Categories
اسپیشل سٹوریز

والدین بچوں کو ڈراؤنے خواب دیکھنے سے کیسے بچاسکتے ہیں؟

لاہور(ویب ڈیسک) اکثر بچوں کو ان کے بچپن کے کسی خاص حصے میں ڈراؤنے خواب ضرور دکھائی دیتے ہیں، یہ خواب دس میں سے ایک بچے کو دکھائی دیتے ہیں جن کی عمر تین سے سات سال کے درمیان ہوتی ہے۔گہری اور پرسکون نیند بچوں کی بہتر نشونما میں اہم کرادار ادا کرتی ہے اس دوران جسم دن بھر میں

ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتا ہے۔ لیکن کچھ بچے دیگر بچوں کی طرح پرسکون اور گہری نہیں لے پاتے بلکہ وہ نیند میں کسی انجانے خوف اور ڈراؤنے خواب کے باعث گھبرا کر جاگ جاتے ہیں، اس طرح وہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں جس کا اثر براہ راست ان کی صحت پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے بچوں کو سُلانے کے لئے کافی محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ وہ یہ سوچ کر خوف زدہ ہوسکتے ہیں کہ وہ کوئی ڈراؤنا خواب نہ دیکھ لیں۔ ڈراؤنے خواب دیکھنا بہت عام بات ہے لیکن ابھی تک اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تناؤ اور تھکاوٹ کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس مسئلے سے نجات کے لئے والدین کو چند آسان طریقوں پر عمل کرنا ہوگا۔ سومنس تھراپی کے ماہر ڈاکٹر کیتھرین نے چار اہم عناصر کا ذکر کیا ہے جو خوف زدہ کرنے والے خوابوں سے نجات میں معاون ثابت ہوگا۔ اگر بچہ سونے سے قبل منفی خیالات کا شکار ہے تو دن بھر انہیں خوشگوار چیزوں کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دیں اور بچے کی خواہش کے مطابق اچھے خوابوں کی اقسام پر بات کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ مستقبل میں سیر و تفریح کی نیت سے کہیں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بچے سے کہیں کہ وہ اس کا تصور کریں کہ وہ جگہ کیسی ہوگی اور اس دن وہ کس طرح کا لباس پہنے گے کس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ اس طرح بچے کو خوشگوار خیالات کے بارے میں دن میں خواب دیکھنے کی ترغیب دیں۔ اس طرح ان میں ڈراؤنے خواب دیکھنے کے امکانات کم ہوں گے بلکہ وہ ان دلچسپ خیالات پر

توجہ مرکوز کر کے جلد نیند کی آغوش میں جاسکتے ہیں۔ آپ جتنا خوف سے بچتے ہیں وہ اتنے ہی بڑے ہوتے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بچے جس شے سے خوف محسوس کرتے ہیں اس کے بارے میں بات کریں کیونکہ یہی خوف برے خواب کو جنم دیتے ہے۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کسی گڑیا، جوکر یا پڑوسی کے کتے سے ڈرتا ہے تو آپ انہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ اور ان مخصوص خوف پر دن میں دس سے پندرہ منٹ بات کریں۔ آپ کا بچہ ان خیالات اور تصاویر سے جتنا مانوس ہوگا اس کا خوف کم ہوتا جائے گا، اور اس طرح پریشان کن خوابوں کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔ بہت سی غذائیں ایسی ہیں جنہیں ڈراؤنے خوابوں سے جوڑا گیا ہے جن میں پنیر، چینی، مٹھائیاں، چاکلیٹ اور فاسٹ فوڈ شامل ہیں، ساتھ ہی کیفین پر مشتمل مشروبات بھی ڈراؤنے خواب کا ایک بڑا محرک ہے۔ جن میں اسپورٹس ڈرنکس، سافٹ ڈرنکس، آئس ٹی اور مخصوص قسم کے جوس شامل ہیں۔ اگر بچہ کبھی برے خواب دیکھنے پر جاگ جائے تو غور کریں اس نے پچھلی رات غذا میں کیا لیا تھا اور اوپر بتائی گئی غذاؤں کوصحت بخش غذاؤں یعنی کم چینی والی جیسے دہی، تازہ پھل، گرینولا یا ٹوسٹ کے ساتھ تبدیل کر دیں اس طرح ہلکی غذا پیٹ کی تکلیف جیسے گیس یا ایسڈ ریفلیکس کا باعث بھی نہیں بنے گی۔ کوشش کریں کہ سونے سے ایک گھنٹہ قبل کھانا کھلائیں تاکہ ہاضمے کے لئے وقت مل سکیں۔ بڑوں کی طرح بچوں کے لئے بھی یہ بات یقینی بنائیں کہ وہ سونے سے ایک گھنٹے قبل ہی ٹی وی اور تمام ڈجیٹل آلات بند کر دیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان الیکٹراناک آلات سے نکلنے والی نیلی روشنی بچے کے

دماغ میں نیند کے ہارمون میلاٹونن کے اخراج کو روکتی ہے جو آرام اور سکون پیدا کرتا ہے۔ اس طرح بچہ اسکرین پر کسی خوفناک تصویریا خیال سے محفوظ رہے گا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

دوران پرواز طیارے کا انجن فیل، کیا ہنگامی لینڈنگ میں کامیاب ہوا؟

نئی دہلی(ویب ڈیسک) ممبئی ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے والے بھارتی ائیر لائن ایئر انڈیا کے طیارے کو فضا میں انجن فیل ہونے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹاٹا گروپ کے زیر انتظام ایئر انڈیا کے ایک طیارے نے ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی، حکام نے بتایا کہ تکنیکی خرابی

کے باعث طیارے کا ایک انجن ہوا میں بند ہو گیا تھا تاہم طیارہ محفوظ لینڈنگ میں کامیاب رہا۔ ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق تمام مسافروں کو دوسرے طیارے کے لئے ذریعے بنگلورو بھیج دیا گیا، انہوں نے بتایاکہ ایئر انڈیا سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہمارا عملہ ان حالات سے نمٹنے میں ماہر ہے، ہماری انجینئرنگ اور دیکھ بھال کی ٹیموں نے فوری طور پر اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ ایئر انڈیا کے ’اے320نیو‘ طیارے میں ’سی ایف ایم‘ کے لیپ انجن نصب ہوتے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں بھی ایئرانڈیا طیارے کی پرواز ریاست امرتسر سے دارالحکومت نئی دہلی جارہی تھی کہ اسی دوران طیارے کی کھڑی کا فریم نکل گیا تھا جس کے نتیجے میں خاتون اور تین مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ 19 اپریل جمعرات کو پیش آیا جسے انتظامیہ کی جانب سے چھپانے کی کوشش کی گئی مگر طیارے میں سوار مسافر نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو معاملہ ذرائع ابلاغ تک پہنچا۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں مطابق امریکی ریاست شکاگو میں دوران پرواز چھوٹے طیارے پی سی 12 کا ٹائر رہائشی آبادی پر جاگرا ،خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔دوسری جانب برازیلی محققین نے پھلوں اور سبزیوں میں ایک ایسا مرکب دریافت کیا ہے جو جنوبی امریکا میں بکثرت پائے جانے والے زہریلے پِٹ وائپر سانپ کے زہر کو غیر مؤثر کر سکتا ہے۔ آن لائن ریپٹائل ڈیٹا کے مطابق بوتھراپس جیرارکا نامی یہ سانپ برازیل میں ہر سال اندازاً 26 ہزار لوگوں کو ڈستا ہے۔ برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو کے بیوٹانٹن انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی یہ تحقیق جو فرنٹیئرز اِن فارماکولوجی میں شائع ہوئی ہے

Categories
اسپیشل سٹوریز

تبدیل ہوتا موسم ہم سے ہماری نیند بھی چھین لے گا،معروف مصنفہ نے حقیقی خطرے سے آگاہ کر دیا

لندن(ویب ڈیسک) موسمیاتی تغیر کے نتیجے میں جنگلات میں آتشزدگی اور گلیشیئرز کا پگھلنا تو متوقع ہے ہی لیکن ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہم سے ہماری رات کی نیند بھی چھین لے گا۔ محققین نے دنیا بھر کے موسمی ڈیٹا اور نیند کو ٹریک کرنے والے آلے سے حاصل ہونے والی معلومات کا مطالعہ کیا تاکہ مستقبل

میں ہماری نیند پر پڑنے والے اثرات کے متعلق بتایا جا سکے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ سال 2099 تک ہر سال درجہ حرارت ہر شخص کو 50 سے 58 گھنٹے کے درمیان کی نیند سے محروم کردے گا، یعنی ہر رات کے حساب سے نیند 10 منٹ تک کم ہو جائے گی۔ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت کے اثرات سے کم ہونے والی نیند کی زد میں آنے والے زیادہ تر افراد کم آمدنی والے ممالک سے ہوں گے جیسے کہ، بھارت۔ اس فہرست میں بزرگ اور خواتین بھی شامل ہوں گی۔ بڑی عمر کے افراد مستقبل میں دیر سے سوئیں گے جلدی اٹھیں گے اور گرم راتوں میں کم نیند لیں گے اور یہ صورت حال ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر متعدد منفی اثرات مرتب کرے گی۔ بلند ہوتا عالمی درجہ حرارت ہماری نیند کو ہم سے چھین لے گا کیوں کہ ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو سونے کےلیے نیچے گِرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے گرم ہوتے ماحول میں اچھی مقدار میں نیند کا لیا جانا وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جائے گا۔ ڈینمارک کی یونیورسٹی آف کوپینہیگن میں کی کیلٹن مائنر، جو تحقیق کی مصنفہ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ ہمارے جسم اپنے درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی حد صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں جس پر ہماری زندگی منحصر ہوتی ہے۔ایک اور خبر کے مطابق روایتی شمسی (سولر) سیل دھوپ کی کرنوں سے بجلی تیارکرتے ہیں لیکن آسٹریلیا میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے رات کو بجلی بنانے والے شمسی سیل اور پینل میں اہم پیشرفت کی ہے۔ لیکن نظری طور پر یہ ممکن ہے کہ اگر سولر سیل کو حرارت دی جائے تو وہ روشنی خارج کرنے لگتے ہیں یعنی اس عمل کو الٹا کرسکتے ہیں۔ اب اسی کی بدولت ایک عملی نمونہ تیار کیا گیا ہے

جو رات کے وقت بھی بجلی تیار کرسکتا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ میں رات کومنظر دکھانے والے فوجی چشموں میں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ اس کا اصول سادہ ہے کہ دن بھر دھوپ میں تپتے رہنے کے بعد شمسی سیل مغرب کے بعد دھیرے دھیرے اپنی حرارت خارج کرتے رہتے ہیں۔ یہ آلہ عین اسی موقع پر باہر بھاگتی حرارت سے بجلی بناتا ہے۔ فی الحال یہ ایک چھوٹا سا پروٹوٹائپ ہے لیکن اسے موجودہ سولر سیل ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

سانپ کے زہر کو کیسے غیر موثر کیا جاسکتا ہے؟ محققین نے طریقہ دریافت کر لیا

ساؤپاولو(ویب ڈیسک) برازیلی محققین نے پھلوں اور سبزیوں میں ایک ایسا مرکب دریافت کیا ہے جو جنوبی امریکا میں بکثرت پائے جانے والے زہریلے پِٹ وائپر سانپ کے زہر کو غیر مؤثر کر سکتا ہے۔ آن لائن ریپٹائل ڈیٹا کے مطابق بوتھراپس جیرارکا نامی یہ سانپ برازیل میں ہر سال اندازاً 26 ہزار لوگوں کو ڈستا ہے۔

برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو کے بیوٹانٹن انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی یہ تحقیق جو فرنٹیئرز اِن فارماکولوجی میں شائع ہوئی ہے، میں معلوم ہوا ہے کہ ریوٹِن نامی مرکب کا تبدیل شدہ ورژن سانپ کے کانٹنے کے اثر کو مؤخر کر سکتا ہے۔ تحقیق میں حاصل ہونے والے اس نتیجے کی بدولت انسداد بوتھراپِک سیرم سے اس زہریلے سانپ کے کاٹے کے علاج کو مدد مل سکتی ہے۔ ایسا ہونا نواحی علاقوں میں سانپ کے کاٹنے کے کیسز کو فوری طبی امداد دے گا جہاں طبی امداد کی فوری فراہمی ناممکن ہے۔ تحقیق کو کو آرڈینیٹ کرنے والے مارسیلو سینٹورو کا کہنا تھا کہ یہ سیرم سانپ کے کاٹے کے بنیادی اثر کا علاج کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے ریوٹن سیرم کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک معاون کے طور پر کام کرے گا اور زہر کے اثرات کو مؤخر کرتے ہوئے خون کے بہاؤ اور سوزش کو قابو کرے گا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

سانپ کی طرح بل کھاتی چھ سو یوٹرن والی 75 کلومیٹر طویل سڑک

کاشغر(ویب ڈیسک) اگر آپ دائیں بائیں مڑتی سواری میں بیٹھنے پر چکر آتے ہیں تو چین کی عجیب و غریب سڑک آپ کے لیے عذاب بن سکتی ہے کیونکہ کل 75 کلومیٹر طویل سڑک پر 600 سے زائد اتنے تنگ موڑ ہیں کہ انہیں بال پِن موڑ کہا جاسکتا ہے کیونکہ سانپ کی طرح بل کھاتا خمیدہ ترین راستہ اوپر

سے دیکھنے پر بال پن کی طرح دکھائی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے ہم اسے یوٹرن سے بھرپور سڑک کہہ سکتے ہیں جسے پامیر پلیٹیو (سطح مرتفع) اسکائے روڈ کا نام دیا گیا ہے۔ صوبہ شنجیانگ کی پہاڑیوں پر واقع یہ سڑک دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی ہے۔ تاہم اوپر سے دیکھنے میں لگتا ہے کہ کوئی بڑا سانپ اپنے جسم کو بل دے کر بیٹھا ہے۔2019 میں افتتاح کردہ یہ سڑک کاشغر سے ایویغور خطے تک جاتی ہے اور اپنی پیچیدہ راہ کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد اسے دیکھنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ تیزرفتار کار چلانے والے باہمت افراد بھی اسی سڑک پر اپنا ہنرآزماتے ہیں۔ لیکن گاڑیوں میں چکر محسوس کرنے والوں یا پھر کمزور دل کے حامل افراد اس سڑک سے دور رہیں۔یہ سڑک سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند ہے اور 36 کلومیٹر کی سڑک کو بڑھا کر 75 کلومیٹر تک بڑھایا گیا ہے۔ تاہم اب بھی یہ دنیا کے خطرناک ترین روڈ میں شامل نہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

شوٹنگ کے دوران پینے کا پانی بھی جم گیا، پرینیتی چوپڑا کی سخت سردی میں شوٹنگ کی ویڈیو وائرل

ممبئی(ویب ڈیسک) پرینیتی چوپڑا نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ ہارڈی سندھو کے ساتھ فلم کے سیٹ پر نظر آرہی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے اپنی آنے والی نئی فلم کے سیٹ سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جو تیزی سے وائرل

ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پرینیتی اپنے ساتھی اداکار اور گلوکار ہارڈی سندھو کے ساتھ کسی اونچائی والے مقام پرموجود ہیں جہاں شدید ٹھنڈ ہے، وہ مائنس 12 ڈگری سیلسیس میں شوٹنگ کی جدوجہد کے بارے میں بات کرتےہوئے کہتی ہیں کہ ’یہاں اتنی سردی ہے کہ ہم شوٹنگ کے دوران پانی بھی نہیں پی سکے کیونکہ پینے کا پانی جم گیا ہے‘۔اداکارہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’ہمارے ڈائریکٹر کی داڑھی سے لے کر شوٹنگ کے کیمرے تک سب جم گیا ہے اور ہارڈی اس وقت ہیٹر والے کمرے میں سو رہا تھا‘۔اداکارہ نے برقہ اور اس کے اوپر گرم جیکٹ پہن رکھی ہے جبکہ ہارڈی بھی ہلکے کپڑوں کے اوپر صرف ایک جیکٹ پہنے ہوئے ہیں کیو نکہ وہ فلم کے کسی سین کی شوٹنگ کرنے والے تھے۔ انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے، پرینیتی نے کیپشن میں لکھا کہ، ’’مائنس 12 ڈگری سیلسیس میرا اب تک کا سب سے ٹھنڈا شوٹ ہے، مگر سب سے اچھی بات یہ تھی کہ میرے ہیرو کو بھی ایک پتلا لباس پہننا پڑا اور میرے ساتھ سردی محسوس کرنی پڑی‘‘۔اداکارہ کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے ان کے مداحوں نے ان سے فلم کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی تاہم اداکارہ کونسی فلم کی شوٹنگ کر رہی ہیں اور فلم کب ریلیز ہوگی اس حوالے سے انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

’زندگی میں پہلی مرتبہ شیر دیکھا‘ خلیل الرحمٰن کا عمران خان سے ملاقات پر تبصرہ

کراچی(ویب ڈیسک) معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن کی پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ملاقات پر تبصرہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کے ٹی وی انٹریو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں خلیل الرحمٰن عمران خان

کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزبان نے ان سے پی ٹی آئی کے چئیر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے پوچھا۔ خلیل الرحمٰن قمر نے مسکراتے ہوئے کہاکہ ’میں اس ملاقات کی تفصیلات شیئر نہیں کر سکتا۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی شیر نہیں دیکھا لیکن جب میں عمران خان سے ملا تو پہلی بار شیر دیکھا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان چلا گیا ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے وہ ان کا واپس آنے کا دوسرا طریقہ ہے ، مجھے امید ہے کہ عمران خان اس بار اور بھی مضبوط ہوکر واپس آئیں گے‘۔خلیل الرحمن نے شہباز شریف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھکاری وں کا دیس نہیں ہے اسے بھکاری بنایا گیا ہے، ڈرامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ 35 سال انہوں نے اپنا مال بنانے اور ہمیں بھکاری بنانے میں صرف کیا ہے‘۔واضح رہے کہ ’میرے پاس تم ہو‘ جیسےکامیاب ترین ڈرامے کے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے چند دن قبل سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر فلم اسٹار شان کے ہمراہ ملاقات کی تھی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران نے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے تقریر پر نامناسب تبصرہ کیا ہے۔ ملتان میں جلسہ عام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ ’مجھے کسی نے سوشل میڈیا پر تقریر بھیجی، مریم تقریر کر رہی تھی کل، اس میں اتنی دفعہ اور اس جذبے سے اور اس جنون سے میرا نام لیا کہ میں اس کو کہنا چاہتا ہوں کہ مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہوجائے جس طرح تم بار بار میرا نام لیتی ہو‘۔ان کا مزید کہنا تھاکہ ویسے میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ ان کو اتنا زیادہ مجھ پر غصہ ہے کیوں؟ میں نے ان کا کیا بگاڑا ہے؟ ان کے کیسز تو پرانے بنے ہوئے ہیں، مقصود چپڑاسی کے علاوہ سارے کیسز پرانے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کے مریم نواز سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید شروع ہوگئی ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

چارجر فراہم نہ کرنے پر بڑی”موبائل کمپنی”کو بھاری جرمانہ

برطانیہ(ویب ڈیسک) معروف موبائل فون کمپنیز ایپ اور سام سنگ کو اپنے سمارٹ فونز کے ساتھ صارفین کو ڈبے میں چارجر فراہم نہ کرنے پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے ایپل نے اپنے آئی فونز کے ساتھ چارجر فراہم کرنا بند کر دیا تھا اور یہ شروعات آئی فون 12 سے کی گئی۔

اب دوسری کمپنی سام سنگ بھی اسی راہ پر چل پڑی ہے۔ سام سنگ نے Galaxy S21 کے ساتھ چارجر فراہم کرنا بند کر دیا ہے۔ ڈبے میں صرف موبائل فون اور ایک یو ایس پی کیبل فراہم کی جا رہی ہے۔ ایپل نے یہ اقدام الیکٹرانک فضلے کو کم کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ کمپنی کا خیال تھا کہ ہر صارف کے پاس پرانے آئی فون کا چارجر ہوگا۔ تاہم برازیل میں ان کمپنیز کے صارفین کے گروہ نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ برازیل میں وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ 900 سے زیادہ صارفین جلد ہی ایپل اور سام سنگ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزارت انصاف نے مزید کہا کہ صارف کمپنیز کے خلاف مقدمات دائر کر کے جرمانے عائد کریں گے اور اس مسئلے کے حل کے لیے تجویز بھی پیش کریں گے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

صبا قمر کو شادی کی ناکامی کا انجانا “خوف”کیوں ستانے لگا

لاہور(ویب ڈیسک) اداکارہ صبا قمر نے ایک ہی انٹرویو میں متعدد انکشافات کر ڈالے ہیں جس میں شادی کے متعلق ان کی رائے بھی سامنے آئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اداکارہ نے کہا کہ وہ وقت بچانے اور مداحوں کی بھیڑ سے بچنے کیلئے اکثر عبائے اور حجاب میں مارکیٹ جاتی ہیں۔ مزید کہا کہ مجھے بہت برا لگتا ہے کہ

جب اس سوچ پر عمل کیا جاتا ہے کہ عورت چاہے کما کر لا رہی ہے مگر گھر بیٹھ کر کھانے والے مرد کی ہی چلتی ہے، یہی وجہ ہے میں بہت سارے لوگوں کو زہر لگتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی والدہ کی شادی کا انجام دیکھ کر انہیں شادی سے بہت خوف آتا تھا۔ صبا نے بتایا کہ ان کے مینٹور نے انہیں بہت اچھی بات کہی، پوچھنے پر مینٹور نے کہا کہ شادی سے کیوں گھبراتی ہو، زیادہ سے زیادہ طلاق ہو جائے گی، تو دوسری شادی کر لینا، زندگی ایسی ہی ہے، اور کیا پتہ شادی کامیاب ہی ہو جائے۔دوسر ی طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے 25 ارکان ڈی سیٹ ہونے پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں ریحام خان نے کہا “تحریک انصاف کو آج خوشیاں منانے کی بجائے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ انہوں نے 25 ایسے افراد کو منتخب کروا کر اسمبلی میں بٹھایا جو پارٹی کے ساتھ وفادار نہیں تھے۔ رہی وزیراعلی پنجاب کی بات تو جو مرضی کر لیں وزیراعلی حمزہ شہباز ہی ہوں گے ۔” خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعہ کے روز اپنے فیصلے میں تحریک انصاف کے ان 25 ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ سنایا ہے جنہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

حیران کن خبر!66سال پرانی کار دنیا کی سب سے مہنگی ترین کار بن گئی

برلن(ویب ڈیسک) چھیاسٹھ سال پرانی کار دنیا کی سب سے مہنگی کار بن گئی، دنیا کی سب سے خوبصورت گاڑی نے نیلامی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔مرسڈیز بینز نے اپنی 1955 ماڈل کی کار نیلام کردی،کار 28 ارب 61 کروڑ روپے میں نیلام ہوئی۔ 1955 میں بنائی گئی اس کار کو دنیا کی سب سے خوبصورت کار کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی میں 1955 ماڈل کی مرسڈیز بینز کو گاڑیوں کے شوقین شہری نے 28 ارب 61 کروڑ روپے میں خرید لیا۔اس گاڑی کے صرف دو ورڑن موجود ہیں جس کا نام اس کے بنانے والے چیف انجینیئر کے نام پر رکھا گیا تھا۔کار 180 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی تھی جو اس وقت بننے والی تیز رفتار کاروں میں سے ایک تھی۔سوتھبے کمپنی کے مطابق گاڑی پچھلے ریکارڈ سے تقریباً تین گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی ہے،گاڑی خریدنے والے شہری کے مطابق مرسڈیز بینز 1955 اہم مواقع پر عوامی نمائش کے لیے دستیاب رہے گی، اور نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال دنیا بھر میں مرسڈیز بینز فنڈ قائم کرنے کے لیے کیا جائے گا،جو ماحولیاتی سائنس اور ڈی کاربونائزیشن ریسرچ کے لیے فنڈ فراہم کرے گا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

ریحام خان نے تحریک انصاف کو ڈوب مرنے کا مشورہ دے ڈالا،مگر کیوں؟؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے 25 ارکان ڈی سیٹ ہونے پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں ریحام خان نے کہا “تحریک انصاف کو آج خوشیاں منانے کی بجائے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ انہوں نے 25 ایسے

افراد کو منتخب کروا کر اسمبلی میں بٹھایا جو پارٹی کے ساتھ وفادار نہیں تھے۔ رہی وزیراعلی پنجاب کی بات تو جو مرضی کر لیں وزیراعلی حمزہ شہباز ہی ہوں گے ۔” خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعہ کے روز اپنے فیصلے میں تحریک انصاف کے ان 25 ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ سنایا ہے جنہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا بڑا دعویٰ

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ملتان جلسے میں لانگ مارچ کا اعلان اس لیے نہیں کیا کیونکہ اس کے بعد ایک ایسی گلی آجائے گی جس کا راستہ کسی کو بھی نہیں پتا۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ عمران خان نے

ملتان جلسے میں لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسی گلی شروع ہوجائے گی جس کا راستہ کسی کو نہیں پتا، یہ گلی بند ہوگی یا کھلی ہوگی اس کا کوئی نہیں بتاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جب لانگ مارچ کا اعلان کریں گے تو ان کیلئے مشکلات کا آغاز ہوجائے گا لیکن وہ اپنا دباؤ بھی بڑھائیں گے، عمران خان نے اپنا دباؤ بڑھایا ہے اور منتخب ایوان میں اپنی طاقت کا احساس دلا رہے ہیں ، انہوں نے جتنا بھی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے وہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں یکسو نہیں ہو رہے اور انہیں اندازہ نہیں ہو رہا کہ آگے کیا ہوگا۔ مجیب الرحمان شامی کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں دو آرا پائی جا رہی ہیں اور مشکل فیصلے کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، جو لوگ ضمانتوں اور تحفظ کا کہہ رہے ہیں، یہ بات کچھ سمجھ نہیں آرہی، اگر آپ فیصلے نہیں کرسکتے تو تحریک عدم اعتماد میں فریق بننا ہی نہیں چاہیے تھا، اب آپ نے بوجھ اٹھا لیا ہے تو معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو یکسوئی کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے چلیں، یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کو نفسیاتی طور پر برتری کا احساس ہے لیکن کوئی جوہری تبدیلی نہیں ہوئی، شہباز شریف کی حکومت موجود ہے اور منحرف رکن راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر منتخب ہوگئے ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

ایپل 2015 کے بعد پہلی بار نئی ٹیکنالوجی پر مبنی” مکسڈ رئیلٹی ہیڈ سیٹ” کی تیاری میں پیشرفت،نئی ٹیکنالوجی میں کیا کیا شامل ہے؟؟

امریکہ(ویب ڈیسک) ایپل کو آئی فونز ، آئی پیڈز اور میک کمپیوٹر ڈیوائسز کے لیے جانا جاتا ہے مگر بہت جلد یہ کمپنی ایک نئی ڈیوائس کو پیش کرنے والی ہے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل کے مکسڈ رئیلٹی ہیڈ سیٹ کی تیاری میں پیشرفت ہوئی ہے جس کو کمپنی کے بورڈ میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے

سے بتایا گیا کہ مئی کے وسط میں اس ہیڈ سیٹ کو کمپنی کی بورڈ میٹنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ ایپل کی جانب سے اس آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام بھی تیز کردیا گیا ہے جس کو ہیڈ سیٹ پر چلایا جائے گا۔ یہ ہیڈ سیٹ اگیومینٹ اور ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی کے امتزاج پر مبنی ہوگا اور یہ 2015 میں ایپل واچ کے بعد امریکی کمپنی کی پہلی نئی ٹیکنالوجی ڈیوائس ہوگی۔ ایپل کی جانب سے یہ ہیڈسیٹ 2022 کے آخر یا 2023 میں کسی وقت متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ صارفین کو یہ ہیڈ سیٹ 2023 میں استعمال کرنے کا موقع مل سکے گا اور آنے والے برسوں میں اس کو آئی فون کا متبادل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کا مقصد 10 برسوں اے آر کو آئی فون کی جگہ دینا ہے۔ 2021 میں بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایپل کے اندرونی حلقوں میں اے آر اور وی آر ڈیوائسز کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے دونوں ٹیکنالوجیز کو اکٹھا کرنے کی بجائے الگ الگ ڈیوائسز کا حصہ بنایا جاسکتا ہے ، یعنی وی آر ہیڈ سیٹ پہلے متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد اے آر اسمارٹ گلاسز کی آمد ہوگی۔دوسری طرف ایپل نے ایک فولڈ ایبل ڈیوائس پر ای انک کے تیار کردہ ایک کلر ڈسپلے کی آزمائش شروع کردی ہے۔ ایپل ڈیوائسز کے حوالے سے معروف تجزیہ کار منگ چی کیو نے اس بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کلر الیکٹرونک پیپر ڈسپلے فولڈ ایبل ڈیوائسز کی کور یا سیکنڈ اسکرین لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای انک ڈسپلے کو ایپل کی جانب سے ٹیبلیٹ جیسی ایپلیکشنز میں ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

قدرت کے کرشمہ !پورا کا پورا جنگل اپنے اندر سمائے630 فٹ گہرا “سنک ہول” دریافت

بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں 630 فٹ گہرے سنک ہول (آبگیرے) کو دریافت کیا گیا ہے ۔ یہ دریافت زیادہ حیران کن نہیں بلکہ اس سنک ہول کے اندر موجود قدیم زمانے کے جنگل نے سائنسدانوں کو دنگ کردیا ہے۔ چین کے خودمختار خطے گوانگ شی زوانگ کے علاقے لی آئی کے ایک گاؤں کے قریب اس سنک ہول کومئی کے

آغاز میں دریافت کیا گیا تھا ۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق یہ سنک ہول 630 فٹ گہرا اور اس کی لمبائی ایک ہزار فٹ اور چوڑائی 490 فٹ ہے۔ ماہرین کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد سنک ہول کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں انہوں نے 3 غاروں کے راستے بھی دریافت کیے۔ اس تہہ میں زمانہ قدیم کا ایک جنگل بالکل درست شکل میں محفوظ ہے جس کے درخت اوپر سورج کی جانب بڑھتے ہیں اور ان کی لمبائی 40 میٹر تک ہوسکتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کے قائد چین لیکسین نے بتایا کہ سنک ہول کے فرش پر پودوں کی نشوونما بہت تیزی سے ہوتی ہے جبکہ کچھ درخت تو 40 میٹر لمبے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ جان کر حیران نہیں ہوں گے کہ وہاں جانداروں کی ایسی اقسام دریافت ہوں جن کے بارے میں ہمیں ابھی کچھ علم نہ ہو۔ چین کی اس ریاست میں نومبر 2019 میں گوانگشی کے علاقے میں بھی متعدد سنک ہولز پر مبنی حصے کو دریافت کیا گیا تھا جبکہ 2016 میں سنک ہولز کا سب سے بڑا مجموعہ چین کے صوبے شانشی میں دریافت ہوا تھا۔ زیرآب دنیا کا سب سے گہرا سنک ہول بھی ساؤتھ چائنا سی میں دریافت ہوا تھا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

ہونڈا کی پہلی الیکٹرک ایس یو وی گاڑی کیسی ہوگی؟پتہ چل گیا

لاہور(ویب ڈیسک) ہونڈا کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری پر گزشتہ برسوں کے دوران کافی کام کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود اب بھی ہونڈا دیگر کمپنیوں سے اس معاملے میں کافی پیچھے ہے مگر ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں منظرنامہ بدل جائے۔ ہونڈا کی جانب سے اس کی پہلی الیکٹرک ایس یو وی گاڑی

پرولاگ کی پہلی تصویر جاری کی گئی ہے ۔ اس گاڑی کو جاپانی کمپنی کی جانب سے 2024 میں متعارف کرایا جائے گا ۔ تصویر میں ایس یو وی کی باڈی اور ٹائر دکھائے گئے ہیں ۔ اس گاڑی کو ہونڈا نے لاس اینجلس اور جاپان کے اسٹوڈیوز کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا ہے جبکہ جنرل موٹرز کے ساتھ شراکت داری اسے تیار کیا جائے گا۔ ہونڈا کی جانب سے 2030 تک 30 نئی الیکٹرک گاڑیوں کو متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور کمپنی کو توقع ہے کہ وہ اس وقت تک 20 لاکھ یونٹ فروخت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ہونڈا کی جانب سے پہلی الیکٹرک ایس یو وی گاڑی کے بارےمیں ابھی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں ۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

خاتون کو ڈاکٹر کے سامنے رونا مہنگا پڑ گیا،رونے کا بل بھی وصول کر لیا گیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا میں ایک عجیب واقعہ سامنے آیا جہاں ڈاکٹر کے سامنے رونے پر کلینک انتظامیہ نے خاتون سے 40 ڈالرز( یعنی 8 ہزار پاکستانی روپے) وصول کرلیے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک امریکی خاتون کیملی جانسن نے حال ہی میں ٹوئٹر پر ایک حیرت انگیز واقعہ شیئر کیا جس میں ان کی بہن سے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ

کے دوران رونے کے عوض 40 ڈالرز وصول کیے گئے۔ ٹوئٹ کرتے ہوئے کیملی جانسن جو کہ یوٹیوب اور انٹرنیٹ کی ایک مشہور شخصیت ہیں، نے اپنی بہن کے میڈیکل بل کی ایک تصویر شیئر کی اور وضاحت کی کہ ان کی بہن کو ایک نادر بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ جذباتی ہوجاتی ہے کیونکہ وہ مایوس اور بے بس محسوس کرتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یوٹیبور کا کہنا تھا کہ میری بہن رواں سال جنوری میں امریکا میں قائم ایک ہیلتھ کلینک میں اپنے مختصر جذباتی رویے کی تشخیص (Brief emotional/behavioural assessment) کیلئے گئیں۔ تاہم جب کلینک انتظامیہ نے انہیں بل تھمایا تو اس میں ہیموگلوبن سمیت مختلف ٹیسٹ کی قیمتیں تو ظاہر ہی تھیں لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ اس بل میں رونے کے 40 ڈالرز بھی شامل کیے گئے تھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق Brief emotional/behavioural assessment دماغی صحت کی اسکریننگ ہے جو توجہ کی کمی/ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD)، ڈپریشن،

خودکشی کا خطرے کی علامات کی جانچ کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ عام طور پر ایک سوالنامے کے طور پر ڈاکٹر سے ملنے سے قبل جاری کیا جاتا ہے۔ تاہم کیملی جانسن کا کہنا ہے کہ ہیلتھ سینٹر کی جانب سے میری بہن کی ڈپریشن یا دیگر دماغی امراض کا جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

پاکستان میں بے اولاد جوڑوں کی تعداد 40 لاکھ پہنچ گئی،بے اولادی کی بڑی وجہ خواتین نہیں بلکہ۔۔۔۔ماہرین نے سنگین حقائق بیان کر دیے

(مالم جبہ ویب ڈیسک) پاکستان میں تقریباً چالیس لاکھ جوڑے بے اولاد ہیں اور بے اولادی کا زیادہ تر سبب مردوں کی بیماریاں اور ان کا طرز زندگی ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں عورتوں کو بے اولادی کا سبب قرار دے کر انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار مقامی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے جمعے

کے روز سوات کے علاقے مالم جبہ میں شروع ہونے والی پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی آٹھویں مڈسمر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تین روزہ بین الاقوامی میں اینڈوکرائین کانفرنس سے پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ امریکا برطانیہ، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک سے ماہرین شرکت کر رہے ہیں اور مختلف بیماریوں بشمول تولیدی صحت اور ذیابطیس کے حوالے سے اپنی تحقیق پیش کر رہے ہیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا میں مقیم پاکستانی اینڈو کرائنالوجسٹ ڈاکٹر جاوید اختر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ جوڑے بے اولاد ہیں اور اس کا بنیادی سبب مردوں میں پائی جانے والی ہارمونل بیماریاں اور ان کا طرز زندگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مردوں کی بیماریاں اور ان کا طرز زندگی تقریباً چالیس سے پچاس فیصد جوڑوں میں بے اولادی کا سبب بنتا ہے، بدقسمتی سے پاکستان اور چند دیگر ممالک میں عورتوں کو بے اولادی کا سبب قرار دے کر انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مردوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ھونے کا ایک بڑا سبب مردانہ ہارمون ٹیسٹی سٹیرون کی کمی ہے جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ موٹاپا بھی ہے، اس کے علاوہ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، منشیات کا استعمال مردوں کو اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بے اولاد جوڑوں کو اینڈوکرائنالوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ اب نئی ادویات اور جدید طریقہ علاج سے تقریباً 70 فیصد جوڑے اولاد کی نعمت حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے صدر اور معروف اینڈوکرائنالوجسٹ ڈاکٹر ابرار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابطیس کے حوالے سے ایمرجنسی لگا دینے کا وقت آگیا ہے، ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ پاکستان کے تمام ڈاکٹر مل کر بھی ان کا علاج نہیں کر سکتے، ذیابطیس سے نمٹنے کا واحد حل اس کے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ڈاکٹر ابرار احمد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ڈاکٹروں کی تربیت سمیت عوامی آگاہی کے پروگرام شروع کر رہی ہے لیکن اسے میڈیا اور حکومت کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی نے خیبر پختونخوا حکومت سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ذیابطیس کے متعلق آگاہی پھیلانے کی مہمات شروع کردی ہے لیکن اس میڈیا کے سپورٹ کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو اس وبا بچایا جا سکے۔اس کے علاوہ جرمن ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر پیٹر شوارز کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو دن میں تقریباً دس ہزار قدم ضرور اٹھانے چاہیے تاکہ وہ ذیابطیس سمیت ذہنی مسائل، دل کی بیماریوں، گردوں کی خرابی سمیت دیگر بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ذیابطیس میں مبتلا افراد اگر روزانہ 11 ہزار قدم چلیں تو دواؤں کی نسبت ان کی شوگر بہت بہتر طریقے سے کنٹرول ہو سکتی ہے۔پروفیسر پیٹر شوارز نے اس موقع پر عوام کو کولڈ ڈرنکس اور مصنوعی میٹھے مشروبات ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک کولڈ ڈرنک ایک سال تک پیتا رہتا ہے تو اسے شوگر کی بیماری سے کوئی نہیں بچا سکتا، پاکستان میں بھی حکومت کو مصنوعی میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھا کر انہیں عوام کی پہنچ سے دور کر دینا چاہیے تاکہ وہ شوگر سمیت دیگر بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔کانفرنس کے پہلے روز برطانیہ سے آئے ہوئے ماہر ڈاکٹر اسد رحیم، ڈاکٹر سمیرہ جبین، ڈاکٹر علی جاوا، سید عباس رضا سمیت نیپال اور سری لنکا کے ماہرین نے خطاب کیا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

بیساکھیوں پر ایورسٹ بیس کیمپ تک پہنچے والا شخص!!!! اس شخص کا تعلق کس ملک سے ہے ؟ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بیساکھیوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک پہنچ کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وہ آٹھ سال پہلے مفلوج ہو گئے تھے۔ جیمی میک انش، ویلز کی جنوب مشرقی کاؤنٹی تورفین کے رہائشی ہیں اور وہ کمپلیکس ریجنل پین سنڈروم (سی آر پی ایس) کے مریض ہیں جس کی وجہ سے مسلسل شدید رہتا ہے اور انسان کمزور ہوتا جاتا ہے۔

تاہم جیمی نے 11 دن کے ٹریک کے بعد پانچ ہزار تین سو چونسٹھ میٹر (سترہ ہزار چھ سو فٹ) پر واقع بیس کیمپ تک پہنچ کر اپنا بچپن کا خواب پورا کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس چیلنج میں ایسا اوقات بھی آئے تھے جب مجھے لگا کہ میں ایسا نہیں کر سکوں گا۔‘ جیمی نے بی بی سی ریڈیو ویلز پر پروگرام بریک فاسٹ میں بتایا کہ ’میں بالکل تھک چکا تھا۔ یہ ایک جذباتی وقت تھا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’تھوڑا سا روئے بھی تھے۔‘ ’مجھے واقعی اس پر یقین اگلے دن جا کے آیا۔ میں نے ایک چٹان پر بیٹھ کر ایورسٹ اور ہمالیہ کے پہاڑوں کو دیکھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے واقعی احساس ہوا کہ میں نے اپنی پوری زندگی کا خواب پورا کر لیا ہے۔‘ 6 جنوری 2014 کو جیمی ’نارمل‘ حالت میں اپنے بستر پر گئے تھے لیکن جب اگلی صبح وہ نیند سے اٹھے تو مفلوج ہو چکے تھے۔ نیند کے دوران ان کی ریڑھ کی ہڈی کمر کے نیچے سے ٹوٹ گئی تھی۔ جیمی میں سی آر پی ایس کی تشخیص ہونے میں مزید 13 مہینے لگے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن اکثر یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بہتر ہوتی جاتی ہے۔ انھیں چلنا دوبارہ سیکھنا پڑا اور بہت صبر طلب صحت یابی کے بعد وہ تھوڑی بہت حرکت کرنے کے قابل بھی ہوئے۔ لیکن چلنے پھرنے کے لیے انھیں بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ انھوں نے ایورسٹ کا چیلنج مکمل کرنے کے بعد کہا: ’ٹیم کو جن سب سے مشکل چیزوں میں سے ایک کا خیال رکھنا تھا وہ یہ تھا کہ اپنے پاؤں کہاں رکھنے ہیں، کیونکہ اونچائی کی وجہ سے ہر کام بہت محنت طلب تھا۔۔۔ لیکن مجھے یہ سوچنا بھی پڑتا تھا کہ اپنے پاؤں اور بیساکھیاں کہاں رکھوں، کیونکہ اگر میری بیساکھیاں پھسل گئیں تو یہ ایک تباہی ہوگی، کیونکہ میں گرتے وقت اپنے ہاتھوں کو باہر نہیں نکال سکتا۔‘ جب جیمی پہاڑ پر مرنے والوں کی یاد میں بنائے گئے میموریل تک پہنچے تو انھوں نے اپنے والد اور بھتیجے کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ دونوں مر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پورے سفر میں ان کی یاد میرے ساتھ تھی اور میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھی بات ہو گی کہ میں یہیں کہیں پتھروں کے ڈھیر سے ان کے لیے ایک یادگار بناؤں، جس کے متعلق میں اتنے سالوں سے سوچ رہا تھا۔‘ جیمی نے پہلے سے ہی اپنے لیے اگلا چیلنج چن لیا ہے، لیکن اس مرتبہ یہ گھر سے ذرا نزدیک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں ہمیشہ ایورسٹ سے محبت کرتا رہا ہوں، لیکن میں نے ہمیشہ ویلز سے بھی محبت کی ہے، اس لیے 800 میل لمبا ساحلی سفر یقینی طور پر میری فہرست میں شامل ہے۔‘

Categories
اسپیشل سٹوریز

دنیا کا مستقبل تبدیل ہونیوالا ہے!!! ہوا کی نمی کو پانی میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ ۔۔۔۔۔ نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سعدیہ قریشی اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ” اب دنیا ہماری ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہے ۔ صحرا میں پانی کے مسائل پر ریسرچ کرتے ہوئے ایک بہت ہی دلچسپ اور حیران کن تحقیقی پروجیکٹ کی ریسرچ رپورٹ میرے سامنے آئی۔جس کا تذکرہ میں نے گزشتہ کالم میں کیا تھا کہ امریکہ کی یونیورسٹی میں اب صحرا کی خشک ہوا سے نمی کشید کرکے پانی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

سیاسی سرکس پر رننگ کمنٹری کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ نئی بات لکھ کر آپ اپنے پڑھنے والوں کے سامنے لے کے جائیں تاکہ سیاست کی آلودگی سے ہٹ کر کچھ نیا پڑھنے اور سوچنے کو ملے اور ان میں سوچ کے نئے زاویے پیدا ہوں۔امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے میں کیمسٹری کی لیبارٹری میں ہوا کی نمی کو پانی میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ یہ دنیا کے مستقبل کو تبدیل کر دے گا اور اس زمین پر جہاں چالیس فیصد لوگ پانی کی کمی کا شکار ہیں ان کے لیے زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر دس میں سے تین افراد کی پینے کے صاف پانی تک آسان رسائی نہیں ہے ۔اس تحقیق کو اقوام متحدہ نے ان 10 سائنسی تحقیقات میں شامل کیا جو دنیا کے مستقبل کو تبدیل کرکے رکھ دیں گے اور 2050 میں جن تجربات کی اہمیت کا لوگوں کو اندازہ ہوگا۔یہ کارنامہ جس سائنسدان کے سر ہے وہ اس وقت دنیا کے تین ممتاز ترین سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔وہ نوبل انعام کے لئے نامزد ہوئے جنہیں دنیا کے تمام بڑے سائنسی ایوارڈ دئے جاچکے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ سائنسدان جسکی تحقیق آنے والی دہائیوں میں دنیا کے مستقبل کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی وہ سائنسدان ایک مسلمان پروفیسر عمر یاغی ہیں جن کا شمار دنیا کے پہلے تین انفلوانشل متاثر کن اور دنیا کو تبدیل کر دینے والے کیمیا دانوں میں ہوتا ہے (Omer yoghi،)عمر یاغی کا تعلق اردن سے ہے وہ نو فروری 1965 کو فلسطینی ماں باپ کے گھر پیدا ہوئے۔

والدین انہیں ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے لیکن ان کا دل ودماغ کیمسٹری کے مضمون میں اتنا لگتا تھا کہ وہ اسی میدان میں اپنی پڑھائی کرنا چاہتے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ وہ بنی نو انسان کے لئے کوئی ایسی تحقیق سامنے لائیں کہ جو زمین کے سیارے پر انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنا سکے۔عمر یاغی دنیا میں ممتاز ترین کیمیا دان کی حیثیت سے مختلف سیمینارز اور کانفرنسوں میں بلائے جاتے ہیں۔جہاں وہ اپنی گراؤنڈ بریکنگ تحقیق جس MOFsیعنی( metal organic frameworks) کا نام دیا گیا ہے۔ دنیا میں ہر چیز مالیکیول سے بنی ہے ہوئی اس نظریے کے مطابق ہم مختلف مالیکیولز کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا فریم ورکس بناتے ہیں جس صحرا کی ہوا میں موجود کم سے کم نمی کو بھی صاف پینے والے پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے صحرائی علاقوں کی زندگی میں انقلاب آ سکتا ہے۔اسے انہوں نے واٹر ہارویسٹنگ کا نام دیا ہے۔اس تحقیق کا پس منظر بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اپنے لڑکپن سے ہی انہیں پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جہاں رہتے تھے وہاں ہفتے میں دو دن پانی آتا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ دو دنوں میں ہمیں ہفتے کے سات دن کی ضرورت کا پانی بھرنا پڑتا تھا اور اس کے لئے گھر کے ہر بچے کو علی الصبح اٹھنا پڑتا تھا کہ ماں باپ کے ساتھ مل کر پانی بھرسکے۔صحرا میں پانی کا مسئلہ ایک فطری چیز ہے اور میں نے اس مسئلے کو ہمیشہ جھیلا ہے یہ چیز شاید میرے لاشعور میں موجود تھی۔

پانی زندگی ہے اور پانی ہی سے زمین کے سیارے پر زندگی کا وجود ہے پانی کا موجود ہونا زندگی کے لئے۔ عمر یاغی کا کہنا ہے کہ وہ والدین کی خواہش کے بر عکس کیمیادان بنے کیونکہ سکول کے زمانے میں ایک بار انہوں نے گھر کے قریب ایک لائبریری میں کیمسٹری کی کتاب میں مالیکیولر سٹرکچر کی تصاویر دیکھیں جواگرچہ انہیں سمجھ نہ آ ئیں مگر وہ اس سٹرکچر کی محبت میں مبتلا ہو گئے اس وقت سوچ لیا تھا کہ مستقبل میں کیمیادان ہی بنوں گا۔پھر عمر یہی نے اپنی تمام عمر اسی خواب کی راہ گزر پر گزار دی۔امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی اور بہت عرصے سے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے میں اپنے شعبے کے سربراہ ہیں جہاں انہوں نے اپنی گراؤنڈ بریکنگ تحقیق مکمل کی۔سعودی عرب نے اس عظیم مسلمان سائنسدان کو کو بلا کر سعودی عرب کے سب سے بڑے سرکاری اعزاز سے نوازا اور سعودی عرب کی اعزازی شہریت دی۔ان کی اپنے جنم بھومی اردن میں ان کو شاندارپذیرائی ملی۔ اردن کے اعلی سرکاری اعزاز سے نوازا گیا۔57 ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے اپنے پلیٹ فارم سے خدمات کو سراہا اور انہیں اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔کاش ستاون مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی سی اس پر بھی سوچ بچار کرتی کی کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان سائنسدان امریکہ کے یونیورسٹی کی لیبارٹریز میں تحقیق کرتا ہے۔یہ ماحول اور یہ مواقع اس کو اپنے مسلمان ملک میں کیوں میسر نہیں؟اگر اس کو یہ مواقع کسی مسلمان ملک میں میسر ہوتے تو اس ملک کا نام اس کی تحقیق کے ساتھ آتا۔ بے شک وہ مسلمان سائنسدان ہے لیکن دنیا اسے امریکی سائنس دان کے طور پر ہی جانتی اور مانتی ہے۔کاش او آئی سی کبھی اس پر بھی آپ ا ہنگامی اجلاس بلائے کی مسلمان ملک ٹیکنالوجی اور سانئس میں کیوں پیچھے رہ گئے؟ بطور مسلم امہ ہم جابر بن حیان کے اثاثے کو سنبھالنے میں ناکام رہے جو دنیا کا پہلا کیمیا دان تھا۔لیکن پروفیسر عمر یاغی کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ شاید وہ جابر بن حیان کی علمی کاوشوں کا ہی ایک تسلسل ہیں۔میری پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر سیاسی حالات پر بے معنی بحث و مباحثے سے کچھ فراغت پائیں تو یوٹیوب پر جاکر اس عظیم مسلم کیمیادان عمر یاغی کے لیکچر سنیں اپنے بچوں کو بھی ایسی عظیم شخصیات سے متعارف کروائیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ بات کرنا کسے کہتے ہیں اور شخصیت کس چڑیا کا نام ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

پاکستانی معیشت کو دھچکا!!! آئی ایم ایف، سعودی عرب اور چین نے لال جھنڈی دکھا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہرین معیشت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور: (ویب ڈیسک) محمد حیدر امین اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” پاکستان میں کئی ناقدین بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے یہ بل مزید بڑھ گیا ہے۔ ”پیٹرولیم مصنوعات کا بل سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالر سے 15 بلین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔

اور یہ صرف مالی سال 2022 کے پہلے نو مہینوں کی کہانی ہے۔ دسویں مہینے میں ہمارا تجارتی خسارہ اور بھی بہت بڑھ گیا ہے، جو تقریباً 40 بلین ڈالرز کے قریب ہو گیا ہے-پاکستان کی برآمدات 1990 میں جی ڈی پی کا سولہ فیصد تھیں، جو اب صرف دس فیصد رہ گئی ہیں۔ ہمیں گزشتہ تین دہائیوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے کہ شرح نمو کم کیوں ہے۔ حکومت کو تیل اور بجلی کی قیمتوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ امپورٹس کو کم کرنا چاہیے۔ تیل اور دوسری اشیاء کے استعمال میں بچت کرنی چاہیے اور اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں یا دوست ممالک سے جو پیسہ ملے اس کو اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔بحران کے پیش نظر تمام ممالک اپنے اندورنی معاشی مسائل کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ انڈونیشیا نے خوردنی تیل کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی ہے۔ خوردنی تیل کی پوری دنیا میں مانگ بڑھ رہی ہے اور انڈونیشیا میں ملکی ضروریات کی وجہ سے انہوں نے ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی ہے۔ پاکستان خوردنی تیل کا ایک بڑا حصہ انڈونیشیا سے لیتا تھا، جو اب پاکستان کو عالمی مارکیٹ سے لینا پڑے گا اور وہ مزید مہنگا پڑے گا۔ اس کے علاوہ گندم کی پیداوار بھی توقع کے مطابق نہیں ہوئی اور وہ بھی درآمد کرنی پڑے گی اور یوکرین کے بحران کی وجہ سے اس کی قیمت بھی اوپر جائے گی۔عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں گاڑیاں، موبائل، خام مال، مشینری اور غذائی اجناس مہنگی ہو گئی ہیں۔

روپے کی قدر گری ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو بہت دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کو تین سے چار ملین ٹن گندم بھی امپورٹ کرنا ہے،پاکستان کو آئی ایم ایف، سعودی عرب یا چین سے معاشی ریلیف نہیں ملا اور اسی لئے قوی امکان ہے کہ اقتصادی مسائل مزید بڑھیں گے۔ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر امکاناً کم ہوں گے، پیداواری لاگت مزید بڑھے گی اور معیشت کو چلانے کے لئے مزید قرضے لینے پڑیں گے۔وزیراعظم کی زیرصدارت گندم کی پیداوار اور ذخائر سے متعلق اجلاس میں انہیں گندم کی پیداوار کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پیداوار کے ہدف اور متوقع پیداوار میں فرق گندم کی کاشت میں کمی اور پانی کی قلت کے باعث پیدا ہوا ہے جبکہ سابقہ حکومت کی جانب سے کھاد کی فراہمی کے معاملہ میں بھی بدانتظامی ہوئی اور امدادی قیمت کا اعلان بھی تاخیر سے کیا گیا جس کے باعث گندم کی کاشت میں دوفیصد کمی ہوئی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سابقہ حکمرانوں کے غلط فیصلوں سے پاکستان کو گندم درآمد کرنے والا ملک بنا دیا گیا ہے۔ انکے بقول گندم کی سپورٹ پرائس کے اعلان میں تاخیر سے ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر گندم بروقت درآمد کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان کو بہتر حکمت عملی سے گندم کی پیداوار میں خودکفیل بنائیں گے،پی ٹی آئی حکومت کے دور میں حکومتی نرم پالیسیوں اور انتظامی معاملات پر گرفت کمزور ہونے کے باعث شوگر‘ آٹا اور پٹرولیم مافیا سمیت تمام مفاد پرست ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور عناصر من مانیاں کرتے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں جو مصنوعی قلت پیدا کرکے اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے اور مہنگائی میں اضافہ کرتے رہے۔

چونکہ ان مافیاز کی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل تھی اور انکے نمائندے حکومت میں شامل بھی تھے‘ اس لئے وہ مصنوعی قلت اور مہنگائی ختم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات اور فیصلوں کو ناکام بناتے رہے اور اپنی بلیک میلنگ کی پاور میں اضافہ کرتے رہے۔ پٹرولیم مافیا نے ایکا کرکے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا کیا اور حکومت کو پٹرولیم نرخوں میں کی گئی کمی واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ ایسی ہی بلیک میلنگ کے مظاہرے فلور مل مالکان اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے بھی ہوتے رہے جو گاہے بگاہے آٹے اور ادویات کی مارکیٹ میں سپلائی روک کر انکی مصنوعی قلت پیدا کرتے اور پھر من مانے نرخ مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے لیکن وہ کبھی قانون کی عملداری کی زد میں نہ آئے،پی ٹی آئی کے اقتدار کے دوران یقیناً کورونا وبا نے بھی ملکی معیشت کو جکڑے رکھا اور عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے نتیجہ میں ملک میں پیداواری عمل رک جانے سے جہاں بیروزگاری بڑھی وہیں اشیاء کی قلت بھی پیدا ہوئی اور انکی قیمتیں کنٹرول کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ اسکے علاوہ سابقہ حکومت نے بیل آئوٹ پیکیج کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرکے اور اسکی تمام ناروا شرائط منظور کرکے نئے ٹیکسوں کے ذریعے اور پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی‘ گیس کے نرخوں میں ہر 15دن بعد اضافہ کرکے عوام کے اقتصادی مسائل بڑھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔موجودہ حکمرانوں کو پی ٹی آئی حکومت کی ان غلطیوں کے باعث ہی اقتدار کا میٹھا پھل ملا ہے۔

اب عوام بجا طور پر موجودہ حکومت سے اپنے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے گھمبیر مسائل میں فوری ریلیف کی توقع رکھتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اور انکی کابینہ کے ارکان مہنگائی میں عوام کو ریلیف کیلئے کوششیں بھی بروئے کار لا رہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی عوام کے فوری ریلیف کی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں تاہم بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ مختلف مافیاز نے عوامی ریلیف اور مہنگائی میں کمی کیلئے موجودہ حکومت کی کاوشیں بھی ناکام بنانے کی ٹھان رکھی ہے جو بدستور اشیاء کی قلت کا مصنوعی بحران پیدا کرکے دوبارہ من مانے نرخ مقرر کررہے ہیں۔ تمام سیاستدان ملک کو سنبھالا دینے کے لئے مل بیٹھ کر فوری بڑے فیصلے کریں،موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے عمران خان کی حکومت معاشی محاذ پر جگہ جگہ لینڈ مائنز بچھا کر گئی ہے۔ نئی حکومت کے مطابق عمران خان نے ایک سو پچاس ارب روپے ماہانہ کی سبسڈی پیٹرول پر دی ، جو معاشی اعتبار سے بہت نقصان دہ ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت بہت برے حال میں ہے لیکن یہ کہ وہ پوری کوشش کر رہی ہے کہ اس میں بہتری لائی جائے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس بہتری کو لانا اتنا آسان نہیں ہے معیشت دانو ں کا خیال ہے کہ جب تک ہم آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑاتے ہمارے لیے یہ مسائل رہیں گے کیونکہ وہ ہمیں بجلی، گیس اور دوسری پیداواری چیزوں کی قیمت بڑھانے کا کہتا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور آپ کی معیشت متاثر ہوتی ہے-