Categories
کھیل

بھارتی کرکٹر چتیشور نے محمد رضوان کو زبردست مشورہ دے ڈالا ۔۔۔جان کر آپ بھی تائید کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے اسٹار کرکٹرز انگلش کائونٹی کرکٹ میں سسیکس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔سیزن کے ابتدائی میچز میں محمد رضوان کوئی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، دوسری جانب چتیشور پجارا رنز کے انبار لگا رہے تھے۔ایک انٹرویو میں پاکستانی وکٹ کیپر بیٹر نے بتایا

کہ نیٹ پریکٹس کے دوران بھارتی اسٹار سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ جس قدر ممکن ہو سکے گیندوں کو اپنے جسم کے قریب سے کھیلو، ایشیائی کنڈیشنز میں کم سوئنگ کی وجہ سے زیادہ ہاتھ کھول سکتے ہیں مگر انگلینڈ میں یہ مناسب نہیں ہوتا۔پجارا کے اس مشورے پر عمل کیا اور اگلے میچ میں 79رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگیا۔محمد رضوان نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں وائٹ بال کرکٹ زیادہ کھیلنے کی وجہ سے کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کرنے میں تھوڑی دقت ہوئی مگر پجارا کے مشورے سے بہتری آگئی۔یاد رہے کہ ڈرہم کے خلاف میچ میں دونوں بیٹرز نے مشکل صورتحال میں 154 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

Categories
کھیل

میں شادی اسی صورت میں کرونگا اگر ۔۔۔۔امام الحق نے انوکھی شرط رکھ دی

کراچی (ویب ڈیسک) ٹیسٹ اوپنر امام الحق نے اپنی شادی سے پہلے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی شادی کی شرط رکھ کر سب کو حیران کردیا۔ان کا کہنا ہے ابھی کسی سے محبت نہیں ہوئی ، دعا ہے کہ محبت کسی سے نہ ہو، شادی کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔

پہلے کپتان بابر اعظم کی شادی ہوگی پھر میری ہوگی۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے ایک سال سے ڈیڑھ سال تک شادی کرلوں لیکن ابھی ساری توجہ کرکٹ پر ہے، کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے، سب لوگ اس کے بارے میں بات کرتے اور میمز بناتے ہیں تو اچھا لگتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ویرات کوہلی سے اچھا پرفارم نہ بھی ہو رہا ہو تو وہ گراؤنڈ میں ایک فائٹر کے طور پر دکھائی دیتا ہے، وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مجھ سے رنز ہوئے ہیں یا نہیں، اسی جذبے کے ساتھ کھیلتا ہے اور اس کی یہ چیزیں پسند ہیں۔بابر اعظم کے ساتھ ساتھ کمار سنگاکارا اور ویرات کوہلی کابھی گرویدہ ہوں، ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کپتان سے زیادہ بیٹر اچھے ہیں، کمار سنگاکارا کا اسٹائل اور ویرات کوہلی کا جارحانہ انداز پسند ہے ۔

Categories
کھیل

ورلڈ کپ کے دوران محمد رضوان کی جان بچانے کے لیے کونسی دوا دی گئی؟ پی سی بی ڈاکٹر کا ہوشربا انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک)پی سی بی کے ڈاکٹر نجیب اللہ سومرو نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوران قومی بلے باز محمد رضوان کی جان بچانے کے لئے انہیں ممنوعہ دوا دی گئی تھی۔خیال رہے کہ دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے صرف دو روز

قبل رضوان کو سینے میں شدید انفیکشن ہوا تھا۔ اس میگا میچ کے لئے معجزانہ طور پر بروقت صحتیاب ہونے سے قبل رضوان نے آئی انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں دو راتیں گزاری تھیں۔محمد رضوان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیر زین العابدین اس وقت کہا تھا کہ جب ان کو ہسپتال لایا گیا تو ان کے سینے میں شدید تکلیف تھی۔ ان کو فوری طور پر چیک کیا گیا کہ کہیں یہ دل کا دورہ تو نہیں لیکن محمد رضوان کے گلے میں شدید درد اور انفیکشن کی وجہ سے ان کی سانس رک چکی تھی اور کھانے کی نالیاں سکڑ گئی تھیں۔ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے قبل قومی ٹیم کے ڈاکٹر نجیب نے بابر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور بتایا تھا کہ رضوان دو روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ وہ آئی سی یو میں تھے لیکن کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا کہ ٹیم کا مورال کم نہ ہو۔ ناقابل یقین طور پر میچ سے قبل رضوان صحتیاب ہو کر فٹ قرار پائے۔سُپر 12 مرحلے کے پانچوں میچز کے علاوہ سیمی فائنل میں بھی قوم کو مایوس نہ کرنے والے رضوان نے شاندار اننگ کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر67 رنز سکور کیے تھے تاہم پاکستان یہ میچ ہار گیا تھا۔اس میچ کے بعد سابق فاسٹ بائولر شعیب اختر نے بھی ٹویٹر پر رضوان کی تصویر شیئر کی جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر موجود تھے۔ شعیب نے کیپشن میں کرکٹر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ شخص آج اپنے ملک کے لئے کھیلا اور بہترین کارکردگی دکھائی۔اب پی سی بی کے ڈاکٹر نجیب اللہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ممنوعہ چیز کے استعمال کے لئے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لی گئی تھی۔ڈاکٹر نجیب اللہ نے محمد رضوان کے ساتھ انٹرویو میں کہ کہ آپ سانس لینے سے قاصر تھے اور مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے آپ کی صحت یابی میں مدد کے لیے وہ دوا لگانے کے لیے اجازت لینی پڑی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا کھلاڑیوں کے لئے ممنوع ہے لیکن چونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن دستیاب نہیں تھا، اس لئے ہمیں اس دوا کو انجیکشن لگانے کے لئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے اجازت لینی پڑی تھی۔

Categories
کھیل

جب خواب حقیقت بنا: شاہد آفریدی کے ساتھ 1996 میں پیش آنے والا وہ واقعہ جو انہیں بھلائے نہیں بھولتا

لاہور (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنی ریکارڈ ساز اننگز کی یاد تازہ کردی۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی میں اس دن کی اہمیت ہمیشہ قائم رہے گی۔4 اکتوبر 1996 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں 37 گیندوں پر سب

سے تیز سنچری کرکے ریکارڈ بنانے والے سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے یادگار میچ کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کی ۔انہوں نے لکھا کہ یہ میری زندگی کا وہ یادگار دن ہے جسے میں کبھی نہیں بُھلا پاؤں گا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں دنیا بھر میں موجود اپنے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں کہ خواب حقیقت بن ہی جاتے ہیں۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر 1996وہ دن ہے جس کی اہمیت ہمیشہ شائقین کرکٹ کے لیے قائم رہے گی۔یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے 1996 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں سب سے تیز سنچری 37 گیندوں پر مکمل کی تھی ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاہد آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین سنچری کا ورلڈ ریکارڈ سچن ٹنڈولکر کے بیٹ سے بنایا تھا۔

Categories
کھیل

سابق کرکٹر سعید اجمل کی زندگی اور عروج وزوال کی حیرت انگیز سچی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) سنہ 2010 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بظاہر ہر چیز پاکستان کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ 13ویں اوور میں جب ڈیوڈ ہسی آؤٹ ہوئے تو اُن کی جگہ کریز پر آنے والے اُن کے بڑے بھائی مائیکل ہسی تھے۔اُس وقت آسٹریلیا کا سکور پانچ وکٹوں کے

نقصان پر 105 رنز تھا، یعنی آسٹریلیا کو سیمی فائنل جیتنے کے لیے اب بھی 45گیندوں پر 87 رنز درکار تھے۔سینٹ لوشیا کے سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کوچ وقار یونس اور دیگر کھلاڑیوں نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب 17ویں اوور میں کیمرون وائٹ پانچ چھکوں کی مدد سے 43 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوگئے۔آسٹریلیا کو اس وقت بھی 21 گیندوں پر 53 رنز بنانے تھے لیکن کسے پتہ تھا کہ میدان میں ہوا دوسرے رُخ پر چلنے والی ہے۔مائیکل ہسی کے خطرناک ارادوں کی زد میں آنے والے پہلے بولر کپتان شاہد آفریدی تھے جن کے آخری اوور میں دو چھکے لگے۔ سعید اجمل کے تیسرے اوور میں اگرچہ سٹیو سمتھ کی وکٹ گری تھی لیکن مچل جانسن کے چوکے اور مائیکل ہسی کے چھکے نے آسٹریلوی امیدوں کو برقرار رکھا۔میچ کا 19واں اوور محمد عامر نے کیا جس میں بننے والے 16 رنز نے آسٹریلیا کو جیت سے 18 رنز کی دوری پر لا کھڑا کیا۔ آخری اوور کے لیے کپتان شاہد آفریدی کے پاس یہی ایک آپشن موجود تھا کہ وہ اپنے بہترین بولر سعید اجمل کو گیند دیں۔میڈیم پیسر عبدالرزاق کو گیند دینے کا خطرہ وہ اس لیے مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ ان کے شروع کے دو اوورز میں 22 رنز بن چکے تھے۔سعید اجمل کے آخری اوور کی پہلی گیند پر مچل جانسن نے ایک رن لے کر مائیکل ہسی کو مقابلے پر لا کھڑا کیا۔اوور کی دوسری گیند پر مائیکل ہسی نے ُپل شاٹ کھیل کر گیند کو شائقین کے سٹینڈز میں پہنچا دیا۔ اگلی گیند پر انھوں نے یہی سلوک روا رکھا اس مرتبہ گیند لانگ آن کے باہر جا گری۔ سعید اجمل نے چوتھی گیند

آف سٹمپ کے باہر کی جس پر مائیکل ہسی نے کٹ کیا، گیند بیک ورڈ پوائنٹ پر ہوا میں اچھلنے والے فیلڈر سلمان بٹ کے ہاتھ سے لگ کر باؤنڈری کی طرف چلی گئی اور یوں سکور برابر ہو گیا۔مائیکل ہسی نے اس میچ کو لانگ آن پر ایک اور چھکے کے ذریعے ِختم کر کے اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔آسٹریلوی کھلاڑی ڈگ آؤٹ سے میدان میں دوڑ پڑے۔ سعید اجمل مایوسی کے عالم میں بولنگ اینڈ پر بیٹھے تھے اور ساتھی کرکٹرز انھیں حوصلہ دینے میں مصروف تھے۔مائیکل ہسی نے پاکستان کو مسلسل تیسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے سے محروم کر دیا تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس شکست نے پاکستان کو عالمی اعزاز سے محروم کر دیا تھا جو اس نے ایک سال قبل لارڈز میں جیتا تھا۔سعید اجمل کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس میچ کے بعد غیر تو غیر اپنے بھی بدل گئے تھے۔سعید اجمل بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ٹورنامنٹ کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو مجھے لوگوں کے منفی رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے اپنے محلے میں لوگ فقرے کستے تھے۔ میں گراؤنڈ میں اپنے خلاف نعرے سُنتا تھا۔ میرے اپنے گھر والے مجھ سے خفا تھے۔ بیگم کو تنقید بھرے فون سننے کو مل رہے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے والد نے کئی روز تک مجھ سے بات نہیں کی۔ انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ جو کچھ ہوا ہے اس کا جواب گراؤنڈ میں ہی دو گے تو تمہاری ساکھ بحال ہو گی ورنہ ساری زندگی یہ داغ لگا رہے گا۔‘سعید اجمل کہتے ہیں ’والد صاحب کی اسی بات نے مجھ میں نیا حوصلہ پیدا کر دیا اور میں نے پہلے سے زیادہ محنت کرنی شروع کر دی، یہ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ میں دنیا کا نمبر ایک بولر بھی بنا۔‘سعید اجمل کہتے ہیں ’لوگوں کو وہ ایک میچ تو یاد رہ گیا لیکن اس کے بعد میں نے کتنے میچ جتوائے یا مائیکل ہسی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کوئی یاد نہیں رکھتا۔ میں نے اس میچ کے بعد تین مرتبہ مائیکل ہسی کو آؤٹ کیا تھا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
کھیل

سابق کرکٹر مشتاق احمد کی شادی کی اپنی بیوی سے پہلی ملاقات کا دلچسپ احوال

کراچی (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ سپنر مشتاق احمد نے اپنی شادی کی دلچسپ کہانی مداحوں کے ساتھ شیئرکردی۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد نے بتایاکہ میں نے پسند کی شادی کی لیکن اس میں والدین کی مرضی بھی شامل تھی، میری اہلیہ سے شادی سے

پہلے ملاقات کی کہانی بھی بہت ہی دلچسپ ہے، ایک عشائیے پر وقار یونس اور عاقب جاوید بھی میرے ساتھ تھے تو ایک خاتون ان سے آٹو گراف لے رہی تھیں، میں نے اس خاتون سے کہا کہ میں بھی تو کھلاڑی ہوں، آپ میرا آٹو گراف بھی تو لیں تو بس یہیں سے ہمارے درمیان دوستی کا آغاز ہوا اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 45 فیصد افراد والدین کی مرضی سے شادی کرتے ہیں اور 55 فیصد پسند کی شادی کرتے ہیں۔دوسری جانب سابق ٹیسٹ کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم انضمام الحق نے 25 سال پہلے ہالینڈ میں ہونے والے جھگڑے سے متعلق دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سابق چیف سلیکٹر قومی ٹیم انضمام الحق نے بتایا کہ 1995 میں ہالینڈ میں انہوں نےوسیم اکرم سے بلند قد والے شخص کو پیچھے سے دبوچ لیا جو وسیم بھائی (وسیم اکرم) کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔انضمام الحق نے بتایا کہ اس کے بعد ایک اور میچ میں شکست کے بعد لوگوں نے پھر ٹیم کو برا بھلا کہا تو وسیم بھائی نے کہا کہ دیکھو انضمام یہ لوگ ہمیں پھر برا بھلا کہہ رہے ہیں مگر میں نے لڑنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وسیم بھائی یہ بہت زیادہ لوگ ہیں، ہماری بہت پٹائی ہو گی۔

Categories
کھیل

تیسرا کب آرہا ہے ؟ سعید اجمل کے تیسرے کے ساتھ جڑا ایک دلچسپ واقعہ

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان ٹیم کے سابق آف سپنر سعید اجمل نے انگلینڈ کے 2012 کے دورے کے دلچسپ کہانی بیان کی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ جب دورہ شروع ہوا تو ٹیم مینجر نے مجھ سے کہا کہ سعید کوئی ایسی بات چھوڑو کہ انگلینڈ کی ٹیم پریشان ہوجائے۔

جس پر میں نے یہ بیان دیا کہ میرا ‘ تیسرا’ آرہا ہے۔ انگلش کھلاڑی سمجھے یہ کوئی نئی ڈیلیوری ہے مگر میں اپنے تیسرے بچے کی بات کررہاتھا کہ جو پیدا ہونے والا تھا۔ سعید اجمل کا کہنا تھا میں نے اس سیریز میں 24 وکٹیں لیں تھیں،ناصر حسین تک مجھ سے پوچھتے رہے کہ یہ تیسرا کیا ہے اور کب آرہا ہے؟

Categories
کھیل

پہلے پہل شاہد خان آفریدی کو 40 نمبر کی شرٹ ملنے اور بعد میں شرٹ کا نمبر 10 ہو جانے کے پیچھے چھپی کہانی

ابو ظہبی (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی شرٹوں کے نمبرز میں کیا راز چھپا ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں تمام کھلاڑیوں نے اپنی شرٹوں کے نمبروں کے پیچھے چھپے راز بیان کیے ہیں۔وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان

کے مطابق ان کی شرٹ کا نمبر 16 اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے لیدر بال سے اپنی پہلی اننگز میں 16 رنز سکور کیے تھے۔ان کیلئے 16 نمبر خوش قسمت ہے۔چھ کا ہندسہ ان کی اور ان کی اہلیہ کی سالگرہ کی تاریخوں میں بھی آتا ہے،جبکہ ایک اور چھ کا ہندسہ ان کی دونوں بیٹیوں کی سالگرہ کی تاریخوں میں آتا ہے۔ورلڈ کپ میں اب تک ناقابلِ شکست رہنے والے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے پہلے 33 نمبر ملا تھا پھر انہیں 56 نمبر کی آپشن دی گئی تو انہوں نے 56 رکھ لیا جو کہ اب انہیں اچھا لگتا ہے۔اب وہ اسی نمبر کیساتھ ایک برانڈ بھی لانچ کرنے جارہے ہیں۔شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا پہلے ان کی شرٹ کا نمبر 40 تھا مگر وہ 10 نمبر شرٹ لینا چاہتے تھےجس کی انہیں شاہد آفریدی نے اجازت دی جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔فخر زمان نے بتایا کہ ان کی شرٹ کا نمبر پہلے کوئی اور تھا ،نیوی میں ان کے کمرے کا نمبر 39 تھا اس لیے انہوں نے اپنی شرٹ کے لیے 39 نمبر منتخب کیا۔شاداب خان کا کہنا تھا پہلے ان کا نمبر 29 تھا بعد میں انہوں نے سات نمبر سلیکٹ کیا۔ شعیب ملک کے مطابق ان کی شرٹ کا نمبر 18 ہے،شروع سے انہیں یہی نمبر ملا،درمیان میں کچھ اور نمبر زبھی ملے مگر اب ان کی شرٹ کا نمبر 18 ہے۔

Categories
کھیل

نوکری کے چکروں میں پھرنے والے آصف علی پر قسمت کی دیوی کیسے مہربان ہوئی اور وہ فرسٹ کلاس کرکٹر بن گئے ؟ کامیابی کی حیرت انگیز داستان

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کون ہے جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین آصف علی کے نام سے واقف نہیں اور جو نہیں بھی تھا وہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچوں کے بعد بہت اچھی طرح جان چکا ہے

کہ آصف علی کون ہیں لیکن آصف علی کی زندگی میں ایک کٹھن لمحہ ایسا بھی تھا جب انھیں اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ انھیں نوکری کرنی ہے یا کرکٹ کھیلنی ہے۔ایک طرف شوق تھا تو دوسری طرف زندگی گزارنے کے لیے ملازمت بھی ضروری تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب آصف علی فونڈری میں ڈپلومہ کرنے کے بعد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیصل آباد میں لوہے کی ایک فیکٹری میں کوالٹی انسپکٹر کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی کرکٹ کا شوق بھی جاری تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے جس دن چھٹی ہوتی وہ اسی دن ہی میچ کھیل پاتے۔ بقیہ دنوں میں وہ پریکٹس بھی نہیں کرپاتے تھے کیونکہ فیکٹری سے چھٹی ہونے کے بعد جب وہ گراؤنڈ میں جاتے تو پریکٹس کا وقت ختم ہو چکا ہوتا تھا۔آصف علی بتاتے ہیں ʹایک مرتبہ مصباح بھائی (مصباح الحق ) نے ون ڈے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے مجھے سوئی ناردن گیس کی ٹیم میں موقع دیا۔ میں اپنی فیکٹری کے مالک کو بتائے بغیر چلا گیا۔ جب ایک ماہ بعد واپس آیا تو اس نے پوچھا کہ اتنے دن کہاں غائب تھے۔ میں نے بتایا کہ کرکٹ کھیلنے گیا تھا اور انھیں بتایا کہ میں مصباح الحق اور محمد حفیظ جیسے ورلڈ کلاس کرکٹرز کے ساتھ کھیل کر آیا ہوں لیکن فیکٹری کے مالک نے مجھ سے کہا کہ ہمیں اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ کرکٹ کھیل لو یا پھر نوکری کر لوʹ۔انھوں نے کہا کہ ʹمیں نے مالک سے کہا کہ مجھے سوچنے کے لیے ایک دن دے دیں، فوری طور پر ملازمت سے نہ نکالیں۔ پھر میں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ میں کرکٹ کھیلوں گا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مصباح بھائی نے مجھے سلیکٹ کیا ہے تو مجھ میں کچھ ٹیلنٹ ہے تبھی انھوں نے ایسا کیا ہو گاʹ۔

اگلے دن آصف جب فیکٹری پہنچے تو ان کے بقول ’میں نے فیکٹری کے مالک سے کہا کہ جس دن میرا میچ ہو اس دن مجھے چھٹی دے دیں اور اس دن کی تنخواہ بھی نہ دیں لیکن وہ نہ مانے لہٰذا میں نے نوکری چھوڑ دی۔‘ان کے مطابق ’اس کے بعد کچھ عرصہ میں ٹیپ بال کرکٹ کھیل کر پیسے کماتا رہا۔ کبھی کسی نے ہزار روپے دے دیے تو کسی نے پندرہ سو روپے۔‘آصف علی کے والد محمد سرور اپنے دور میں فٹبال کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں جبکہ ان کے دو بڑے بھائی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔آصف کے بھائی محمد کاشف کا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ʹمیں کلب میچ کھیلنے جاتا تو آصف میرے ساتھ ہوتا تھا۔ وہ بہت چھوٹا تھا اور وہ ہر وقت کھیلنے کی ضد کرتا تھا لیکن چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہم اسے نہیں کھلاتے تھے کہ کہیں گیند نہ لگ جائے۔ ایک دن ٹیپ بال میچ میں ہمارا ایک کھلاڑی کم تھا لہٰذا اسے کھلانا پڑ گیا اور وہ آخری بیٹسمین کے طور پر کھیلنے گیا۔’ہم چاہتے تھے کہ وہ آخری دو گیندیں روک لے تاکہ اگلے اوور میں دوسرے بیٹسمین کو کھیلنے کا موقع مل جائے لیکن آصف علی نے لگاتار دو چھکے کرا کے میچ ہی ختم کر دیا۔ یہ چھکے اس نے اس بولر کو کرائے تھے جسے ہم روک کر کھیلا کرتے تھے اسے ہٹ لگانا مشکل ہوتا تھا۔ آصف علی کو ہمیشہ سے ہی اسی طرح کی جارحانہ بیٹنگ پسند رہی ہےʹ۔کاشف بتاتے ہیں ʹ آصف علی ہمیشہ سے سادہ طبعیت کے مالک ہیں۔

بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ فیصل آباد میں دو، تین لوگ ہیں جنھوں نے آصف علی کے ابتدائی دنوں میں ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ لائل پور جمخانہ کلب کے شہباز بھٹہ اور ریلویز کرکٹ کے طارق فرید کے علاوہ ایک صاحب جو چچا تقی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ان لوگوں نے آصف علی کا بہت ساتھ دیا ہے۔‘لاہور میں مقیم صحافی شہباز علی کا آصف علی سے پرانا تعلق رہا ہے اور وہی انہیں کلب کرکٹ کھلانے فیصل آباد سے لاہور لائے تھے۔ان کا کہنا تھا ʹیہ 2010 کی بات ہے۔ آصف علی سے میں نے پوچھا کہ آپ لاہور میں کلب کرکٹ کھیلیں گے۔ وہ میرے کہنے پر لاہور آ کر میرے کلب گولڈن سٹار کی طرف سے کھیلا کرتے تھے اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے بہت مشہور تھے۔ حریف ٹیمیں ان سے بہت گھبراتی تھیں اور یہ معلوم کرتی تھیں کہ آصف میچ کھیل رہے ہیں یا نہیں۔ دراصل وہ آصف کا سامنا کرنے سے کتراتی تھیں۔‘یہ شہباز علی ہی تھے جن کے کہنے پر آصف علی کو سید پیپرز نے پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو کے لیے اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا۔ ’ایک دن ان کے کوچ نے مجھ سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں کیسا بیٹسمین دے دیا ہے جو پریکٹس میں ہی چھکے کرا کے روزانہ پانچ چھ گیندیں گما دیتا ہےʹ۔کرکٹ کے حلقوں میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آصف علی کو ان کے کریئر میں مصباح الحق نے بہت زیادہ حوصلہ دیا اور انہیں مواقع دیتے رہے ہیں۔

خود آصف علی بھی برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اور حال ہی میں میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بھی انھوں نے ایک بار پھر ایسا کیا۔مصباح الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹ مجھے یاد ہے کہ فیصل آباد ریجن کے کوچ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد جونیئر نے ایک دن مجھ سے کہا کہ اس باصلاحیت بیٹسمین کو آزما کر دیکھوں۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ʹ آصف علی نے اپنے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری بنائی تھی۔ ان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ جہاں کی گیند ہوتی ہے وہیں شاٹ کھیلتے ہیں اور ان کے شاٹس باؤنڈری کو کلیئر کرتے ہوئے دور جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھیں اپنی دفاعی تکنیک کی وجہ سے مشکل پیش آرہی تھی چنانچہ ان کا بیٹنگ نمبر نیچے کیا گیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ ʹمصباح الحق نے جس ٹی ٹوئنٹی میچ کا ذکر کیا ہے وہ 24 جون 2011 کو فیصل آباد اور ملتان کے درمیان اقبال اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ آصف علی کا یہ ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو میچ تھا جس میں انھوں نے صرف 59 گیندوں پر سنچری بنائی تھی جس میں سات چھکے اور نو چوکے شامل تھے۔انھوں نے یہ اننگز ایسے وقت میں کھیلی تھی جب میچ کی پہلی ہی گیند پر محمد حفیظ آؤٹ ہو گئے تھے جس کے بعد انھوں نے آصف حسین کے ساتھ سنچری اور مصباح الحق کے ساتھ نصف سنچری کی شراکت قائم کی تھی۔ یہی وہ اننگز تھی جس نے مصباح الحق کو بےحد متاثر کیا تھا اور اس کے بعد وہ ان کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہو گئے۔

آصف علی پہلی پاکستان سپر لیگ سے ہی اسلام آباد یونائیٹڈ سے وابستہ ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے سٹریٹجی منیجر حسن چیمہ بتاتے ہیں ʹاسلام آباد یونائیٹڈ میں آصف علی کی شمولیت کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ عماد بٹ ان فٹ ہوئے تو مصباح الحق نے ہم سے کہا کہ آصف علی کو ٹیم میں لیتے ہیں۔ وہ آصف علی کی صلاحیتوں پر بہت زیادہ اعتماد کرتے تھے۔ انھوں نے اس سلسلے میں وسیم اکرم اور ڈین جونز کو بھی قائل کیا۔‘یاد رہے کہ آصف علی کو پہلے دو سیزن میں محدود مواقع ملے تھے لیکن اس کے بعد ان کے جوہر کھلنے شروع ہوئے۔ 2018 میں پشاور زلمی کے خـلاف فائنل کو کون بھول سکتا ہے جس میں ان کے حسن علی کو لگائے ہوئے لگاتار تین چھکوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو دوسری مرتبہ چیمپیئن بنوا دیا تھا۔انھوں نے صرف چھ گیندوں پر ناقابل شکست 26 رنز بنائے تھے اس سیزن میں انھوں نے مجموعی طور پر 16 چھکے لگائے تھے۔ اگلے سال ان کی چھکے لگانے کی عادت مزید پختہ ہو چکی تھی اور اس پی ایس ایل میں ان کے چھکوں کی تعداد 26 تھی۔آصف علی کی چھکوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر( اس میں انٹرنیشنل میچز بھی شامل ہیں) میں مجموعی طور پر 245 چھکے لگا چکے ہیں ۔وہ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے پاکستانی بیٹسمینوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ان سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹسمین شعیب ملک ( 336چھکے ) اور شاہد

آفریدی ( 252چھکے ) شامل ہیں۔آصف علی وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتے جب ان کی دو سالہ بیٹی سرطان کے مرض میں مبتلا تھی اور اسے علاج کے لیے بیرون ملک بھی لے جایا گیا تھا بعد ازاں وہ وفات پا گئی۔آصف علی ان دنوں زبردست ذہنی دباؤ میں تھے۔ انھیں جب بیٹی کی بیماری کا پتہ چلا تو اس وقت وہ کراچی کنگز کے خلاف پی ایس ایل کا میچ کھیل رہے تھے جس میں انھوں نے صرف دس گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 24رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ان کی بیٹی کی بیماری پر اسلام آْباد یونائٹڈ کے ہیڈ کوچ ڈین جونز کو بہت افسوس تھا اور انھوں نے اسلام آباد یونائٹڈ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ آصف علی کی بیٹی کے علاج کے لیے رقم اکٹھی کی جائے۔ان کی اس معاملے سے جذباتی وابستگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسی دوران ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں وہ اپنے جذبات پر قابو پائے بغیر نہیں رہ سکے تھے اور آبدیدہ ہو گئے تھے۔آصف علی ایسے کرکٹر ہیں جو سابق کرکٹرز، میڈیا اور سوشل میڈیا ہر جانب سے بہت زیادہ تنقید کی زد میں رہے ہیں لیکن اس تنقید کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ذاتیات حاوی رہی ہے اور اس تنقید میں مصباح الحق کو بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔آصف علی کا اس بارے میں کہنا ہے ’میں سوشل میڈیا سے خود کو دور رکھتا ہوں۔ اعداد و شمار بتانے والے یہ تو

بتاتے ہیں کہ تین اننگز کھیلی ہیں لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ آخری اوور کی آخری دو یا تین گیندیں کھیلی ہیں۔ وہ اعداد و شمار آگے رکھ دیتے ہیں حالانکہ انھیں مڈل آرڈر بیٹسمین کی صورتحال کو نظر میں رکھنا چاہیے۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ’یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تنقید کرنے والے حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اگر نو اننگز کی بات کی جاتی ہے لیکن کہنے والے یہ نہیں بتاتے کہ ان نو اننگز میں صرف نو گیندیں ہی کھیلی گئی ہیں۔‘مصباح الحق کہتے ہیں ’میری آصف علی سے نہ کوئی رشتے داری ہے نہ کوئی پرانی شناسائی تھی۔ یہ ان کی اپنی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے وہ آگے بڑھتے رہے ہیں اور میں نے صرف اسی ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔‘آصف علی کے بھائی کاشف کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ کس قسم کی تنقید آصف علی پر ہوتی رہی ہے لیکن ہم نہ اس کا جواب دیتے ہیں نہ افسوس کرتے ہیں نہ ہی غصہ۔ اصل میں یہ کھیل ہے جس میں بڑے سے بڑے کرکٹر کے کریئر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ اسی ورلڈ کپ میں آپ دیکھ لیں کرس گیل اور پولارڈ بڑی اننگز نہیں کھیل پا رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے جائیں۔‘آصف علی کی موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دو قابل ذکر اننگز کے باوجود ان پر طنز کرنے کا موقع ہاتھ سے گنوایا نہیں گیا ہے۔ اس معاملے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر یونس خان بھی پیچھے نہیں رہے۔یونس خان نے نجی ٹی وی چینل کے

پروگرام کے میزبان وسیم بادامی سے آصف علی کے ویڈیو کلپ کے بارے میں پوچھا کہ آج ان کا تبصرہ معصومانہ چلے گا یا جارحانہ یا پھر غیر معمولی جارحانہ جس پر وسیم بادامی کا جواب تھا آج غیر معمولی جارحانہ چلے گا۔گفتگو کا موضوع آصف علی کا وہ ویڈیو کلپ تھا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ’سب کوچز کا شکریہ لیکن خاص کر مصباح بھائی کا شکریہ جنھوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی۔ میرا کریئر ان کی موجودگی میں شروع ہوا۔ انھوں نے مجھ پر بہت محنت کی جس پر میں ان کا شکر گزار رہوں گا۔‘یہ کلپ دکھائے جانے کے بعد یونس خان کا تبصرہ تھا کہ جب آصف علی بات کر رہے تھے تو ان کی نظریں نیچے کیوں تھیں؟جب ہم اکثر اپنی بیگمات سے بات کرتے ہیں تو وہ نظریں چرا رہی ہوتی ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالو تو وہ ہچکچاتی ہیں۔ یہاں مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔ میں کوئی ہیراپھیری والی بات نہیں کرتا۔‘یونس خان کا کہنا تھا اگر کسی کھلاڑی کو پاکستان کے لیے کھیلنا ہے تو وہ کھل کر بات کرے دل میں نہ رکھے۔اس موقع پر پانچ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد کا تبصرہ بھی کم حیران کن نہ تھا کہ یہ چیز کب ختم ہو گی کہ کھلاڑی اچھی بولنگ یا بیٹنگ کرتے ہیں اور پریس کانفرنس میں بیٹھتے ہیں تو کھلاڑیوں کے نام کیوں لیتے ہیں کہ مجھے فلاں لے آیا تھا فلاں نے میری سپورٹ کی۔ بھائی اب بڑے ہو جاؤ۔ یہ ختم کریں آپ لوگ کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ کسی کا نام نہیں لینا چاہیے۔ان دونوں حضرات کی اس گفتگو پر سوشل میڈیا پر جو ردعمل سامنے آیا اس میں زیادہ تر لوگوں نے یونس خان کے بارے میں سخت مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے بڑے کھلاڑی کو اس طرح کا تبصرہ دینا مناسب نہیں لگتا اور اگر کوئی کسی پر احسان کرتا ہے تو اعلیٰ ظرف ہی اسے یاد رکھتا ہے۔اسی ردعمل میں ایک تبصرہ یہ بھی تھا کہ آصف علی کی شاندار کارکردگی پر دنیا بھر کا میڈیا ان کی تعریف کر رہا ہے ایسے میں یہ دو سابق کرکٹرز ان پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Categories
کھیل

آج تو میں خوبصورت اور جوان ہوں لیکن کیا آپ ہمیشہ مجھے ایسی ہی پیار کریں گے ؟ثانیہ مرزا کا دلچسپ سوال اور شعیب ملک کا جواب

ابو ظہبی (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شعیب ملک کے بیٹے اذہان مرزا ملک نے اپنی والدہ ثانیہ مرزا کو موٹی قرار دے دیا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔سوشل میڈیا پر شعیب ملک کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں وہ بیڈ پر لیٹے موبائل فون میں مصروف ہیں

جبکہ اُن کے ہاتھ میں پانی کی بوتل ہے۔ویڈیو میں اچانک سے ثانیہ مرزا کی آواز آتی ہے جو اپنے شوہر سے پوچھتی ہیں کہ ’اگر، میں موٹی ہوگئی تو آپ جب بھی مجھ سے محبت کریں گے؟‘اہلیہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شعیب ملک کہتے ہیں کہ ’جی ہاں! میں آپ سے ایسے ہی محبت کروں گا۔‘والدین کی گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے کمرے میں موجود اذہان مرزا ملک اپنی والدہ سے کہتے ہیں کہ ’آپ تو موٹی ہیں‘ جس پر شعیب ملک اپنی ہنسی پر قابو نہ پاتے ہوئے زور زور سے قہقہے لگاتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور شعیب ملک بیٹنگ کے لیے آئے تو قومی ٹیم تین وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنا چکی تھی۔آل راؤنڈر بلے باز نے صرف 18 گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری بنا کر ایک نیا ریکارڈ اپنے نام کیا۔شعیب کی کارکردگی آخری 2 اوورز میں غیر معمولی تھی کیونکہ اُنہوں نے شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف اپنی ٹیم کو 189 رنز تک پہنچا دیا تھا۔

Categories
کھیل

گمنامی سے شہرت ، مشکلات اور پھر عروج تک کا سفر : شعیب اختر کی زندگی کے ان سنے حقائق

لاہور(ویب ڈیسک) پنڈی ایکسپریس کہلانے والے پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ باﺅلر شعیب اختر دنیائے کرکٹ میں تیز ترین باؤلنگ کا ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کریئر میں کئی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جن کی بدولت وہ کرکٹ کی دنیا کے چند ممتاز ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ شعیب اختر ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہیں کہ ہر میچ سے قبل ان کے گھٹنوں سے خون اور پانی نکالنا پڑتا تھا؟ شعیب اختر نے سب سے پہلے یہ انکشاف چند سال قبل ایک بھارتی ٹی وی شو میں کیا تھا اور اب اپنے یوٹیوب چینل پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں وہ اس حوالے سے تفصیل اپنے مداحوں کو بتاتے ہیں۔ اس بھارتی ٹی وی شو میں پنڈی ایکسپریس شو کے شرکاءکو کبھی ہمت نہ ہارنے کا درس دیتے ہوئے اپنی مثال پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’ میرے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد مجھے ڈاکٹروں کے پاس لے جایا گیا اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس صرف دو سال ہی بچے ہیں۔ ڈاکٹر ہر میچ سے پہلے اور بعد میں میرے گھٹنوں سے خون اور پانی نکالتے تھے۔ میرے ساتھی کرکٹرز خیال کرتے تھے کہ شاید میں کسی کلب میں ہوتا ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت میں ہسپتال میں ہوتا تھا اور ڈاکٹر میرے گھٹنوں سے پانی اور خون نکال رہے ہوتے تھے۔ ‘اور یہ طریقہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا تھا ۔

Categories
کھیل

بابراعظم کی ماہانہ آمدن کتنی ہے ؟ خود بتا دیا

راولپنڈی (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے مداحوں کی جانب سے گوگل پر سب سے زیادہ پوچھے گئے سوالوں کے دلچسپ جوابات دیکر مداحوں کو محظوظ کردیا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ

گوگل پر سرچ کیے گئے سب سے زیادہ سوالات کے جوابات دے رہے ہیں۔پہلے سوال کے جواب میں بابر اعظم نے بتایا کہ میں لاہور میں رہتا ہوں جو اپنے مزیدار کھانوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ میں گرے نکل بیٹ استعمال کرتا ہوں۔مایہ ناز بلے باز نے مزید بتایا کہ عمومی طور پر اپنے ساتھ 6-7 بیٹ لیکر جاتا ہوں۔ بیٹ کا وزن 2.8 سے 2.9 پاؤنڈ کے درمیان ہوتا ہے اور جس ملک میں میچ کھیلا جا رہا ہے اس کی کنڈیشن کے اعتبار سے بیٹ استعمال کرتا ہوں۔تیسرا سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا سوال ان کی آمدنی سے متعلق تھا جس سے کپتان بابر اعظم نے بڑی ہوشیاری سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو میں بتاؤں گا نہیں البتہ یہ آپ کی سوچ سے کم ہے۔شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بابر اعظم نے پنجابی لہجے میں جواب دیا کہ ’’اے تو مینوں بی نئیں پتہ’’ یہ گھر والوں کو معلوم ہے اور ابھی فی الحال میری ساری توجہ کرکٹ پر ہے اور کرکٹ ہی انجوائے کرنے دیں۔آخری سوال تھا کہ بابر اعظم کا آئیڈیل کون ہے جس کے جواب میں انھوں نے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اے بی ڈی ویلیئر کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شروع سے اے بی ڈی ویلیئر کو پسند کرتا آیا ہوں اور ان کے انداز کو کاپی بھی کیا ہے۔

Categories
کھیل

میراڈونا کی تاریخی ’ہینڈ آف گاڈ‘ شرٹ کتنے لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوئی؟؟ سن کر آپ حیران رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) ارجنٹینا کے لیجنڈ فٹبالر ڈی ایگو میراڈونا کی وہ شرٹ جسے پہن کر انھوں نے بلاشبہ فٹبال کی تاریخ کے دو یادگار گول کیے تھے اسے ریکارڈ 71 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام کر دیا گیا ہے۔ یہ اب تک کھیلوں کی تاریخ میں کسی بھی تاریخ سامان کی سب سے مہنگی نیلامی ہے۔ اس سے قبل سنہ 2019 میں اولمپک منشور کی اصل دستخط شدہ کاپی 70 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی تھی۔

شرٹ نیلام کرنے والی کمپنی نے اس شرٹ کے خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔میراڈونا نے میکسیکو میں ہونے والے سنہ 1986 کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف نمبر 10 کی شرٹ پہنی تھی۔میچ کے دوسرے ہاف میں انھوں نے ارجنٹینا کو اس وقت برتری دلوائی جب انھوں نے چپکے سے گیند کو مکا مار کر گول میں پہنچا دیا تھا۔ میچ کے بعد میراڈونا نے کہا تھا کہ یہ کچھ میراڈونا کے سر سے اور کچھ خدا کے ہاتھ کے ذریعے گول میں گیا۔ اس کے بعد میں یہ گول ’ہینڈ آف گاڈ‘ کے نام سے مقبول ہوا۔ صرف چار منٹ بعد انھوں نے اپنے ہاتھ سے گیند ڈربل کرتے ہوئے ایک بہترین گول کیا اور اسے آج فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کا بہترین گول اور صدی کا بہترین قرار دیا جاتا ہے۔انگلینڈ کے مڈفیلڈر سٹیو ہاج کو میراڈونا نے اس میچ کی جرسی میچ کے بعد دی تھی اور ان کی جانب سے بدھ کو اسے نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ شرٹ گذشتہ 19 برس سے قرضے پر انگلینڈ کے نیشنل فٹبال میوزیم میں موجود تھی۔ تاہم اس کی فروخت خاصی پیچیدگیوں کا شکار ہوئی کیونکہ میراڈونا کے خاندان نے یہ دعویٰ کیا کہ جو شرٹ نیلام کی جا رہی ہے وہ میراڈونا نے اس میچ کے پہلے ہاف میں پہنی تھی۔ میراڈونا کی بیٹی ڈیلما میراڈونا نے میٹرو ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ شرٹ نہیں ہے جو میرے والد نے دوسرے ہاف میں پہنی تھی۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات کا یقین ہے کہ (ہاج) کے پاس وہ شرٹ نہیں ہے، اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے پاس ہے۔ میں نہیں بتانا چاہتی کہ وہ کس کے پاس کیونکہ یہ حیران کن انکشاف ہو گا۔‘

نیلام کرنے والی کمپنی سوتھبیز کا کہنا ہے کہ وہ ’فوٹو میچنگ‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے ’حتمی طور پر‘ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دونوں گولز اسی شرٹ کے ساتھ کیے گئے ہیں۔کمپنی کے مطابق شرٹ پر موجود مختلف نشانات، پیچ، دھاریوں اور نمبرنگ سے بھی تصدیق کی گئی ہے۔ ورلڈکپ 1986 کے کوارٹر فائنل میں انھوں نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں اپنے ہاف میں گیند کو حاصل کرتے ہوئے بائیں جانب سے متعدد کھلاڑیوں کو تیزی سے آڑھے ترچھے انداز میں ڈاج کیا اور پلک جھپکنے میں گول کیپر کا محاصرے توڑتے ہوئے ایسا دلکش گول سکور کیا جسے ’صدی کا سب سے شاندار گول‘ قرار دیا گیا۔ تاہم میراڈونا کی سابقہ اہلیہ کلاڈیا ولافین نے کہا ہے کہ یہ ’ان کے دعوے کے مقابلے میں ایک سابق کھلاڑی کا دعویٰ ہے‘ اور یہ کہ ہاج کو یہ تاریخی شرٹ بیچنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انھوں نے کلارن اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انھیں پیسوں کی ضرورت ہے، اگر وہ اسے کسی فلاحی مقصد کے لیے بیچ رہے ہیں تو اور بات ہے۔ یہ بہتر ہوتا اگر یہ شرٹ آرجنٹائن فٹبال اسوسی ایشن خرید لے۔‘فیملی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔ سوتھبیز نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ میراڈونا اپنی سوانح عمری ’ٹچڈ بائی گاڈ‘ میں اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ انھوں نے میچ کے اختتام پر اپنی شرٹ ہاج کو دی تھی۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ شرٹ نیشنل فٹبال میوزیم میں دو دہائیوں سے ہے اور کبھی کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ وہ شرٹ نہیں جو میراڈونا نے اس وقت پہن رکھی تھی جب انھوں نے وہ دو گول سکور کیے تھے۔ نومبر 2020 میں میراڈونا کی وفات کے بعد سے ان کا خاندان وراثت کے معاملات میں متعدد مرتبہ عدالتوں میں مقدمات کر چکا ہے اور مختلف تنازعات کا شکار بھی رہا ہے۔ میراڈونا نے 1982 سے لے کر 1994 تک چار لگاتار ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کی اور وہ 1986 کا ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان بھی تھے۔ اس ورلڈکپ میں میراڈونا نے پانچ گول اور پانچ اسسٹ کیے، آج تک ان کے علاوہ کسی ایک ورلڈکپ میں کوئی اور کھلاڑی نہیں کر سکا۔

نپولی اور بوکا جونیئرز کے لیے کھیلنے والے سٹرائکر 60 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے اور انھیں دنیا کے بہترین فٹبال کھلاڑیوں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ وہ دنیا میں لاکھوں افراد کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتے تھے خاص طور پر ارجنٹینا کی عوام کے لیے۔ سنہ 1986 کے ورلڈکپ مقابلے کے کوارٹر فائنل میں ایک ایسے تنازع کی نشاندہی کی گئی جس نے بعد میں ان کی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ مقابلہ تھا ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان جو پہلے ہی ایک کشیدہ صورتحال اختیار کر چکا تھا کیونکہ دونوں ممالک کے مابین فاک لینڈ کی جنگ صرف چار سال پہلے ہی ہو چکی تھی۔ میچ کے 51 منٹ گزر چکے تھے اور دونوں ٹیموں کی جانب سے اب تک کوئی گول نہ ہوا تھا، اسی اثنا میں میراڈونا انگلینڈ کے گول کے قریب حریف گول کیپر پیٹر شلٹن کے ساتھ ہوا میں اچھلے اور فٹبال کو مکا مار کر گول کر دیا۔ انھوں نے بعد میں کہا تھا کہ ’یہ گول کچھ میراڈونا کے سر پر لگنے اور کچھ ’ہینڈ آف گاڈ‘ کی مدد سے ہوا تھا۔‘ تاہم اس متنازع گول کے چند منٹ بعد ہی انھوں نے ایک شاندار اور حیران کن گول کر دیا جسے ’صدی کا سب سے شاندار گول‘ قرار دیا گیا۔میراڈونا انھوں نے اپنے ہاف میں گیند کو حاصل کرتے ہوئے بائیں جانب سے متعدد کھلاڑیوں کو تیزی سے آڑھے ترچھے انداز میں ڈاج کرتے ہوئے انگلینڈ کے گول کیپر کا محاصرے توڑتے ہوئے گول کیا تھا۔ بی بی سی کمنٹیٹر باری ڈیویس کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ماننا پڑے گا یہ شاندار تھا، اس گول کے بارے میں کوئی شبہ نہیں تھا، یہ مکمل طور پر ایک فٹبال جینئس کا کمال تھا۔‘ اس مقابلے کے بعد انگلینڈ کوارٹر فائنل ہار گیا تھا اور ارجنٹینا اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا تھا اور اس موقع پر میراڈونا کا کہنا تھا کہ ’مقصد ایک میچ جیتنے سے زیادہ انگریزوں کو مقابلے سے باہر کرنا تھا‘ اور یہ کہ ’یہ میچ جیتنا کسی ٹیم کو ہرانا نہیں بلکہ ایک پورے ملک کو ہرانے جیسا تھا۔‘

Categories
کھیل

ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی !! فاسٹ باؤلرمحمد عامر کا اہم بیان سامنے آگیا

دبئی (نیوز ڈیسک )انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے بارے میں بات کرنا ابھی بہت جلد ہے۔کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق سائوتھمپٹن میں گفتگو کرتے ہوئے فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا کہ چیزیں کس قدر تیزی سے تبدیل ہوں آپ نہیں جانتے تاہم

اس وقت میں گلوسٹر شائر کی جانب سے کھیل کر لطف اندوز ہو رہا ہوں اس لیے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔محمد عامر نے کہا کہ میں 3 برس کے بعد ریڈ بال کرکٹ کھیل رہا ہوں ،میں نے چار برسوں میں کوئی فرسٹ کلاس گیم نہیں کھیلی، فاسٹ بولر کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا لیکن اب پہلا میچ کھیلنے کے بعد بہتر محسوس کر رہا ہوں۔محمد عامر نے کہا کہ میں اس وقت لڑکوں کی مدد کرنے اور اچھا کھیلنے کی کوشش کر رہا ہوں، بولر کی حیثیت سے یہ میری ڈیوٹی ہے کہ میں اچھی بولنگ کروں اور اس وقت میری کوشش یہی ہے کہ میں لیڈ فرنٹ سے لیڈ کروں۔انہوں نے کہا کہ میں ریڈ بال کرکٹ کو انجوائے کر رہا ہوں، کاؤنٹی کے تین میچز کے لیے یہاں موجود ہوں، کاؤنٹی میچز کے بعد میں سی پی ایل کے لیے چلا جاؤں گا۔یاد رہے کہ محمد عامر ان دنوں گلوسٹر شائر کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ میں شریک ہیں اور انہوں نے ریڈ بال کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے رکھی ہے۔

Categories
کھیل

بابر اعظم عمرے سے واپسی پر والدین کیلئے کیا تحفہ لائے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے حال ہی میں عمرے کی سعادت حاصل کی ہے جہاں انہیں خانہ کعبہ کے غلاف کی تیاری میں بھی حصہ لیتے دیکھا گیا۔ بابراعظم عمرہ کرکے رواں ہفتے ہی گھر پہنچے، قومی کپتان کی گھر واپسی پرتپاک استقبال اور والدین کو تحائف دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بابر اعظم کی وائرل ویڈیو میں انہیں عمرے سے واپسی پر گھر آتے دیکھا جاسکتا ہے،،اس موقع پر بابر اعظم کے والدین اور بھائی کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ بعد ازاں ویڈیو میں قومی ٹیم کے کپتان کو والد کو غلاف کعبہ جیسا خاص تحفہ دیتے دیکھا جاسکتا ہے جسے اعظم صدیقی نے آنکھوں سے لگالیا جب کہ بابراعظم نے والدہ کو کنگن دیے۔

Categories
کھیل

شاہد آفریدی بیٹیوں کو عیدی کیوں نہیں دیتے؟ بیٹیوں نے بتا دیا

کراچی(نیوزڈیسک)سابق کپتان شاہد آفریدی نے عید کے موقع پر بیٹیوں کے ہمراہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیا جس میں میزبان نے ان کی بیٹیوں سے بھی دلچسپ سوالات کیے۔والد کی جانب سے ملنے والی عیدی کے سوال پر لالہ کی چھوٹی بیٹی کا کہنا تھا کہ ’بابا کہتے ہیں عیدی دوں گا لیکن نہیں

دیتے اس کے علاوہ بابا سے کبھی بھی پیسے مانگے تو وہ دے دیتے ہیں اور امی سے پیسے مانگے جائیں گے تو وہ کہتی ہیں بابا نے دے دیے،‘۔بیٹی کے جواب پر شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے ہے کہ کیوں کہ بیٹیوں کا ہر دن عید کا دن ہوتا ہے، یہ جب بھی مجھ سے پیسوں کی خواہش کرتی ہیں میں پوری کردیتا ہوں۔گاؤں اور شہر میں گزاری عید سے متعلق لالہ کی صاحبزادیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے عید نہیں گزاری صرف ایک بار گئے تھے لیکن گاؤں کی عید میں مزہ نہیں آتا کیوں کہ وہاں پابندیاں زیادہ ہیں، یہاں بابا ہیں تو دوستوں سے ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے جس کے باعث یہاں کی عید میں زیادہ مزہ آتا ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا نے الزام لگایا ہے کہ ہندو ہونے کی وجہ سے سابق کپتان شاہد آفریدی کا میرے ساتھ رویہ درست نہیں تھا اور وہ مجھ پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباو ڈالتے رہے۔ایک بھارتی ٹی وی کو انٹر ویو میں دانش کنیریا نے الزام لگایا کہ سابق چیئرمین اعجاز بٹ نے میرا مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور میری کرکٹ ختم ہوگئی۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق سابق اسپنر نے مزید الزام لگایا کہ سب سے پہلے شعیب اختر نے آفریدی کے بارے میں یہ بات سرکاری ٹی وی پر آکر کہی، پاکستان ٹیم میں بڑے بڑے کھلاڑی شامل تھے، میرے مسائل ہمیشہ شاہد آفریدی کے ساتھ رہے

کیونکہ وہ ٹیم میں مجھ سے اچھا رویہ نہیں رکھتے تھے اور مجھے ہمیشہ گرانے کی کوشش کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آفریدی کا کرکٹ میں بڑا نام ہے وہ میرے ڈپارٹمنٹ کے کپتان تھے اس لیے وہ مجھے ڈپارٹمنٹ میں باہر بٹھا دیتے تھے، مجھے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنا ہوتی تھی، اگر ڈپارٹمنٹ میں نہیں کھیلتا تو کاؤنٹی معاہدے میں مجھے مشکلات پیش آتی تھیں جب کہ شاہد کی جگہ جب یونس خان کپتان بنے تو وہ مجھے سارے میچ کھلاتے تھے۔دانش کنیریا کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ پریکٹس میں بھی شاہد آفریدی مجھ پر جملے کستے تھے، ایک بار جب مجھے سینٹرل کنٹریکٹ میں اے کٹیگری ملی تو شاہد آفریدی نے مجھے فیلڈنگ پریکٹس میں وہ جملے کسے جنہیں میں ٹی وی پر بیان نہیں کرسکتا، وہ مجھے نظر انداز کرتے تھے، میں ان کے ساتھ بات چیت بھی نہیں کرتا تھا اور دور رہتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب محمد یوسف نے اسلام قبول کیا تو پرویز مشرف نے مجھے سپورٹ کیا، ایک ڈنر میں صدر مشرف نے کہا کہ اگر تمہیں کوئی تنگ کرے تو مجھے بتانا، میں شاہد کی وجہ سے ڈسٹرب رہتا تھا۔سابق کرکٹر نے کہا کہ محمد یوسف پر اسلام قبول کرنے کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا، مسلمان بننا ان کا ذاتی فیصلہ تھا، شاہد آفریدی کو دیگر کھلاڑی کہتے تھے کہ اسے تنگ نہ کرو، میں خوش نصیب ہوں کہ پاکستان ٹیم میں تمام کھلاڑی مجھے سپورٹ کرتے تھے، جب اسپاٹ فکسنگ میں مجھ پر پابندی لگی تو شاہد آفریدی نے کہا کہ دانش پر پابندی درست لگی جب کہ وہی آفریدی محمد عامر کی اسی طرح کے کیس میں حمایت کرتے رہے۔

Categories
کھیل

’’ شاہد آفریدی مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے کہ ۔۔۔۔‘‘ دانش کنیریا نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا نے الزام لگایا ہے کہ ہندو ہونے کی وجہ سے سابق کپتان شاہد آفریدی کا میرے ساتھ رویہ درست نہیں تھا اور وہ مجھ پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباو ڈالتے رہے۔ایک بھارتی ٹی وی کو انٹر ویو میں دانش کنیریا نے الزام لگایا کہ سابق چیئرمین اعجاز بٹ نے میرا مؤقف تسلیم کرنے

سے انکار کردیا اور میری کرکٹ ختم ہوگئی۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق سابق اسپنر نے مزید الزام لگایا کہ سب سے پہلے شعیب اختر نے آفریدی کے بارے میں یہ بات سرکاری ٹی وی پر آکر کہی، پاکستان ٹیم میں بڑے بڑے کھلاڑی شامل تھے، میرے مسائل ہمیشہ شاہد آفریدی کے ساتھ رہے کیونکہ وہ ٹیم میں مجھ سے اچھا رویہ نہیں رکھتے تھے اور مجھے ہمیشہ گرانے کی کوشش کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آفریدی کا کرکٹ میں بڑا نام ہے وہ میرے ڈپارٹمنٹ کے کپتان تھے اس لیے وہ مجھے ڈپارٹمنٹ میں باہر بٹھا دیتے تھے، مجھے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنا ہوتی تھی، اگر ڈپارٹمنٹ میں نہیں کھیلتا تو کاؤنٹی معاہدے میں مجھے مشکلات پیش آتی تھیں جب کہ شاہد کی جگہ جب یونس خان کپتان بنے تو وہ مجھے سارے میچ کھلاتے تھے۔دانش کنیریا کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ پریکٹس میں بھی شاہد آفریدی مجھ پر جملے کستے تھے، ایک بار جب مجھے سینٹرل کنٹریکٹ میں اے کٹیگری ملی تو شاہد آفریدی نے مجھے فیلڈنگ پریکٹس میں وہ جملے کسے جنہیں میں ٹی وی پر بیان نہیں کرسکتا، وہ مجھے نظر انداز کرتے تھے، میں ان کے ساتھ بات چیت بھی نہیں کرتا تھا اور دور رہتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب محمد یوسف نے اسلام قبول کیا تو پرویز مشرف نے مجھے سپورٹ کیا، ایک ڈنر میں صدر مشرف نے کہا کہ اگر تمہیں کوئی تنگ کرے تو مجھے بتانا، میں شاہد کی وجہ سے ڈسٹرب رہتا تھا۔سابق کرکٹر نے کہا کہ محمد یوسف پر اسلام قبول کرنے کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا، مسلمان بننا ان کا ذاتی فیصلہ تھا، شاہد آفریدی کو دیگر کھلاڑی کہتے تھے کہ اسے تنگ نہ کرو، میں خوش نصیب ہوں کہ پاکستان ٹیم میں تمام کھلاڑی مجھے سپورٹ کرتے تھے، جب اسپاٹ فکسنگ میں مجھ پر پابندی لگی تو شاہد آفریدی نے کہا کہ دانش پر پابندی درست لگی جب کہ وہی آفریدی محمد عامر کی اسی طرح کے کیس میں حمایت کرتے رہے۔

Categories
کھیل

بابر اعظم کو سعودی عرب میں بڑا اعزاز مل گیا

مکہ مکرمہ(ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے غلاف کعبہ(کسوہ)کی تیاری میں حصہ لینے کا شرف حاصل کیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔تفصیلات کے مطابق بابراعظم ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں عمرہ بھی ادا کیا اور اب کپتان نے ایسی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ کسوہ کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے

نظر آرہے ہیں۔کپتان نے سماجی رابطے کی فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔کرکٹر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ اس عظیم اعزاز کو حاصل کرنے پر اللہ کا شکر گزار ہوں۔

Categories
کھیل

پی ایس ایل 8 کا میلہ کب سجے گا ؟ ونڈو کی نشاندہی ہوگئی۔۔۔آپ بھی جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کا آٹھواں ایڈیشن آئندہ برس فروری اور مارچ میں سجنے کا امکان ہے۔ذرائع کےمطابق جنوری 2023 میں نیوزی لینڈ اور اس کےبعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرےگی جس کے بعد پاکستان سپر لیگ 8 کا میلہ سجے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) نے پی ایس ایل 8 کے لیے ونڈو کی نشاندہی کر لی ہے جس کے مطابق پی ایس ایل 8 آئندہ برس 15 فروری سے 31 مارچ کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔پی ایس ایل 8 کے میچز کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔واضح رہے کہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 7 کے فائنل میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو شکست دے کر پہلی بار ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

Categories
کھیل

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان “بابر اعظم “نے سعودی عرب میں اہم اعزاز حاصل کر لیا

سعودی عرب(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کرلی۔ بابر اعظم ان دنوں عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عمرہ ادا کرنے کے بعد غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے

کا شرف حاصل کیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہیں غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بابر اعظم نے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ‘اس عظیم اعزاز کو حاصل کرنے پر اللہ کا شکر گزار ہوں’۔