔ 1759ء میں سیورڈی لاسالی نے یہاں ایک قلعہ فورٹ کاؤنٹی قائم کیا جس کا نام بعد ازاں فو رٹ نیاگرا ہو گیا۔ انگریزوں نے سر ولیم جانسن کی زیر قیادت لڑائی میں یہ قلعہ فرانسیسیوں سے چھینا ۔ 1819 ء میں دریائے نیاگرا کو امریکا اور کینیڈا کے درمیان سرحد تسلیم کیا گیا اور 1848ء میں نیاگرا کو قصبے کا درجہ دے دیا گیا،یہی قصبہ 1892ء میں شہر کا روپ اختیار کر گیا۔امریکا اور کینیڈا سے بذریعہ ہوائی جہاز،

سڑک یا ریل گاڑی نیاگرا پہنچا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بذریعہ نیاگرا ریل اور سڑک رابطہ کے لئے دریائے نیاگرا پر دو پل واقع ہیں جن میں سے رین بوبرج بہت مقبول ہے جو 1941ء میں تعمیر ہوا اور اس کا تعمیراتی حسن آج بھی برقرار ہے۔ قوسی شکل میں تعمیر کردہ یہ پل امریکا اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین گزر گاہ ہے،دوسرے برج کا نام پیس برج ہے۔نیاگرا آبشار کا زیادہ تر حسین حصہ کینیڈا کی جانب ہے جس کے لیے امریکہ سے قوس قزح پل سے بذریعہ گاڑی یا پیدل کینیڈا میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ اسی راستے امریکا اور کینیڈا کے درمیان روزانہ سینکڑوں ٹرک رسل و رسائل کا ذریعہ بھی ہیں ،دونوں ملکوں کے شہریوں کو سرحد عبور کرنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ دیگر اکثر ممالک کے باشندوں کے لیے ویزا لازمی ہے۔دریائے نیاگرا براعظم شمالی امریکا کی عظیم جھیلوں میں سے دو جھیلوں ایری اور اونٹاریو کو ملاتا ہے۔ اس دریا میں واقع جزیرہ گوٹ دریائے نیاگرا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جس سے نیاگرا کی عظیم آبشاریں جنم لیتی ہیں۔ دراصل نیاگراآبشار کے تین بڑے حصے ہیں جن میں سب سے بڑا اور متاثر کن کینیڈین حصے کی جانب ہے اور گھوڑے کی نعل کی شکل میں ہونے کے باعث ہارس شو (Horse Shoe) کہلاتا ہے۔ اس آبشار کی لمبائی 173 فٹ اور چوڑائی 2500 فٹ ہے۔ امریکا کی جانب بہنے والی آبشار کو امریکی آبشار کہتے ہیں جس کی لمبائی 182 فٹ ہے چوڑائی 1100 فٹ ہے۔ تیسری نسبتاً چھوٹی آبشار برائڈل ویل (Bridal Veil) کہلاتی ہے۔

ان تینوں آبشاروں سے فی سیکنڈ تقریباً سات لاکھ گیلن پانی 180 فٹ کی بلندی سے نیچے آتا ہے اور اسی عظیم نظارے کو دیکھنے کے لیے ہی دنیا بھر سے اندازہً 40 لاکھ سیاح ہر سال نیاگرا کا رخ کرتے ہیں۔ بذریعہ کشتی سیاح نیاگرا آبشار کا بہت قریب سے نظارہ بھی کر سکتے ہیں، جبکہ آبشار کے پانی سے بننے والی حسین قوس قزح کا فضائی نظارہ کروانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی ہوتی ہیں۔نیاگرا آبشار کا علاقہ کینیڈا اور امریکہ دونوں ممالک میں قومی پارک کا درجہ رکھتا ہے اور امریکا میں نیاگرا ریزرویشن اسٹیٹ پارک اور کینیڈا میں ملکہ وکٹوریا نیاگرا پارک کہلاتا ہے۔ نیاگرا ریزرویشن اسٹیٹ پارک ریاستہائے متحدہ امریکا کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے جو 1885ء میں امریکی حکومت نے اپنے زیر انتظام لیا تھا۔ یہ پارک 107 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ ملکہ وکٹوریا نیاگرا پارک 154 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔اپنے شاندار حسن کی بدولت اہم ترین سیاحتی مقام ہونے کے علاوہ یہ آبشار اونٹاریو اور نیویارک کے لیے پن بجلی کے بڑے وسیلے کا باعث بھی ہے۔نیاگرا فالز تقریباً 12,000 سال پرانی ہیں اور یہ اس وقت وجود میں آئیں جب اس کے پیچھے پگھلنے والے گلیشیئرز سے میٹھے پانی کی مختلف بڑی جھیلیں بنیں ان میں سے ایک جھیل ایری نیچے کی طرف، دوسری اونٹاریو جھیل کی طرف اور پھر بہتے ہوئے ان پانیوں نے ایک دریا کو تراش لیا اور ایک مقام پر ایک کھڑی چٹان کے اوپر سے گزر گیا اور پھر نیاگرا فالز وجود میں آئیں۔دریائے نیاگرا تقریباً 35 میل فی گھنٹہ (56.3 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے بہتا ہے،یہ اونچائی اور پانی کے بہاؤکا امتزاج ہے جو نیاگرا آبشار کو بہت خوبصورت بناتا ہے نیاگرا آبشار قدرتی آبشار ہے ،مگر اس علاقے کو اب حکومت کی طرف سے سیاحوں کے لئے بہت زیادہ پرکشش بنا دیا گیا ہے۔آبشار کے بالکل نیچے نظارے کے لئے میڈ آف دی مسٹ فیری چلائی جاتی ہے جو بڑا ہی راکنگ نظارہ ہے، کیسینو نیاگرا، IMAX تھیٹر، اور نیا بٹر فلائی کنزرویٹری بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

تاج محل جس قطعہ زمین پر تعمیرکیا گیا وہ دراصل کس کی ملکیت تھی ؟ تاریخی حقائق

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھارتی لوک سبھا رکن اور جےپور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی دیا کماری نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ جہاں نے جس زمین پر تاج محل بنوایا تھا وہ اصل میں ان کے خاندان کی تھی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ

دیا کماری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جو زمین پر جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔دیا کماری کا یہ تبصرہ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں ’تاج محل‘ کے بند 22 کمروں کے قفل کھولنے کی پیٹیشن دائر کرنے کے بعد آیا ہے جس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے کہا گیا ہے کہ وہ تاج محل کے 22 بند کمروں کی جانچ کر کے ہندو مورتیوں کی موجودگی کی جانچ کرے۔پٹیشن کی حمایت میں بولتے ہوئے، بی جے پی رہنما دیا کماری نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ تاج محل کی تعمیر سے پہلے وہاں کیا تھا، لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے پور خاندان کے پاس ریکارڈ دستیاب ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو وہ فراہم کریں گی۔دیا کماری نے دعویٰ کیا کہ مغل حکمران شاہ جہاں نے اُن کے خاندان کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ زمین کے بدلے میں معاوضہ دیا گیا لیکن کتنا تھا، قبول ہوا یا نہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتی کیونکہ میں نے ہمارے ’پوٹھی خانہ‘ میں موجود ریکارڈ کا مطالعہ نہیں کیا ہے لیکن زمین ہمارے خاندان کی تھی اور شاہ جہاں نے اسے حاصل کر لیا تھا۔دیا کماری نے مزید کہا کہ چونکہ وہاں کوئی عدلیہ نہیں تھی، اس لیے اس وقت کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی تھی۔ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ہی چیزیں واضح ہوں گی۔جب بی جے پی رہنما دیا کماری سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا جے پور کے سابق شاہی خاندان کی جانب سے بھی عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی؟ تو اُنہوں نے کہا کہ وہ ابھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا اقدامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ بی جے پی رہنما نے ’تاج محل‘ میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے، ’تاج محل‘ کے بند 22 کمروں کو کھولنے کے لیے ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے جس کی سماعت آج ہوگی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

نایاب نسل کی آرا مچھلی کے دانت کس دوا کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں ؟ معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی ریاض سہیل بی بی سی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ماہی گیروں نے ایران کی سمندری سرحد کے قریب سے آرا مچھلی پکڑی ہے۔ یہ مچھلی معدومیت کے خطرے سے دوچار آبی حیات میں شامل ہے اور پاکستان کی سمندری حدود میں

شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔آرا مچھلی کی معدوم ہوتی نسل کے پیش نظر عالمی قوانین کے تحت سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے سنہ 2016 میں اس کے شکار اور تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی تاہم اس کو غیر قانونی طور پر اب بھی فروخت کیا جاتا ہے۔جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈوائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق ایران کے قریب جیونی کے علاقے گتر میں 29 اکتوبر کو آرا مچھلی ماہی گیروں کے جال میں آ گئی جس کو مقامی منڈی میں فروخت کر دیا گیا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر معظم خان کا کہنا ہے کہ یہ علاقے کافی دور دراز ہیں اور پکڑی جانے والی مچھلی کی لمبائی اور وزن کتنا تھا اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم دستیاب تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ پکڑی جانے والی مچھلی کا وزن 70 سے 80 کلو گرام تو ہو گا۔اس سے قبل 2018 میں سندھ کے سمندری علاقے کاجھر کریک سے تقریباً 15 فٹ لمبی آرا مچھلی ملی تھی۔ ماہی گیروں کا دعویٰ تھا کہ انھیں یہ بے جان حالت میں ملی تھی۔ تقریباً 1320 کلو وزنی مچھلی کو 90 ہزار میں فروخت کیا گیا تھا۔پاکستان میں آرا مچھلی سندھ اور بلوچستان کے سمندر میں پائی جاتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مشیر معظم خان کے مطابق یہ ساحلی علاقوں کی مچھلی ہے جو بہت کھلے سمندر میں نہیں ملتی۔ انڈس ڈیلٹا کے ساتھ بلوچستان کے علاقے سونمیانی، کلمت، پسنی، جیونی اور گوادر اس کی افزائش نسل اور خوراک کے علاقے ہیں۔

’اس کا جو چھوٹا بچہ ہوتا ہے اس کا سائز دو سے ڈھائی فٹ ہوتا ہے جبکہ بالغ مچھلی کو اگر سر سمیت ناپا جائے تو اس کی لمبائی 13 سے 14 فٹ تک بھی ہو سکتی ہے جس میں پانچ سے چھ فٹ تک اس کا چونچ نما آرا ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس کی تین اقسام پائی جاتی تھیں۔‘انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق سب سے بڑی آرا مچھلی کی لمبائی سات میٹر یعنی 23 فٹ یا اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے، یہ انڈوں کی افزائش جسم کے اندر ہی کرتی ہیں ان کی بلوغت کی عمر 10 سال ہوتی ہے جبکہ مجموعی عمر 25 سے 30 سالوں پر محیط ہوتی ہے۔پاکستان میں 70 کی دہائی میں آرا مچھلی وافر مقدار میں پائی جاتی تھی جس کو برآمد بھی کیا جاتا تھا۔معظم خان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی رہے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ جوانی کا کچھ حصہ انھوں نے پسنی میں گزارا ہے جہاں روزانہ کم از کم بھی ایک سے دو آرا مچھلیاں نظر آ جاتی تھیں۔’ان دنوں میں یہ مچھلی اتنی تعداد میں ملتی تھیں کہ جیونی میں ایک ایک ہزار گز کے کم از کم دو ایسے گھر بنے ہوئے جن کی باؤنڈری ان کے دانتوں سے بنائی گئی تھی اور اس پر جال ڈال دیا گیا تھا، اس کے یہ دانت یا آری تقریبا پانچ سے چھ فٹ کا ہوتا ہے دوسرے علاقوں میں بھی چند گھروں میں ایسی باونڈریاں تھیں۔‘انڈس ڈیلٹا سے لے کر ایران کی سمندری حدود تک ماہی گیر نائیلون کا جال استعمال کرتے ہیں۔ معظم خان کے مطابق اس کو

مشکا کا جال کہتے ہیں جو زیر سمندر مچھلی پکڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔’آرا مچھلی کا المیہ یہ ہے کہ اس کے سر کے ساتھ ایک بڑا آرا بنا ہوا ہے اور جال میں کوئی دوسری مچھلی پھنسے نہ پھنسے یہ ضرور پھنس جاتی ہے۔ جب کاٹن کے جال ہوتے تھے تو یہ مچھلی کاٹن کی ڈوریاں کاٹ کر اس میں سے نکل جاتی تھی لیکن اب جو نائیلوں کا جال استعمال ہوتا ہے وہ مضبوطی اور پائیداری کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جس کو آرا مچھلی کاٹ نہیں سکتی اور اس کی معدومیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی جال ہے۔‘نیشنل جیو گرافک کی رپورٹ کے مطابق آرا مچھلی کم از کم 20 ممالک میں مقامی طور پر ناپید ہو چکی ہے اور مزید 43 ممالک میں اس کی کم از کم ایک نسل ختم ہو چکی ہے، جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے، جہاں 1961 کے بعد سے بڑے دانت والی مچھلی نہیں دیکھی گئی۔سائنس ایڈوانسز میگزین کے مطابق جن ممالک میں آرا مچھلی اب ناپید ہو چکی ہے ان میں چین، عراق، ہیٹی، جاپان، تیمور لیسٹی، ایل سلواڈور، تائیوان، جبوتی اور برونائی شامل ہیں جبکہ امریکہ اور آسٹریلیا ان کے لیے آخری مضبوط گڑھ دکھائی دیتے ہیں جہاں آرا مچھلی کو بہتر طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔معظم خان کے مطابق پاکستان میں آرا مچھلی کا کوئی خصوصی استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کا گوشت دیگر شارک مچھلیوں کی طرح خاموشی سے فروخت کر دیا جاتا ہے۔جیمز کُک یونیورسٹی آسٹریلیا میں سمندری حیاتیات کے ماہر کولن سمفینڈوفر نے نیشنل جیو گرافک کو بتایا تھا کہ نہ صرف ان کے پنکھ تجارتی منڈی میں سب سے زیادہ قیمتی ہیں، بلکہ انفرادی دانت جو ان کے روسٹرم کو جڑے ہوئے ہیں، وسطی اور جنوبی امریکہ میں مرغوں کی لڑائی کے لیے سینکڑوں ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔آرا مچھلی کے پنکھوں اور دانتوں کو بطور انعام، خوراک یا دوا کے طور پر اور مرغوں کی لڑائی میں حوصلہ افزائی کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

بچوں کو ڈانٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اسکی بجائے اگر یہ طریقہ آزمایا جائے تو ۔۔۔۔۔۔ بچوں کی نفسیات کے ایک ماہر نے کام کی باتیں بتا دیں

نیویارک(ویب ڈیسک) بچے کھیل کود میں مگن ہوں تو وہ عام طور پر ماں باپ کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ اب ایک ٹک ٹاکر خاتون نے بچوں کو بغیر ڈانٹے اپنی بات سنانے اور منوانے کا ایک حیران کن طریقہ بتا دیا ہے۔ دی سن کے مطابق یہ خاتون ٹک ٹاک پر ’جو‘ (Jo)کے نام سے معروف ہے۔

اس نے اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر ایک ویڈیو میں بچوں کو کھیل کو د سے فوراً روکنے اور اپنی بات سنانے کا یہ طریقہ بتایا ہے۔جو اس ویڈیو میں عملاً یہ طریقہ کرکے دکھاتی ہے۔ا س کے دوبیٹے اس کے اردگرد بھاگ رہے ہوتے ہیںا ور شور مچا رہے ہوتے ہیں کہ اچانک وہ بلند آواز اور قدرے تلخ لہجے میں ’Hey‘ کہتی ہے۔ اس کی آواز سنتے ہی دونوں بچے فوراً رک جاتے ہیں اوراس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔جو کی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جسے اب تک 25لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں اور کمنٹس میں کئی لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ جو کا یہ طریقہ واقعی کام کرتا ہے اور بچے فوراً کھیل مستی چھوڑ کر آپ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

وہ وقت جب کابینہ کے اجلاس میں مولانا طارق جمیل نے وزراء سے تبلیغی خطاب کیا ۔۔۔۔یہ کس کا دور حکومت تھا ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) میرا سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں البتہ معاشرے کے مختلف طبقات کی طرح حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی احکامات خداوندی پر عمل پیرا ہونے کا پیغام دینے کیلئے تبلیغ کا تعلق ضروری ہے اور یہ تعلق نیا نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل

نے اپنے حوالے سے اس تاثر پر مبنی عوامی ردعمل کی یہ خبر کہ مولانا طارق جمیل کے معتقدین اب ان کے ناقدین بنتے جارہے ہیں کے بعد کیا۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ 1992 سے جاری ہے 1997 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کی دعوت پر میں نے ان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء سے ’’تبلیغی خطاب‘‘ کیا تھا اس کے علاوہ بھی اس ضمن میں ان سے ملاقاتیں اور رابطے رہے ہیں۔ 1992 میں اس وقت قائم مقام صدر وسیم سجاد سے بھی ایوان صدر میں ملاقاتیں رہیں اور اب سابق وزیراعظم عمران خان سے جو ملاقاتیں ہوئیں وہ بھی اسی سلسلے میں تھیں جب انہوں نے بحیثیت وزیراعظم ریاست مدینہ کی بات کی تو خوشی ہوئی وہ ملاقات اسی سلسلے میں تھی۔ 27 ویں کی شب بھی انہوں نے دعائے شب کیلئے دعوت دی تھی اس لئے بنی گالہ گیا۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ معتقدین اور ناقدین کا معاملہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ہم اختلاف رائے کرنے اور سننے کی برداشت سے بھی عاری ہوچکے ہیں پہلے سیاست میں فریق سے اختلاف کو مخالفت کہا جاتا تھا اور اب بات نفرت تک جاپہنچی ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

بالکونی سے سیب گرانے والی لڑکی کے والدین کو حادثہ ہونے پر سوا چار کروڑ روپے جرمانہ

چین کے شہر ڈونگوان میں 9 مارچ 2018 میں ایک حادثہ پیش آیا۔ ایک 11 سالہ لڑکی، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے اپارٹمنٹ بلڈنگ کی 24 ویں منزل سے اپنے کتے کو کھانا کھلاتے ہوئے ایک سیب نیچے گرا دیا۔ اس وقت بلڈنگ کے نیچے ایک خاتون اپنی 3 ماہ کی پوتی ٹونگ ٹونگ کو اٹھائے چہل قدمی کر رہی تھیں۔ یہ سیب ٹونگ ٹونگ کے سر میں لگا اس انہیں شدید چوٹیں آئیں۔

ٹونگ ٹونگ کی دادی انہیں لے کر ہسپتال دوڑی۔جہاں ڈاکٹروں نے اُن کے خاندان والوں کو بتایا کہ ٹونگ ٹونگ کے سر میں شدید چوٹیں آئیں ہیں، اُن کی کھوپڑی میں فریکچر ہوگیا ہے اور اُن کی کھوپڑی کی خون کی رگیں پھٹ گئی ہیں ۔ڈاکٹروں نے اُن کی سرجری کی تاکہ دماغ میں بہنے والے خون کو روکا جا سکے لیکن ٹونگ ٹونگ بدستور کوما میں رہیں۔ ڈاکٹر نے ٹونگ ٹونگ کے والدین کوبتایا کہ اُن کے ہوش میں آنے کی صورت میں بھی اُن کے دماغ کا دایاں حصہ طبی طور پر مردہ رہے گا۔ اسی دوران پولیس نے سیب پر سے اور عمارت میں رہنے والے سب لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے لے کر پتا چلا لیا کہ حادثے کی ذمہ دار 11 سالہ لڑکی ہے۔ لڑکی کے والدین نے رپورٹروں کو بتایا کہ اُن کی بیٹی نے سیب گرانے کا اعتراف کر لیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ یہ صرف ایک حادثہ تھا، اُن کی بیٹی اپنے کتے کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ لڑکی کے والدین نے اپنی بیٹی کی غلطی پر ٹونگ ٹونگ کے والدین کو 30 ہزار یوان یا 4700 ڈالر ادا کیے حالانکہ ٹونگ ٹونگ کے میڈکل بلز 1 لاکھ 30 ہزار یوان یا 20 ہزار 500 ڈالر کے ہو چکے تھے۔ حادثے کے دو سال بعد اب عدالت نے 11 سالہ بچی کے والدین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ٹونگ ٹونگ کے خاندان کو 1.85 ملین یوان یا 2 لاکھ 61 ہزار ڈالر یا تقریباً سوا چار کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔ چین میں عمارتوں کی کھڑ کیوں سے حادثے کا باعث بننے والے سامان کے پھیکنے پر سخت قوانین ہیں۔ اسے عوام کی جان خطرے میں ڈالنے والا جرم تصور کیا جاتا ہے تاہم عام طور پر ایسا جان بوجھ کرپھینکنے پر ہوتا ہے لیکن 11 سالہ لڑکی کے معاملے میں یہ صرف ایک حادثہ تھا۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

جاپانی کمپنی کے بنائے اس مشین نما کارڈ ہولڈر کی قیمت 70 ہزار روپے ہے

اگر آپ بزنس کارڈ کو سنبھال کر نہیں رکھتے تو بھی آپ اس جدید ترین کارڈ ہولڈرکی محبت میں گرفتار ہوجائیں گے۔1930 کی دہائی کی کوئی مشین لگنے والی یہ وائس اصل میں ایک کارڈ ہولڈر ہے۔ اسے جاپانی کمپنی ایس ایم ڈی فیکٹری نے بنایا ہے۔یہ تمام دھات کا بنا ہے لیکن اس میں خوبصورتی بڑھانے کے لیے کئی چیزیں جیسے اہتزاز بیں یا آسلو سکوپ (Oscilloscope) اور اصطرلاب لگائے گئے ہیں۔

اس میں گراریاں اور چٹخنی بھی ہے۔ اس ڈیوائس کو پہلی نظر میں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کارڈ ہولڈر ہے ۔اس کارڈ ہولڈر کو خریدنا ہر کسی کےبس کی بات نہیں کیونکہ اس کی قیمت 430 ڈالر یا تقریبا 70 ہزار روپے ہے۔اس کے پری آرڈر جاپان کے آن لائن ریٹیلر ولیج وینگارڈ پر شروع ہیں۔ اس کی فراہمی کا آغاز اپریل سے وسط سے ہوگا۔ اس حیرت انگیز کارڈ ہولڈر کی ویڈیو آپ بھی دیکھیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

6 سالہ بچے نے سپیڈ ڈرمنگ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

ایک بھارتی ڈرمر نے صرف 6 سال کی عمر میں سپیڈ ڈرمنگ کا ریکارڈ توڑ کر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔ انہوں نے 3 منٹ میں 5500 بار ڈرم بجا کر سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ 6سالہ ڈیواگی ڈکشٹ کو بھارت کے کم عمر ترین ڈرمر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ انہیں نے 3 منٹ میں 5500 بار سٹک سے ڈرم بجا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ جب وہ چلنا سیکھ رہے تھے، تب سے ہی ڈرم بجا رہے ہیں۔انہوں نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ جب وہ دو سال کے تھے، تب اُن کے والد ایک ڈرم سیٹ لائے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنے والد سے پہلے ڈرم سٹک اٹھا لیتے اور بجانا شروع کر دیتے۔ ڈکشٹ کا کہنا ہے کہ وہ فائٹر جیٹ پائلٹ بننا چاہتے ہیں لیکن اس وقت تک وہ اپنی ڈرم بجانے کی صلاحیت کو بھی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

13 سالہ لڑکی نے ایک ساتھ تین باسکٹ بالز اچھالنے کا عالمی ریکارڈ بنا لیا

باسکٹ کی شوقین 13 سالہ لڑکی نے تین باسکٹ بالز کو ایک منٹ میں 231 بار اچھال کر اپنا پہلا گینیز ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔ زائیلا اوانٹ-گارڈے نیو اورلینز میں اپنے سکول کی باسکٹ بال ٹیم کی سٹار کھلاڑی ہیں۔ زائیلا نے بتایا کہ وہ 5 سال کی عمر سے باسکٹ بال اچھالنے کی مشق کر رہی ہیں۔ دو سال پہلے انہوں نے ایک ساتھ کئی باسکٹ بالز اچھالنے کی مشق شروع کی تاکہ اپنی 13 ویں سالگرہ پر عالمی ریکارڈ بنا سکیں۔

عالمی ریکارڈ کے لیے زائیلا نے 1 منٹ میں 231 بارتین باسکٹ بالز اچھالی۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ 213 بار کا تھا۔زائیلا کا کہنا ہے کہ ایک دن وہ ڈبلیو این بی اے میں جگہ بنا لیں گی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

سیاہ کاغذ پر سفید اور سرمئی پنسل سے حیرت انگیز نقش و نگار بنانے والا انوکھا فن کار

انگلش فنکار زولف کی پوٹریٹ دیکھنے میں بہت سادہ نظر آتی ہے ۔ یہ پورٹریٹ بعض اوقات چند لائنوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ زولف چند لائنوں سے ہی خاتون کا چہرہ بناتے ہیں اور لگتا ہے کہ پورٹریٹ مکمل ہو گئی ہے۔یہی چیز زولف کی پورٹریٹس کو خاص بناتی ہے۔ زولف اپنی پورٹریٹس میں بہت زیادہ تفصیل شامل نہیں کرتے۔
اس کے باوجود اُن کی پورٹریٹس مکمل ہوتی ہے

سیاہ کاغذ پر سفید یا سرمئی پنسل سے بنائی گئی پورٹریٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے کسی روشن چہرے کی پورٹریٹ بنائی ہے۔ زولف کی بنائی اور چند جادوئی پورٹریٹس آپ بھی دیکھیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

یہ نوجوان گتے سے حیرت انگیز لگژری کاریں اور موٹر سائیکلیں بنا سکتے ہیں

ویتنام کے چند نوجوانوں کو گتے سے حیرت انگیز لگژری کاریں اور موٹرسائیکلیں بنانے پر انٹرنیٹ پر کافی شہرت مل رہی ہے۔ یہ نوجوان گتے سے ایسی موٹرسائیکلیں اور کاریں بنا رہے ہیں، جنہیں سڑک پر چلایا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب کے چینل NHET TV کو چلانے والے نوجوان کباڑ دھاتوں، موٹرسائیکل یا گاڑیوں کےکچھ پارٹس اور گتوں سے سٹرکوں پر چلنے کے قابل موٹر سائیکل یا گاڑیاں بناتے ہیں۔

اس یوٹیوب چینل کے تین لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ناظرین ان گتے کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کو کافی پسند کر رہے ہیں۔یہ نوجوان گاڑی یا موٹر سائیکل بناتے ہوئے لگژری موٹرسائیکلوں یا سپورٹس کاروں کو کاپی کرتے ہیں۔ اس یوٹیوب چینل کی چند ویڈیو کے ویوز ہزاروں میں ہیں تو کچھ کے ویوز کئی ملین بھی ہیں۔اس چینل کے زیادہ تر سبسکرائبر ز کا تعلق ویتنام سے ہے لیکن ان ویڈیوز کو دیکھنے والے ساری دنیا میں ہیں۔ ان نوجوانوں کے گتے سے کاریں یا موٹرسائیکلیں بنانے کا طریقہ آپ بھی دیکھیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

سکول کے طلباء نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیپ بال بنا لی

فلوریڈا کے ایک ایلیمنٹری سکول کے طلباء نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیپ بال بنا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ انہوں نے جو ٹیپ بال بنائی ہے اس کا گھیر 17 فٹ اور 11 انچ ہے۔ لیک سٹی کے ایسٹ سائیڈ ایلمنٹری سکول نے اعلان کیا کہ انہوں نے طلباء سے ٹیپ کے 4000 رول جمع کیے اور ان سے 2268 پاؤنڈ وزنی ٹیپ بال بنائی ہے۔

ایک ویڈیو میں سکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ یہ ٹیپ بال گینیز ورلڈ ریکارڈ کی گائیڈ لائنز کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے۔ اس سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی ٹیپ بال کا ریکارڈ مئی 2011 میں لوئی ویل، کینٹکی میں بنایا گیا تھا، جس میں 2000 پاونڈ وزنی اور 12 فٹ 9 انچ گھیر کی ٹیپ بال بنائی گئی تھی۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

کار کی ٹکر سے نابینا شخص کو بینائی مل گئی

پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ و ہ 20 سال سے نابینا تھے لیکن گلی پار کرتے ہوئے ایک گاڑی کی ٹکر لگنے کے بعد اُن کی بینائی واپس آ گئی ہے۔ دو سال پہلے تک پولینڈ کے شہر گورژوو ویئلوپولسکی سے تعلق رکھنے والے جانوسز گوراج اپنی بائیں آنکھ سے بالکل نابیناتھے جبکہ دائیں آنکھ سے وہ صرف روشنی اور سائے کا ادراک کر سکتے تھے۔

اُن کی بینائی 20 سال پہلے شدید الرجی کےذیلی اثرات کی وجہ سے ختم ہوئی تھی لیکن 2018 میں ایک دن وہ گلی پار کر رہے تھے کہ ایک گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔ اُن کا سر کار کے بونٹ سے ٹکرایا۔ اس کے علاوہ اُن کےکولہے پر بھی شدید چوٹ لگی تھی، جس کے باعث اُن کی سرجری کرنا پڑی۔لیکن اس کے باوجود یہ حادثہ ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا۔ اس کے بعد اُن کی بینائی واپس آ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سرجری کے کچھ ہفتوں بعد وہ ہسپتال میں ہی تھے، ایک دن وہ جاگے تو انہیں معمول سے زیادہ روشنی اور سائے نظر آئے۔اس کے بعد انہیں چیزیں واضح دکھائی دینا شروع ہوگئیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو بھی بتایا لیکن کوئی بھی اس کی وضاحت نہ کر سکا۔ انڈیپنڈنٹ پبلک پروونشل ہوسپیٹل کے ترجمان اگنیسزکا وسمیوسکا کا کہنا ہے کہ اُن کی بینائی دو ہفتوںمیں بہتر ہوگئی، ہم اس کی وجہ نہیں جانتے ،ہو سکتا ہے کہ یہ کسی دوا کی وجہ سے ہوا ہو۔ جانوسز کی انوکھی کہانی 2018ء میں سامنے آئی تھی لیکن پچھلے ماہ اسے چند بڑی نیوز سائٹ نے رپورٹ کیا تو یہ کہانی ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ اُن کی بینائی واپس آنے کی اصل وجہ کیا ہے لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اینٹی کواگولنٹ کے دوسری ادویات کے ساتھ ملا کر دینے سے ہوا ہے، اس کا کار کے حادثے سے کوئی تعلق نہیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

فن کی جاپانی طالبہ نے صرف ربڑ بینڈز سے پہننے کے کپڑے بنا لیے

فن کی جاپانی طالبہ ری ساکاموٹو کے سٹائلش کپڑوں کو دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا کہ یہ بھورے دھاگے کی بجائے ربڑ بینڈ کو بن کر بنائے گئے ہیں۔ ری ساکاموٹو ٹوکیو کی ٹاما آرٹ یونیورسٹی میں گریجویشن کر رہی ہیں۔ اس سال انہوں نے اپنا تھیسس پیش کرنا تھا، جس کے لیے انہوں نے ربڑ بینڈ پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔

ربڑ بینڈ کو سینکڑوں طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن کسی نے بھی اس سے کپڑے بنانے کا نہیں سوچا ہوگا۔ ری ساکاموٹو نے چند ہزار ربڑ بینڈز کو بُن کر ان سے کپڑے، بولیرو جیکٹ اور کئی طرح کی چیزیں بنا لیں۔ ری ساکاموٹو نے بتایا کہ ربڑ بینڈ کا ذہن میں آتے ہی اس کے بہت سے استعمال ذہن میں آ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے بنائے لباس کی خوبصورتی بھی متاثر کن ہے۔ری ساکا موٹو کے بنائے ہوئے کپڑوں کی ٹوکیو میں نمائش بھی ہوئی تھی۔ نمائش دیکھنے والوں نے ان کپڑوں میں کافی دلچسپی لی ہے۔ ری کے بنائے چند لباس آپ بھی دیکھیں۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

جو اس بڑے مگرمچھ کی گردن سے ٹائر نکالے گا اسے نقد انعام ملے گا

انڈونیشیا میں حکام ایسے شخص کو نقد انعام دیں گے جو ایک بڑے مگرمچھ کی گردن میں پھنسا موٹرسائیکل کا ٹائر نکالے گا اور بچ جائے گا۔ حکام نے اس مقابلے کے فاتح کے لیے دی جانے والی انعامی رقم کی حتمی مالیت نہیں بتائی۔ جس مگرمچھ کے گردن سے ٹائر نکالنا ہے وہ 13 فٹ (4 میٹر) لمبا ہے اور وسطی سولاویسی کے دارالحکومت میں ہے۔

مگرمچھ کی گردن میں یہ ٹائر آج سے نہیں بلکہ 2016 سے ہے۔ مقامی حکام کئی سالوں اس ٹائر کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر مگرمچھ کی گردن سے ٹائر نہ نکالا گیا تو اپنی جسامت بڑھنے پر یہ مر بھی سکتا ہے۔ قامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے انعام کا اعلان شوقیہ افراد کے لیے نہیں بلکہ پیشہ ور شکاریوں کے لیے کیا ہے۔حکام نے عوام کو مگرمچھ کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

دنیا بھر میں مقبول خون سے بننے والے 7 پکوان

خون آشام یا ویمپائر ز کی دو خصوصیات ایسی ہیں جو کچھ عام لوگوں میں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک سورج کی روشنی سے بچنا اور دوسری خون سے بنے مشروب پینا یا کھانے کھانا ہے۔دنیا کے بہت سے علاقوں میں خون سے بنے پکوان نہ صرف پسند کیے جاتے ہیں بلکہ مزے لے کر کھائے بھی جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم آپ کو چند ایسے ہی پکوان یا مشروبات کے بارے میں بتا رہے ہیں جو خون سے بنتے ہیں۔

1۔ سانپ کے خون سے بنی شراب۔ ویتنام
ویتنام میں واقع ہنوئی کے شہر کے ریسٹورنٹس سانپ کے خون سے بنی شراب پیش کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ان ریسٹورنٹس میں صارفین سانپ کا گوشت کھانے کے علاوہ ان کے خون کی بنی شراب بھی پیتے ہیں۔ خون سے بنی یہ شراب چاول کی شراب میں سانپ کا خون ملانے سے بنائی جاتی ہے اور گرماگرم پیش کی جاتی ہے۔

2۔ بلڈ پلیٹر۔ فن لینڈ اور سوئیڈن
فن لینڈ اور سوئیڈن میں بلڈ پلیٹر(Blodplättar) ایک مقبول پکوان ہے۔ یہ اصل میں کیک ہوتا ہےجسے سور کے تازہ خون سے بنایا جاتا ہے۔ یہ کیک خون آٹے، پیاز اور چند دوسرے اجزا کے ساتھ بنایا جاتا ہے اور میٹھے فروٹ جیم یا شربت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

3۔ تھائی بوٹ نوڈلز۔ تھائی لینڈ
تھائی لینڈ میں مقبول تھائی بوٹ نوڈلز(Thai Boat Noodles) میں خون کو نوڈلز سوپ میں ملایا جاتا ہے، جو اس کا رنگ مزید گہرا کر دیتا ہے۔

اس پکوان کے لیے عام طور پر سور کا خون استعمال کیا جاتا ہے۔بعض دفعہ اس کے لیے بطخ یا بگلے کا خون بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

4۔ جادو سنام۔ بھارت
شیلانگ ،بھارت کے کھاسی قبیلے کے لوگوں میں جادو سنام (Jadoh Snam) ایک مقبول پکوان ہے۔ دیکھنے میں یہ بریانی کی طرح ہوتا ہے ۔ اس کی تیاری کے دوران اس میں سور یا مرغی کا خون ملایا جاتا ہے۔

بعض دفعہ ذائقے کے لیے اس میں سور کی چربی بھی ملائی جاتی ہے۔

5۔ سور کے خون کی آئس کریم۔ امریکا
امریکا میں سور کے خون کو آئس کریم میں انڈے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

6۔ بلیک ٹوفو۔ چین
چین میں ٹوفو کی تیاری میں سور، مرغی یا بطخ کا خون ملایا جاتا ہے ، جس سے اس کا رنگ گہرا سیاہ ہو جاتا ہے۔

7۔ مورسیلا۔ سپین
سپین میں مورسیلا ( سپینش بلڈ ساسیج) کو بھی خون سے بنایا جاتا ہے۔ سپین کے مختلف علاقوں میں اسے مختلف طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔کچھ جگہوں پر اسے پیاز اور کچھ جگہوں پر اسے چاولوں کے ساتھ بنایا جاتا ہے لیکن اس میں خون لازمی شامل ہوتا ہے۔یہ پکوان برٹش بلیک پڈنگ جیسا ہوتا ہے، جس میں بھی خون ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

ائیرپورٹ پر بوریت سے بچنے کا انوکھا طریقہ

ائیرپورٹس پر انتظار کرنا کافی بور کر دینے والا کام ہے۔ اسی بوریت کو ختم کرنے کے لیے ایک شخص نے انوکھا طریقہ اپنایا۔انہوں نے سوچا کہ اس بوریت کو گیم کھیل کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں مشکل یہ تھی کہ ان کے پاس پلے سٹیشن 4 تو تھا لیکن ٹی وی نہیں تھا۔ ٹی وی کی کمی کو پورا کرنے کے لیےانہوں فیصلہ کیا کہ وہ ائیرپورٹ پر لگے انفارمیشن مانیٹر کو استعمال کریں گے۔

اوریگون کے پورٹ لینڈ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود اس شخص نے 16 جنوری کو صبح کے تقریباً ساڑھے چار بجے ائیرپورٹ کے انفارمیشن مانیٹر کو اپنے پلے سٹیشن 4 سے جوڑا اور اپیکس لیجنڈز کھیلنے لگے۔ان کے گیم سیشن میں جلد ہی ائیر پورٹ کے نیوزپورٹل کی وجہ سے خلل پڑنے لگا۔ اسی وقت ایک ٹوئیٹر صارف نے ان کی گیم کھیلتے ہوئے کی تصویر بنائی اورسوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔ اس ٹوئٹ پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے حیرانی ظاہر کی کہ کس طرح گیم ائیر پورٹ کے سست وائی فائی کنکشن پر بالکل ٹھیک چل رہی ہے۔ اوریگون لائیو کے مطابق ائیر پورٹ کے سپروائزر جلد ہی اس شخص تک پہنچ گئے تھے۔ سپروائرز نے اس شخص سے گیم ختم کرنے کا کہا تو اس شخص نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی گیم ختم کر سکتے ہیں، جس کے جواب میں سپر وائررز نے انکار کردیا۔ ائیر پورٹ کے سپروائزر نے اسے ایک شائشتہ مکالمہ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ ائیر پورٹ پر کس چیز کی اجازت نہیں ہوتی، یہ واقعہ اس کے لیے اچھی یاد دہانی ہے۔