Categories
کھیل

مشہور سابق پاکستانی باؤلر سعید اجمل کے عروج و زوال کی حیرت انگیز کہانی ۔۔بی بی سی کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) سنہ 2010 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بظاہر ہر چیز پاکستان کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ 13ویں اوور میں جب ڈیوڈ ہسی آؤٹ ہوئے تو اُن کی جگہ کریز پر آنے والے اُن کے بڑے بھائی مائیکل ہسی تھے۔اُس وقت آسٹریلیا کا سکور پانچ وکٹوں کے

نقصان پر 105 رنز تھا، یعنی آسٹریلیا کو سیمی فائنل جیتنے کے لیے اب بھی 45گیندوں پر 87 رنز درکار تھے۔سینٹ لوشیا کے سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کوچ وقار یونس اور دیگر کھلاڑیوں نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب 17ویں اوور میں کیمرون وائٹ پانچ چھکوں کی مدد سے 43 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوگئے۔آسٹریلیا کو اس وقت بھی 21 گیندوں پر 53 رنز بنانے تھے لیکن کسے پتہ تھا کہ میدان میں ہوا دوسرے رُخ پر چلنے والی ہے۔مائیکل ہسی کے خطرناک ارادوں کی زد میں آنے والے پہلے بولر کپتان شاہد آفریدی تھے جن کے آخری اوور میں دو چھکے لگے۔ سعید اجمل کے تیسرے اوور میں اگرچہ سٹیو سمتھ کی وکٹ گری تھی لیکن مچل جانسن کے چوکے اور مائیکل ہسی کے چھکے نے آسٹریلوی امیدوں کو برقرار رکھا۔میچ کا 19واں اوور محمد عامر نے کیا جس میں بننے والے 16 رنز نے آسٹریلیا کو جیت سے 18 رنز کی دوری پر لا کھڑا کیا۔ آخری اوور کے لیے کپتان شاہد آفریدی کے پاس یہی ایک آپشن موجود تھا کہ وہ اپنے بہترین بولر سعید اجمل کو گیند دیں۔میڈیم پیسر عبدالرزاق کو گیند دینے کا خطرہ وہ اس لیے مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ ان کے شروع کے دو اوورز میں 22 رنز بن چکے تھے۔سعید اجمل کے آخری اوور کی پہلی گیند پر مچل جانسن نے ایک رن لے کر مائیکل ہسی کو مقابلے پر لا کھڑا کیا۔اوور کی دوسری گیند پر مائیکل ہسی نے ُپل شاٹ کھیل کر گیند کو شائقین کے سٹینڈز میں پہنچا دیا۔ اگلی گیند پر انھوں نے یہی سلوک روا رکھا اس مرتبہ گیند لانگ آن کے باہر جا گری۔ سعید اجمل نے چوتھی گیند

آف سٹمپ کے باہر کی جس پر مائیکل ہسی نے کٹ کیا، گیند بیک ورڈ پوائنٹ پر ہوا میں اچھلنے والے فیلڈر سلمان بٹ کے ہاتھ سے لگ کر باؤنڈری کی طرف چلی گئی اور یوں سکور برابر ہو گیا۔مائیکل ہسی نے اس میچ کو لانگ آن پر ایک اور چھکے کے ذریعے ِختم کر کے اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔آسٹریلوی کھلاڑی ڈگ آؤٹ سے میدان میں دوڑ پڑے۔ سعید اجمل مایوسی کے عالم میں بولنگ اینڈ پر بیٹھے تھے اور ساتھی کرکٹرز انھیں حوصلہ دینے میں مصروف تھے۔مائیکل ہسی نے پاکستان کو مسلسل تیسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے سے محروم کر دیا تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس شکست نے پاکستان کو عالمی اعزاز سے محروم کر دیا تھا جو اس نے ایک سال قبل لارڈز میں جیتا تھا۔سعید اجمل کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس میچ کے بعد غیر تو غیر اپنے بھی بدل گئے تھے۔سعید اجمل بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹورنامنٹ کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو مجھے لوگوں کے منفی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے اپنے محلے میں لوگ فقرے کستے تھے۔ میں گراؤنڈ میں اپنے خلاف نعرے سُنتا تھا۔ میرے اپنے گھر والے مجھ سے خفا تھے۔ بیگم کو تنقید بھرے فون سننے کو مل رہے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے والد نے کئی روز تک مجھ سے بات نہیں کی۔ انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ جو کچھ ہوا ہے اس کا جواب گراؤنڈ میں ہی دو گے تو تمہاری ساکھ بحال ہو گی ورنہ ساری زندگی یہ داغ لگا رہے گا۔‘سعید اجمل کہتے ہیں ’والد صاحب کی اسی بات نے مجھ میں نیا حوصلہ پیدا کر دیا اور میں نے پہلے سے زیادہ محنت کرنی شروع کر دی، یہ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ میں دنیا کا نمبر ایک بولر بھی بنا۔‘سعید اجمل کہتے ہیں ’لوگوں کو وہ ایک میچ تو یاد رہ گیا لیکن اس کے بعد میں نے کتنے میچ جتوائے یا مائیکل ہسی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کوئی یاد نہیں رکھتا۔ میں نے اس میچ کے بعد تین مرتبہ مائیکل ہسی کو آؤٹ کیا تھا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
کھیل

دنیائے کرکٹ کے 3 بڑے ناموں کی سوشل میڈیا پر آپس میں دلچسپ گفتگو

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیائے کرکٹ کے تین اہم ناموں شعیب اختر، شین واٹسن اور اے بی ڈویلیئرز کے درمیان اپنے کرکٹ کیرئیر کے حوالے سے دلچسپ گفتگو ہوئی۔ تینوں ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنے کیریئر کو یاد کیا گیا۔ شعیب اختر کی جانب سے 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بال پھینکنے والے میچ کو کرکٹ آسٹریلیا نے یاد کیا۔ سابق آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹر شین واٹسن نے کہا کہ اس گیند کے کھیلتے وقت میں 21 سال کا تھا، شعیب اختر بہت عمدہ اور انتہائی تیز ترین فاسٹ بولر تھے۔ سابق جنوبی افریقی کرکٹر اور مسٹر 360 کے نام سے مشہور اے بی ڈویلیئرز نے کہا کہ مجھے اب بھی شعیب اختر کی تیز رفتار بولنگ کا سوچ کر ڈر لگتا ہے۔ قومی ٹیم کے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے کہا کہ اے بی ڈویلیئرز بولرز کی نیندیں اڑا دیا کرتے تھے۔ سابق پروٹیز کپتان نے کہا کہ کیرئیر کی شروعات میں ہی شعیب اختر نے تیز رفتار بولنگ سے میری ٹانگ زخمی کر دی تھی۔ اے بی ڈویلیئرز نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر کو چھکا مار کر احساس ہوا تھا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کر دی۔ شین واٹسن نے کہا کہ شعیب اختر کی تیز رفتار بولنگ میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔

Categories
کھیل

عبدالرزاق کے نئے ہیئر اسٹائل کے سوشل میڈیا پر چرچے!! مداح حیران و پریشان،، شاہد آفریدی بھی بول پڑے

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کے ہیئر اسٹائل نے ان دنوں سب کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے۔42 سالہ سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے ٹین ایجرز کی طرح ایسی کٹنگ کرائی ہے کہ ہر کسی کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں جس تقریب میں بھی جائیں وہاں انہیں کٹنگ کے حوالے سے تعریف ہی سننے کو ملتی ہے۔ عبدالرزاق لاہور میں ایک تقریب میں شریک ہوئے جہاں سابق کپتان انضمام الحق، وقار یونس، شاہد آفریدی اور مشتاق احمد بھی شریک تھے۔ سابق کپتان شاہد آفریدی زیادہ متاثر ہوئے جنہوں نے عبدالرزاق کی کٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ینگ لگ رہے ہو، کٹنگ کرائی کہاں سے ہے۔ سابق کپتان انضمام الحق بھی عبدالرزاق کی کٹنگ کو غور سے دیکھتے رہے جب کہ سابق کپتان وقار یونس بھی ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ ہمیشہ ایک ہی اسٹائل رہا ہے اب تھوڑی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔

Categories
کھیل

سچن ٹنڈولکر شعیب اختر کی فاسٹ باؤلنگ سے اتنے ڈرتے تھے کہ ۔۔۔۔۔ محمد آصف نے دلچسپ واقعہ بیان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ شعیب اختر کی باؤنسرز کا سامنا کرتے ہوئے سچن ٹنڈولکر کی آنکھیں بند ہوا کرتی تھیں۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد آصف نے 2006ء میں کھیلے جانے والے کراچی ٹیسٹ کا ذکر کرتے ہوئے

کہا کہ سچن ٹنڈولکر نے شعیب اختر کی پے درپے باؤنسرز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔

Categories
کھیل

شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے پر مباکباد کیوں دی؟ شاہد آفریدی نے ناقابلِ یقین بات کہہ دی

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق کپتان شاہد آفریدی نے میگا سٹارز لیگ کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس اوورز پر مشتمل ہوگی ۔اس لیگ کے پیچھے ایک بڑا مقصد ہے۔لیگ میں جو بھی مالی سپورٹ ملے گی اس سے کھلاڑیوں کو سپورٹ کروں گا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ میگا سٹارز لیگ کے ذریعے ہمارے سپورٹس جرنلسٹ کو

بھی سپورٹ کریں گے ۔ امید ہے تمام لوگ مل کر اس لیگ کو کامیاب بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی ایک الگ باڈی ہونی چاہیے۔ پی سی بی کو اسلام آباد تک نہ لیکر جایا جائے۔ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ ہو یا ایسوسی ایشن کرکٹ کھلاڑیوں کا فائدہ ہونا چاہیے۔ہم چاہتے ہیں کہ کرکٹرز کی فلاح ہو۔ چاہیں گیں کہ پی سی بی تین چار میچز کے لئے سینٹرل کنٹریکٹیڈ کھلاڑیوں کو ایم ایس ایل کھیلنے کی اجازت دے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اب پی ایس ایل نہیں ایم ایس ایل کھیلوں گا۔اس لیگ میں ہم جیسے ریٹائرڈ کھلاڑی اچھا کھیل سکتے ہیں۔شہباز شریف کو ٹوئٹ میں مبارکباد دی لیکن اس میں عمران خان کے خلاف احتجاج بھی تھا اس پر پھر بات ہوگی۔

Categories
کھیل

کیا آپ تصویر میں موجود ورلڈ کلاس کرکٹر کو پہچان سکتے ہیں؟

لاہور: (ویب ڈیسک) اداکارائیں، کرکٹرز اور معروف شخصیات اکثر و بیشتر اپنے بچپن کی یادیں سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ شیئر کرتی ہیں جنہیں مداح بھی خوب پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح آج بھی آپ کو ایک معروف کرکٹر کے بچپن کی تصویر دکھائی جا رہی ہے، کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ کس کی تصویر ہے؟بائیں جانب بیٹھا بچہ کوئی اور نہیں بلکہ دورِ حاضر کا مقبول ترین بیٹراور قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان بابر اعظم ہے، یہ تصویر بابر اعظم کے والد نے شیئر کی ہے جس میں نمبر ون کرکٹر کو معصومیت بھرے انداز میں کرکٹ کِٹ زیب تن کیے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ تصویر قومی کپتان کی نوعمری کی تصویر ہے۔بابر اعظم کے والد نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہر ماں باپ کا بچہ اُن کی نظر میں بس اتنا ہی بڑا ہوتا ہے، بے شک وہ 50 سال کا ہی کیوں نہ ہو ۔‘

Categories
کھیل

بابر اعظم کہاں پہنچ گئے؟؟ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر نے سب کو دنگ کر دیا

ریاض: (ویب ڈیسک) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور فخر زمان ان دنوں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ بابر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹرپر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ مدینہ منورہ میں موجود ہیں اور مسجد نبوی بھی نظر آرہی ہے۔ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم نے روایتی عربی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کیپشن میں ایک شعر لکھا ہے’جو ہوتا ہمسفر غالب، تو میں اس کو یہ بتلاتا، کہ دیکھا اس جگہ آکر، تمنا کا قدم ٹھہرا‘۔ فخر زمان نے بھی ٹوئیٹر پر اپنی مسجد نبوی میں تصویر شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’پھر کرم ہوگیا، میں مدینے چلا‘۔سوشل میڈیا پر وائرل دیگر تصاویر میں بابر اعظم اور فخر زمان کے ہمراہ پاکستان کے معروف پرینکسٹر نادر علی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اسی ماہ رمضان میں نائب کپتان شاداب خان اور خاتون کرکٹرفاطمہ ثناء نے بھی عمرے کی سعادت حاصل کی تھی۔

Categories
کھیل

محمد آصف کی ویرات کوہلی سے متعلق کونسی پیشگوئی سچ ثابت ہوگئی؟

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق بھارتی کپتان ویرات کوہلی دو سال سے زیادہ عرصے سے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں اور اب انہوں نے بھارت کے لیے ایک سنچری بنائے بغیر سو میچ کھیلے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق تیز گیند باز محمد آصف نے 2021 میں کوہلی کی واپسی کی پیشنگوئی کی تھی۔

کوہلی 2012 سے عالمی کرکٹ پر راج کر رہے ہیں اور رنز کے انبار لگا چکے ہیں، اپنے کیریئر میں بہت جلد اپنے آپ کو جدید دور کے عظیم کے طور پر قائم کیا، کوہلی کا موازنہ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر سے کیا جاتا ہے تاہم آصف کا خیال ہے کہ کوہلی ٹنڈولکر سے بہت پیچھے ہیں۔ محمد آصف نے 2021 میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کوہلی نیچے ہاتھ کا کھلاڑی ہے وہ اپنی فٹنس کی وجہ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ اسے سپورٹ کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس لمحے اسے زوال کا سامنا کرنا پڑے گا، مجھے نہیں لگتا کہ کوہلی واپسی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کوہلی ٹنڈولکر سے بہتر ہے لیکن میں نہیں کہتا ویرات سچن کے قریب بھی نہیں آتے۔ محمد آصف نے مزید کہا کہ سچن نے جس طرح سے کھیلا وہ سب سے اوپر تھا اور بہت کم لوگ اس تکنیک کے بارے میں جانتے ہیں، چاہے وہ کوچز ہوں یا کوئی ایک کھلاڑی سچن اپنی کور ڈرائیوز، ڈرائیو پلس اور کٹس کے ساتھ بہت روانی سے کام لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوہلی کے اسٹروک بھی ہیں۔واضح رہے کہ ویرات کوہلی نے 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاہم بعد میں ان سے ون ڈے اور ٹیسٹ کپتانی بھی چھین لی گئی۔ ویرات کوہلی نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سیزن میں 7 اننگز میں 19.83 کی اوسط سے صرف 119 رنز بنائے۔

Categories
کھیل

شعیب اختر کی سچن کو سالگرہ کی مبارکباد پر شان کیوں خفا ہوگئے؟

لاہور(ویب ڈیسک) عمران خان کے حمایتی اداکار شان شاہد قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر سے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ شعیب اختر نے گزشتہ روز سابق بھارتی لیجنڈری کرکٹر سچن ٹنڈولکر کو ٹوئٹر پر سالگرہ کی مبارکباد دی اور ان کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں سچن ٹنڈولکر کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ آپ کا دن بہت اچھا گزرے گا۔ اس ٹوئٹ پر شان شاہد نے ردعمل دیا اور شکوہ کیا کہ واہ بھائی! ان کی سالگرہ تو آپ کو یاد ہے لیکن گزشتہ برس 5 اکتوبر کو عمران خان کی سالگرہ، آپ کو یاد نہیں رہی۔ اداکار نے کہا کہ عمران خان کی سالگرہ پر، آپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کے لیے کوئی پیغام سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم شان شاہد کی اس تنقید پر تاحال شعیب اختر کا کوئی ردّعمل سامنے نہیں آیا۔شان شاہد کی ٹوئٹ پر معروف کامیڈین و میزبان مصطفیٰ چوہدری نے جواب دیا اور لکھا کہ ‘بھائی،کیا یہ آئی سی سی کی کتاب میں لکھا ہے کہ خان صاحب کی سالگرہ پر مبارکباد دینا لازمی ہے؟’ جواب میں اداکار نے کہا ‘بھائی سچن کو دے رہے تھے، تو سوچا شاید خان صاحب بھی یاد ہوں، آپ بولر تو نہیں لیکن فیلڈنگ اچھی کررہے ہیں’۔

Categories
کھیل

معروف سابق لیفٹ آرم اسپنر انتقال کرگئے

ڈھاکا: (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کے سابق اسپنر 40 سالہ سابق اسپنر مشرف حسین دماغ کے سرطان کے باعث انتقال کر گئے۔ سابق اسپنر باؤلر مشرف حسین دماغ کے سرطان میں مبتلا تھے اور ڈھاکہ کے یونائیٹڈ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔مشرف حسین کو مارچ 2019 میں دماغ میں رسولی کی تشخیص ہوئی۔

ابتدائی علاج کے بعد مشرف کی طبیعت میں کچھ بحالی نظر آئی ، لیکن نومبر 2020ء میں یہ رسولی پھر سے بڑھنا شروع ہو گئی اور بالآخر مرض سے جنگ لڑتے وہ جان کی بازی ہار گئے ۔مشرف حسین نے بنگلہ دیش کی جانب سے 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں حصہ لیا اور 4 وکٹیں حاصل کیں ، لیکن انہوں نے اپنے 17 سالہ فرسٹ کلاس کیرئیر کے دوران 3 ہزار رنز بنائے اور 300 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔مشرف حسین بنگلہ دیش کے ان 7 کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔انٹرنیشنل کیریئر میں مشرف حسین کا پہلا مقابلہ 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف چٹا گرام میں کھیلا گیا ون ڈے مقابلہ تھا۔مشرف حسین کے کیریئر کی سب سے نمایاں جھلک 2013ء کے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فائنل میں ان کا مین آف دی میچ بننا تھا۔ جس میں انہوں نے ڈھاکا گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے میچ میں 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ڈومیسٹک سرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہیں 2016ء میں ایک مرتبہ پھر ٹیم میں طلب کیا گیا، جب انہوں نے افغانستان اور انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ایک، ایک میچ کھیلا ۔انگلینڈ کے خلاف اکتوبر 2016ء میں میرپور میں ہونے والا ون ڈے ان کے کیریئر کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا۔انہوں نے 112 فرسٹ ڈویژن میچوں میں 392 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ مشرف حسین نے ’لسٹ اے‘ میں بھی 104 میچ کھیلے اور 120 وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش کے سابق اسپنر نے اپنے طویل فرسٹ کلاس کیریئر میں نیشنل کرکٹ لیگ اور ڈھاکا پریمیئر لیگ کے ایک نمایاں کھلاڑی تھے۔

Categories
کھیل

روانگی سے قبل رضوان کھلاڑیوں کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام الحق کا محمد رضوان سے متعلق بڑا انکشاف

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی کرکٹر محمد رضوان کے حوالے سے ساتھی کرکٹر امام الحق نے دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران امام الحق نے انکشاف کیا کہ محمد رضوان غیر ملکی دوروں پر نماز کی پابندی کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ امام نے بتایا کہ جب ٹیم کسی دوسرے ملک میچ کھیلنے کیلئے جاتی ہے تو روانگی سے قبل رضوان کھلاڑیوں کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بناتے ہیں جس میں وہ باقاعدگی سے نمازوں کے اوقات کار کے حوالے سے بتاتے رہتے ہیں۔ امام الحق نے یہ بھی کہا کہ وہ ناصرف واٹس ایپ کے ذریعے تبلیغ کا کام کرتے ہیں بلکہ ہمیں نماز بھی پڑھاتے ہیں۔ خیال رہے کہ محمد رضوان نے گزشتہ برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں بھی دیا تھا۔

Categories
کھیل

ٹینس اسٹار ماریہ شواپووا نے شادی سے پہلے ہی حاملہ ہونے کا اعلان کردیا

ماسکو: (ویب ڈیسک) روس کی مایہ ناز ٹینس اسٹار مایہ شراپووا کے شادی سے قبل ہی حاملہ ہونے کا اعلان کردیا۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سابق عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار ماریہ شراپووا نے بدھ کو اپنی سالگرہ کے موقع پر اعلان کیا کہ ان کے ہاں بچے کی ولادت متوقع ہے۔ روسی اسٹار پلئیر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤٹ انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک قیمتی شروعات ہے۔ شرا پوا نے بچے کی متوقع ولادت کی خبر اپنے مداحوں سے شیئر کی تو ان کے چاہنے والوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات کے ڈھیر لگ گئے۔ جس روسی ٹینس اسٹار نے فالورز کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ اتنے خوبصورت پیغامات سے میں اپنے آپ کو جنت میں محسوس کررہی ہوں۔ واضح رہے کہ پانچ مرتبہ گرینڈ سلیم ٹورنامنت جیتنے والی روسی کھلاڑی کی دسمبر 2020 میں برطانوی بزنس مین الیگزینڈر گلکس کے ساتھ منگنی ہوئی تھی.

Categories
کھیل

وہ شخص جسکے مشورے پر وسیم نے پڑھائی چھوڑ کر کرکٹ کھیلنا شروع کردی ۔۔۔ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کے لڑکپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور لکھاری شاہد نذیر چوہدری اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کالا دودھ والے اور ملک چائے والے نے پکا تہیہ کر لیا تھا کہ اس لڑکے کا آج بندوبست کرکے رہیں گے۔وہ اس کی حرکتوں سے بے حد عاجز آچکے تھے مگر وہ لڑکا جانے کس مٹی سے بنا ہوا تھا۔

مغلطات اور پھٹکاریں سننے کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا تھا بلکہ اس کی خودسری پہلے سے بھی بڑھ رہی تھی۔دونوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ آج وہ اس کی نانی کے پاس شکایت لے کر جائیں گے اور اسے اپنے ٹوٹے ہوئے برتنوں اور دودھ کے ضیاع کا بل بھی پیش کریں گے۔دونوں ہری شاہ روڈ کے ایک خستہ اور پرانی طرز کے مکان پر پہنچے اور دستک دی ۔ایک نحیف و نزار اور مہربان سی بزرگ خاتون نے دروازہ کھولا۔ وہ اپنے محلے کے دکانداروں سے بخوبی واقف تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی خاتون نے مشفقانہ انداز میں خیریت پوچھی تو وہ پھٹ پڑے۔’’ماسی جی!آج ہم اپنا اڈہ چھوڑکر آپ کو صرف یہ بتانے آئے ہیں کہ آپ کے نواسے نے ہماری گاہکی خراب کر دی ہے۔ دکانوں کا ستیاناس مار دیا ہے۔اسے اگر کرکٹ کھیلنی ہے تو یونیورسٹی گراؤنڈ میں جاکر کھیلے۔بھلا محلے کی گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے کی کیا تُک ہے۔اس کی گیندیں چائے کے برتن توڑ دیتی ہیں یا پھر دودھ کے کڑاھے میں گر کر دودھ خراب کر دیتی ہیں ۔۔۔اور تو اور بعض اوقات دکان پربیٹھے گاہک بھی گیند لگنے سے زخمی ہو جاتے ہیں۔ہم کئی بار اسے سمجھا چکے ہیں مگر وہ باز ہی نہیں آتا‘‘۔وہ اپنے نواسے کے کرتوت سن کر شرمندہ ہو گئیں اور عاجزی کے ساتھ بولیں۔’’آج وہ ایک بار گھر آئے تو میں اسے پوچھوں گی۔ آئندہ آپ کو شکایت نہیں ہو گی۔ویسے آپ کا جو نقصان ہوا ،مجھے اس کا بل دے دیں، میں آپ کو رقم دے دیتی ہوں۔

‘‘’’ماسی جی!اب کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ ہم اپنے نقصان کے پیسے آپ سے وصول کریں۔بس آپ اسے سمجھا دیں‘‘۔ملک اور کالے دودھ والے نے یکدم محلے داری کا لحاظ کرتے ہوئے جواب دیا اور واپس چلے آئے۔یہ77-76ء کا زمانہ تھا۔ لاہور میں سیاسی شورش برپا تھی مگر اندرون لاہور کی گلیوں میں سیاسی جھگڑوں سے بے پروا بچے اور جوان اپنے اپنے کھیلوں میں مگن ہوتے تھے۔ ان دنوں کرکٹ کو دنیا بھر میں گلیمرائزڈ کھیل کی حیثیت حاصل ہو رہی تھی۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم ظہیر عباس، عمران خان، میاں داد جیسے نامور کرکٹروں کی وجہ سے بڑے شہروں میں ہاکی اور فٹ بال کا طلسم ٹوٹ رہا تھا اور کرکٹ گلی گلی، محلے محلے میں اپنے پاؤں پھیلا رہی تھی۔ کم سن بچوں اور نوخیز لڑکوں کو تو کرکٹ فوبیا ہو گیا تھا۔ کرکٹ کا یہ شوق اس دور کے والدین کو گوارانہ تھا۔ مگر کرکٹ کے شیدائی گھر والوں کی مار پیٹ سے بے پروا ہو کر اس نئے کھیل میں مست رہتے تھے۔ مزنگ اڈے کی ہری شاہ روڈ گندم منڈی اور بیگم روڈ کی تنگ و تاریک اور تعفن زدہ گلیوں میں بھی نابالغ لڑکوں نے کرکٹ کو رواج دے رکھا تھا جو سہرپہر سے پہلے ہی اپنے اپنے مورچوں پر براجمان ہو جاتے۔ ان کے پاس کھیلنے کے لئے بہترین کرکٹ بیٹ تھے نہ چمڑے کی گیندیں ۔انہیں جیسے بھی بلے اور گیندیں میسر ہوتے وہ انہی سے گزارا کرلیتے۔وسیم کی عمر ان دنوں دس برس تھی۔ وہ ایک دبلا پتلا اور دراز قد و قامت کا لڑکا تھا مگراس کی باؤلنگ کے انداز اور حیران کن حد تک تیز بال نے اسے علاقے کے نوجوانوں میں مقبول بنا دیا

تھا۔ہر ایک ٹیم کی کوشش ہوتی کہ وسیم ان کی طرف سے کھیلے،وہ اپنی پذیرائی اور مقبولیت سے بے پروا ہو کر کھیلتا تھا۔ مگر اس کے جارحانہ کھیل کی وجہ سے محلے والوں کو شکایات لاحق ہو رہی تھیں۔اس روز وسیم جب گھر پہنچا تو نانی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کے خوب کان مروڑے۔’’کیا میں نے تجھے اس لئے یہاں رکھا ہوا ہے کہ تو مجھے محلے والوں سے ذلیل کراتا پھرے۔؟تجھے پہلے بھی کئی بار کہہ چکی ہوں کہ یہ موئی کرکٹ چھوڑ دے اور پڑھائی پر توجہ دے۔مگر تو باز ہی نہیں آتا۔ مجھے بتا تو چاہتا کیا ہے‘‘؟وسیم کے پاس اپنے بچاؤ کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ آج محلے کے دکانداروں نے نانی سے اس کی شکایت کی ہے۔ اس نے اپنے بچاؤ کے لئے حسب عادت نانی کے گلے میں بازو ڈال دئیے اور لہک کر بولا:’’نانی اماں!آئندہ شکایت نہیں ہو گی‘‘۔’’دیکھو وسیم!تیری ماں بڑی سخت ہے۔ اسے جب معلوم ہو گیا کہ تو پڑھائی کے بجائے صرف کرکٹ کا ہو گیا ہے تو تیرا کیا ہو گا ۔ میرے لاڈلے!میں یہ نہیں کہتی کہ تو کرکٹ نہ کھیل مگرترے لئے پڑھائی بھی ضروری ہے۔تیرے باپ نے تجھے بڑا افسر بنانے کے لئے ہی اتنے اچھے اسکول میں داخل کرایا ہے اور اس وجہ سے تو یہاں میرے پاس رہ رہا ہے‘‘۔نانی اماں نے وسیم کو راہ راست پر لانے کے لئے بہت سمجھایا مگر وسیم نے تمام نصیحتیں ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے باہر نکال دیں۔وہ حسب معمول اپنے ہی انداز میں انہی گلیوں میں کرکٹ کھیلتا رہا۔

وسیم کے ماں باپ ماڈل ٹاؤن (لاہور)میں مقیم تھے۔ اس کے دو بڑے بھائی ندیم اور نعیم اور چھوٹی بہن صوفیہ ماں باپ کے پاس ہی رہتے تھے۔ وسیم کے والدین بڑے دو بیٹوں کے بعد توقع رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بیٹی عطا کرے گا مگر خدا نے انہیں نصیبوں والا بیٹا عطا کر دیا اور اس کے بعد بیٹی سے نوازا۔ وسیم کے والد نے بہترین تعلیم کے لئے اسے کیتھڈرل چرچ اسکول لاہور میں داخل کرادیا تھا جو ماڈل ٹاؤن سے بہت دور تھا۔ لہٰذا اسے نانی اماں کے ہاں منتقل ہونا پڑا کیونکہ یہ اسکول ان کے گھر سے فقط پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر تھا۔مزنگ منتقل ہونے سے پہلے وسیم ماڈل ٹاؤن میں ٹیبل ٹینس کھیلنے کا شوقین تھا۔اسے پتنگ بازی اور کبوتر بازی کی بھی لت تھی۔ لہٰذا جب اسے نانی کے پاس بھیجا گیا تو اس کی والدہ نے خاص طور پر اپنی ماں سے کہا:’’اماں !وسیم کھیلوں کا بڑا شوقین ہے۔آپ اس کی نگرانی کرنا۔ایسا نہ ہو سارا دن گلیوں میں آوارہ گردی کرتا پھرے‘‘۔مگر نانی اماں وعدے کے باوجود اپنے نواسے کو گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر تک محدود نہ کر سکیں۔وہ پڑھائی کم اور کھیل زیادہ کھیلتا تھا۔ جلد ہی وہ اسکول میں کرکٹ اور ٹیبل ٹینس دونوں کا کپتان بن گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وسیم اکرم بے استاد ہونے کے باوجود بہت اچھا کھلاڑی ثابت ہو رہا تھا۔ اسے اس کی انگریزی کے استاد نے نصیحت کی کہ وہ صرف ایک کھیل پر توجہ دے جو صرف کرکٹ ہونا چاہئے۔کیونکہ وہ بہترین آل راؤنڈر بن سکتا ہے۔وسیم پر اس استاد کی نصیحت نے اثر کیا اور اس نے اپنی تمام توجہ کرکٹ پر مرکوز کر دی۔

Categories
کھیل

رمیز راجہ ڈٹ گئے!!! کس اعلیٰ شخصیت نے چیئرمین پی سی بی کو عہدہ چھوڑنے سے منع کر دیا ؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

کراچی: (ویب ڈیسک) احسن انداز میں فرائض نبھانے والے چیئرمین پی سی بی ڈٹ گئے۔ امپائر کی جانب سے بھی انھیں آؤٹ قرار دینے سے گریز کیا جا رہا ہے، گوکہ بعض حلقوں کی خواہش ہے کہ رمیز راجہ ازخود عہدہ چھوڑ دیں مگر انھوں نے ایک اعلیٰ شخصیت کے کہنے پر ایسا قدم نہیں اٹھایا، ادھر مسائل میں گھری نئی حکومت کی ترجیحات میں کرکٹ دور دور تک شامل نہیں، سربراہ کی تبدیلی سے نیا پینڈورا باکس کھولنے سے اجتناب برتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے بھی تاحال پی سی بی کو کوئی ہدایت نہیں ملی،اگر ایسا ہو بھی گیا تو عمل درآمد میں وقت لگے گا اور رواں برس واپسی کا امکان خاصا کم ہے۔ البتہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم اس تاثر سے متفق نہیں، ان کے مطابق حکومت کوئی اعلان تو کرے ٹیموں کی تشکیل تو چند روز میں ہو جائے گی، ابتدائی طور پر فارغ کرکٹرز کو گریڈ ٹو ٹورنامنٹ میں کھلایا جا سکتا ہے۔ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو فوری طور پر بحال کرکے ایک تھنک ٹینک بنایا جائے جو اس حوالے سے تجاویز دے۔تفصیلات کے مطابق حکومت میں تبدیلی کے بعد پی سی بی کے سربراہ کو بھی بدلنے کی اطلاعات زیرگردش تھیں تاہم تاحال خاموشی چھائی ہوئی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف کو عہدہ سنبھالتے ہی کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ایسے میں کرکٹ دور دور تک ان کی ترجیحات کی فہرست میں شامل نہیں، گوکہ وزیراعظم کی بعض قریبی شخصیات چیئرمین کی کرسی پانا چاہتی ہیں مگر بورڈ کے سرپرست اعلیٰ نے تاحال اس معاملے میں دخل اندازی نہیں کی، رمیز راجہ کی برطرفی نیا پینڈورا باکس کھول سکتی ہے کیونکہ وہ بااحسن انداز میں فرائض نبھا رہے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے اس معاملے کو فی الحال التوا میں رکھا ہوا ہے، بعض افراد کا خیال تھا کہ رمیز راجہ خود مستعفی ہو جائیں گے مگر انھوں نے ایک اہم شخصیت کے کہنے پر تاحال اس فیصلے سے گریز کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام تبدیل کر دیا تھا، ڈپارٹمنٹس کی بندش سے ہزاروں کرکٹرز وہ دیگر افراد بے روزگار ہوئے، حکومت میں تبدیلی کے بعد اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سابقہ نظام کو بحال کیا جا رہا ہے۔ البتہ تاحال کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کی اس حوالے سے کرکٹ حکام کے ساتھ بات نہیں ہوئی ہے،نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے جب پی سی بی کے ایک ٹاپ آفیشل سے استفسار کیا کہ کیا ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹس کا سسٹم واپس آ رہا ہے تو انھوں نے ناں میں جواب دیا،ان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک سسٹم میں تبدیلی چٹکی بجاتے نہیں آ سکتی۔ اس کے لیے آئین تبدیل کرنا پڑے گا، اگر حکومت کے کہنے پر ڈپارٹمنٹس دوبارہ ٹیمیں بنانے پر آمادہ بھی ہو گئے تب بھی کھلاڑیوں کی تقرری و دیگر معاملات پر راتوں رات کام نہیں ہو سکتا، کم از کم رواں برس تو ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی واپسی کا امکان بہت کم ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ رمیز راجہ بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے مخالف نہیں ہیں،اگر وہ عہدے پر برقرار رہے اور حکومت نے نظام میں تبدیلی کا کہا تو وہ بھی مخالفت نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے رابطے پر سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے کہا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو فوری طور پر بحال کرنا چاہیے۔ ایک تھنک ٹینک بنایا جائے جو اس حوالے سے تجاویز دے، جو کرکٹرز پی سی بی سے معاہدے نہیں پا سکے آغاز میں انھیں گریڈ ٹو ٹورنامنٹ میں موقع دیا جا سکتا ہے،اس دوران نیا سسٹم بنا کر اگے سال سے اطلاق کر سکتے ہیں،ڈپارٹمٹنس اور ریجنز کا ایک ساتھ کوئی ٹورنامنٹ بھی ممکن ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ڈپارٹمنٹس کیلیے دوبارہ ٹیموں کی تشکیل کوئی مشکل کام نہ ہو گا، بیشتر کے پاس اسٹرکچر موجود ہے، نیشنل بینک اور یو بی ایل کے اسپورٹس کمپلیکس ہیں، واپڈا وغیرہ بھی آ سکتے ہیں۔ بس ان سب کو ری آرگنائز کرنا ہوگا تاکہ کھلاڑیوں کو کوئی روزگار تو ملے، ابھی تو کامران اکمل اور اسد شفیق جیسے کرکٹرز ادھر ادھر گھوم رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے کافی کرکٹرز سے معاہدے کیے ہوئے ہیں، جو فارغ ہیں انھیں گریڈ ٹو کھلا کر پھر نیا سسٹم بنانا چاہیے۔

Categories
کھیل

باعمل مسلمان کھلاڑی!!!! دنیا کے وہ کھلاڑی جنہوں نے کھیل کے دوران روزہ افطار کیا

لاہور: (ویب ڈیسک) رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں، دنیا کے ہر کونے میں باعمل مسلمان رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں روزے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ موسم کتنا ہی سخت کیوں ہو ، فرض کی انجام دہی کتنی بھی مشکل کیوں نہ ہو لیکن باعمل مسلمان تمام تر مشکلات کے باوجود کسی جائز مجبوری کے بغیر روزے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

حالیہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں کئی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ مسلمان کھلاڑیوں نے ناصرف روزے کی حالت میں بھرپور کھیل پیش کیا بلکہ افطار بھی کیا۔ آیئے ایسے ہی چند نامور کھلاڑیوں کے بارے جانتے ہیں جو کھیل کو روزے کی راہ کی رکاوٹ نہیں سمجھتے۔ موسیٰ نیاختے: فٹبال دنیا کا سب سے پسندیدہ اور مقبول کھیل سمجھا جاتا ہے، کئی مسلمان کھلاڑی عالمی سطح پر اپنا نام پیدا کرچکے ہیں، مصر کے موسی نیاختے بھی ایسے فٹبالر میں شاملہ ہیں جن کی خدمات لاکھوں ڈالر کے عوض دنیا کے مقبول کلب حاصل کرتے ہیں۔ چند روز قبل جرمن فٹبال لیگ (بنڈس لیگا) کے ایک میچ کے دوران موسیٰ نیاختے اپنے کھیل کا جادو جگارہے تھے، اسی دوران افطار کا وقت ہوگیا ۔ میچ ریفری نے عین افطار کے وقت مخٹصر دورانیے کے لیے کھیل روکا اور اسی دوران موسیٰ نے اپنا افطار کیا۔ کیری ایرونگ: امریکی باسکٹ بال کھلاڑی کیری ایرونگ کا شمار دنیا کے ان خوش قسمت انسانوں میں ہوتا ہے جو پیدا تو دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے جوڑے کے ہاں ہوئے لیکن وہ خود اسلام کی حقانیت کو سمجھ کر ناصرف مسلمان ہوئے بلکہ اپنے ہر عمل کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالا۔ کیری ایرنگ امریکا کی قومی باسکٹ بال ٹیم کا حصہ ہیں، چند روز قبل ان کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی جس میں وہ کھیل کے دوران کچھ دیر کے لیے بیٹھ گئے اور پھر روزہ افطار کرنے لگے۔ پال پوگبا: فرانسیسی کھلاڑی پال پوگبا کا شمار فٹبال کے مہنگے ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ دولت کی ریل پیل کے باوجود پال پوگبا ایک باعمل مسلمان ہیں۔ گزشتہ برس ایک میچ کے دوران افطار کے لئے پال پوگبا نے کنارے پر چلے گئے۔ امپائر نے بھی ان کے افطار کے لیے 30 سیکنڈ تک کھیل کو روک دیا تھا۔ پال پوگبا کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے بلاناغہ رمضان المبارک کے روزی رکھتے ہیں اور انہیں کبھی بھی اس کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ پال پوگبا نے گزشتہ برس ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے سامنے رکھی بیئر کی بوتل بھی ہٹادی تھی۔ محمد رضوان: پاکستان کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت وکٹ کیپر بیٹر کا شمار صوم و صلوۃ کا پابند کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ دوران میچ کئی مرتبہ وقفے میں وہ نماز کی ادائیگی کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے ایک میچ کے دوران روزے کی حالت میں بہترین بلے بازی کے جوہر دکھائے تھے۔پوری ٹیم کا ہی افطار: گزشتہ برس انقرہ میں ترک فٹبال ٹیم نے روزے کی حالت میں میچ کھیلا اور میچ کے دوران جیسے یہ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں کھلاڑیوں نے کھیل کا وقفہ کر لیا اور میدان میں ہی روزہ افطار کیا۔ افطار کے بعد دونوں ٹیم نے کھیل دوبارہ شروع کیا۔

Categories
انٹرنیشنل کھیل

عالمی شہرت یافتہ باکسر”عامر خان” بھی ڈاکؤں کے ہتھے چڑھ گئے،کروڈوں روپے کی قیمتی گھڑی سے محرم ہو گئے

لندن(ویب ڈیسک) پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کے سرپر بندوق تان کرقیمتی گھڑی چھین لی گئی۔ عامر خان ایسٹ لندن کے علاقے لیئٹن میں اپنی بیوی فریال کےساتھ سڑک کراس کررہے تھے کہ اچانک 2 ڈاکو سامنے آگئے اور ان کے سر پر بندوق تان لی۔ خوف زدہ عامر خان نے فوری طور پر گھڑی ڈاکوؤں کے حوالے کرکے جان بچائی۔،

عامر خان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ڈاکوگاڑی میں باآسانی فرار ہوگئے۔ گھڑی کی قیمت پاکستانی روپے میں تقریباً پونے 2 کروڑ روپے تھی، یہ گھڑی 19 قیراط روز گولڈ سے بنائی گئی تھی جس پر 719 ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ اپنی گھڑیوں کی سوشل میڈیا پر نمائش کرنیوالے عامر خان اپنی اہلیہ فریال کے ساتھ آکسفورڈ اسٹریٹ پر شاپنگ کرکےلیئٹن لوٹے تھے۔

Categories
کھیل

بابر اعظم ’دلہا‘ بن گئے؟ تصویر سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 رینکنگ میں قومی ٹیم کے کپتان موجود ہیں۔ بابر اعظم کی حالیہ فارم کے پڑوسی ملک بھارت میں بھی چرچے ہورہے ہیں کیونکہ ویرات کوہلی ان دنوں آؤٹ آف فارم چل رہے ہیں۔ لیکن بابر اعظم جو اس وقت دنیائے کرکٹ پر راج کررہے ہیں ان کے مداح انہیں جلد دلہا بنتے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن دائیں ہاتھ کے بیٹر کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرائنگ آرٹسٹ نے بابر کے مداحوں کی یہ خواہش پوری کردی ہے۔ جی ہاں انسٹاگرام پر آکاش ننجانی نامی صارف نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا دلہے کے روپ میں ایک شاندار اسکیچ بنایا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا جاسکتا ہے کہ آرٹسٹ نے بابر کا ایک بھارتی دلہے کے روپ میں ان کا لال رنگ کی پینسل سے اسکیچ بنایا۔

Categories
کھیل

رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر رہنا چاہئے یا نہیں؟؟؟ عاقب جاوید نے اہم بیان دے دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے پی سی بی جونئیر لیگ کی مخالفت کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی پی ایس ایل ہچکولے کھارہی ہے، دن رات کوشش کی جارہی ہے کہ اسے کسی طریقے سے نیچے لے جائیں، ہمسایہ ملک بھارت میں آئی پی ایل کی موجودگی میں دس سال تک وہاں کوئی لوکل لیگ نہیں ہوئی،پی سی بی کو بھی چاہیے کہ پہلے پی ایس ایل کو سنبھالنے پر توجہ دے۔
لاہور میں بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے واضح کیا کہ جتنی بھی پارٹیز ہیں اگر ان کو کوئی آپشن دو گے تو اس سے چیزیں ادھر ادھر ہونا شروع ہوجائیں گی۔کرکٹ بورڈ حکام پہلے پی ایس ایل کے مسائل حل کریں، اسے بڑی پراڈکٹ بنائیں پھر کچھ اور سوچیں۔پوری دنیا دائیں جانب چلتی ہے، ہم بائیں جانب چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے سری لنکا اور بھارت میں تھری ڈے کرکٹ کرائی جاتی ہے، اسی طرح اگر آپ آسٹریلین ماڈل فالو کرتےہیں وہاں گریڈ کرکٹ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ہر بچہ ہفتے اور اتوار کو ریڈ بال کرکٹ کھیلتاہے، اس کا مقصد ہوتاہےکہ وہ ابتدائی عمر سے ہی زیادہ زیادہ بال کھیلنے کی عادت اپنائے اور اپنی تکنیک کو بہتر اور اسکلز کو مضبوط کرے تاکہ جب وہ فرست کلاس کرکٹ میں جائے تو وہ لمبے عرصے تک کھیل سکے۔ چئیرمین پی سی بی کے حوالےسےسوال پر عاقب کا موقف تھا کہ کرکٹر یا نان کرکٹر ایشو نہیں،ایڈمنسٹریشن کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو جو چیزیں خراب چل رہی ہوں، انہیں درست کرنےپر توجہ دینی چاہیے۔اس وقت کرکٹ بھی ہاکی کی طرح زوال کا شکار ہے، پورے لاہور میں کسی بھی گراؤنڈ میں سپائیکس پہن کر کھیلنے کی اجازت نہیں۔ کلب کرکٹ کتنے سالوں سےمعطل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ہفتے اور اتوار کو لیگ کرکٹ ہوتی ہے، ہم پتہ نہیں کس دنیا میں رہ رہےہیں اور کس کا مقابلہ کرنےجارہےہیں۔مانی اور وسیم خان نے پورے سسٹم کو ہلاکر رکھ دیا، بڑی خواہش تھی کہ چھ ٹیم بناکر ہم آسٹریلیا بن جائیں گے، لیکن نیچے کچھ بھی نہیں کیا، عمران خان ان کو ہٹاکر رمیز راجہ کو لائے مگر انہوں نے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا، پاکستان میں ڈراپ ان پچز کی ضرورت ہی نہیں، پہلے سے موجود پچز کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول جانےا ور کام کرنے والے بچوں کے لیے کوئی پلان نہیں، پی سی بی کو چاہیے کہ وہ چھ، سا ت ماہ ہفتے اور اتوار کوریڈ بال سے دو روزہ کرکٹ کرائے۔ سابق دور میں صرف کرکٹرز کا بیڑہ غرق نہیں ہوا، دوسری ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس بھی بند کردی ہیں۔ ڈھائی ماہ میں آپ اپنا شوق پورا کرلیں، باقی چار ماہ میں اگر ڈیپارٹمنس کرکٹ ہوتی ہے اور لڑکوں کو نوکریاں مل جاتی ہیں توآپ کو پرابلم کیاہے۔ چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کےمسقبل کے حوالے سے سوال پر عاقب جاوید نے کہا کہ جس طرح انہوں نے عمران خان کو سپورٹ کیا، اب لگ نہیں رہا کہ وہ رکیں گے، اخلاقی طورپر انہیں عہدے سےمستعفی ہوجانا چاہیے۔میرے خیال میں نجم سیٹھی اور ذکا اشرف میں سے کسی ایک کے چیئرمین بننے کے زیادہ امکانات ہیں۔ماضی میں دونوں نے بڑے اچھے کام کیے ہیں۔

Categories
کھیل

کیا آپ جانتے ہیں کہ عمر اکمل کے سسر کون تھے!!! کرکٹ کی دنیا کے سسر جنہوں نے اپنے کرکٹر دامادوں پر خوب تنقید کی

لاہور: (ویب ڈیسک) گزشتہ دنوں ایک تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل رہی جس میں شاہد خان آفریدی کے گھر پر شاہین آفریدی مؤدب انداز میں بیٹھے افطار کر رہے ہیں سادے سے ماحول میں سرخ دسترخوان پر پختون روایات کے مطابق زمین پر بیٹھ کر افطار کرتے ہوئے مستقبل کے سسر اور داماد کو دیکھ کر سب ہی ماشا اللہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔

کرکٹ کے میدان کے سسر اور داماد: عام طور پر ہمارے معاشرے میں دامادوں کو بہت عزت و تکریم دی جاتی ہے اس کا سبب کچھ افراد کے مطابق یہ ہوتا ہے کہ جتنا داماد خوش ہو گا آپ سے اتنا ہی وہ آپ کی بیٹی کو بھی خوش رکھے گا یا پھر بعض اوقات داماد بھی اپنے سسر اور سسرال والوں سے خوب نخرے اٹھواتے ہیں- مگر کرکٹ کے میدان میں معاملہ اس کے برعکس محمسوس ہوتا ہے کیوں کہ کرکٹ میں اسپورٹ مین اسپرٹ کے تحت جو آپ کا سینئير ہے اس کا احترام آپ پر واجب ہے اور اسی ڈسپلن کی وجہ سے اکثر اوقات سسر حضرات پوری دنیا کے سامنے اپنے داماد پر تنقید کرتے ہیں نظر آتے ہیں- ایسے ہی کچھ واقعات آج ہم آپ سے شئیر کریں گے- عبدا القادر اور عمر اکمل: ماضی کے معروف بالر اور گگلی کے شہنشاہ عبدالقادر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے اپنے منفرد بولنگ کے انداز کے سبب ان کو دنیا بھر میں بہت عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا- انہوں نے اپنی بیٹی نور آمنہ کے لیے عمر اکمل کا انتخاب کیا اور یہ شادی 16 اپریل 2014 میں انجام پائی- عمر اکمل ایک بہترین بیٹسمین کے طور پر جانے جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بطور وکٹ کیپر بھی ان کی خدمات گراں قدر ہیں لیکن اکثر پاکستانی ٹیم سے اپنی غیر مستقل پرفارمنس کی وجہ سے باہر نظر آتے-مئی 2016 میں یعنی شادی کے دو سالوں بعد جب پاکستانی ٹیم کا انگلینڈ کے دورے کے لیے انتخاب کیا جا رہا تھا اس موقع پر عمر اکمل کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا- اس وقت میں عبدالقادر نے اپنے داماد یعنی عمر اکمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا- ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے عمر اکمل کے ٹیم سے باہر ہونے کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو ان کا جواب حقیقت پر مبنی تھا اور ان کا کہنا تھا کہ عمر اکمل اگر ٹیم سے باہر ہے تو اس کی وجہ اس کی اپنی غلطیاں ہیں اس کو اگر ٹیم میں آنا ہے تو اپنی غلطیوں کو دور کرنا ہوگا- شاہد خان آفریدی اور شاہین آفریدی: اگرچہ شاہین آفریدی اور شاہد آفریدی میں باقاعدہ سسر داماد کے رشتہ اعلان کی حد تک ہے مگر امید ہے کہ جلد ہی شاہد افریدی اپنی بڑی بیٹی کی رخصتی شاہین آفریدی کے ساتھ کر دیں گے ۔ سسر اور داماد کی یہ جوڑی اس حوالے سے منفرد بھی ہے کہ پی ایس ایل کے میچز میں یہ ایک دوسرے کے مقابل بھی کھیلے ہیں- شاہد آفریدی کی حیثیت شاہین آفریدی کے لیۓ ایک مینٹور جیسی ہے جو اس کو ہر ہر موقع پر ایک باپ کی طرح رہنمائی فرما رہے ہیں- گزشتہ سال جب کہ پاکستان کی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے کا اعزاز ملا پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم کو ایک اچھا ٹارگٹ دیا۔ اور امید یہی تھی کہ پاکستان سیمی فائنل جیت جائے گا مگر انیسویں اوور میں حسن علی نے ایک کیچ چھوڑا جس سے آسٹریلین کھلاڑيوں کے حوصلے بلند ہو گئے- آخری اوور میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے 18 رن چاہیے تھے اس وقت میں شاہین آفریدی کی تین بولوں پر تین چھکے مار کر انہوں نے باآسانی سیمی فائنل جیت لیا۔۔ جس پر شاہد آفریدی نے شاہین پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا- ان کا یہ کہنا تھا کہ اگر حسن علی نے کیچ چھوڑ بھی دیا تو اس کا کہیں سے یہ مطلب نہیں ہے کہ شاہین اتنی فضول بالنگ کریں ان کو اپنی اسپیڈ کو استعمال کرنا چاہیے تھا- مگر انہوں نے ایسا نہ کیا جس کی وجہ سے پوری ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑا- اس موقع پر ٹی وی چینل پر بیٹھے شاہد آفریدی نے بغیر اس بات کا لحاظ کیے کہ شاہین ان کی بیٹی کے ہونے والے شوہر ہیں ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یہ تنقید صرف اور صرف نصیحت کے خیال سے تھی اور امید ہے کہ شاہین آفریدی نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہوگا-

Categories
کھیل

افسوسناک خبر!!!! معروف کھلاڑی کار حادثے میں ہلاک

کولمبیا: (ویب ڈیسک) کولمبیا کی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان 55 سالہ فریڈی رنکن کار حادثے میں سر پر شدید چوٹ لگنے کے بعد انتقال کر گئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فریڈی رنکن اپنی کار میں جا رہے تھے ان کار کولمبیا کے کیلی میں ایک بس سے ٹکرا گئی۔ ریال میڈرڈ کے سابق مڈفیلڈر رنکن نے کولمبیا کے لیے 17 گول کیے اور 1990، 1994 اور 1998 کے ورلڈ کپ میں کھیلے۔ سابق کپتان فریڈی رنکن، کارلوس ویلڈرراما کے ساتھ اپنے ملک کے لیے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ حاضری کا ریکارڈ بھی شئیر کرتے ہیں، جس نے 10 ورلڈ کپ گیمز کھیلے۔ رنکن اس ٹیم کا حصہ تھا جس نے 1990 کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے پر قوم کے 28 سالہ ورلڈ کپ کے انتظار کو ختم کیا، اور آخری فاتح مغربی جرمنی کے خلاف 1-1 سے ڈرا میں یادگار گول کیا۔ فریڈی نے ناپولی، پالمیراس اور سانتوس کے لیے کلب فٹ بال بھی کھیلا، نیز 2000 میں پہلی فیفا کلب ورلڈ چیمپیئن شپ اور اب کلب ورلڈ کپ میں کورینتھینز کو فتح دلایا۔ کیلی میں امباناکو کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر لوریانو کوئنٹرو نے کہا کہ ہماری ٹیموں کی تمام کوششوں کے باوجود، فریڈی یوسیبیو رنکن والینسیا کا انتقال ہو گیا ہے. کولمبیا فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان نے فریڈی رنکن کی موت پر سوگ کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم فریڈی کو یاد کریں گے اور اسے بہت پیار، تعریف، احترام اور تعریف کے ساتھ یاد کریں گے۔